- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- حدیث نمبر 625
باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 625
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَ:لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهُ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا،وَكَانَ يَقُولُ: اِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ اَحْسَنَكُمْ اَخْلاَقًا.
عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما قال:لم يكن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فاحشا ولا متفحشا،وكان يقول: ان من خياركم احسنكم اخلاقا.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ طبعاً فُحش گو تھے اور نہ ہی تکلُّفاً فُحش کلام کرنے والے اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایا کرتے تھے کہ:”تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اَخلاق سب سے اچھے ہوں ۔“
شرح حدیث
حُسنِ خُلق انبیاء و اولیاء کی صفت ہے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ طبعاً فُحش گو تھے اور نہ ہی تکلفاً فُحش کلام کرنے والے تھے، نہ بازاروں میں شور مچاتے اور نہ ہی بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دیتے بلکہ معاف کر دیتے اور درگزر فرماتے۔“ لوگوں میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں‘‘اچھائی کو اپنانا اور بُرائی کو ترک کرنا حُسنِ خلق ہے اور یہ تما م انبیاءِ کرامعَلَیْہمُ الصَّلوۃُ وَ السَّلَاماور اولیاء عظام کی صفات ہیں۔“اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہےکہ رسولِ بے مثال، صاحبِ جُود و نَوال ، بی بی آمنہ کے لالصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” قیامت کے دناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مرتبے کے لحاظ سے سب سے بُرا شخص وہ ہو گا جس کی فحش کلامی سے بچنے کے لئے لوگ اسے چھوڑ دیں۔‘‘سیِّدُ الْمُبَلِّغِین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشادہے:”بے شک فحش گوئی اور بد اَخلاقی کا اِسلام سے کوئی تعلق نہیں اور لوگوں میں سب سے اچھا اِسلام اس شخص کا ہے جو سب سے اچھے اَخلاق والا ہے۔“انتہائی اعلیٰ کردار:’’سیرتِ مصطفیٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘میں ہے:حضورِاَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا زمانہ طفولیت ختم ہوا اور جوانی کا زمانہ آیا تو بچپن کی طرح آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی جوانی بھی عام لوگوں سے نرالی تھی۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا شباب مجسمِ حیاء اور چال چلن عصمت و وقار کا کامل نمونہ تھا۔ اعلانِ نبوت سے قبل حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تمام زندگی بہترین اَخلاق وعادات کاخزانہ تھی۔سچائی،دیانتداری، وفاداری،عہدکی پابندی، بڑوں کی عظمت،چھوٹوں پر شفقت، رشتہ داروں سے محبت، رحم وسخاوت،قوم کی خدمت،دوستوں سے ہمدردی،عزیزوں کی غمخواری،غریبوں اورمفلسوں کی خبرگیری، دشمنوں کے ساتھ نیک برتاؤ،مخلوق خدا کی خیرخواہی،غرض تمام نیک خصلتوں اور اچھی اچھی باتوں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّماتنی بلند منزل پر پہنچے ہوئے تھے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے انسانوں کیلئے وہاں تک رسائی تو کیا؟اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ کم بولنا،فضول باتوں سے نفرت کرنا،خندہ پیشانی اور خوش روئی کے ساتھ دوستوں اوردشمنوں سے ملنا۔ ہر معاملہ میں سادگی اور صفائی کے ساتھ بات کرنا حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا خاص شیوہ تھا۔حرص،طمع، دغا،فریب، جھوٹ،شراب نوشی،بدکاری،ناچ گانا،لوٹ مار،چوری،فحش گوئی،عشق بازی،یہ تمام بُری عادتیں اور مذموم خصلتیں جو زمانہ جاہلیت میں گویا ہر بچے کے خمیر میں ہوتی تھیں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی ذاتِ گرامی ان تمام عیوب و نقائص سے پاک صاف رہی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی راست بازی اور امانت و دیانت کا پورے عرب میں شہرہ تھا اور مکہ کے ہر چھوٹے بڑے کے دلوں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے برگزیدہ اخلاق کااعتبار اور سب کی نظروں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ایک خاص وقار تھا۔غرض نزولِ وحی اور اعلانِ نبوت سے پہلے بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی مقدس زندگی اخلاقِ حسنہ اور مَحاسِن اَفعال کا مجسمہ اور تمام عیوب و نقائص سے پاک و صاف رہی ۔ چنانچہ اِعلانِ نبوت کے بعد آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے دشمنوں نے انتہائی کوشش کی کہ کوئی ادنیٰ سا عیب یا ذرا سی خلافِ تہذیب کوئی بات آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی زندگی کے کسی دور میں بھی مل جائے تو اس کو اُچھال کر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے وقار پر حملہ کرنے کی مذموم سعی کریں مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہزاروں دشمن سوچتے سوچتے تھک گئے لیکن کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں مل سکا جس سے وہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمپر انگشت نمائی کر سکیں۔ لہٰذا ہر انسان اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہے کہ بِلا شبہہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا کردار انسانیت کا ایک ایسامُحَیِّرُالْعُقولاورغیرمعمولی کردار ہے جو نبیعَلَیْہِ الصَّلوۃُ وَالسَّلَامکے سوا کسی دوسرے کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِعلانِ نبوت کے بعد سعید روحیں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا کلمہ پڑھ کر تن من دھن کے ساتھ اس طرح آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمپر قربان ہونے لگیں کہ ان کی جاں نثاریوں کو دیکھ کر شمع کے پروانوں نے جاں نثاری کا سبق سیکھا اورحقیقت شناس لوگ فرطِ عقیدت سے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے حُسنِ صداقت پر اپنی عقلوں کو قربان کرکے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے بتائے ہوئے اسلامی راستہ پر عاشقانہ اداؤں کے ساتھ زبان حال سے یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ:
چلو وادیٔ عشق میں پا بَرَہْنہ! یہ جنگل وہ ہے جس میں کانٹا نہیں ہےمدنی گلدستہ”حُسنِ خُلق “کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔
(2) حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکابچپن، جوانی بلکہ ساری عمر میں کوئی ایک عمل بھی ایسا نہیں جو حُسنِ خُلق سےخالی ہو۔
(3) فحش گوئی اور بد اخلاقی کا اِسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
(4) لوگوں میں سب سے اچھا اسلام اس شخص کا ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔
(5) قیامت کے دناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بُرا شخص وہ ہو گا جس کی فحش کلامی سے بچنے کے لئے لوگ اسے چھوڑ دیں۔
(6) سرکارِدوعالَم نورِ مجسمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کردار بے مثل وبے مثال ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں فحش کلامی سے بچنے اور دوسروں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 625