Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 624

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: سَاَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنِ الْبِرّ ِ والْاِ ثْمِ فَقَالَ:اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ،وَالْاِ ثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ،وَكَرِهْتَ اَن يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ.

عن النواس بن سمعان رضی اللہ عنہ قال: سالت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عن البر والا ثم فقال:البر حسن الخلق،والا ثم ما حاك في نفسك،وكرهت ان يطلع عليه الناس.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا نواس بن سَمعانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’نیکی حُسنِ اخلاق کانام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا آگاہ ہونا تجھے نا پسند ہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

نیکی حُسنِ اَخلاق ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نیکی کے بارے میں ارشاد فرمایاکہ’’نیکی حُسنِ اخلاق کا نام ہے۔‘‘ اگر دیکھا جائے تو نیکیوں کا بڑا حصہ حُسنِ اخلاق پر مشتمل ہے جیسا کہ خندہ پیشانی سے ملنا،دوسروں کو ایذا نہ دینا، سخاوت، دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند ہو، اَحکام و معاملات میں عدل و انصاف ، بحث وتکرار میں نرمی ، خوشحالی میں احسان و سخاوت اور تنگدستی میں ایثار وغیرہ یہ تمام اچھی صفات حُسنِ اخلاق کی مختلف صورتیں ہیں ،گویا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حُسنِ اَخلاق کو نیکی کا نام د ے کر ان تمام اچھی صفات کی طرف اشارہ فرمادیا۔اور گناہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے یعنی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے گناہ کی تعریف کو قلبی کیفیت پر موقوف فرمایا کہ جس کام کے متعلق دل میں تردد و اضطراب پیدا ہو اور اس کے گناہ ہونے کا اندیشہ ہوتواس سے بچا جائے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”( نیکی اچھی عادت کا نام ہے)اچھی عادت عام ہے مخلوق کے ساتھ برتاؤ اور خالِق سے معاملات سب ہی کو شامل ہے نماز روزہ کی پابندی اچھی عادت ہے، گناہوں سے بچنا اچھی عادت ہے وغیرہ ۔(اورجو چیز دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا آگاہ ہونا تجھے پسند نہ ہو وہ گناہ ہے)‘‘یہ فرمانِ کامل مسلمانوں کے لیے ہے جیسے ہم کو مکھی ہضم نہیں ہوتی فورًا قے ہو جاتی ہے یوں ہی صالحین کو گناہ ہضم نہیں ہوتا فورًا انہیں دِلی قبض روحانی تکلیف محسوس ہوتی ہے عام لوگوں کا یہ حال نہیں۔بعض تو گناہ پر خوش ہوکر اِعلان کرتے ہیں ،حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمحکیم مطلق ہیں ہر شخص کو اس کے مطابق دوا عطا فرماتے ہیں۔‘‘مدنی گلدستہاسم جلالت’’اللّٰہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اچھی عادتیں نیکیوں میں شمار ہوتی ہیں جیسے لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا ،کسی کو ایذا نہ دینا،اَحکام و معاملات میں عدل و انصاف سے کام لینا وغیرہ ۔
(2) گناہ تردد واضطراب اورپریشانی کاباعث ہے جبکہ نیکی میں دلی سکون واطمینان ہے۔
(3) ہر وہ عمل جس میں
اللّٰہورسولعَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نافرمانی ہو وہ گناہ ہے ۔
(4) اولیائے کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے قلوب کبھی بھی گناہ اور غیر شرعی کاموں سے مطمئن نہیں ہوتے اوراچھے برے عمل کو فوراً پہچان لیتے ہیں اور گناہوں سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نیک کام کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 624