Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 622

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:مَا مَسِسْتُ دِيبَاجاً وَلَا حَرِيرًا اَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم،وَلَا شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ اَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسولِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم.وَلَقَدْ خَدَمْتُ رَسولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَشْرَ سِنِيْنَ، فَمَا قَالَ لِي قَطُّ:اُفٍّ، وَلَا قَالَ لِشَيءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَهُ؟ وَلَا لِشَيءٍ لَمْ اَفْعَلْهُ:اَلَا فَعَلْتَ كَذَا؟

عن انس رضی اللہ عنہ قال:ما مسست ديباجا ولا حريرا الين من كف رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم،ولا شممت رائحة قط اطيب من رائحة رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم.ولقد خدمت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عشر سنين، فما قال لي قط:اف، ولا قال لشيء فعلته: لم فعلته؟ ولا لشيء لم افعله:الا فعلت كذا؟

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں نے حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دَستِ مُبارک سے زیادہ نرم کسی ریشمی کپڑے کو نہیں چُھوااور نہ میں نےکوئی ایسی خوشبو سونگھی جو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سے آنے والی خوشبو سے زیادہ اچھی ہو۔میں نے دس سال تک نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت کی،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے کبھی’’اُف‘‘ تک نہ فرمایااور کسی کام کے کرنے پر کبھی یہ نہ فرمایاکہ:یہ کام کیوں کیا؟ اور کوئی کام نہ کرنے پر کبھی یہ نہ فرمایا کہ: یہ کام کیوں نہیں کیا؟“

شرح حدیث

عظیم حُسنِ اَخلاق:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا دونوں حدیثوں میں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عظیم حُسنِ اَخلاق کا ذکر ہےآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اَزواجِ مطہراترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ،اپنے احباب و اصحابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْاپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں ، الغرض ہر ایک کے ساتھ اتنی خوش اخلاقی اور ملنساری کا برتاؤ فرماتے کہ سب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اخلاقِ حَسَنَہ سے متاثر ہوجاتے ۔حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےدس سال تک حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت کی سعادت حاصل کی اس طویل عرصے میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں جھڑکا ، نہ ڈانٹا حتی کہ انہیں کبھی ’’اُف‘‘تک نہیں فرمایا۔یہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اعلیٰ کردار اورحُسنِ اَخلاق کی ایک مثال ہے ورنہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پوری زندگی حُسنِ اخلاق کا بہترین عملی نمونہ ہے، اگر سب لوگ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرت مبارکہ پر عمل پیرا ہوجائیں تو دنیا میں امن و سکون کی فضا قائم ہو جائے۔اللّٰہتعالیٰ ہرمسلمان کو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
دلیل الفالحین میں ہے:”حضرت سیدنا انس
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُدس سال تک تاجدارِرِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اَقدس میں رہے،مگرکوئی کام کرنے یا چھوڑنے پر انہیں کبھی نہ ڈانٹا ، ڈانٹنا تو درکنار انہیں کبھی اُف تک نہ فرمایا۔یہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حُسنِ خلق ہی تھا کہ اتنے طویل عرصے میں بھی کبھی اپنے خادم سے یہ نہ پوچھا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟“سراپا رحم و کرم:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”حضورِ اَنور کے مدینہ طیبہ میں تشریف لانے پر حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُکی عمر آٹھ سال تھی،ان کے والدین اس وقت حضورِ انور کی خدمت میں انہیں لائے اور بولے کہ ہم نے انہیں آپ کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ وفات شریف ۱۰ہجری میں ہوئی،وفات شریف تک حضور ِانور کی خدمت میں رہے، بعد وفات مدینہ سے باہر آگئے، مقام موصِل میں آپ کامزار ہے۔(آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی نہ جھڑکا) یعنی میں کم عمر بھی تھا اور کم سمجھ بھی،مجھ سے قصور بھی ہوتے تھے اور کبھی کچھ نقصان بھی ہوجاتا تھا جیسے کوئی چیز ٹوٹ جانا وغیرہ مگر اس سراپا رحم و کرم نے مجھے کبھی جھڑکا نہیں اور ملامت کے طریقہ پر یہ نہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کردیا یہ کیوں چھوڑ دیا۔’’اُف ‘‘ کا ترجمہ اردو میں ہے:’’افوہ‘‘ یہ سرزنش اور ملامت کے وقت بولا جاتا ہے یہاں دُنیاوی کاموں میں اُف نہ فرمانا مراد ہے، شرعی غلطی پر پکڑ کرنا تو اِصلاح ہے۔“مدنی گلدستہ’’احمد ‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اوران کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔
(2) نبی رحمت،محبوب ربُّ العزت
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے خادموں کو نہ تو کبھی جھڑکتے نہ ہی اُن کی غلطیوں پر کبھی ملامت کرتے۔
(3) حضرت سیدنا انس
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبڑی شان کے مالک ہیں کہ انہوں نے دس سال تک نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت کی سعادت پائی ۔
(4) اچھے اَخلاق والے کو
اللّٰہتعالیٰ پسند فرماتا ہے اور اچھے اَخلاق دُخولِ جنت کا سبب ہیں ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے اور لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 622