Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 629

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا ، قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَقُوْلُ:اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِـمِ الْقَائِـمِ.

عن عائشة رضی اللہ عنہا ، قالت:سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول:ان المؤمن ليدرك بحسن خلقه درجة الصائـم القائـم.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:” میں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:’’بےشک مومن اپنے اچھے اَخلاق کی بدولت دن بھر روزہ رکھنے والےاور رات بھر عبادت کرنے والے کادرجہ پا لیتا ہے ۔‘‘

شرح حدیث

حُسنِ اَخلاق کا معنی :مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”خندہ پیشانی سےملنا،سخاوت کرنااورکسی کو ایذاء نہ دینا حُسنِ اَخلاق ہے۔ حضرت ابوبکر واسطیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا:حسن اخلاق یہ ہے کہ بندہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی خوب معرفت کی وجہ سے نہ کسی سے لڑے اور نہ ہی کوئی اس سے لڑے۔سیدنا سہلرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا:حُسنِ اَخلاق کا ادنی درجہ یہ ہےکہ برداشت کرے،بدلہ نہ لے،ظالِم پر رحم کرے،اس کے لئے مغفرت کی دُعاکرےاور اس پر شفقت کرے۔“خوش خلقی کا ثواب:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”(یہاں) مومن سے مراد مومن کامل عالِم و عامِل ہے۔ خوش خُلق مسلمان کو خوش خلقی کی وجہ سے نفلی روزوں اور نفلی تہجد کا ثواب مل جاتا ہے کہ وہ علانیہ اور خفیہاللّٰہکی مخلوق کو خوش رکھتا ہے،نفلی روزہ و نماز کا فائدہ صرف اپنے کو ہوتا ہے مگر خوش خلقی کا فائدہ مخلوق اُٹھاتی ہے، لازم سے متعدی اچھی ہے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے اَسلافِ کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامحُسنِ اَخلاق کے پیکر ہواکرتے تھے، کبھی کسی سے اپنی ذات کے لئے بدلہ نہ لیتے بلکہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے ظلم و زیادتی کرنے والے کو معاف کر دیا کرتےاور بُرائی کا بدلہ اچھائی سے دیا کرتے تھے۔ حضرت سَیِّدُنَا خلیل بن احمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الصَّمَدفرماتے ہیں : ”اگر برائی کرنے والے کے ساتھ حُسنِ سُلوک کیا جائے تو اُس کے دل میں ایک ایسی بات پیدا ہوجاتی ہے جو اُسے اس طرح کی بُرائی سے روکتی ہے ۔“ظلم کرنے والے کودعا:ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْاَکْرَمکسی صحرا کی طرف تشریف لے گئے تو ایک سپاہی ملا،اس نے کہا:تم غلام ہو؟فرمایا:ہاں!اس نے کہا:بستی کس طرف ہے؟آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے قبرستان کی طرف اشارہ فرمایا۔سپاہی نے کہا:میں بستی کے متعلق پوچھ رہاہوں۔فرمایا :وہ تو قبرستان ہی ہے۔ یہ سن کر اسے غصہ آگیااوراس نےکوڑا آپ کے سر پر دے مارا اور زخمی کرکے آ پرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکو شہر کی طرف لےگیا۔آپ کے اصحاب نے دیکھ کر پوچھا:یہ کیا ہوا؟سپاہی نے ماجرا بیان کردیا۔انہوں نے سپاہی کو بتایایہ تو(زمانے کے ولی) حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْاَکْرَمہیں ۔یہ سن کروہ گھوڑے سے اترا اور آپ کے ہاتھ پاؤں چومتے ہوئے معذرت کرنے لگا۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھاگیا:آپ نے یہ کیوں کہا کہ میں غلام ہوں۔فرمایا :اس(سپاہی ) نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ تم کس کے غلام ہو ؟بلکہ صرف یہ پوچھا کہ تم غلام ہوتو میں نے کہا:ہاں!کیونکہ میں ربّ تعالیٰ کا غلام ہوں۔جب اس نے میرے سر پر مارا تو میں نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے اس کےلئے جنت کا سوال کیا۔عرض کی گئی:اس نے آپ پر ظلم کیا تو آپ نے اس کے لئے دعا کیوں مانگی؟ فرمایا:مجھے یہ معلوم تھا کہ مجھے تکلیف برداشت کرنے پر اجر ملے گاتو میں نے یہ مناسب نہ جانا کہ مجھے تو اجر ملے اور وہ عذاب میں گرفتار ہوجائے۔مدنی گلدستہ’’غوث ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) مومن اپنے اچھے اَخلاق کی بدولت دِن بھر روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے ۔
(2) جو ظلم کرے اسےمعاف کردینا اورجو محروم کرے اسے عطا کرنااعلیٰ کردار لوگوں کا طریقہ ہے۔
(3) حُسنِ اَخلاق کا ادنیٰ درجہ یہ ہےکہ برداشت کرے،بدلہ نہ لے،ظالِم پر رحم کرے،اس کے لئے مغفرت کی دُعاکرےاور اُس پر شفقت کرے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دِین ودُنیا کی بھلائیاں عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 629