- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- حدیث نمبر 22
حدیث مبارکہ
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الحُصَیْنِ الخُزَاعِیِّ رَضِِیَ اللہُ عَنْہم ا:أَنَّ اِمْرَأۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ أَتَتْ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہِیَ حُبْلٰی مِنَ الزِّنٰی ، فَقَالَتْ:یَا رَسُوْلَ اللہِ ، أصَبْتُ حَدّاً فَأَقِمْہُ عَلَیَّ ، فَدَعَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَلِیَّہَا ،فَقَالَ:أَحْسِنْ إِلَیْہَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِیْ فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِہَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَشُدَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَرُجِمَتْ،ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہَافَقَالَ لَہُ عُمَرُ: تُصَلِّی عَلَیْہَا یَارَسُوْلَ اللہِ وَقَدْ زَنَتْ؟قَالَ:لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِینَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہم ،وَہَلْ وَجَدْتَّ أَفضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَ ا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ؟رَوَاہُ مُسْلِم
(مسلم ،کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، ص۹۳۳، حدیث:۱۶۹۶)
عن عمران بن الحصین الخزاعی رضی اللہ عنہم ا:ان امراۃ من جہینۃ اتت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہی حبلی من الزنی ، فقالت:یا رسول اللہ ، اصبت حدا فاقمہ علی ، فدعا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولیہا ،فقال:احسن إلیہا ، فإذا وضعت فاتنی ففعل فامر بہا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فشدت علیہا ثیابہا، ثم امر بہا فرجمت،ثم صلی علیہافقال لہ عمر: تصلی علیہا یارسول اللہ وقد زنت؟قال:لقد تابت توبۃ لو قسمت بین سبعین من اہل المدینۃ لوسعتہم ،وہل وجدت افضل من ان جادت بنفسہ ا للہ عز وجل؟رواہ مسلم
(مسلم ،کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، ص۹۳۳، حدیث:۱۶۹۶)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناعِمْرَان بِنْ حُصَیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہجُہَیْنَہ قبیلے کی ایک عورت جو زِناسے حاملہ تھی بارگاہِ نَبوَّت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی :یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں حَد(گناہ کی سزا)کی مُستَحِق ہوں ،اُس (حد) کو مجھ پر قائم فرمادیں۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اس کے وَلی (سرپرست) کو بُلایا اور اُس سے فرمایا کہ اسے اپنے ہاں اچھے طریقے سے رکھو !جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کو میرے پاس لاؤ ۔چنانچہ، اس نے اسی طرح کیا ۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اس عورت کے متعلق حکم فرمایا کہ اس کے کپڑوں کو اس کے جسم پر باندھ دو اور اس کو رَجم کردو ۔چنانچہ ،وہ رَجْم کردی گئی ۔پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ حضرتِ عمرفاروقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے خدمتِ اَقدس میں عرض کی:اس نے زِناکیاہے، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمپھر بھی اس کی نمازِجنازہ پڑھتے ہیں ؟ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہمَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاکے ستّر(70) آدمیوں پر تقسیم کی جائے تو اُن کی بخشش کے لئے کفایت کرے۔ کیااس سے بڑھ کر کوئی بات ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکی خاطر اس نے اپنی جان قربان کردی۔
شرح حدیث
جو توبہ کرلے اُسے مَلامَتْ نہیں کرنی چاہئےحضرت سَیِّدُنااِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشَرحِ مسلم میں فرماتے ہیں : حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اس عورت کے ولی کو یہ کہنا کہ تم اسے اچھی طرح رکھو اور جب بچے کی ولادت ہوجائے تو اسے میرے پاس لے آنا، یہ نرمی دو سبب سے تھی(1) تاکہ اس کے عزیز واقربا غیرت وعار کی بِنا پر اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں (2) چونکہ لوگ ایسی عورتوں سے نفرت کرتے اور انہیں بُرا بھلا کہتے ہیں ،لیکن اس عورت نے سچی توبہ کر لی تھی اس لئے اس کے ساتھ نرمی کا حکم دیا ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب حد الزنا، باب قبول توبۃ القاتل وان کثر، ۶/۲۰۵، الجزء الحادی عشر)
خوش بخت ہیں وہ لوگ جنہیں اپنے گناہوں پر سچی ندامت نصیب ہوجاتی ہے اور یہی ندامت ان کی معافی کا باعث بن جاتی ہے ۔ جو جتنا نیک ہوگا اُسے اپنے گناہ پر اتنی ہی زیادہ ندامت ہوگی ۔ بتقاضائے بشریت جب اُس عورت سے گناہ سرزد ہوا تو اسے اپنے اس فعل پر ایسی ندامت ہوئی کہ اپنے آپ کو رجم کے لئے پیش کر دیا ۔ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اسے بچے کی پیدائش کے بعد آنے کا حکم فرمایاکیونکہ حاملہ کو رجم کرنے کی صورت میں ایک جان بلا کسی وجہ کے ضائع ہوتی ۔بچے کی ولادت کے بعد جب وہ دوبارہ حاضرِ خدمت ہوئی تو اسے رجم کیا گیااور میرے آقا مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اس کی توبہ کے بارے میں فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ مدینہ منورہ کے ستّر70 آدمیوں پر تقسیم کی جائے تو اُن کی بخشش کے لئے کفایت کرے۔ کیااس سے بڑھ کر کوئی بات ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکی خاطر اس نے اپنی جان قربان کردی۔ مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : یہاں توبہ کو مادی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے کہ اس کے لیے تقسیم کا ذکر فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ تقسیمِ توبہ سے مراد اس کے ثواب کی تقسیم ہے ۔اس دوسری توجیہ کو مرقات نے ترجیح دی ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵/۲۸۵)گناہوں پر دُنیوی سزائیں کیوں رکھی گئیں ؟دینِ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے،اس پر عمل پیرا ہونے کی برکت سے دنیا وآخرت کے ہر میدان میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ جہاں اس دینِ برحق نے نیک اعمال پراجرِعظیم کی خوشخبری سنائی وہیں گناہوں کے ارتکاب پردُنیوی و اُخروی سزائیں بھی مقرر فرمائیں تاکہ برائی کاتَدارُک( روک تھام )ہوسکے ۔ انسانوں کی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں کوئی صرف رضائے الٰہی پانے کے لئے برائی سے بچتا ہے توکوئی غضبِ الٰہی اورآخرت کے خوف سے گناہوں سے مُجْتَنِبْ(بچا) رہتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آخرت کی وَعیدوں کو دُور جاننے کی وجہ سے غفلت کے عَمِیْق (گہرے)گڑھے میں پڑے رہتے ہیں۔چونکہ دُنیوی سزائیں فوری ملتی ہیں اس لئے وہ اِن سزاؤں کے خوف سے برائیوں سے بچتے ہیں اوراس طرح معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ لہٰذا اِسلام نے مختلف گناہوں کی جو دُنیوی سزائیں مقررکیں ہیں وہمَعاذَ اللہظلم نہیں بلکہ ظلم وسِتم کا قَلع قَمع کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ جب کسی ایک کو سزا ملے گی تو ا سے دیکھنے والے سب عبرت حاصل کریں گے۔ زنا ایسا جرم ہے کہ جس کی وجہ سے انسانی نسب خراب ہوتاہے، شریعتِ مُطَہَّرہ نے حفظ ِنسب کو بڑی اَہم یت دی ہے، لہٰذا جو اِس میں خرابی کا باعث بنے گا ۔اسے قہرِ خُداوندی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ زنا کی حرمت کے بارے میں قراٰن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)(پ۱۵، بنی اسرائیل الاسراء:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ ۔
ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ(۶۸) یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ(۶۹)(پ ۱۸، الفرقان: ۶۹۔۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جواللہکے ساتھ کسی معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کیاللہنے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے، اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گابڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن، اور ہم یشہ اس میں ذلت سے رہے گا۔
قراٰن کریم میں زِنا کی سزا بیان کرتے ہوئے خدائے بزرْگ وبَرْتر نے ارشاد فرمایا:اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۪-وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ-وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲)(پ ۱۸، النور:۲)
ترجمۂ کنزالایمان:جو عورت بدکار ہو اور جو مرد ، تو ان میں ہرایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پرترس نہ آئے اللہ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو۔
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِیاس آیت کے تحت فرماتے ہیں :یہ خِطاب حُکّام کو ہے کہ جس مرد یا عورت سے زِنا سرزد ہو اس کی حد(شرعی سزا) یہ ہے کہ اسے سو(100) کوڑے لگاؤ ،یہ حد حُرِّ غیرِمُحْصِن (یعنی آزاد کنوارے)کی ہے کیونکہ حُرِّمُحصِن(یعنی آزاد شادی شدہ) کا حکم یہ ہے کہ اس کو رَجم کیا جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ حضرتِ ماعِزرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بحکمِ نبیِِّّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرجم کیا گیا اورمُحْصِن’’ وہ آزاد مسلمان ہے جو مُکلَّف ہو اور نکاحِ صحیح کے ساتھ صحبت کر چکا ہو خواہ ایک ہی مرتبہ‘‘ ایسے شخص سے زنا ثابت ہو تو رجم کیا جائے گا اور اگر ان میں سے ایک بات بھی نہ ہو مثلاً حُر نہ ہو یا مسلمان نہ ہو یا عاقل بالغ نہ ہو یا اس نے کبھی اپنی زوجہ کے ساتھ صحبت نہ کی ہو یا جس کے ساتھ کی ہو اس کے ساتھ نکاحِ فاسد ہوا ہو تو یہ سب غیر محصِن میں داخل ہیں اور ان سب کا حکم کوڑے مارنا ہے ۔مرد کوکَوڑے لگانے کے وقت کھڑا کیا جائے اور اس کے تمام کپڑے اتار دیئے جائیں سوا تہبند کے اور اس کے تمام بدن پر کوڑے لگائے جائیں سوائے سر ،چہرے اور شرم گاہ کے ، کوڑے اس طرح لگائے جائیں کہ اَلم گوشت تک نہ پہنچے اور کوڑا مُتَوَسِّط درجہ کا ہو اور عورت کو کوڑے لگانے کے وقت کھڑا نہ کیا جائے نہ اس کے کپڑے اتارے جائیں۔البتہ اگر پوستین یا روئی دار کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اتار دیئے جائیں ، یہ حکم حُر اور حُرَّہ کا ہے یعنی آزاد مرد اور عورت کا اور باندی، غلام کی حد اس سے نصف یعنی پچاس50 کوڑے ہیں۔ ثبوتِ زنا یا تو چار مردوں کی گواہیوں سے ہوتا ہے یا زِنا کرنے والے کے چار4 مرتبہ اقرار کر لینے سے پھر بھی امام بار بار سوال کرے گا اور دریافت کرے گا کہ زِنا سے کیا مراد ہے کہاں کیا ، کس سے کیا ، کب کیا ؟ اگر اِن سب کو بیان کر دیا تو زنا ثابت ہو گا ورنہ نہیں اور گواہوں کو صراحتہً اپنا معائنہ بیان کرنا ہوگا بغیر اس کے ثبوت نہ ہوگا ۔ لَواطت ،زِنا میں داخل نہیں ، لہٰذا اس فعل سے حد واجب نہیں ہوتی لیکن تعزیر واجب ہوتی ہے اور اس تعزیر میں صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکے چندا قوال مروی ہیں :(۱)آ گ میں جلا دینا (۲)غرق کر دینا (۳)بلندی سے گرانا اور اوپر سے پتھر برسانا، فاعل و مفعول دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ (خزائن العرفان پ ۱۸ ،سورۃ النور:۲)اللہ عزَّوَجَلَّکے ایسے مقبول بندے بھی ہیں جو گناہوں سے کوسوں دور بھاگتے ہیں اوراگر ان سے کوئی ایسا عمل سرزدہو جائے جو کسی گناہ کی طرف لے جانے والا ہو تو وہ اپنے آپ کو ایسی سزا دیتے ہیں کہ ہم اس کے بارے میں سوچ کر بھی کانپ جاتے ہیں۔ چنانچہ، منقول ہے کہانوکھی سزاایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن مریمعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہم ا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامشہر سے باہر تشریف لائے تاکہ لوگوں کے لئے بارش طلب کریں لیکناللہ عزَّوَجَلَّنے وَحی فرمائی : اے عیسیٰ! بارش کا مطا لَبہ نہ کرو کیونکہ تمہارے ساتھ خطاکار ہیں۔ حضرت سیِّدُنا عیسیٰعَلَیْہِ السَّلامنے انہیں اس بات کی خبر دی اور اِعلان فرمایاکہ ہمارے ساتھ جو بھی گنہگار ہے وہ جدا ہو جائے۔یہ سن کر صرف ایک آدمی بچاجس کی ایک آنکھ تھی باقی سب چلے گئے۔ آپ نے اس سے پوچھا:تم کیوں نہیں گئے؟ اس نے عرض کی :اے رُوحُ اللہ (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام)! میں نے ایک لمحہ بھیاللہ عزَّوَجَلَّکی نافرمانی نہیں کی،ہاں ! ایک دن بِلا اِرادہ ایک عورت کے پاؤں پر نظر پڑی تھی تو میں نے اپنی ایک آنکھ نکال دی ،اگر دوسری آنکھ بھی پڑتی تو اُسے بھی نکال پھینکتا۔ یہ سن کرحضرت سیِّدُناعیسیٰ َعلَیْہِ السَّلَامرونے لگ گئے یہاں تک کہ آنسوؤں سے رِیش (داڑھی) مبارک تَر ہو گئی۔پھر فرمایا: ہمارے لئے دعاکر، توساری زندگی گناہوں سے بچتا رہا ہے ۔ چنانچہ وہ بارگاہ ِ خداوندی میں عرض گزار ہوا :’’اے ہمارے پَروَرْدگارعزَّوَجَلَّ! تو نے ہمیں پیدا فرمایا اور تو ہی ہمارے رزق کا کفیل ہے۔ ہمیں بارانِ رحمت عطا فرما ۔‘‘ ابھی وہ شخص دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پایا تھا کہ ایسی بارش آئی گویا آسمان پھٹ پڑا ہو۔(ملخصاً عیون الحکایات، الحکایۃ الخامسۃ والاربعون ،ص۶۴)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدشرابی نو جوان کی توبہشہرِبصرہ میں رضوان نامی ایک آوارہ و سرکش ،شرابی نوجوان رہتا تھا ۔ایک مرتبہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شراب کے نشے میں مَدہوش تھا ، کہ ایک دَرویش کچھ عربی اشعار پڑھتا ہوا وہاں سے گزرا اشعار کا مفہوم کچھ اسطرح ہے:جب تو کسی دن لوگوں سے الگ کسی جگہ تنہا ہو تو یہ نہ کہہ کہ میں تنہا ہوں اور مجھے کو ئی نہیں دیکھ رہا بلکہ یوں کہہ کہ مجھ پر ایک نگہبان ہے اوراللہ عزَّوَجَلَّکو لمحہ بھر کے لئے بھی ہر گز غافل نہ جاننا اور نہ یہ گمان کر نا کہ اس سے کوئی چھپی ہوئی بات پوشیدہ ہے۔
یہ نصیحت آموز اشعا رسن کر نوجوان زاروقطار رونے لگا اور دَرویش کواللہ عزَّوَجَلَّکاواسطہ دے کردوبارہ وہی اشعار پڑھنے کو کہا۔ اس نے وہی اشعاردوبارہ پڑھے تو نوجوان نے کہا : یا سَیِّدی!اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم !آپ کی زِیارت ہمارے لئے باعث ِ سعادت ہے، اپنی درد بھری آواز میں مزیدنصیحت آموز اشعار سنا کر ہم اری زندگی کو پاکیزہ وستھرا کر دیجئے ۔ چنانچہ، درویش نے مزید کچھ اشعار سنائے جن کا مفہوم کچھ اس طرح ہے :اللہ عزَّوَجَلَّکارِزْق کھاکر بھی تُو اُس کی نافرمانی کرتاہے، جب تو ا ُس کی مخلوق سے چُھپتا ہے تووہ تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، اے انسان!اللہ عزَّوَجَلَّکی نافرمانی سے بچ، توجو بھی گناہ کرتا ہے وہ تجھے دیکھ رہا ہوتاہے اور جانتاہے۔
یہ سن کر نوجوان پھر رونے لگا اور بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ جب اُسے ہوش آیا تو اُس نے شراب کے برتن توڑ ڈالے اور عرض کی: یاسَیِّدی! کیا میری توبہ قُبول ہو جائے گی؟ دَرویش نے کہا :یہرب عزَّوَجَلَّسے صُلْح کی گھڑی ہے،اللہ عزَّوَجَلَّنے تجھے نیکی کے دروازے پر آنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ، آج تیرے گناہ معاف کر دیئے جائیں تو تیرے لئے کتنی بڑی سعادت ہے! (لہٰذا تو بارگاہِ الٰہی میں سچی توبہ کر لے)۔ نوجوان نے پھرچیخ ماری اور غش کھا کر زمین پر گِر گیا۔ جب اِفاقہ ہوا تو عرض کرنے لگا: یاسَیِّدی ! کیا مجھ سے گُزَشتہ گناہوں کا مُواخَذہ ہو گا؟ کہا: نہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم! خالِص مَحَبَّت کتنی عمدہ ہے! مُحِبِّین کے لئے دُوری کے بعدلذّتِ قُرب کتنی اچھی ہے ! پھر قرب کے بعدہِجْرو فِراق کی گھڑی کتنی شدید ہے! اے (اللہ عزَّوَجَلَّسے کئے ہوئے )عہد ِ مَحَبَّت کو بھولنے والے! تو نے اپنےربّ عزَّوَجَلَّسے مُعامَلہ کیا پھر غفلت کی میٹھی نیند سو گیا، تُو کس فُضول کام میں مشغول ہے؟ تُو نے تو اپنا مقصود ضائع کر دیا۔ آج ہی نیکیوں پر کمربستہ ہو جا اور گُزَشتہ گناہوں کو ترک کر دے اوردَروَیشی اِختیار کر لے۔ تیرے سابِقہ گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔اِس پر نوجوان کے آنسو بہہ نکلے اور اس کے دوست بھی رونے لگے پھر اُنہوں نے توبہ کی اور لباسِ زیب وزینت اُتار پھینکا۔نوجوان نےربّ عزَّوَجَلَّکے حضور سچی توبہ کی اور اپنے پچھلے بُرے اَفعال پر بے حد شرَمسار ہوا۔ اس نے ساری رات آہ وبُکا، گِریہ وزاری اور حَسرت ونَدامَت سے پچھاڑیں کھاتے ہوئے دَرویش فقیر کے پاس گزار ی۔جب سَحری کا وقت ہوا تواسے پھر اپنے گناہ اور نافرمانیاں یاد آگئیں۔ چنانچہ، اس کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی اور آنکھوں سے سَیلِ اَشک رواں ہو گیا اور اس پر غشی طاری ہو گئی۔جب فقیر نے اُسے حرکت دے کر دیکھا تو وہ دنیائے فانی سے رخصت ہو چکا تھا۔ (الروض الفائق، المجلس الحادی والاربعون فصل فی جملۃ نصائح، ص۲۲۹)مدنی گلدستہ
بقیع کے 4 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4 مدنی پھول(1) جو بندہ جتنا زیادہ نیک ہوتا ہے اسے اپنے گناہوں پر اتنی ہی زیادہ ندامت ہوتی ہے ۔
(2) دینِ اسلام نے جَرائم کی جو سزائیں مقرر کی ہیں اگر وہ نافِذ ہوجائیں تو مُعاشَرہ اَ مْن کا گہوارہ بن جائے ۔
(3) زانی عورت اگرحاملہ ہو تو جب تک بچہ پیدا نہ ہو حد قائم نہ کریں اور بچہ پیدا ہونے کے بعد اگر رجم کرنا ہے تو فوراً کر دیں۔ (الدر المختار و رد المحتار،کتاب الحدود،مطلب الزنیٰ شرعاً۔۔۔الخ، ۶/۲۴)
(4)مرجوم (یعنی جو رجم کیا گیااس ) کوغسل و کفن دینا اور اُس کی نمازِ جنازہ پڑھنا ضروری ہے۔ (تنویرالابصار،کتاب الحدود، ۶/۲۰)اللہ عزَّوَجَلَّہمیں ہر آن اپنی رحمت کی نظر میں رکھے اور اپنے عَفو وکرم سے ہمارے تمام گناہ معاف فرمائے! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمابوہُریرہ کا تَوشہ دانحضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں: ایک غزوہ میں لشکرِ اسلام کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا ۔ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کی، توَشہ دان میں تھوڑی سی کَھجوریں ہیں۔ فرمایا: لے آئو۔ میں نے حاضِر کر دیں جو کُل 21 تھیں ۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان پر دستِ مبارَک رکھ کر دُعا مانگی پھر فرمایا: دس افراد کو بلائو! میں نے بُلایا، وہ آئے اور سیر ہو کر کھایا اور چلے گئے۔ پھر دس افراد کو بلانے کا حکم دیا، وہ بھی کھا کر چلے گئے۔ اِسی طرح دس دس آدَمی آتے اور سیر ہو کر کھاتے اور تشریف لے جاتے ،یہاں تک کہ تمام لشکر نے کھائِیں اور جو باقی رَہ گئیں ان کے بارے میں فرمایا: اے ابو ہُریرہ ! ان کو اپنے تَوشہ دان میں رکھ لو اور جب چاہو ہاتھ ڈال کر ان میں سے نِکال لیا کرو لیکن تَوشہ دان نہ اُنڈَیلنا ! حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُر یرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ میں حُضُورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ظاہِری حیاتِ مبارَکہ میں اور حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق اور حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم اور حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنیعَلَیْہم الرِّضْوانکے عَہدِ خِلافت تک ان ہی کَھجوروں سے کھاتا رہا۔ اور خَرچ کرتا رہا تَخمیناً (یعنی اندازاً )50 وَسْق تو فی سبیلِ اللہ دیں اور200 وَسْق سے زِیادہ میں نے کھائِیں۔ جب حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُشہید ہو گئے تو وہ تَوشہ دان میرے گھر سے چوری ہو گیا۔ ) الخصائصُ الکُبرٰی ج۲ /۸۵(
کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہیے
دینے والا ہے سچا ہمارا نبی
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 22