- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- حدیث نمبر 17
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا تَابَ اللہُ عَلَیْہ۔ ( مسلم، کتاب الذکر والدعا … الخ ، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص ۱۴۴۹ ، حدیث: ۲۷۰۳)
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من تاب قبل ان تطلع الشمس من مغربہا تاب اللہ علیہ۔ ( مسلم، کتاب الذکر والدعا … الخ ، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص ۱۴۴۹ ، حدیث: ۲۷۰۳)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جو شخص مغرب سے سورج کے طُلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لے گااللہ عزَّوَجَلَّاُس شخص کی توبہ قُبول کرے گا۔‘‘
شرح حدیث
قیامت کی نشانیقیامت سے پہلے کچھ نشانیاں ظاہر ہونگیں جن میں سے ایک بہت بڑی نشانی سورج کا مغرب سے طُلوع ہونا ہے ،یہ نشانی ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اب کسی کی توبہ قُبول نہ ہو گی جو کافرہے وہ کافر ہی رہے گا اورجو مسلمان ہے وہ مسلمان ہی رہے گا۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:یَوْمَ یَاْتِیْ بعض اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ(پ۸، الانعام:۱۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان: جس دن تمہارے ربّ کی وہ ایک نشانی آئے گی، کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی۔
عَلَّامَہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :یہ توبہ قُبول ہونے کی حد ہے اور حدیثِ صحیح میں ہے کہ توبہ کا دروازہ کھُلا ہوا ہے اور جب تک توبہ کا دروازہ بند نہ ہو توبہ قُبول ہوتی رہے گی اور جب سورج مغرب سے طُلوع ہوگا تو یہ دروازہ بند ہوجائے گا اور جس نے اس سے پہلے توبہ نہ کی ہو گی اس کی توبہ قُبول نہیں ہوگی۔ توبہ کی دوسری شرط یہ ہے کہ غَرغَرَۂ موت اور وقتِ نَزَعْ سے پہلے توبہ کرے، کیونکہ وقتِ نَزْع میں توبہ قُبول نہیں ہوتی اور نہ وصیت نافذ ہوتی ہے۔ (شرح مسلم للنوی،کتاب الذکر والدعا، باب التوبۃ قولہصلی اللہ علیہ وسلمیا ایھا الناس، ۹/۲۵، الجزء السابع عشر)کس کی توبہ قبول نہیں ؟ایک قول یہ بھی ہے کہ اُن لوگوں کی توبہ قُبول نہ ہوگی جو سورج کو پچھم(مغرب) سے نکلتا دیکھیں گے لیکن جو لوگ اس واقعہ کے بعد پیدا ہوں گے ان کی توبۂ کفر بھی قُبو ل ہوگی اور توبۂ گناہ بھی، کہ انہوں نے علامت ِقیامت دیکھی ہی نہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الدعوات ، باب الاستغفار ، ۵/۱۶۲، تحت الحدیث:۲۳۲۹)
مراٰ ۃالمناجیح میں صَدرُ ا لا فاضِل علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِیکا قول نقل کیا گیا کہ اس وقت کے بعد انسان کی پیدائش ہی بند ہوجائے گی۔ غرض یہ کہ آیت و حدیث میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے گناہ کرتے رہے توبہ نہ کی ، یہ علامت دیکھ کر توبہ کرنے لگے، ان کی توبہ قُبول نہیں ، کہ غیب کھل جانے کے بعد توبہ کیسی؟وَ اللہ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ عزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۵۸)تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہسورج کے مغرب سے طُلُوع کرنے میں کیا حکمت ہے ؟عَلَّامَہ قُرْطُبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’ حضرتِ سَیِّدُناابراہیمعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے نَمْرُوْد سے فرمایا تھا :فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَؕ-(پ۳، البقرہ:۲۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تواللہ عزَّوَجَلَّسورج کو لاتا ہے پورب(مشرق)سے تُو اس کو پچھم (مغرب)سے لے آتو ہوش اُ ڑ گئے کافر کے۔
مُلْحِد (کافر و بے دین)اور نُجُومی آخر تک اِس کے مُنکِر رہے اور کہتے رہے کہ سورج کا مغرب سے نکلنا ممکن نہیں ہے ، پساللہ عزَّوَجَلَّایک دن سورج کو مغرب سے نکال کر ان بے دینوں اور قدرتِ الٰہی کے منکروں کو دکھائے گا کہاللہ عزَّوَجَلَّہر چیز پر قادر ہے اس کی مرضی چاہے وہ سورج کو مشرق سے نکالے یا مغرب سے۔ (سُبْحَانَ اللہ اللہ اَکْبَرُ) (ا لتذکرہ باحوالِ الموتٰی، ص۶۴۶)
رَ بِّ کریم کا کرَم بہت وسیع ہے کہ گنہگار کو ہر وقت اپنے کرم کے سائے میں لینے کو تیار ہے ،کوئی آنے والا ہو۔ بندہ چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو اُسے توبہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے اور ہرگز ہر گزاللہ عزَّوَجَلَّکی رَحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ خُدائے بُزُرگ وبَرتر کے رحم وکرم کی کوئی اِنتہا نہیں۔وہ اپنے بندوں کے زمین وآسمان کے برابر گناہ بھی اپنی رَحمت سے مُعاف فرما دیتا ہے۔ بس توبہ سچّی ہونی چاہیے ۔سچّی توبہ کے بعد اگر نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر نہ چاہتے ہوئے دوبارہ گنا ہ سرزَد ہوجائے تو پھر بھی فوراًتوبہ کر لینی چاہیے۔ جب تک موت کے فَرِشتے نظر نہ آئیں یا سورج مغرب سے نہ نکلے اُس وقت تک کی گئی ہر سچّی توبہ قُبول ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّتوبہ کرنے والوں سے بہت خوش ہوتا ہے خاص طور پر جب نوجوان اپنے گناہوں پر نادِم ہو کر بارگاہ ِخُدا وَندی میں توبہ کر تا ہے تواللہ عزَّوَجَلَّاُس پر بہت کرَم فرماتا ہے ۔نوجوان کی توبہ پر جنت سجائی جاتی ہےمنقول ہے کہ: جب کوئی نوجوان اپنے مالکعَزَّوَجَلکی بارگاہ میں توبہ کرتاہے تو فَرِشتے ایک دوسرے کو خوشخبریاں دیتے ہیں۔ دیگر فَرِشتے پوچھتے ہیں : کیا ہوا؟ تو اُن کو کہا جاتاہے کہ ایک نوجوان نے خواب ِ غَفلت سے بیدار ہو کر اپنے پَروَردگارعزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ کر لی ہے ۔ پھر ایک اِعلان کرنے والااِعلان کرتا ہے:’’اس نوجوان کی توبہ کے اِستِقبَال میں جَنَّتوں کو سجا دو۔‘‘ (الروض الفائق، ص۱۵۵)
مَنقُول ہے کہ جب کوئی نوجوان گناہوں کی وجہ سے روتا ہے اور اپنے مالک و محبوب ِحقیقیعزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے :یا اللہعزَّوَجَلَّ! میں نے بُرائی کی۔ تو اللہعزَّوَجَلَّارشاد فرماتاہے: میں نے پَردَہ پَوشی کی۔بندہ عرض کرتاہے:میں نادِم ہوں۔جواب ملتاہے :میں جانتاہوں۔پھر عَرض کرتاہے:میں توبہ کرتا ہوں۔ جواب آتا ہے: میں قُبول کرتاہوں ،اے نوجوان ! جب تُو توبہ کرکے تَوڑ ڈالے تو ہم اری طرف رُجُوع کرنے سے حیا نہ کرنااور جب دوسری مرتبہ توبہ توڑ دے تو تیسری مرتبہ ہم اری بارگاہ میں حاضر ہونے سے شرمِندَگی تجھے نہ روکے اورجب تیسری مرتبہ بھی توبہ توڑدے تو چوتھی مرتبہ میری بارگاہ میں لوٹ آنا،(کیونکہ)میں ایسا جوَّاد ہوں جوبُخل نہیں کرتا،ایسا حَلِیم ہوں جو جلد بازی نہیں کرتا،میں ہی نافرمانوں کی پَردَہ پَوشی کرتا اور تَائِبِین (توبہ کرنے والوں ) کی توبہ قُبول کرتاہوں ، میں خطائیں معاف کرتااور نَدامت کرنے والوں پر سب سے زیادہ رَحم کرتا ہوں کیونکہ میں سب سے بڑھ کر رَحم کرنے والا ہوں۔ کون ہے جو ہمارے دروازے پر آیا اور ہم نے اُسے خالی واپس لَوٹادیا؟ کون ہے جس نے ہماری جناب میں اِلتجا کی اور ہم نے اُسے دُھتکار دیا؟ کون ہے جس نے ہم سے توبہ کی اور ہم نے قُبول نہ کی ؟ کون ہے جس نے ہم سے مانگا اور ہم نے عطا نہ کیا؟ کو ن ہے جس نے گناہوں سے معافی چاہی اور ہم نے اُسے دھتکار دیا؟ کیونکہ میں سب سے بڑھ کر خطاؤں کو بخشنے والا، سب سے بڑھ کر عَیْبَوں کی پردہ پوشی کرنے والا، سب سے بڑھ کر مصیبت زَدوں کی مدد کرنے والا، گریہ وزاری کرنے والے پر سب سے زیادہ مہربان اور سب سے زیادہ غیبوں کی خبر رکھنے والا ہوں۔ اے میرے بندے! میرے درپہ کھڑا ہوجا،میں تیرا نام اپنے دوستوں میں لکھ دوں گا، وقت ِسحر میرے کلام سے لطف اندوز ہو میں تجھے اپنے طلب گاروں میں شامل کردوں گا، میری بارگاہ میں حاضری سے لذت حاصل کر میں تجھے لذیذ (پاکیزہ)شراب پلاؤں گا، غیروں کو چھوڑ دے، فقر کو لازم پکڑ لے، سَحری کے وقت عاجزی واِنکِساری کی زبان کے ساتھ مُنَاجات کر۔ (الروض الفائق، ص۱۵۵)کمال درجہ کی عطاحضرتِ سَیِّدُنااَنَس بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اﷲ∞صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاکہ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اے ابنِ آدم! جب تو مجھ سے دعا مانگے اور مجھ سے آس لگائے تو میں تجھے تیرے عُیُوب کے باوجود بخشتا رہوں گا اورمیں بے پروا ہوں ، اے اِبنِ آدم! ا گر تیرے گناہ آسمان کی بلندی کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گامجھے کوئی پروا نہیں ،اے اولادِ آدم! اگر تو زمین کو خطاؤں سے بھردے پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ کسی کو میرا شریک نہ کیا ہو تو میں زمین بھر تیری بخشش کروں گا۔ ‘‘ (ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ…الخ ، ۵/۳۱۸، حدیث:۳۵۵۱)
مُفَسِّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنََّاناِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَاماس قول ’’عُیُوب کے باوجود بخشتا رہوں گا‘‘کے معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ تیرے کیسے ہی گناہ ہوں میں بخش دوں گا، میں آنے والے کو نہیں دیکھتا بلکہ اپنے دروازے کو دیکھتا ہوں کہ کس دروازے پر آیا۔‘‘ اورصوفیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَاماس قول کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ تجھے تیرے گناہ کے مطابق بخشوں گا، چھوٹے گناہ کی چھوٹی بخشش، بڑے گناہ کی بڑی بخشش ، لاکھوں گناہوں کی لاکھوں بخششیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے ۔
گنہِ رضا کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سِوا مگر اے کریم تیرے عَفو کا تو حساب ہے نہ شمار ہے
’’ گناہوں کا آسمان کی بلندی تک پہنچنا ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تُو گناہوں میں ایسا گھِر جائے جیسے زمین آسمان سے گھِری ہوئی ہے کہ ہر طرف تیرے گناہ ہوں ، بیچ میں تُو ہو، پھر مجھ سے معافی مانگے، تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا، بلکہ آسمانِ زمین کی چکی سب کو پِیس دیتی ہے، اُس کے سوا جو رَبّ سے لگ جائے۔
’’میں زمین بھر تیری بخشش کروں گا‘‘کامطلب یہ ہے کہ جیسے رَازِق(رزق دینے والا) ہر مَرْزُوْق(جس کو رزق دیا گیا) کو بقَدرِ حاجت روٹی دیتا ہے، ہاتھی کو مَن(چالیس سیر کا وزن) اور چیونٹی کو کَنْ (دانہ)دیتا ہے، ایسے ہی وہ غَفَّار بقَدرِ گناہ مغفرت عطا فرمائے گا، مگر شرط یہ ہے کہ گنہگار ہو، غدّار نہ ہو، اِسی لیے شرط لگائی گئی کہ ’’میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو‘‘، خیال رہے کہ ایسے مقامات پر شِرک بمعنی کفر ہوتا ہے، ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ(پ۵، النساء:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے ۔
اور نبی یا کتاب یا اِسلامی اَحکام میں سے کسی کا اِنکار دَرحقیقت ربّ تعالیٰ کا ہی انکار ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے اور اس میں کُفَّار کی مغفرت کا وعدہ نہیں ، کفر و مغفرت میں تضاد ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۶۲)
جو بندہ اپنے گناہ پر شرمِندَہ ہو کربارگاہِ خُداوَندی میں سچے دل سے توبہ کرے تواُس کی تو بہ ضرور قُبول ہوتی ہے اگرچہ وہ کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو بلکہ جو جتنا زیادہ گناہ گار ہو گا اُتنی ہی رَحمتِ خُداوَندی اُس کی طرف متوجہ ہو گی۔ جس کو اپنے گناہ پر نَدامت ہو جاتی ہے اُسے توبہ کی توفیق ضرورملتی ہے اورجسے اپنے گناہ پر جتنی زیادہ شرمِندَگی ہوگی اُس کی توبہ اُتنی ہی زیادہ پُختہ ہو گی۔اِس ضمن میں چندواقعات ملاحظہ فرمائیے:(1)خوفِ خدا ہو تو ایسا!ایک حبشی نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی :یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں بے حیائی کے کاموں کا مُرْتَکِب ہوا ہوں ، کیا میری توبہ قُبول ہوگی ؟ارشاد فرمایا: ہاں ! قُبول ہوگی۔ وہ چلاگیا ،پھر واپس آ کر عرض کی:کیا وہ (اللہ عزَّوَجَلَّ) مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے ؟ فرمایا :ہاں۔ (یہ سن کر) اُس نے ایک چیخ ماری اور اُس کی روح قَفَسِ عُنْصُرِیسے پرواز کر گئی ۔ (احیاء العلوم، ۴/۱۷)(2)توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتاایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُ اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے عرض کی:’’ حضور ! مجھ سے ایک گناہ سرزَد ہو گیاہے کیا میری توبہ قُبول ہوجائے گی ؟‘‘ آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اپنا منہ پھیر لیا، کچھ دیر بعد اُس کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ اُس کی آنکھوں سے آنسوجاری ہیں ، آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا:’’ جنت کے آٹھ دروازے ہیں توبہ کے دروازے کے علاوہ باقی تمام کھلتے اور بند ہوتے ہیں اُس (توبہ کے دروازے ) پر ایک فرشتہ مقرر ہے جو اُسے بند نہیں کرتا پس تو عمل کر اور مایوس نہ ہو۔‘‘(احیاء العلوم، ۴/۱۸)(3) سِتا ر بجانے والی کی توبہحضرتِ سَیِّدُناصالح مُرِّی عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْوَلِیفرماتے ہیں کہ سِتار( ایک قسم کا باجا) بجانے والی ایک لڑکی کسیقاریٔ قراٰن کے پاس سے گزری جو یہ آیت ِمبارکہ تلاوت کر رہا تھا:وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(۴۹)(پ۱۰،التوبۃ:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو۔
آیتِ مبارکہ سنتے ہی لڑکی نے سِتار پھینکا، ایک زور دار چیخ مار ی اور بیہوش ہو کر زمین پر گر گئی۔جب اِفاقہ ہوا تو سِتار توڑ کر عبادت و رِیاضت میں ایسی مشغول ہو ئی کہ عابدہ وزاہدہ مشہو رہوگئی ۔ ایک دن میں نے اُس سے کہا کہ ’’اپنے آپ پر نرمی کر۔ ‘‘ یہ سن کر روتے ہوئے بولی :’’ کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ جہنمی اپنی قبروں سے کیسے نکلیں گے؟ پُل صِراط کیسے عُبور کریں گے؟ قیامت کی ہولناکیوں سے کیسے نجات پائیں گے ؟کھولتے ہوئے گر م پانی کے گُھونٹ کیسے پئیں گے؟ اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے غَضَب کو کیسے برداشت کریں گے ؟‘‘اتنا کہہ کر پھربے ہوش ہو کر گِر پڑی۔جب اِفاقہ ہوا تو بارگاہِ خُداوَندی میں یوں عرض گزار ہوئی : ’’یااللہ عزَّوَجَلَّ! میں نے جوانی میں تیری نافرمانی کی اوراب کمزوری کی حالت میں تیری اِطاعت کر رہی ہوں ،کیا تو میری عبادت قُبول فرما لے گا؟‘‘پھر اس نے ایک آہِ سرد دِلِ پُردَردسے کھینچی اور کہا:’’آہ! کل بروز قیامت کتنے لوگوں کے عیب کھل جائیں گے ۔‘‘ پھر اس نے ایک چیخ ماری اورایسے درد بھرے انداز میں روئی کہ وہاں موجود سب لوگ اُس کی شدَّتِ گریہ وزاری سے بے ہوش ہو گئے ۔ (الروض الفائق، ص۱۴۸)سانپ خدمت کرنے لگاامامِ طَرِیقَت، سَیِّدُالزُّہَّاد، قائدِ اَوتاد، حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُ اللہ بِنْ مُبَارَک مَرْوَزِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیکی توبہ کا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے۔ توبہ سے قبل آپ ایک حسین و جمیل باندی کے عشق میں مبتلا تھے۔ ایک رات اپنے ایک دوست کو لے کر اُس کی دیوار کے نیچے کھڑے ہوگئے وہ باندی بھی چھت پر آگئی۔ صبح تک دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ،اذانِ فَجْر ہوئی تو آپ نے گُمان کیا کہ عِشاء کی اذان ہوئی ہے، لیکن جب دن چڑھا تو معلوم ہوا کہ تمام رات اِسی حالت میں گزر گئی ہے۔ بس یہی بات آپ کی توبہ کا سبب بنی دل میں مَدَنی اِنقِلاب برپا ہو گیااور اپنے آپ کو مخاطَب کر کے کہا :’’ اے اِبن ِمبارَک !تجھے شرم آنی چاہئے کہ نفس کی خواہش کے پیچھے ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے کھڑے گزار دی پھر بھی تو اِعزاز و بُزُرگی کا خواستگار ہے، اگر اِمام نماز میں کوئی بڑی سورت پڑھے تو تُو گھبرا جاتا ہے اس پر بھی تُو مومن ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ ‘‘پھر آپ نے صِدقِ دل سے توبہ کی اور تَحصِیلِ عِلم میں مشغول ہوگئے۔ اور ایسی زُہد و دِین دَاری کی زندگی اِختیار کی کہ ایک روز اپنی والدہ کے باغ میں سورہے تھے آپ کی والدہ نے دیکھا کہ ایک سانپ منہ میں رَیحان کی ٹہنی لیے آپ کے چہرے سے مکھی اور مچھر اڑا رہا ہے۔ (کَشْفُ المَحْجُوْب، ص۱۰۲ )اللہ عزَّوَجَلَّکی ان پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہمدنی گلدستہ
’’بغداد‘‘ کے 5 حروف کی نسبت سے احاد یثِ مبارکہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے 5 مدنی پھول
(1) کرمِ الٰہی ہم ہ وقت بندے کی توبہ قُبول کرنے کیلئے تیار ہے بس کوئی توبہ کرنے والا ہو۔
(2) سورج کے مغرب سے طُلوع ہونے سے پہلے کی گئی ہر توبہ قُبول ہے اس کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
(3)اللہ عزَّوَجَلَّجسم سے پاک ہے حدیث شریف میں جو ’’یَدُ اللہ‘‘ کا ذکر ہے۔ اُس پر اِس طرح ایمان لانا فرض ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکیلئے ’’یَد‘‘اُس کی شان کے مطابق ثابت ہے۔
(4) توبہ کرتے وقت گناہ پر جتنی زیادہ شرمندگی ہو گی رَحمتِ الٰہی اتنی ہی زیادہ متوجہ ہوگی۔
(5)اگر انسان فکر ِمدینہ( اپنا محاسبہ کرنے) کی عادت بنالے تو اسے بہت جلد توبہ کی توفیق نصیب ہو جاتی ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّبہت ہی کریم ہے۔ اس نے اپنے کرَم کے دروازے اپنے بندوں پر کھولے ہوئے ہیں ، ہم بھی اپنے گناہوں سے توبہ کر کے جنت میں داخل ہو سکتے ہیں لیکن موت کے وقت توبہ کادروازہ بند ہو جائے گا ۔اِس سے پہلے کہ یہ دروازہ بند ہو ہمیں اپنے گناہوں سے سچّی توبہ کر کے قراٰن وسنت کا راستہ اپنا لینا چاہئے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّدعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں خوفِ خدا عشقِ رسول اور فکرِ آخرت کا جذبہ نصیب ہوتا ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہیے اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ آپ اپنے اندرمَدَنی اِنقلاب محسوس کریں گے ۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں تا دمِ آخر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروح کب نکلی پتا ہی نہیں چلاکسی نے حضرتِ سَیِّدُنا امام محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَحَدکو خواب میں دیکھ کر پوچھا: ’’کَیْفَ کُنْتَ فِیْ حَالِ النَّزْعِ‘‘ یعنی موت کے وقت آپ کی کیا کیفیت تھی؟ آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:’’ میں اس وقت مُکَاتَب غلام کے متعلق ایک مسئلہ میں غورو فکر کررہا تھا مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ میری روح کب نکلی۔‘‘ (152 رحمت بھری حکایات، ص۱۳۵، مکتبۃ المدینہ)
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 17