Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 625

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَ:لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهُ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا،وَكَانَ يَقُولُ: اِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ اَحْسَنَكُمْ اَخْلاَقًا.

عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما قال:لم يكن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فاحشا ولا متفحشا،وكان يقول: ان من خياركم احسنكم اخلاقا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ طبعاً فُحش گو تھے اور نہ ہی تکلُّفاً فُحش کلام کرنے والے اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایا کرتے تھے کہ:”تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اَخلاق سب سے اچھے ہوں ۔“

شرح حدیث

حُسنِ خُلق انبیاء و اولیاء کی صفت ہے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ طبعاً فُحش گو تھے اور نہ ہی تکلفاً فُحش کلام کرنے والے تھے، نہ بازاروں میں شور مچاتے اور نہ ہی بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دیتے بلکہ معاف کر دیتے اور درگزر فرماتے۔“ لوگوں میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں‘‘اچھائی کو اپنانا اور بُرائی کو ترک کرنا حُسنِ خلق ہے اور یہ تما م انبیاءِ کرامعَلَیْہمُ الصَّلوۃُ وَ السَّلَاماور اولیاء عظام کی صفات ہیں۔“اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہےکہ رسولِ بے مثال، صاحبِ جُود و نَوال ، بی بی آمنہ کے لالصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” قیامت کے دناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مرتبے کے لحاظ سے سب سے بُرا شخص وہ ہو گا جس کی فحش کلامی سے بچنے کے لئے لوگ اسے چھوڑ دیں۔‘‘سیِّدُ الْمُبَلِّغِین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشادہے:”بے شک فحش گوئی اور بد اَخلاقی کا اِسلام سے کوئی تعلق نہیں اور لوگوں میں سب سے اچھا اِسلام اس شخص کا ہے جو سب سے اچھے اَخلاق والا ہے۔“انتہائی اعلیٰ کردار:’’سیرتِ مصطفیٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘میں ہے:حضورِاَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا زمانہ طفولیت ختم ہوا اور جوانی کا زمانہ آیا تو بچپن کی طرح آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی جوانی بھی عام لوگوں سے نرالی تھی۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا شباب مجسمِ حیاء اور چال چلن عصمت و وقار کا کامل نمونہ تھا۔ اعلانِ نبوت سے قبل حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تمام زندگی بہترین اَخلاق وعادات کاخزانہ تھی۔سچائی،دیانتداری، وفاداری،عہدکی پابندی، بڑوں کی عظمت،چھوٹوں پر شفقت، رشتہ داروں سے محبت، رحم وسخاوت،قوم کی خدمت،دوستوں سے ہمدردی،عزیزوں کی غمخواری،غریبوں اورمفلسوں کی خبرگیری، دشمنوں کے ساتھ نیک برتاؤ،مخلوق خدا کی خیرخواہی،غرض تمام نیک خصلتوں اور اچھی اچھی باتوں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّماتنی بلند منزل پر پہنچے ہوئے تھے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے انسانوں کیلئے وہاں تک رسائی تو کیا؟اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ کم بولنا،فضول باتوں سے نفرت کرنا،خندہ پیشانی اور خوش روئی کے ساتھ دوستوں اوردشمنوں سے ملنا۔ ہر معاملہ میں سادگی اور صفائی کے ساتھ بات کرنا حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا خاص شیوہ تھا۔حرص،طمع، دغا،فریب، جھوٹ،شراب نوشی،بدکاری،ناچ گانا،لوٹ مار،چوری،فحش گوئی،عشق بازی،یہ تمام بُری عادتیں اور مذموم خصلتیں جو زمانہ جاہلیت میں گویا ہر بچے کے خمیر میں ہوتی تھیں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی ذاتِ گرامی ان تمام عیوب و نقائص سے پاک صاف رہی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی راست بازی اور امانت و دیانت کا پورے عرب میں شہرہ تھا اور مکہ کے ہر چھوٹے بڑے کے دلوں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے برگزیدہ اخلاق کااعتبار اور سب کی نظروں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ایک خاص وقار تھا۔غرض نزولِ وحی اور اعلانِ نبوت سے پہلے بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی مقدس زندگی اخلاقِ حسنہ اور مَحاسِن اَفعال کا مجسمہ اور تمام عیوب و نقائص سے پاک و صاف رہی ۔ چنانچہ اِعلانِ نبوت کے بعد آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے دشمنوں نے انتہائی کوشش کی کہ کوئی ادنیٰ سا عیب یا ذرا سی خلافِ تہذیب کوئی بات آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی زندگی کے کسی دور میں بھی مل جائے تو اس کو اُچھال کر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے وقار پر حملہ کرنے کی مذموم سعی کریں مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہزاروں دشمن سوچتے سوچتے تھک گئے لیکن کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں مل سکا جس سے وہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمپر انگشت نمائی کر سکیں۔ لہٰذا ہر انسان اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہے کہ بِلا شبہہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا کردار انسانیت کا ایک ایسامُحَیِّرُالْعُقولاورغیرمعمولی کردار ہے جو نبیعَلَیْہِ الصَّلوۃُ وَالسَّلَامکے سوا کسی دوسرے کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِعلانِ نبوت کے بعد سعید روحیں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا کلمہ پڑھ کر تن من دھن کے ساتھ اس طرح آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمپر قربان ہونے لگیں کہ ان کی جاں نثاریوں کو دیکھ کر شمع کے پروانوں نے جاں نثاری کا سبق سیکھا اورحقیقت شناس لوگ فرطِ عقیدت سے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے حُسنِ صداقت پر اپنی عقلوں کو قربان کرکے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے بتائے ہوئے اسلامی راستہ پر عاشقانہ اداؤں کے ساتھ زبان حال سے یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ:
چلو وادیٔ عشق میں پا بَرَہْنہ! یہ جنگل وہ ہے جس میں کانٹا نہیں ہے
مدنی گلدستہ”حُسنِ خُلق “کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔
(2) حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکابچپن، جوانی بلکہ ساری عمر میں کوئی ایک عمل بھی ایسا نہیں جو حُسنِ خُلق سےخالی ہو۔
(3) فحش گوئی اور بد اخلاقی کا اِسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
(4) لوگوں میں سب سے اچھا اسلام اس شخص کا ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔
(5) قیامت کے دن
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بُرا شخص وہ ہو گا جس کی فحش کلامی سے بچنے کے لئے لوگ اسے چھوڑ دیں۔
(6) سرکارِدوعالَم نورِ مجسم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کردار بے مثل وبے مثال ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں فحش کلامی سے بچنے اور دوسروں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 625