Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 626

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ اَثْقَلُ في مِيْزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ حُسْنِِ الْخُلُقِ،وَاِنَّ الله يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيَّ.

عن ابي الدرداء رضی اللہ عنہ ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما من شيء اثقل في ميزان المؤمن يوم القيامة من حسن الخلق،وان الله يبغض الفاحش البذي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بروزِ قیامت مومن کے میزان میں حُسنِ اَخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہ ہوگی اور بیشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو بد خلق اورفحش گوبندہ ناپسند ہے ۔‘‘

شرح حدیث

اَعمال کیسے تولے جائیں گے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ اَعمال کو جسم کی صورت میں لایا جائےگا پھر ان کا وزن کیا جائےگا جیسا کہ ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ قیامت کے دن موت کو مینڈھے کی صور ت میں لایاجائےگا،مذکورہ حدیثِ پاک میں ہے:قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حُسنِ اَخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہ ہوگی۔یہاں مومن کے میزان کی قید سے اس طرف اشارہ ہے کہ کافر کے اَعمال کا وزن نہیں کیا جائےگا کیونکہ کفر کے مقابل اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں جس کا وزن کیا جائے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’(میزان میں اچھی عادت سے بڑھ کرکوئی چیز وزنی نہ ہوگی) یا تو بعینہٖ اچھی عادت نیکیوں کے پلّے میں رکھی جائے گی کیونکہ قیامت میں ہر چیز کی شکل بھی ہوگی اس میں وزن وغیرہ بھی ہوگاچونکہ اچھی عادت ربّ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اس لیے اس میں وزن زیادہ ہے،وہاں وزن رضائے الٰہی سے ہوگا۔ اخلاص کی عبادات وزنی ہوں گی ریا کی عبادات ہلکی کہ ریا کی عبادت سے ربّ ناراض ہےاخلاص کی عبادت سے ربّ راضی، کافر کی عبادات میں کوئی وزن نہ ہوگا،رب تعالیٰ فرماتاہے: (فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵)) (پ۱۶،الکھف:۱۰۵) (ترجمۂ کنزالایمان:تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے۔)گناہوں میں وزن رب تعالیٰ کی ناراضی سے ہوگا جس قدر رب تعالیٰ کی ناراضی زیادہ اس قدر گناہ میں وزن زیادہ،اللّٰہمحفوظ رکھے۔(اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو بد خلق اور فحش گوبندہ نا پسندہے۔) چونکہ رب تعالیٰ بدخلقی بدزبانی سے ناراض ہے لہٰذا وہ گناہوں کے پلے میں ہوں گے اور اس گناہ میں بہت بوجھ ہوگا۔خیال رہے کہ حضور کے نیک اعمال میں اتنا وزن ہے کہ اسے کوئی ترازو تول سکتی ہی نہیں اسی لیے حضور کی نیکیاں تولی نہ جائیں گی جیسے ہماری ترازو سمندر کا پانی، ہوا نہیں تول سکتی ایسے ہی قیامت کی ترازو حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی نیکیاں نہ تول سکے گی جب ان کے نام میں اتنا وزن ہے کہ ہم جیسے گنہگاروں کے کروڑوں من کے گناہ ایک کلمۂ محمدی سے ہلکے ہوجائیں گے کہ ہمارے کام ہلکے ہیں حضور کا نام بھاری ہے تو اُن کے اَعمال کیسے ہوں گےصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔شعر
دِل عبث خوف سے پتا سا اُڑا جاتا ہے ……… پلّہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسا تیرا
اچھے اَخلاق کے فضائل:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اَخلاقاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا عطیہ ہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجس کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے اسے اچھے اَخلاق عطا فرماتا ہے اور جس کے ساتھ بُرائی کا اِرادہ فرماتا ہے اسے بُرے اَخلاق دے دیتا ہے۔“حضرتِ سَیِّدُنا ابن عبا سرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” اچھے اَخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتے ہیں جس طرح پانی برف کو پگھلادیتا ہے اور بُرے اَخلاق عمل کو ایسے خراب کرتے ہيں جیسے سرکہ شہد کو خراب کردیتا ہے ۔“حُسنِ اَخلاق کی برکت:ایک بارقبلہ اَمیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاجتماع ميں شرکت کے لئے اسلامی بھائیوں کے ساتھ سینما گھر کے قريب سے گزرے توايک نوجوان جو فلم کا ٹکٹ لينے کی غرض سے قِطار میں کھڑا تھا اس نے (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ) بلند آواز سے اَمیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکو مخاطب کر کے کہا: مولانا بڑی اچھی فلم لگی ہے آکر ديکھ لو۔ اس سے پہلے کہ آپ کے ہمرا ہ اسلامی بھائی جذبات میں آکر کچھ کرتے اَمیرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے بلند آواز سے سلام کیا اورقریب پہنچ کر بڑی ہی نرمی کے ساتھ انفرادی کوشش کرتے ہوئے ارشاد فرمايا، کہ بيٹا میں فلميں نہيں ديکھتاالبتہ آپ نے مجھے دعوت پيش کی تو میں نے سوچا کہ آپ کو بھی دعوت پيش کروں، ابھیاِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّگلزارِ حبيب مسجد میں سنتوں بھرا اجتماع ہو گا ،آپ سے شرکت کی درخواست ہے، اگرآپ ابھی نہيں آسکتے توپھر کبھی ضرور تشريف لائیے گا ۔ پھر آپدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اسے ايک عطر کی شيشی تحفہ میں پيش کی۔چندسالوں بعد اَمیرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں سنتوں کے عامل ايک اسلامی بھائی سبز عمامہ سجائے حاضر ہوئے اور کچھ اس طرح سے عرض کی،حضور چند سال قبل ايک نوجوان نے آپ کو(مَعَاذَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ) فلم ديکھنے کی دعوت دی تھی اور آپ نے کمالِ ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناراض ہونے کے بجائے اجتماع ميں شرکت کی دعوت پیش کی تھی وہ نوجوان میں ہی ہوں۔ میں آپ کے عظیم حُسنِ اَخلاق سے بےحد متاثر ہوا اور ایک دن اجتماع میں آگیا، پھر آپ کی نظرِ کرم ہو گئی اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!میں گناہوں سے توبہ کرکے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گيا ۔مدنی گلدستہ’’حسین ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قیامت کے دن مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیزاس کا حسن اَخلاق ہوگا۔
(2) قیامت کے دن اعمال کو جسم کی صورت میں لایا جائے گا اور پھر ان کا وزن کیا جائےگا ۔
(3) کافر کے اعمال کا وزن نہیں کیا جائےگا کیونکہ کفر کے مقابل کوئی نیکی نہیں ہوتی ۔
(4) حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نیکیوں میں اتنا وزن ہے کہ اسے کوئی ترازوتول سکتی ہی نہیں،اس لئے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اعمال کا وزن نہیں کیاجائے گا۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حُسنِ اخلاق اپنانے اور بد خلقی سےدور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 626