- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- حدیث نمبر 626
باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 626
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ اَثْقَلُ في مِيْزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ حُسْنِِ الْخُلُقِ،وَاِنَّ الله يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيَّ.
عن ابي الدرداء رضی اللہ عنہ ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما من شيء اثقل في ميزان المؤمن يوم القيامة من حسن الخلق،وان الله يبغض الفاحش البذي.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بروزِ قیامت مومن کے میزان میں حُسنِ اَخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہ ہوگی اور بیشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو بد خلق اورفحش گوبندہ ناپسند ہے ۔‘‘
شرح حدیث
اَعمال کیسے تولے جائیں گے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ اَعمال کو جسم کی صورت میں لایا جائےگا پھر ان کا وزن کیا جائےگا جیسا کہ ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ قیامت کے دن موت کو مینڈھے کی صور ت میں لایاجائےگا،مذکورہ حدیثِ پاک میں ہے:قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حُسنِ اَخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہ ہوگی۔یہاں مومن کے میزان کی قید سے اس طرف اشارہ ہے کہ کافر کے اَعمال کا وزن نہیں کیا جائےگا کیونکہ کفر کے مقابل اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں جس کا وزن کیا جائے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’(میزان میں اچھی عادت سے بڑھ کرکوئی چیز وزنی نہ ہوگی) یا تو بعینہٖ اچھی عادت نیکیوں کے پلّے میں رکھی جائے گی کیونکہ قیامت میں ہر چیز کی شکل بھی ہوگی اس میں وزن وغیرہ بھی ہوگاچونکہ اچھی عادت ربّ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اس لیے اس میں وزن زیادہ ہے،وہاں وزن رضائے الٰہی سے ہوگا۔ اخلاص کی عبادات وزنی ہوں گی ریا کی عبادات ہلکی کہ ریا کی عبادت سے ربّ ناراض ہےاخلاص کی عبادت سے ربّ راضی، کافر کی عبادات میں کوئی وزن نہ ہوگا،رب تعالیٰ فرماتاہے: (فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵)) (پ۱۶،الکھف:۱۰۵) (ترجمۂ کنزالایمان:تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے۔)گناہوں میں وزن رب تعالیٰ کی ناراضی سے ہوگا جس قدر رب تعالیٰ کی ناراضی زیادہ اس قدر گناہ میں وزن زیادہ،اللّٰہمحفوظ رکھے۔(اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو بد خلق اور فحش گوبندہ نا پسندہے۔) چونکہ رب تعالیٰ بدخلقی بدزبانی سے ناراض ہے لہٰذا وہ گناہوں کے پلے میں ہوں گے اور اس گناہ میں بہت بوجھ ہوگا۔خیال رہے کہ حضور کے نیک اعمال میں اتنا وزن ہے کہ اسے کوئی ترازو تول سکتی ہی نہیں اسی لیے حضور کی نیکیاں تولی نہ جائیں گی جیسے ہماری ترازو سمندر کا پانی، ہوا نہیں تول سکتی ایسے ہی قیامت کی ترازو حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی نیکیاں نہ تول سکے گی جب ان کے نام میں اتنا وزن ہے کہ ہم جیسے گنہگاروں کے کروڑوں من کے گناہ ایک کلمۂ محمدی سے ہلکے ہوجائیں گے کہ ہمارے کام ہلکے ہیں حضور کا نام بھاری ہے تو اُن کے اَعمال کیسے ہوں گےصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔شعر
دِل عبث خوف سے پتا سا اُڑا جاتا ہے ……… پلّہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسا تیرااچھے اَخلاق کے فضائل:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اَخلاقاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا عطیہ ہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجس کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے اسے اچھے اَخلاق عطا فرماتا ہے اور جس کے ساتھ بُرائی کا اِرادہ فرماتا ہے اسے بُرے اَخلاق دے دیتا ہے۔“حضرتِ سَیِّدُنا ابن عبا سرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” اچھے اَخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتے ہیں جس طرح پانی برف کو پگھلادیتا ہے اور بُرے اَخلاق عمل کو ایسے خراب کرتے ہيں جیسے سرکہ شہد کو خراب کردیتا ہے ۔“حُسنِ اَخلاق کی برکت:ایک بارقبلہ اَمیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاجتماع ميں شرکت کے لئے اسلامی بھائیوں کے ساتھ سینما گھر کے قريب سے گزرے توايک نوجوان جو فلم کا ٹکٹ لينے کی غرض سے قِطار میں کھڑا تھا اس نے (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ) بلند آواز سے اَمیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکو مخاطب کر کے کہا: مولانا بڑی اچھی فلم لگی ہے آکر ديکھ لو۔ اس سے پہلے کہ آپ کے ہمرا ہ اسلامی بھائی جذبات میں آکر کچھ کرتے اَمیرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے بلند آواز سے سلام کیا اورقریب پہنچ کر بڑی ہی نرمی کے ساتھ انفرادی کوشش کرتے ہوئے ارشاد فرمايا، کہ بيٹا میں فلميں نہيں ديکھتاالبتہ آپ نے مجھے دعوت پيش کی تو میں نے سوچا کہ آپ کو بھی دعوت پيش کروں، ابھیاِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّگلزارِ حبيب مسجد میں سنتوں بھرا اجتماع ہو گا ،آپ سے شرکت کی درخواست ہے، اگرآپ ابھی نہيں آسکتے توپھر کبھی ضرور تشريف لائیے گا ۔ پھر آپدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اسے ايک عطر کی شيشی تحفہ میں پيش کی۔چندسالوں بعد اَمیرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں سنتوں کے عامل ايک اسلامی بھائی سبز عمامہ سجائے حاضر ہوئے اور کچھ اس طرح سے عرض کی،حضور چند سال قبل ايک نوجوان نے آپ کو(مَعَاذَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ) فلم ديکھنے کی دعوت دی تھی اور آپ نے کمالِ ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناراض ہونے کے بجائے اجتماع ميں شرکت کی دعوت پیش کی تھی وہ نوجوان میں ہی ہوں۔ میں آپ کے عظیم حُسنِ اَخلاق سے بےحد متاثر ہوا اور ایک دن اجتماع میں آگیا، پھر آپ کی نظرِ کرم ہو گئی اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!میں گناہوں سے توبہ کرکے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گيا ۔مدنی گلدستہ’’حسین ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قیامت کے دن مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیزاس کا حسن اَخلاق ہوگا۔
(2) قیامت کے دن اعمال کو جسم کی صورت میں لایا جائے گا اور پھر ان کا وزن کیا جائےگا ۔
(3) کافر کے اعمال کا وزن نہیں کیا جائےگا کیونکہ کفر کے مقابل کوئی نیکی نہیں ہوتی ۔
(4) حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نیکیوں میں اتنا وزن ہے کہ اسے کوئی ترازوتول سکتی ہی نہیں،اس لئے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اعمال کا وزن نہیں کیاجائے گا۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حُسنِ اخلاق اپنانے اور بد خلقی سےدور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 626