Main Icon

باب : توبہ و استغفار کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 24

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ! یَضْحَکُ اللہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی إِلٰی رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ أَحَدُہم ا الْاٰخَرَ یَدْخُلاَ نِ الْجَنَّۃَ ، یُقَاتِلُ ہَذَا فِی سَبِیْلِ اللہِ فَیُقْتَلُ، ثُمَّ یَتُوْبُ اللہُ عَلَی الْقَاتِلِ فَیُسْلِمُ فَیُسْتَشْہَدُ(مُتَّفَقٌ عَلَیْہ)(بخاری، کتاب الجھادوالسیر، باب الکافر یقتل المسلم… الخ ، ۲/۲۶۲، حدیث: ۲۸۲۶)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال! یضحک اللہ سبحانہ وتعالی إلی رجلین یقتل احدہم ا الاخر یدخلا ن الجنۃ ، یقاتل ہذا فی سبیل اللہ فیقتل، ثم یتوب اللہ علی القاتل فیسلم فیستشہد(متفق علیہ)(بخاری، کتاب الجھادوالسیر، باب الکافر یقتل المسلم… الخ ، ۲/۲۶۲، حدیث: ۲۸۲۶)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّایسے دو آدمیوں کو دیکھ کر ضِحْک فرمائے گا جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو گا(پھر بھی) وہ دونوں جنت میں داخل ہونگے ۔ اُن میں سے ایک تواللہ عزَّوَجَلَّکی راہ میں لڑکر شہید ہو ا تھا پھر اللہ عزَّوَجَلَّ نے اس کے قاتل کو توبہ کی توفیق بخشی اور وہ مسلمان ہوگیا اور جہاد کرتا ہوا شہید ہو گیا۔

شرح حدیث

شہید جنتی ہےعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعُمدۃُ القَارِیْ شرحِ بخاری میں فرماتے ہیں : اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جو بھی راہِ خدا میں شہید کیا جائے وہ جنتی ہے۔ علمائے کرامرَحِمَہم اللہ السَّلَاما س حدیث کا ایک معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ پہلے وہ قاتل کافر تھا پھراللہ عزَّوَجَلَّنے اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائی تو وہ مسلمان ہوااور پھر شہید ہوگیا ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی مسلمان کسی مسلمان کوجان بوجھ کر قتل کردے پھر توبہ کرے اورراہِ خدامیں شہیدکردیاجائے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الجہاد، باب الکافر یقتل المسلم ثم یسلم فیسدد او یقتل، ۱۰/۱۳۹، تحت الحدیث:۲۸۲۶)ضِحْکٌ سے کیا مراد ہے؟اِمام یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرحِ مسلم میں فرماتے ہیں : حدیثِ مذکورمیں ’’ضِحْکٌ‘‘ کا لفظاللہ عزَّوَجَلَّکے لئے بطور اِسْتِعارَہ استعمال ہوا ہے ، کیونکہ ذاتِ باری تعالیٰ کے لئے ایسے الفاظ کا اطلاق ناجائز ہے، کیونکہ ایسے الفاظ کا اطلاق اَجسا م پر ہوتا ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ جسم سے پاک ہے ۔چنانچہ ،یہاں ’’ضِحْکٌ‘‘ سے مراد ان دونوں سے راضی ہونا ،اجرو ثواب دینا اور ان کی تعریف کرنا ہے۔ کیو نکہ ہم اسی وقت ہنستے ہیں جب کوئی کام ہم اری مرضی کے مطابق ہو ا ہویا کسی سے ملاقات کے وقت خوشی اور بھلائی پہنچی ہو ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں ہنسنے سے مراد ان ملائکہ کا ہنسنا ہے جو ان کی روح قبض کرتے ہیں اورانہیں جنت میں لے کر جاتے ہیں۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب الامارۃ، باب بیان الرجلین یقتل احدھما الاخر… الخ، ۷/۳۶، الجزء الثالث عشر)
عَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّال
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارشرحِ بخاری میں فرماتے ہیں : اور یہاں ’’ضِحْکٌ‘‘سے مراد یہ ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّاپنی رضا مندی اور رحمت کے ساتھ ان سے ملاقات فرمائے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ توبہ، قتل اور اس کے علاوہ پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے ۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الجہاد، باب الکافر یقتل المسلم ثم یسلم فیسدد او یقتل، ۵/۳۸)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’ ’ضِحْکْ ‘‘کے معنی ہیں ’’ہنسنا‘‘ربّ تعالیٰ عزَّوَجَلَّکے لئے یہ ناممکن ہے۔ اس لئے بعض شارِحین نے اس کے معنی کئے ہیں ،خوش ہونا، راضی ہونا، پسند فرمانا، صاحبِاَشِعَّۃُ اللَّمْعَاتنے فرمایا کہ ’’ضِحْکْ‘‘ کا معنی ہے ،پانی بہانا، لہٰذا اس کے معنٰے ہوئے ،رحمتیں بہانا ، یہ معنٰی نہایت لذ یذ و نَفِیْس ہیں۔ مزید فرماتے ہیں قاتل و مقتول دونوں ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جنت میں جائیں گے کہ پہلا بھی شہید و سعیدفوت ہوا اور دوسرا بھی شہید و سعید ، دیکھو حضرتِ سَیِّدُناامیر حَمْزَہ کو جناب وَحْشِی نے شہید کیا اور پھر بعد میں خود بھی سعیدو مومن ہو کر فوت ہوئے،رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما۔ خیال رہے کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کی ذاتی عَداوتیں آخرت میں ختم ہوجائیں گی، یوں ہی دنیا کی جسمانی محبتیں بھی وہاں فنا ہوجائیں گی، ایمانی عداوت و رحمت باقی رہے گی، مسلمان باپ کافر بیٹے کو عذاب میں دیکھ کر خوش ہوگا، اور اجنبی مسلمان دوسرے مسلمان کو عذاب میں دیکھ کر مَلُوْل (غمگین) ہوگا، اس کی سفارش و شفاعت کرکے اسے بخشوائے گا، یونہی وہ دو مسلمان جو دنیوی معاملات میں ایک دوسرے کے دشمن تھے وہاں دوست ہوجائیں گے۔ ربّ عزَّوَجَلَّ فرماتا ہے :وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۷)(پ۱۴، الحجر :۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔
اور فرماتا ہے:
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷)(پ۲۵، الزخرف:۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان: گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیز گار۔
( مراٰۃ المناجیح، ۵/۴۲۳)
حضرتِ سَیِّدُنااِبنِ سعید
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : ابنِ قَوقَل (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ)میرے ہاتھوں قتل ہوا۔ جبکہ میں کافر تھا ۔میرے ہاتھوںاللہ تعالیٰنے اس کو شہادت کا مرتبہ عطا کیا اگر وہ اس وقت مجھے قتل کر دیتا تو میں (مَعَاذَ اللہ )کفر کی حالت میں مرتا اور اس کے ہاتھوں سے ذلیل و رُسوا ہوتا، میری عاقبت تباہ ہوجاتی اور میں ہم یشہ ہم یشہ دوزخ میں رہتا۔ (تفہیم البخاری، ۴/۳۹۱)اللہ عزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عزَّوَجَلَّجسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق عطا فرما کر اُس کی بخشش فرما دیتا ہے ۔ اللہ عزَّوَجَلَّ بہت غفور رحیم ہے اس کے عَفْوو کرم کی اِنتہا نہیں ، یہ اُس کا کَرَم ہی تو ہے کہ ہر مسلمان کے ساتھ ایک مُحافِظ (فرشتہ ) ہے جو شیطان اور اُس کے چَیلوں سے انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ چنانچہ،ہر انسان کے ساتھ ایک محافظ ہوتا ہےمروی ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلامنے بارگاہ ِ خداوندی میں عرض کی: اے میرے پروردگارعزَّوَجَلَّ! تو نے مجھ پر ابلیس کو مُسلَّط کردیا، میں تیری مدد کے بغیر اس پر قابو نہیں پاسکتا۔اللہ عزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا :میں تیری اولاد کے ہر ہر فرد کے ساتھ ایک محافظ پیدا کروں گا جو اسے شیطان اور دیگر برے ساتھیوں سے بچائے گا۔ عرض کی:الٰہی عزَّوَجَلَّ!کچھ مزید عطا فرما! ارشادفرمایا: ایک نیکی کا اجْر دس گنا ہوگا اور نیکی میں اضافہ کروں گا اور برائی کا گناہ برائی جتنا ہی ہوگا اور برائی کو مٹاؤں گا۔ عرض کی:الٰہی عزَّوَجَلَّ! مزید عطا فرما!ارشاد فرمایا: جب تک روح کا جسم کے ساتھ رشتہ برقرار رہے گا میں انسان کی توبہ قبول کرتا رہوں گا۔ عرض کی: اے میرے پرورد گارعزَّوَجَلَّاور عطا فرما!ارشاد فرمایا: میرے جو بندے گناہوں کے سبب اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں ان سے کہہ دو کہ وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ، بے شک میں تمام گناہ بخش دوں گا، بے شک میں بہت مغفرت فرمانے والا ہوں (روح البیان، پ۱۱، ہود، تحت الایۃ:۳، ۴/۹۳)اللہ عَزَّوَجَلّاپنے بندوں کو کبھی بھی اپنی رحمت سے مایوس نہیں کرتا ۔حضرتِ سَیِّدُنا وَحْشِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے ایمان لانے کا واقعہ بھی نہایت ایمان افروز ہے اس واقعے سےاللہ عزَّوَجَلَّکی اپنے بندوں پررحمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔چنانچہ ،حضرتِ سَیِّدُنا وَحْشیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکا قبولِ اسلاممنقول ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا حضرتِ سَیِّدُنا امیر حمزہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے قاتل وحشی نے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ سے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں خط بھیجا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں لیکن اس آیت کی وجہ سے نہیں ہو پاتا:وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ(۶۸)(پ۱۹، الفرقان: ۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو
اللہکے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے ،اور اس جان کو جس کیاللہنے حرمت رکھی ،ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے، اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا ۔
اس آیت میں جن تین گناہوں کا ذکر ہوا میں ان تینوں کا مرتَکِب ہو چکا ہوں کیا میری توبہ بھی قبول ہوسکتی ہے، اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی :
اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْــٴًـاۙ(۶۰)(پ۱۶، مریم:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان: مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا۔
وحشی کو یہ آیتِ مبارکہ لکھ کر بھیجی گئی تو انہوں نے جواباََ لکھ کر بھیجا کہ اس آیت میں عملِ صالح کی شرط ہے ،کیا خبر میں عملِ صالح کر بھی سکوں گا یا نہیں۔ اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی :
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸)(پ۵ ،النساء: ۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک
اللہاسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ،اور جس نے خدا کا شریک ٹھرایا اُس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔
یہ آیت مبارکہ سن کر وہ بولے کہ اس میں مشیتِ الٰہی کی شرط ہے، پتا نہیں
اللہ عزَّوَجَلَّمیری مغفرت چاہے گا بھی یا نہیں ؟ اس پر یہ آیتِ مبارَکہ نازل ہوئی:قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۵۳)(پ۲۴، الزمر: ۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی،
اللہکی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔
اس آیتِ مبارکہ میں چونکہ کسی شرط کا ذکر نہیں لہٰذا اِسے پڑھتے ہی وہ مَدِینَۂ مُنَوََّرَہ
زَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاکی جانب روانہ ہوئے اور بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے اور دامنِ اسلام سے وابستہ ہو کر صَحَابِیَّت کے مرتبے پر فائز ہوگئے ۔ (روح البیان، پ۲۴، النساء ، تحت الایۃ:۵۳، ۲/۲۱۹)اللہ عزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔اللہ عزَّوَجَلَّاپنے بندوں کو توبہ کے لئے بڑی مہلت دیتا ہے۔وہ کریم پروردگارعزَّوَجَلَّاپنے بندوں کی توبہ پر خوش ہوتا ہے ،بندہ جتنی بار بھی توبہ کرتا ہےاللہ عزَّوَجَلَّکی طرف سے اُس پررَحمت نازل ہوتی ہے اور توبہ کرنے والا بالآخر کامیاب ہوجاتا ہے ۔چنانچہ اس ضمن میں ’’توبہ‘‘ کے چار حروف کی نسبت سے’’ 4‘‘روایات ملاحظہ ہوں
(1) تائبین کے لئے خوشخبری
مُحَمَّد بِن مُطَرِّفرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہاللہ عَزَّوَجَلارشادفرماتا ہے: اولادِ آدم کا یہ عمل حیران کُن ہے کہ وہ گناہ کرتے ہیں پھر مجھ سے مغفرت مانگتے ہیں ، میں بخش دیتا ہوں ، وہ پھرگناہ کرکے مغفرت مانگتے ہیں تو میں پھر بخش دیتا ہوں ،کمال ہے نہ وہ گناہ چھوڑتے ہیں اور نہ ہی میری رحمت سے مایوس ہوتے ہے، اس لئے اے میرے فرشتو! گواہ رہنا میں نے انہیں بخش دیا ۔ (تنبیہ الغافلین ، باب التوبۃ ،ص۵۳)
گناہگارو!نہ گھبراؤ نہ گھبراؤ نہ گھبراؤ نظر رحمت پہ رکھو جنتُ ا لفِردوس میں جاؤ
(2)آخری دم تک توبہ قبول ہےحضرتِ سَیِّدُنا عبد الرحمن بن بَیلَمَانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک صحابی َرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : میں نے سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا :جس نے مرنے سے ایک سال پہلے توبہ کرلی،اللہ عزَّوَجَلَّاسکی توبہ قبول فرمائے گا ۔ یہ سن کر ایک اور صحابی نے کہا: تم نے یہ بات حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے؟ اس نے کہا :ہاں۔ اس پر دوسرے صحابی نے کہا : میں نے سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا کہ جس نے مرنے سے ایک ماہ پہلے توبہ کر لیاللہ عزَّوَجَلَّاس کی توبہ قُبول فرمائے گا۔ ایک اورصحابی نے کہا :کیا تم نے یہ بات سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے؟ کہا: ہاں ! تو اس نے کہا : میں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا کہ جو مرنے سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلےاللہ عزَّوَجَلَّاُس کی توبہ قُبول فرمائے گا۔پھرایک اور صحابی نے کہا: کیا تم نے یہ بات حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے؟ کہا:ہاں !تو اس نے کہا: میں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا کہ جو مرنے سے ایک گھڑی پہلے توبہ کر لے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ ایک اور صحابی نے کہا: کیا تم نے یہ بات حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے؟ کہا:ہاں۔تو انہوں نے کہا: میں نے تو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت کے غَرغَرَہ (یعنی آخری ہچکی)سے پہلے بھی توبہ کرلے، تواللہ عزَّوَجَلَّاُس کی توبہ بھی قُبول فرمالے گا۔(مستدرک حاکم، کتاب التوبۃ والانابہ، باب من تاب الی اللہ قبل الغرغرۃ،۵/۳۶۶، حدیث: ۷۷۳۷)اللہ عَزَّوَجَلکی رحمت سے ہرگز ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے اس کی رحمت بہت بڑی ہے ،وہ تو بہانہ تلاش کرتی ہے کہ بندہ مغفرت طلب کرے اور اُسے بخش دیا جائے۔ چنانچہ ،(3)صرف تین کلمات کی وجہ سے مغفرت ہوگئیحضرتِ سَیِّدُنامُعَتِّب بن سُمَیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ پہلے زمانہ میں ایک شخص بہت گناہ کیا کرتا تھا، ایک دن کہیں جارہا تھا کہ گزشتہ زندگی پر نگاہ دوڑائی تو شرمند گی سے سر جھک گیا تڑپ کر بارگاہ الٰہی میں تین مرتبہ یوں عرض کی: ’’اللھُمَّ غُفْرَانَکَ‘‘( یا الٰہی میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں )۔پھر فوراََ اسے موت آگئی،اللہ عزَّوَجَلَّنے اسے بخش دیا۔ (تنبیہ الغافلین ، باب التوبۃ ،ص۵۳)اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندوں سے بہت مَحَبَّت فرماتا ہے وہ ستر 70ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان و رحیم ہے ۔ اگر اس کے مقبول بندے کسی گناہ گار کے لئے بددعا کرتے ہیں تو بسااوقات انہیں بددُعا سے منع کر دیا جاتا ہے ۔ چنانچہ،(4)گناہ گاروں کی تین حالتیںحضرتِ سَیِّدُنا مَکْحُوْلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے منقول ہے کہ جب حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیمعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو انہوں نے دنیا میں ایک شخص کو بدکاری میں مُلَوِّثْ دیکھ کراس کے لئے بد دعا کی تواللہ عزَّوَجَلَّنے اسے ہلاک کردیا۔ پھر ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تواس کے لئے بھی بددعا کی،اللہ عزَّوَجَلَّنے اسے بھی ہلاک کر دیا ۔ پھراللہ عزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایا : اے میرے خلیل ! میرے بندوں کو رہنے دو، میرے بندوں کی تین حالتیں ہوں گی: (۱)یہ توبہ کریں گے تومیں انہیں بخش دوں گا (۲)یا ان کی اولاد نیک ہوگی جو میری عبادت کرے گی (جس سے انکے والدین کی مغفرت ہوجائے گی) (۳)یا پھر بدبختی ان پر غالب آجائے گی تو یہ جہنم کے مستحق ٹھہریں گے۔ (تنبیہ الغافلین ، باب التوبۃ ،ص۵۳)
حضرتِ سَیِّدُنا فَقِیْہ اَبُو اللَّیْث سَمَرْقَنْدِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الولیفرماتے ہیں کہ بندہ جب بھی توبہ کرےاللہ عزَّوَجَلَّاس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس لیے انسان کو رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہاللہ عزَّوَجَلَّکا فرمان ہے :اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(۸۷)(پ۱۳یوسف:۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔
اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ(۲۵)(پ۲۵، الشوری: ۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
عقل مند کو چاہیے کہ ہر وقت توبہ کرتا رہے، گناہوں پر اصرار نہ کرے۔ گناہ گار خواہ ستر70 مرتبہ گناہ کرے اور ہر مرتبہ گناہ کے بعد توبہ کر لے تو اسے گناہ پر اصرار کرنے والا نہیں کہیں گے جیسا کہ امیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناصِدِّیق اکبر
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّمحبوب ،دانائے غُیُوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جو گناہوں کی معافی مانگتا رہے وہ مُصِر(بار بار گناہ کرنے والا )نہیں ، خواہ ایک دن میں 70 مرتبہ ہی معافی کیوں نہ مانگے۔ (ترمذی، کتاب احادیث شتی، باب من ابواب الدعوات، ۵/۳۲۷، حدیث:۳۵۷۰)دو رَکعت نماز ،سارے گناہ معافاَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن مولائے کائنات ، علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ جب میں سرکارِ دوعالَم، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی بات سنتا تواللہ عزَّوَجَلَّاپنی مَشِیَّت (حِکمت)کے مطابق مجھے اس سے نفع عطا فرماتا اور اگر کوئی اور شخص مجھے حدیث بیان کرتا تو میں اُس سے حَلَف (قسم) لیتا۔ جب وہ حَلَف اٹھالیتا تو میں اُس کی تَصْدِیْق کرتا۔ مجھے یارِغار و مزار اَمِیْرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناصِدِّیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے بیان کیا اور انہوں نے سچ فرمایا ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : جب کسی آدمی سے گناہ سرزَد ہوجائے تو وہ اچھی طرح وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھے پھر اِستِغْفَار کرے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اسے ضرور بخش دے گا۔ پھر یہ آیتِ مقدسہ تلاوت کی:وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵) اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ(۱۳۶)(پ ۴ ،اٰل عمران، ۱۳۵،۱۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں ،
اللہکو یاد کر کے اپنی گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے،اور اپنے کئے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں ،ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں کا اچھا نیگ ہے ۔
(ترمذی، کتاب الصلوۃ، باب ماجاء فی الصلٰوۃ عند التوبۃ، ۱/۴۱۴، حدیث: ۴۰۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدشیطان جو انسان کا کھلا دشمن ہے وہ کبھی نہیں چاہتا کہ مسلمانوں کی مغفرت ہو بلکہ وہ تو انہیں جہنم کا حقدار بنانا چاہتا ہے لیکن جو بندہاللہ عزَّوَجَلَّسے معافی مانگتا رہتا ہے وہ فضلِ الٰہی سے ضرور شیطان کے شر سے بچ جاتا ہے۔چنانچہ،شیطان مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑتاحضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ میں نےحُضور پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : اِبلیس نےاللہ عزَّوَجَلَّسے کہا کہ ،مجھے تیری عزت و عظمت کی قسم! میں اولادِ آدم کے ساتھ مرتے دم تک چِمٹا رہوں گا۔اللہ عزَّوَجَلَّنے فرمایا : مجھے اپنی عزت و عظمت کی قسم !میں اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے۔ (مسند امام احمد، مسند ابی سعید خدری، ۴/۵۹، حدیث:۱۱۲۴۴)نیکیاں فوراً نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیںسرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : دائیں کندھے والا فرشتہ بائیں کندھے والے فرشتے پر نگران ہے، جب بندہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو وہ فوراً 10نیکیاں لکھ دیتا ہے، لیکن جب بندہ برائی کرتا ہے اور بائیں کندھے والا گناہ لکھنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے: ابھی نہ لکھو! ٹھہر جاؤ! اس طرح اسے 6، 7گھڑیاں روکے رکھتا ہے اگربندہ توبہ کر لے تو کچھ نہیں لکھا جاتا ورنہ ایک گناہ لکھا جاتا ۔(شعب الإیمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ۵/۳۹۰، حدیث: ۷۰۴۹)
ایک روایت میں یوں ہے کہ بندے کا گناہ اس وقت تک نہیں لکھا جاتا جب تک دوسرا گناہ نہ کرلے، اسی طرح اگلا گناہ اس سے اگلے گناہ تک نہیں لکھا جاتا، پھرجب پانچ گناہ ہوجائیں اور وہ کوئی نیکی کرلے تو 5 نیکیاں لکھی جاتی ہیں ،اور ان 5 نیکیوں کے عوض پہلے 5 گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں ، اس وقت شیطان چیختا چلاتا ہے کہ اے انسان! میں تجھ پر کیسے غلبہ پاؤں ، میری ساری کوشش تیری ایک نیکی سے رائیگاں چلی گئی۔ (تنبیہ الغافلین ، باب التوبۃ، ص۵۴)
مدنی گلدستہ’’توبہ‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یث مذکور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول
(1)
اللہ عزَّوَجَلَّبندے کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے ۔
(2)جو کوئی گناہ سے توبہ کرلے تو اسے اسی گناہ پر شرمندہ اور زَجْرو تَوْبِیْخ (ڈانٹ ڈپٹ)کرنا دُرُست نہیں کیونکہ توبہ سے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(3)
اللہ عزَّوَجَلَّکی رحمت سے ہر گز ہر گز مایوس نہیں ہونا چاہیے بندہ جس وقت بھی اس سے توبہ کرے اور معافی مانگے وہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔
( 4) شیطان کے مکر و فریب اور اس کے شر سے محفوظ رہنے کا ایک بہترین ذریعہ توبہ واِسْتِغْفَار ہے ۔
یہ
اللہ عزَّوَجَلَّکا ہم پر کرم بالائے کرم ہے کہ اُس نے نہ صرف ہمیں توبہ جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی بلکہ توبہ کے دروازے بھی ہمارے لئے موت کی آخری ہچکی تک کھول دئیے اور فرمادیا کہ میرا بندہ جب تک مجھ سے توبہ کرتا رہے گا میں قبول کرتا رہوں گا۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں بھی سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیں بِلاحساب جَنَّتُ الْفِرْدَوْس میں مالکِ جنت، قاسمِ نعمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکے پڑوس میں جگہ عطا فرمائے!
ہو بہر ضیاء نظرِ کرم سُوئے گناہ گار جنت میں پڑوسی مِرے آقا کا بنا دے
اور
ہر وقت جہاں سے کہ انہیں دیکھ سکوں میں جنت میں مجھے ایسی جگہ پیارے خدادے
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 24