Main Icon

باب : توبہ و استغفار کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 23

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسِِ رَضِیَ اللہُ عَنْہماأَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیاً مِنْ ذَہَبٍ أحَبَّ أَنْ یَّکُونَ لَہُ وَادِیانِ، وَلَنْ یَمْلَا فَاہُ إِلاَّ التُّرَابُ، وَیَتُوْبُ اللہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال …الخ، ۴/ ۲۲۹، حدیث: ۶۴۳۹-۶۴۳۷)(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب لو ان لابن ادم، ص۵۲۲، حدیث:۱۰۴۹)

عن ابن عباس رضی اللہ عنہماان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قال:لو ان لابن آدم وادیا من ذہب احب ان یکون لہ وادیان، ولن یملا فاہ إلا التراب، ویتوب اللہ علی من تاب۔ متفق علیہ۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال …الخ، ۴/ ۲۲۹، حدیث: ۶۴۳۹-۶۴۳۷)(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب لو ان لابن ادم، ص۵۲۲، حدیث:۱۰۴۹)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عبَّاسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو توچاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جواللہ عزَّوَجَلَّسے توبہ کرے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کی توبہ قُبول فرماتاہے۔

شرح حدیث

انسان کی حرص ختم نہیں ہوتیعَلَّامہ اِبنِ بَطّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارفرماتے ہیں : اس حدیث میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انسان کی مالی حرص کو بیان فرمایا کہ اس کی کوئی انتہا نہیں جس پر وہ قَناعَت کرے یا اس کی حِرْص ختم ہو جائے۔ پھر حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مزید فرمایا کہ ابنِ آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے یعنی جب وہ مر کر اپنی قبر میں جائے گا تو قبر کی مٹی ہی اس کے پیٹ کو بھر ے گی ۔(آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے) اس قول میں دنیوی مال پر حرص کی مذمت کی طرف اشارہ ہے ، اسی لئے بُزُرگانِ دینرَحِمَہم اللہ الْمُبِیْناس فانی دنیا سے کَنارہ کَشی کرتے اور بقدرِ ضرورت ہی اس میں سے کچھ لیتے ۔ (شرح لابن بطال، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال …الخ، ۱۰/۱۶۰)حِرْص کسے کہتے ہیں ؟کسی چیز سے سیر نہ ہونا اورہم یشہ زیادتی کی خواہش رکھنے کو حرص اور حِرص رکھنے والے کو’’ حَرِیص‘‘ کہتے ہیں۔( مراٰۃ المناجیح، ۷/۸۶ )حرص کسی بھی چیز کی ہوسکتی ہےعام طور پر یہی سمجھا جاتاہے کہ حِرْص کا تعلق صِرْف ’’مال ودولت ‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ حِرْص تو کسی شے کی مزید خواہش کرنے کا نام ہے اور وہ چیز کچھ بھی ہوسکتی ہے،چاہے مال ہو یا کچھ اور!چنانچہ، مزید مال کی خواہش رکھنے والے کو ’’مال کا حریص‘‘ کہیں گے تو مزید کھانے کی خواہش رکھنے والے کو ’’کھانے کا حریص ‘‘ کہا جائے گااور نیکیوں میں اِضافے کے تمنائی کو ’’نیکیوں کا حریص ‘‘ جبکہ گناہوں کا بوجھ بڑھانے والے کو’’ گناہوں کا حریص ‘‘کہیں گے ۔حضرتِ علامہ عبدالمُصطَفٰے اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیلکھتے ہیں : لالچ اور حِرْص کا جذبہ خوراک ،لباس، مکان،سامان، دولت،عزت، شہرت الغرض ہر نعمت میں ہوا کرتا ہے۔ (جنتی زیور ،ص۱۱۱ملخصًا)
اللہ عزَّوَجَلَّ
کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔مال کے حریص کی توبہ بھی قبول ہےاِبْنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : جس طرح اللہ عزَّوَجَلَّ دوسرے گنا ہ گاروں کی توبہ قبول فرماتا ہے اسی طرح دنیوی مال کے حریص کی توبہ بھی قبول فرما لیتا ہے ۔ اس حدیث پاک میں مال جمع کرنے ، مال کی تمنا کرنے اور مال کی لالچ کی مذمت کی طرف اشارہ ہے ۔ علامہ طِیْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ القَوِیفرماتے ہیں : ممکن ہے کہ اس حدیث پاک کا یہ مطلب ہو کہ انسان فطری طور پر مال کی کثرت کو پسند کرتا ہے اور اس کی ہَوَس کا پیٹ کبھی بھی نہیں بھرتا سوائے اُن لوگوں کے جنہیںاللہ عزَّوَجَلَّبچائے اور جن کی فطرت سےاللہ عزَّوَجَلَّمال کی ہَوَس زائل فرما دے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔(فتح الباری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال …الخ، ۱۲/۲۱۶، تحت الحدیث:۶۴۳۹)انسان فِطرتاً حریص ہےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی اَلْقَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیفرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی تنبیہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک ایسا بخل ہوتا ہے جو اسے حَرِیْص (لالچی) بناتا ہے جیسا کہ اس کی خبراللہ عزَّوَجَلَّنے قراٰن
میں بھی دی۔ چنانچہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآىٕنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِؕ-وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠(۱۰۰)(پ۱۵، بنی اسرائیل: ۱۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان :تم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو انہیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں اور آدمی بڑا کنجوس ہے ۔
پس یہ آیت ابن آدم کے انتہائی حَرِیْص (لالچی) اور بخیل ہونے پردلیل ہے ، ابن ِآدم اس پرندے سے بھی زیادہ بخیل ہے جو ساحلِ سمندر پر اس خوف سے پیاسا مر جاتا ہے کہ کہیں پانی پینے سے پانی ختم نہ ہو جائے اور اس کیڑے سے بھی زیادہ بخیل ہے جس کی خوراک مٹی ہے لیکن وہ اس خوف سے بھوکا مر جاتا ہے کہ کہیں کھانے سے مٹی ختم نہ ہو جائے ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، الفصل الاول، ۹/۱۲۴، تحت الحدیث:۵۲۷۳)
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : حدیث کے معنی یہ ہیں کہ انسان دنیا پر حَرِیْص (لالچی) ہی رہے گا حتی کہ اس کی موت آجائے اور اس کے پیٹ کو قبر کی مٹی ہی بھرے گی ، غالبا ًیہ حدیث انسان کے دنیا پر حَرِیْص ہونے کے حکم کے بارے میں وارد ہوئی ہے اور اس کی تائید حدیث شریف کے اس حصے سے بھی ہوتی ہے کہ ’’اللہ عزَّوَجَلَّاس کی توبہ قبول فرماتا ہے جو توبہ کرتا ہے‘‘ یعنیاللہ عزَّوَجَلَّایسے لالچی انسان کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے جس طرح دیگر گناہ گاروں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔
(شرح مسلم للنووی، کتاب الزکاۃ، باب کراھۃ الحرص علی الدنیا، ۴/۱۳۹، الجزء السابع)
حدیثِ مذکور میں انسان کے انتہائی حریص ہونے کا بیان ہے کہ اُسے چاہے کتنا ہی مال دے دیا جائے لیکن وہ قناعت نہیں کرے گا۔ اس کی حِرص کو صرف موت ہی ختم کر سکتی ہے کیونکہ مرنے کے بعد اس پر مال ودنیا کی حقیقت واضح ہوجائے گی ۔ سمجھدار انسان کبھی بھی دنیا کے چکر میں پھنس کر اپنے خالقِ
حقیقی عزَّوَجَلَّکی یاد سے غافل نہیں ہو تا بلکہ غفلت میں ڈالنے والی ہر شے سے وہ کَوسوں دور بھاگتا ہے ۔ شریعتِ مُطَہَّرَہ نے دنیا کی بہت مذمت بیان فرمائی تاکہ انسان اس سے دھوکا نہ کھائے ۔فرمانِ خدا وندی ہے :كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۱۸۵)(پ۴، الِ عمران: ۱۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان : ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے ، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔
گناہوں کی حرص سے بچنے کا نُسخہگناہوں کی حِرْص سے بچنابے حد ضروری ہے ، اس کے لئے سب سے پہلے گناہوں کی پہچان حاصل کیجئے ، پھر ان کے نقصانات پر غور کیجئے کیونکہ ہمارا نَفْس فائدے کی طرف لپکتا اور نقصان سے بھاگتا ہے ۔ اگر حقیقی معنوں میں اِحساس ہوجائے کہ ہمیں گناہوں کی کیسی ہولناک سزا ملے گی تو ہم گناہ کے خیال سے بھی بھاگیں۔حصولِ عبرت کے لئے مختلف گناہوں میں مُلَوَّث ہونے والوں کے لَرزہ خیز اَنجام کی حکایات پڑھنا بھی بے حد مفید ہے ۔حرصِ مال بھی ایک باطنی بیماری ہےمال کی مذموم حِرْص بھی یقینا ایک باطنی بیماری ہے جو محتاجِ علاج ہے۔ سرکارِ مدینہ، صاحب ِ معطر پسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:عنقریب میری اُمت کو پچھلی اُمتوں کی بدترین بیماری پہنچے گی جو کہ تکبر، کثرتِ مال کی حِرْص، دنیوی معاملات میں کینہ رکھنا، باہم ایک دوسرے سے بغض رکھنا اور حسد (کرنے پر مشتمل )ہے ، یہاں تک کہ وہ سَرکشی اختیار کر لے گی۔(مستدرک حاکم،کتاب البر والصلۃ ، باب داء الامم …الخ، ۵/۲۳۴، حدیث:۷۳۹۱)حرصِ مال کاعلاج کیسے کیا جائے؟مال کی مذموم حِرْص کے علاج کے لئے ان باتوں پر عمل کرنا بے حد مفید ہے٭∞بارگاہِ الٰہی میں حِرْص سے بچنے کی دعاکرنا٭∞خواہشات کو کنٹرول کرنا٭∞ اخراجات میں میانہ روی اختیار کرنا٭∞اپنے ربّ کریم پر حقیقی توکل کرنا٭∞ لمبی لمبی امیدیں نہ لگا نا٭∞ موت کو یاد رکھنا٭∞ میدانِ محشر میں مالداروں سے حساب کا تصور کرنا٭∞ سخاوت اپنانا٭∞ صبر وقناعت سے کام لینا٭∞ حِرْصِ مال کے نقصانات پر غور کرنا٭∞ مال کے حریصوں کے عبرتناک انجام اپنے پیشِ نظر رکھنا ۔ وغیرہ
جسے دنیا کی حقیقت معلوم ہوگی وہ اس کے مذموم مال کی کبھی بھی حرص نہیں کرے گا آئیے!دنیا کی مذمت سے متعلق چند عبرت آموز روایات ملاحظہ کرتے ہیں :
’’قَنَاعَت‘‘کے 5حُروف کی نسبت سے دنیا کی مَذَمَّت پرمشتمل 5روایات
(1) مچھر سے بھی زیادہ حقیر
حضرتِ سَیِّدُنا سَہْل بِنْ سَعْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ حضور سرور کونینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’ اگراللہ عزَّوَجَلَّکے نزدیک دنیا کی حیثیت ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔‘‘ (ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی ھوان الدنیا علی اللہ ، ۴/۱۴۳، حدیث:۲۳۲۷ )(2) صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی گِریہ وزاریحضرتِ سَیِّدُنازَیْد بَنْ اَرْقَمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوبکْر صِدّیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اَمیرُالْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے پانی منگوایا تو آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا جس میں پانی اور شہد تھا ، آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اُسے اپنے منہ کے قریب کیا پھر ہٹالیا اور رونے لگے حتی کے تمام صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانرونے لگے ، پھر صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانچُپ ہو گئے اور آپ روتے رہے پھر اپنی چادر سے اپنے چہرے کو صاف کیا اور پھر روئے یہاں تک کہ آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کلام بھی نہیں کیا جارہا تھا پھر آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اپنی آنکھوں کو صاف کیا تو صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاننےعرض کی:اے رسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے خلیفہ! آپ کو کس چیز نے رُلایا؟ فرمایا: ایک دن میں رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آ پصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماپنے دَسْتِ مبارَک سے کسی چیز کو ہٹا رہے ہیں لیکن مجھے کوئی چیز نظرنہیں آرہی تھی‘ میں نے عرض کی: یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! آپ کس چیز کو ہٹار ہے ہیں ؟ مجھے تو کوئی چیز نظر نہیں آرہی ۔ فرمایا: یہ دنیا ہے جو میرے پاس آنا چاہتی ہے میں نے اس سے کہا: مجھ سے دور ہو جا، تو اُس نے مجھ سے کہا: اگر آ پصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے مجھ کو چھوڑ دیا ہے تو کیا ہوا، آپ کے بعد ایسے لوگ آئیں گے کہ وہ مجھ کو نہیں چھوڑیں گے۔ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوبکر صِدّیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرمانے لگے: مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اس کے ہاتھ نہ پڑجاؤں۔(شعب الإیمان، باب فی ا لزھد وقصر الامل فصل فیما بلغنا عن الصحابۃ، ۷ /۳۶۵، حدیث: ۱۰۵۹۶)(3)دنیا کی حقیقتحضرتِ سَیِّدُنا اَبُوہُرَیرَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : ایک روز حضور اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں دنیا اور جو اُس میں ہے اسکی حقیقت نہ بتاؤں ؟ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کوڑا کَرکَٹ ڈالنے کی جگہ لے گئے، وہاں لوگوں کے سر، غَلاظَت، پھٹے پرانے کپڑے اور بہت سی ہڈیاں پڑی تھیں۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اے ابوہریرہ !یہ سر جو تم دیکھ رہے ہو یہ بھی تم لوگوں کی طرح حرص کرتے اور لمبی لمبی امیدیں باندھتے تھے لیکن آج ان کی صرف ہڈیاں باقی ہیں اور یہ ہڈیاں بھی عنقریب گل کر مٹی ہوجائیں گی اور یہ غَلاظت وہ رَنگ برنگ کے کھانے ہیں جو بڑی تگ و دو سے حاصل کئے گئے تھے لیکن اب لوگ ان سے کراہت کرتے ہیں۔ اوریہ پھٹے پرانے کپڑے لوگوں کے شاندار لباس تھے لیکن اب انہیں ہوائیں ادھر ادھر پھینک رہی ہیں اور یہ ہڈیاں ان جانوروں کی ہیں جن پر سوار ہوکر یہ لوگ دُنیا کی سیر کرتے تھے ۔بس یہی دنیا کی حقیقت ہے۔ جو دنیا پر روناچاہے اسے چاہئے کہ وہ روئے۔ یہ سن کر ہم زارو قطار رونے لگے ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۵۱)(4) دنیا سے بے رغبتی کا صِلہحضرتِ سَیِّدُنا حسنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ ایک روز رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکاشانۂ نَبوَّت سے باہر تشریف لائے اور صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانسے ارشادفرمایا :کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّاسے بغیر کسی کے سکھائے علم اور بغیر کسی رَہبر کے ہدایت عطا فرمائے ، کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّاُس کا اندھا پن دور فرماکراُسے بینا کردے ؟ جان لوکہ جوکوئی دنیاسے بے رغبتی اختیارکرے اور لمبی امیدیں نہ باندھے تواللہ عزَّوَجَلَّاسے بغیر سیکھے علم عطا فرمائے گا ۔(شعب الایمان، باب فی الزھد وقصر الامل، ۷/۳۶۰، حدیث:۱۰۵۸۲)(5)مال کی زیادتی دشمنی کا باعث ہےرسول ِ خداصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے ایک موقعہ پر صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانسے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! مجھے تمہارے مُفلِس ہوجانے کا ڈر نہیں ، مجھے تو ڈر اس بات کا ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہوجائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی پھر تم اِس میں رغبت کرنے لگو جیسے اگلے لوگ کرنے لگے تھے اوریہ تمہیں ہلاک کردے جیسے انہیں ہلاک کیا ۔(بخاری، کتاب الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع اہل الحرب،۲/۳۶۳، حدیث:۳۱۵۸)
مذکورہ روایات سے معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے، آقا مدینے والے مصطفیٰ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماور صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاندنیا سے کس قدر بیزار تھے۔ انہوں نے اِس دنیائے فانی کو اچھا نہیں سمجھا وہ اس کی حقیقت کو جانتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اِن کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس بے وفا دنیا کی مَحَبَّت سے اپنے دلوں کو خالی کر کےاللہ عزَّوَجَلَّاوراس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی یاد سے معمور رکھیں۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں دنیا کی مَحَبَّت سے بچا کر اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمہماراربّ عزَّوَجَلَّبہت کریم ہے وہ اپنے بندوں کے گناہ معاف فرمانے والاہے۔ اس کی بارگاہ ِعالی میں جو بھی سچے دل سے توبہ کرتا ہے اس کی توبہ ضرور قُبول کی جاتی ہے۔ اگر سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد شیطان ونفس کے بہکاوے میں آکر دوبارہ گناہ ہوجائے تو یہ سوچ کر ہرگز ہرگز توبہ سے دور نہیں رہنا چاہیے کہ نہ جانے توبہ قُبول ہوگی یا نہیں۔ یاد رکھئے ! چاہے کتنی ہی مرتبہ توبہ کرنی پڑے فوراً توبہ کرلینی چاہیے۔ کیونکہاللہ عزَّوَجَلَّتوبہ کرنے والوں سے ناراض نہیں ہوتا بلکہ خوش ہو کر ان کی توبہ قُبول فرماتا ہے ۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا(۲۵)(پ ۱۵بنی اسرائیل :۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:توبے شک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
حضرتِ سَیِّدُنا سَعِید بِن مُسَیَّب
رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :’’یہ فرمان اُس شخص کے بارے میں ہے جس سے گناہ سرزد ہوتا ہے پھر توبہ کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴ /۱۸)عَارِف بِا للّٰہ کی پہچانکسی دانا کا قول ہے کہ عَارِف بِاللہ کی چھ حالتیں ہوتی ہیں : (1)جباللہ عزَّوَجَلَّکا ذکر ہو تو مچل جائے (2)جب اس کا اپنا ذکر ہو تو خود کو حقیر سمجھے(3)اللہ عزَّوَجَلَّکی آیات سے عبرت حاصل کرے (4)گناہ یا شَہْوَت کا کام کرنے لگے تو ڈر جائے(5)اللہ عزَّوَجَلَّکی شانِ غفّاری کا تذکرہ ہو تو خوش ہوجائے (6)جب اپنے گناہ یاد آئیں تو توبہ واِستِغفَار کرے۔ (تنبیہ ا لغافلین، ص۵۵)اللہ عزَّوَجَلَّکی رحمت بہت بڑی ہے وہ اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے کبھی مایوس نہیں کرتا، بڑے سے بڑا گناہ بھی اس کی رحمت کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔جب اس کی رحمت جوش میں آتی ہے تو وہ بڑے بڑے مجرموں کو بھی توبہ کی توفیق عطا فرما کر ان پرنظرِ کرم فرماتا ہے۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں سچی توبہ اور اُس پر اِسْتِقَامَت کی توفیق عطا فرمائے !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ’’قناعت‘‘ کے 5 حروف کی نسبت سے حد یث پاک اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5 مدنی پھول
(1) مال کی حِرص ایک مذموم شے ہے اور یہ موت ہی سے ختم ہوتی ہے ۔
(2) موت تمام خواہشات اور اُمیدوں کو ختم کردیگی اس لئے خواہشات اور لمبی لمبی امیدوں سے بہتر ہے کہ انسان اپنی آخرت کو سنوارنے کے لئے نیک اعمال کرے ۔
(3)
اللہ عزَّوَجَلَّکو دنیا بالکل بھی پسند نہیں ، اس کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ، دنیا کی مَحَبَّت تمام گناہوں کی جڑ ہے۔
(4)
اللہ عزَّوَجَلَّسچی توبہ کرنے والے ہر شخص کی توبہ قُبول فرماتا ہے۔
(5) بڑے سے بڑا گناہ گار بھی اگر سچے دل سے توبہ کرے تو
اللہ عزَّوَجَلَّاس کے سب گناہ معاف فرمادیتا ہے ۔
دنیا کی مَحَبَّت تمام گناہوں کی جڑہے ،یقینا دنیا کی زندگی تو بہت تھوڑی ہے جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ ہم یشہ کی زندگی ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ دنیا میں جتنا رہنا ہے اتنی دنیا کے لئے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنی آخرت کے لئے تیاری کریں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّتبلیغ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک’’ دعوتِ اسلامی ‘‘کے مدنی ماحول میں خوفِ خدا اور عشقِ مُصطفیٰ کے جام بھر بھر کے پلائے جاتے ہیں ، آپ سے مدنی التجا ہے کہ’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کے مدنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہئے۔اللہ عزَّوَجَلَّہمارے دلوں سے دنیا کی مَحَبَّت نکال کر اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت ڈال دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 23