- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
باب : توبہ و استغفار کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 1
ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : میں نے نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہاللہ عزَّوَجَلَّکی قَسَم !میں ایک دن میں 70مرتبہ سے بھی زیادہاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ وا ِستِغفَار کرتا ہوں۔
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:وَاللہِ اِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِیْ الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً۔(بخاری،کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۴/۱۹۰، حدیث:۶۳۰۷)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 13 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا اَغَربسِنْ یَسَارمُزَنِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ نَبِیِّّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : اے لوگوــ∞!اللہسے توبہ کرو اور اس سے بخشش چاہو بے شک میں روزانہ100 مرتبہاللہ عزَّوَجَلَّکے حضور توبہ کرتا ہوں۔
عَنِ الْاَغَرِّ بْنِ یَسَارِ الْمُزَنِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یَااَیُّہَا النَّاسُ: تُوْبُوْا اِلَی اللہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ، فَاِنِّیْ اَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ ِالَیْہِ مِئَۃَ مَرَّۃٍ ( رَوَاہُ مُسْلِمٌ) ( مسلم،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص ۱۴۴۹، حدیث: ۲۷۰۳)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 14 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
خادِمِ رسول حضرتِ سَیِّدُنااَنس بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے نَبِیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عزَّوَجَلَّاپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے ۔‘‘(مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں )’’ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تواللہ عزَّوَجَلَّکو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ جیسے تم میں سے کوئی شخص کسی جنگل میں اپنی سُواری پر جائے اور سُواری گم ہو جائے ، اور سُواری پر اُس کا کھانا اور پانی ہو اور وہ(سُواری کے ملنے سے) مایوس ہوجائے اور ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے ،پھر اچانک وہ سُواری اس کے پاس کھڑی ہوئی ہو، وہ اس کی مَہار (یعنی رسی ) پکڑلے ،پھر خوشی کی شدت میں یہ کہے :’’اےاللہ عزَّوَجَلَّ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا ربّ ہوں۔‘‘ شدتِ خوشی میں اس سے الفاظ اُلٹ ہو جائیں۔
عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ ( بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، ۴/۱۹۱، حدیث:
۶۳۰۹) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلم لَلّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِاَرْضٍ فَلاۃٍ ، فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہُ فَاَیِسَ مِنْہَا، فَاَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّہَا وَقَدْ اَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ ، فَبَیْنَمَا ہُوَکَذَالِکَ اِذْ ہُوَبِہَا قائِمَۃً عِنْدَہٗ ، فَاَخَذَ بِخِطَامِہَا ، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ ’’ اللہم اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ ‘‘ اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ ( مسلم، کتاب التوبۃ،باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا، ص ۱۴۶۹ ، حدیث: ۲۷۴۷)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 15 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا اَبو مُوسٰی اَشْعَرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عزَّوَجَلَّرات بھر اپنا دستِ رَحمت پھیلائے رکھتاہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن بھر اپنا دستِ رَحمت پھیلائے رکھتاہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ،یہ کرم نوازی اس وقت تک ہو تی رہے گی جب تک کے سورج مغرب سے طُلوع نہ ہو۔‘‘
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسٍ اَلْاَ شْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسلَّم،قَالَ: ’’ اِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَبْسُطُ یَدَہُ بِاللَّیْلِ لِیَتُوْبَ مُسِیْئُ النَّہَارِ،ویَبْسُطُ یَدَہُ بِالنَّہَارِ لِیَتُوْبَ مُسِیْئُ اللَّیْلِ،حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا۔ ‘‘ رَوَاہُ مُسْلِمٌ ( مسلم ،کتاب التوبۃ ، باب قبول التوبۃ من الذنوب
… الخ، ص ۱۴۷۵ ، حدیث: ۲۷۵۹)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 16 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جو شخص مغرب سے سورج کے طُلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لے گااللہ عزَّوَجَلَّاُس شخص کی توبہ قُبول کرے گا۔‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا تَابَ اللہُ عَلَیْہ۔ ( مسلم، کتاب الذکر والدعا … الخ ، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص ۱۴۴۹ ، حدیث: ۲۷۰۳)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 17 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو عبد الرحمن عَبْدُ اللہ بن عمر خطابرَضِیَ اللہ عَنْہما سے مروی ہے کہ رسول ِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ بندے کی توبہ قُبول کرتا ہے غَرْغَرہ سے پہلے تک ۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: ’’ اِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ یَقْبَلُ تَوبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ۔ ‘‘ رَوَاہُ التِّرْمِذِی، وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ ( ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ … الخ، ۵ /۳۱۷ ، حدیث: ۳۵۴۸)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 18 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا زِرّ بِنْ حُبَیْشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سَیِّدُناصَفوَان بِن عَسَّالرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے پاس موزو ں پر مَسح کا حکم پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا :اے زِر کیسے آنا ہوا؟ میں نے عرض کی :علم کی تلاش میں ، فرمایا ،فرشتے طالبِ علم کے مقصد پر رِضا مندی کی وجہ سے اُس کے لئے اپنے پَر بچھاتے ہیں۔میں نے عرض کی، پاخانہ اورپیشاب کرنے کے بعد موزوں پر مَسح کرنے کے بارے میں میرے دل میں شُبہ پڑگیا ہے، آپ صحابیِ رسول ہیں ،اِس لئے میں آپ سے معلوم کرنے آیا ہوں کہ کیا آپ نے حضورِپاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کے مُتَعَلِّق کچھ سنا ہے؟ فرمایا:’’ہا ں !نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں فرمایا کرتے تھے کہ’’جب ہم حالتِ سفر میں ہوں تو جَنابَت کے علاوہ تین دن رات تک پیشاب،پاخانے یا نیند کی وجہ سے موزے نہ اتاریں۔‘‘میں نے پوچھا: کیا آپ نے مَحَبَّت کے بارے میں بھی نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کچھ سنا ہے؟ فرمایا:ہاں !ہم ایک سفر میں حضور ِاکرم، نورِ مُجِسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم راہ تھے ،ایک اَعرابی نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوبلند آواز سے پکارا،یَامُحَمَّد( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! تورسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اتنی ہی بلند آواز سے جواب دیا کہ ’’میں یہاں ہوں ‘‘میں نے اُس اَعرابی سے کہا:تجھ پر افسوس ہے!اپنی آواز پَست کر، کیونکہ تو نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ہے اور تجھے اِس (بُلند آواز)سے منع کیا جاچکاہے۔اُس نے کہا: خدا کی قسم!میں اپنی آواز پَست نہیں کروں گا۔پھراس اَعرابی نے نبیِّ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک آدَمی کسی قوم سے مَحَبَّت کرتا ہے اور ابھی تک وہ اس سے ملا نہیں ؟اَعرابی کی یہ بات سن کر حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ قِیامت کے دن ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا۔‘‘ حضرتِ زِرّ بِنْ حُبَیْشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُناصفوانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُہم سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مغرب کی جانب ایک دروازے کا ذکر فرمایاجس کی چوڑائی 40یا 70سال کی مَسافَت ہے یا فرمایا: اِس کی چوڑائی میں گُھڑ سوار چالیس یا ستر سال کی راہ چلتا رہے۔حضرتِ سَیِّدُناسفیانَرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ وہ دروازہ ملک شام کی طرف ہے اسےاللہ عزَّوَجَلَّنے اُس دن پیداکیاجس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ سورج کے مغرب کی طرف طلوع ہونے تک توبہ کے لئے کھلا ہواہے۔
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ،قَال اَتَیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَسْاَلُہُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ، فَقالَ مَا جَائَ بِکَ یَا زِرُّ ؟ فقُلْتُ اِبْتِغَائَ الْعِلْمِ، فَقَالَ:اِنَّ الْمَلائِکَۃَ تَضَعُ اَجْنِحَتَہَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضیً بِمَا یَطْلُبُ فَقُلْتُ:اِنَّہُ قَدْ حَکَّ فِی صَدْرِیْ اَلْمَسْحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ،وکُنْتَ اِمْرَئً ا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ فَجِئْتُ اَسْاَلُکَ: ہَلْ سَمِعْتَہُ یَذْکُرُ فِی ذٰلِکَ شَیْئاً ؟ قَالَ: نَعَمْ، کَانَ یَاْمُرُنَا اِذَا کُنَّا سَفْرًا اَوْ مُسَافِرِیْنَ اَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَۃَ اَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلاَّ مِنْ جَنَابَۃٍ، لٰکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ۔ فَقُلْتُ: ہَلْ سَمِعْتَہُ یَذْکُرُ فِی الْہَوَی شَیْئاً ؟ قَالَ: نَعَمْ، کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فِیْ سَفَرٍ، فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَہُ اِذْ نَادَاہُ اَعْرَابِیٌّ بِصَوْتٍ لَہٗ جَہْوَرِیٍّ یَا مُحَمَّدُ! فَاَجَابَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نَحْوًا مِنْ صَوْتِہٖ: ’’ ہَاؤُمُ ‘‘ فَقُلْتُ لَہُ: وَیْحَکَ اُغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ فَاِنَّکَ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم، وَقَدْ نُہِیْتَ عَنْ ہَذَا! فَقَالَ: وَاللہِ لَا اَغْضُضُ، قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: اَلْمَرْئُ یُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا یَلْحَقْ بِہم ؟ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ’’ اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘‘ فَمَا زَالَ یُحَدِّثُنَا حَتّٰی ذَکَرَ بَاباً مِنَ الْمَغْرِبِ مَسِیْرَۃُ عَرْضِہٖ اَوْ یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ عَرْضِہٖ اَرْبَعِیْنَ اَوْ سَبْعِیْنَ عَاماً۔قَالَ سُفْیانُ اَحَدُ الرُّوَاۃِ: قِبَلَ الشَّامِ خَلَقَہُ اللہُ تَعَالٰی یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ مَفْتُوْحاً لِلتَّوْبَۃِ لَا یُغْلَقُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْہُ۔رواہ الترمذی وغَیرُہ۔ ( ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ … الخ، ۵ /۳۱۶ ، حدیث:۳۵۴۶)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 19 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابوسعید خُدرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’تم سے پہلے زمانہ میں ایک شخص نے ننانو ے (99)قتل کئے پھر اس نے روئے زمین کے سب سے بڑے عالِم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک راہب (عابد) کے متعلق بتایا گیا۔ یہ اس کے پاس پہنچا اور کہا: میں نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا میری توبہ قُبول ہوگی؟اس نے کہا:’’نہیں۔‘ ‘قاتل نے اسے بھی قتل کرکے سو(100)کی تعداد پوری کر دی۔پھر روئے زمین کے سب سے بڑے عالِم کے متعلق پوچھا ، تو اسے ایک عالِم کا پتہ بتایا گیا، یہ اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں نے سو(100) قتل کئے ہیں کیا میری توبہ قُبول ہو سکتی ہے؟عالِم نے کہا:ہاں ! تمہارے اور توبہ کے درمیان کون رُکاوٹ بن سکتا ہے !جاؤ،فلاں ،فلاں جگہ چلے جاؤ وہاں کچھ لوگاللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت کر رہے ہیں ،تم اُن کے ساتھاللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت کرواور اپنے علاقے کی طرف نہ جاناکیونکہ وہ بُری جگہ ہے ۔ چنانچہ، وہ قاتل،عالم کے بتائے ہوئے علاقے کی جانب روانہ ہو گیا۔جب وہ آدھے راستہ پر پہنچا تو اسے موت نے آلیا، اور اس کے متعلق رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اِختِلاف ہو گیا،رحمت کے فرشتوں نے کہا،یہ شخص توبہ کرتاہوا،دل سے اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوا آیا تھااورعذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کوئی نیک عمل نہیں کیا، پھر ان کے پاس ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا، اُنہوں نے اس کواپنے درمیان فیصلہ کرنے والا بنالیا،تو اس نے کہا :’’ دونو ں زمینوں کی پیمائش کرو،یہ شخص (یعنی قاتل) جس زمین کے زیادہ قریب ہو اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا ،جب فرشتوں نے پیمائش کی تووہ اس زمین کے زیادہ قریب تھا جہاں اس نے جانے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ، رَحمت کے فرشتوں نے اُسے لے لیا ۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ وہ شخص ایک بالِشت نیک لوگوں کی بستی کے قریب تھا۔ تو اُسے انہیں میں کردیا گیا ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّنے اُس زمین کی طرف وحی فرمائی کہ دور ہو جا! اور اِس زمین سے فرمایا کہ قریب ہو جا! پھر اس فرشتے نے کہا : دونوں زمینوں کی پیمائش کرو !( جب پیمائش کی گئی) تو وہ نیک لوگوں کی بستی کے ایک بالِشت قریب پایا گیا تو اُسے بخش دیا گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ اُس نے اپنا سینہ نیک لوگوں کی بستی کی طرف کردیا تھا۔
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:کَانَ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ نَفْسًا، فَسَاَلَ عَنْ اَعْلَمِ اَہْلِ الْاَرْضِ، فَدُلَّ عَلٰی رَاہِبٍ، فَاَتَاہُ فَقَالَ: اِنَّہُ قَتَلَ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ نَفْسًا، فَہَلْ لَہُ مِنْ تَوْبَۃٍ ؟ فَقَالَ:لَا، فَقَتَلَہُ فَکَمَّلَ بِہٖ مِائَۃً، ثُمَّ سَاَلَ عَنْ اَعْلَمِ اَہْلِ الْاَرْضِ، فَدُلَّ عَلٰی رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ: اِنَّہُ قَتَلَ مِائَۃَ نَفْسٍ فَہَلْ لَہُ مِنْ تَوْبَۃٍ؟فَقَالَ:نَعَمْ،وَمَنْ یَّحُوْلُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ التَّوْبَۃِ ؟ اِنْطَلِقْ اِلٰی اَرْضِ کَذَا وَکَذَا، فَاِنَّ بِہَا اُنَاسًا یَعْبُدُوْنَ اللہَ تَعَالٰی فَاعْبُدِ اللہَ مَعَہم ، وَلَا تَرْجِعْ اِلٰی اَرْضِکَ فَاِنَّہَا اَرْضُ سُوْئٍ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی اِذَا نَصَفَ الطَّرِیْقَ اَتَاہُ الْمَوْتُ، فَاخْتَصَمَتْ فِیْہِ مَـلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ ومَـلَائِکَۃُ الْعَذَابِ۔ فَقَالَتْ مَـلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ: جَائَ تَائِبًا، مُقْبِـلًا بِقَلْبِہٖ اِلَی اللہِ تَعَالٰی، وَقَالَتْ مَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ: اِنَّہُ لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ، فَاَتَاہم مَلَکٌ فِیْ صُوْرَۃِ اٰدَمِیٍّ فَجَعَلُوْہُ بَیْنَہم ، اَیْ حَکَمًا، فَقَالَ: قِیْسُوْا مَا بَیْنَ الْاَرْضَیْنِ فَاِلٰی اَیَّتِہم ا کَانَ اَدْنٰی فَہُوَ لَہٗ. فَقَاسُوْا فَوَجَدُوْہُ اَدْنٰی اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ اَرَادَ، فَقَبَضَتْہُ مَلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ ( مُتَّفَقٌ عَلَیْہ ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحِ: فَکَانَ اِلَی الْقَرْیَۃِ الصَّالِحَۃِ اَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَجُعِلَ مِنْ اَہْلِہَا۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحِ:فَاَوْحَی اللہُ تَعَالٰی اِلٰی ہٰذِہٖ اَنْ تَبَاعَدِیْ، واِلٰی ہذِہٖ اَنْ تَقَرَّبِیْ، وَقَالَ: قِیْسُوْا مَا بَیْنَہم ا، فَوَجَدُوْہُ اِلٰی ہٰذِہٖ اَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَہٗ:وَفِیْ رِوَایَۃٍ :فَنَائَ بِصَدْرِہٖ نَحْوَہَا۔ ( ملتقطا بخاری، کتاب احادیث الانبیائ، باب حدیث الغار، ۲ / ۴۶۶ ، حدیث: ۳۴۷۰ /مسلم، کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل … الخ، ص ۱۴۷۹ ، حدیث: ۲۷۶۶)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 20 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن کَعْب بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما جو اپنے والد کے نابینا ہونے پر ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلایا کرتے تھے ان سے مروی ہے کہ میں نے حضرتِ سَیِّدُنا کَعْب بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے سُنا، وہ غزوۂ تبوک میں اپنے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کرتے تھے کہ میں کسی غزوہ میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پیچھے نہیں رہا سوائے غزوۂ تبوک کے، ہاں غزوۂ بدر میں بھی شریک نہیں ہوا تھا مگر غزوۂ بدر میں شریک نہ ہونے والوں میں سے کسی پرعتاب نہیں کیا گیا۔
نبیِّ اَکرَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماور مسلمان، قریش کے قافلہ کے ارادہ سے تشریف لے گئے تھے۔یہاں تک کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کو بغیر کسی میعاد کے اکٹھا کر دیا، میں عقبہ کی رات میں بھی بارگاہِ نَبَوی میں حاضر تھا ،جب ہم نے اسلام کی اِعانت پر عَہد و مِیثاق کیا تھا، میں اس کے مقابلہ میں بدر کی شرکت کو زیادہ پسند نہ کرتا تھا، حالانکہ لوگوں میں بدر کا زیادہ چرچا تھا۔ غزوئہ تبوک سے میرے پیچھے رہنے والوں کا واقعہ یوں ہے، کہ میں دوسرے غزوات کی بہ نسبت ان دنوں زیادہ طاقت وَرْ اور بہت مالدار تھا۔اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم! اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں اکٹھی نہیں ہوئیں ، جب کہ اس موقع پر مجھے دو سواریاں مَیسَّر تھیں ، اور نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکا معمول تھا کہ جب کسی غزوہ کا ارادہ فرماتے تو اصل معاملہ لوگوں سے مخفی رکھتے ۔ اس غزوے کے وقت گرمی شدید، سفر دراز ، راستے میں غیر آباد جنگل اور قدم قدم پر دشمن موجود تھے۔ چنانچہ، آ پصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں کے سامنے تمام معاملہ واضح کردیا تاکہ اس کے مطابق زادِ راہ تیار کرلیں ،ا نہیں یہ بھی بتادیا کہ کس طرف جانا ہے۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے ہم راہ مسلمانوں کی کثیر تعداد تھی، کسی رجسٹر وغیرہ میں ان کے نام محفوظ نہیں کئے گئے تھے، حضرت سیدنا کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ جو شخص غائب ہونا چاہتا اس کا خیال ہوتا کہ اس کی غیر حاضری پوشید ہ رہے گی جب تک کہ اس کے بارے میں وحی نازل نہ ہو۔ رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماس غزوہ کے لیے اس وقت تشریف لے گئے جب پھل اور سائے مرغوب تھے، مجھے بھی ان چیزوں کی طرف رغبت تھی۔ رسول کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماور مسلمان جہاد کی تیاری کرچکے تھے، میں صبح کے وقت تیاری شروع کرنے کا ارادہ کرتا لیکن پھر کچھ نہ کرتا اور اپنے دل میں یہی کہتا کہ میں اس پر قادر ہوں کہ جب چاہوں گا سامان تیار کر لوں گا ۔اسی طرح دیر ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ لوگوں کی کوششیں تیز ہوگئیں اور ایک صبح مسلمان رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے ساتھ روانہ ہوگئے اور میں نے ابھی تک کوئی تیاری نہیں کی ،میرا یہی حال رہا اور مسلمان تیزرفتاری سے چلتے ہوئے بہت دور نکل گئے، میں نے چاہا کہ میں جاکر ان سے مل جاؤں اور کاش کہ میں نے ایسا کرلیا ہوتا مگر میری تقدیر میں ایسا نہیں تھا۔رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے تشریف لے جانے کے بعد جب میں باہر لوگوں کی طرف نکلتا تو مجھے یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا کہ منافقین اور کمزورومعذور افراد کے سوا اپنے جیسا کوئی دوسرا نظر نہ آتا۔ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے تبوک پہنچنے تک میرا ذکر نہ کیا، تبوک میں آپ صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے پوچھا: کَعْب بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکا کیا بنا؟بَنُو سَلِمَہکے ایک آدمی نے کہا، یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم!اُسے دو چادروں اور دونوں پہلوؤں کے نظارے نے روک لیا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنامعاذ بن جبلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اس سے فرمایا :تم نے بری بات کہی ہے ، یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! ہم ان کے متعلق بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے (ان کا پیچھے رہنا کسی مجبوری کی وجہ سے ہوگا) ۔رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمخاموش ہوگئے، اِسی دوران آپعَلَیْہِ السَّلامنے ایک شخص کو سفید لباس میں ریگستان سے آتے ہوئے دیکھ کر فرمایا :’’ ابو خثیمہ ہوجا!‘‘ جب وہ آئے تو واقعی ابوخثیمہ انصاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُتھے۔ یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے ایک صاع کھجور صَدَقہ کی تھیں تو منافقین نے( اس کم مقدار پر) انہیں طعنہ دیا تھا ۔ حضرتِ کَعْب فرماتے ہیں جب مجھے پتا چلا کہ نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّممع لشکرتبوک سے واپس تشریف لارہے ہیں ،تو میرا غم تازہ ہوگیا اورجھوٹے خیالات دل میں آنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ کل کس بات کے ذریعے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی ناراضی سے بچ سکوں گا۔ اس سلسلے میں ، میں نے اپنے گھر کے تمام سمجھ دار لوگوں سے مشورہ کیا ۔جب یہ مشہور ہوگیاکہ عنقریب حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمتشریف لانے ہی والے ہیں ،تو میرے ذہن سے تمام جھوٹے بہانے نکل گئے اور میں نے جان لیا کہ میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے غضب سے کسی جھوٹ کے باعث ہر گز نہ بچ سکوں گا۔ لہٰذا اب میں نے سچ بولنے کاپختہ ارادہ کرلیا۔نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمصبح کے وقت تشریف لائے آپ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ سفر سے واپسی پر پہلے مسجد میں تشریف لاتے، دو رکعت نماز ادا فرما کر لوگوں کے درمیان بیٹھ جاتے۔
حسبِ معمول آپ نے ایسا ہی کیا، پھر غزوہ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ قسمیں کھا کھاکر عذر پیش کرنے لگے، ان کی تعداد اَسّی(80) سے کچھ زائد تھی ، آپ نے ظاہر کو قبول کرتے ہوئے ان کی بَیْعَت کی تجدید کی ، ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی اور ان کا باطناللہ عزَّوَجَلَّکے سپرد کردیا۔ پھر میں حاضر ہوا، سلام عرض کیا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے غضب آمیز تَبسُّم فرمایا اور کہا: ’’ آگے آؤ۔‘‘ چنانچہ ،میں آپ کے سامنے جا بیٹھا ، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمفرمایا : تجھے کس چیز نے غزوے سے پیچھے رکھا ،کیا تونے سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے عرض کی:’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! اگر آپ کے علاوہ کسی دنیا دار کے پاس بیٹھا ہوتا تو یقیناً کسی بہانے اس کی ناراضی سے بچ جاتا، مجھے قوتِ کلام عطا کی گئی ہے، لیکن اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر آج میں جھوٹ بول کر آپ کو راضی کرلوں تو عنقریب اللہعزَّوَجَلَّآپ کو مجھ سے ناراض کردے گا اور اگر آپ سے سچ سچ کہہ دوں گا تو(اگر چہ ) آپ ناراض ہوجائیں گے۔ لیکن مجھےاللہ عزَّوَجَلَّسے اچھے انجام کی اُمید ہے،اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم ! مجھے کوئی مجبوری نہ تھی،وَ اللہ! میں کبھی اس سے زیادہ قُوّت و فَرَاخی والا نہ تھا، جب میں آپ سے پیچھے رہا۔رسولِ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اس شخص نے سچ کہا۔( پھر فرمایا:) اُٹھ جاؤ، یہاں تک کہاللہ عزَّوَجَلَّتمہارے بارے میں کچھ فیصلہ فرمائے۔ چنانچہ ،میں اُٹھ گیا اور بنو سلمہ کے کچھ لوگ بھی میرے پیچھے چل پڑے، کہنے لگے، خدا کی قسم ! ہمارے علم کے مطابق اس سے پہلے تم سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا، دوسرے لوگوں کی طرح تم سے کوئی عذر کیوں نہ بن سکا ، تمہارے گناہ کی معافی کے لیے رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکا بخشش کی دعا مانگنا ہی کافی تھا ۔اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم ! وہ مسلسل مجھے مَلامَت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے اِرَادہ کیا کہ واپس جاکر اپنے آپ کو جھٹلاؤں ، پھر میں نے پوچھا کیا اس معاملہ میں میرے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہے، انہوں نے کہا کہ ہاں دو آدمی اور بھی ہیں ، انہوں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی انہیں بھی تمہاری طرح کا جواب دیا گیا ہے ۔ میں نے پوچھا :وہ کون ہیں ؟ کہا :’’مُرَارَہ بِن رَبِیْع عَمْرِی اورہِلاَل بن أُمَیَّہ وَاقِفِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما‘‘یہ دونوں بہت نیک تھے ،غزوہ ٔبدر میں شریک ہوچکے تھے اور میرے لئے بہترین نمونہ تھے، جب مجھے ان کا معلوم ہوا تو میں اپنی سچائی پر قائم رہا ، رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں میں سے صرف ہم تینوں سے قطع کلامی کا حکم فرمایا۔چنانچہ، لوگ ہم سے دور رہنے لگے،یہاں تک کہ میرے لئے زمین بھی بدل چکی تھی گویا کہ یہ وہ زمین نہ تھی جس کو میں اس سے پہلے پہچانتا تھا۔ پچاس( 50)دن تک ہم اری یہی حالت رہی، میرے دونوں ساتھی عاجز ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھے رونے لگے۔
چونکہ میں ان سے جوان اور طاقت وَر تھا، اس لیے باہر نکلتا مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا اور بازاروں میں گھومتا پھرتا، لیکن کوئی آدمی مجھ سے بات نہ کرتا، میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتا، حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنماز کے بعد تشریف فرما ہوتے میں سلام عرض کرتا اوردل میں کہتا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے میرے سلام کا جواب دینے کے لیے لب مبارک ہلائے ہیں یا نہیں ؟ پھر میں آپ کے قریب ہی نماز پڑھتا اور نظر چرا کر دیکھتا جب میں نماز میں مشغول ہوتا،تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّممیری طرف دیکھتے اور جب میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی طرف دیکھتا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمدوسری طرف توجہ فرما لیتے ، جب لوگوں کے مجھ سے قطع تعلق کو ایک طویل عرصہ گزر گیا تو میں ایک دن اپنے چچا زاد بھائی حضرت ابوقتادہ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ) کے باغ کی دیوار پھلانگ کران کے پاس گیا وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے ۔میں نے سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا، میں نے کہا: اے ابوقتادہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ! تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نہیں جانتے کہ میںاللہ عزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے محبت رکھتا ہوں ؟ وہ خاموش رہے، میں نے دوبارہ ان کو قسم دی وہ پھر خاموش رہے، میں نے تیسری بار قسم دی تو کہنے لگےاللہ عزَّوَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں۔ ( یہ سُن کر) میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، میں واپس لوٹا اور دیوار پھلانگ کر باہر آگیا، حضرت کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں ، میں ایک دن مدینے کے بازار میں تھاکہ ملکِ شام کا ایک کسان جو غلہ بیچنے مدینہ منورہ آیا تھااس نے کہا کہ مجھے کعب بن مالک کا پتہ کون بتائے گا؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا تواس نے مجھے شاہِ غَسّان کا ایک خط دیا،جس میں لکھا تھا :
’’ اَمَّا بَعَد ! مجھے پتا چلا ہے کہ تمہارے ساتھی (یعنی رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم) نے تم پرظلم کیا ۔ حالانکہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے تمہیں ذِلت و رسوائی کا گھر نہیں دیا ہے، ہمارے پاس چلے آؤ،ہم تمہاری خاطر کریں گے۔‘‘
حضرت ِ کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ ، خط پڑھ کر میں نے کہا کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے، پس میں نے وہ خط جلتے تنور میں ڈال دیا، جب پچاس(50) راتوں میں سے چالیس(40) راتیں گزر گئیں اور وحی میں بھی تاخیر ہوئی تو ایک دن رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے قاصد نے آ کر کہاکہ رسول کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمتمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی زوجہ کو علیحدہ کردو۔میں نے کہا :کیا اسے طلاق دے دوں ؟ کہا ،نہیں بلکہ اسے علیحدہ کردو اور اس سے قربت نہ کرنا۔میرے دوسرے ساتھیوں کو بھی آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے یہی پیغام بھیجوایا، میں نے اپنی زوجہ سے کہاکہ تم اپنے ماں باپ کے ہاں چلی جاؤ اور جب تک اللہ عزَّوَجَلَّ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہ فرمائے وہیں رہو۔ ہِلال بِن اُمَیَّہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ محترمہ نے رسول کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی :’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! ہِلال بِن اُمَیَّہ بہت بوڑھے ہیں اُن کے پاس کوئی خادِم بھی نہیں ، اگر میں اُن کی خدمت کرتی رہوں تو کیا آپ اِس کو ناگوار سمجھیں گے؟ فرمایا : نہیں۔ لیکن وہ تیرے نزدیک نہ آئے۔ انہوں نے عرض کی :’’اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم !وہ تو اب ایسی باتوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور جب سے یہ واقعہ پیش آیا وہ اب تک مسلسل رو رہے ہیں۔ــ∞‘‘( حضرتِ سیدناکَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :) میرے گھر والوں میں سے کسی نے مجھ سے کہا تم بھی رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے اپنی زوجہ کے بارے میں اجازت لے لیتے۔ ہِلال بِن اُمَیَّہ کی زوجہ کو رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے ان کی خدمت کی اجازت دے دی ہے میں نے کہابخدا : میں ایک جوان آدمی ہوں میں اس بارے میں رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے اجازت نہیں لوں گا اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ مجھے کیا جواب ارشاد فرمائیں گے۔ اِسی حالت میں دس(10) راتیں اور گزر گئیں۔ جب پچاس(50) راتیں پوری ہوگئیں ، تو پچاسویں رات کی صبح کو میں نے گھر کی چھت پر صبح کی نماز پڑھی اور میری بالکل وہی حالت تھی جس کااللہ عزَّوَجَلَّنے ذکر فرمایا ۔ میں اپنی جان سے بیزار ہوچکا تھا: اور زمین کشادگی کے باوجود مجھ پر تنگ ہوچکی تھی، اچانک میں نے’’ سَلْع‘‘ پہاڑی پرایک مُنَادِی کی آواز سنی جو با آواز بلند کہہ رہا تھا ’’اے کَعْب بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ! تمہیں خوشخبری ہو۔‘‘ یہ سن کر میں سجدے میں گر پڑا مجھے معلوم ہوگیا کہ فراخی کا وقت آچکا ہے، رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے نمازِ فجر کے بعد لوگوں میں اِعلان فرمادیا کہاللہ عزَّوَجَلَّنے ہماری توبہ قبول فرما لی ہے۔ چنانچہ، لوگ مجھے خوش خبری دینے لگے ، میرے ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے جانے لگے۔ ایک شخص گھوڑا دوڑاتا ہوا میری طرف آیا، اسلم قبیلہ سے ایک آدمی دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ گیا۔ اس کی آواز گُھڑ سوار کی رفتارسے تیز تھی ۔( لہٰذا پہلے مجھ تک پہنچی ) جب خوشخبری سنانے والا میرے پاس آیا تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اُسے دے دیئے،یہ خوشخبری سنانے کا صِلہ تھا ۔اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم ! میں اس وقت صرف اُن دو کپڑوں کا مالک تھا، پھر میں نے دو کپڑے ادھار لے کر پہنے اور رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضری کے لئے چل دیا، لوگوں کی فوج در فوج نے مجھ سے ملاقات کی اور قبولیتِ توبہ کی مبارکباد دینے لگے۔ وہ کہہ رہے تھے مبارک ہو!اللہ عزَّوَجَلَّنے تمہاری توبہ قبول فرمالی ہے، جب میں مسجد میں پہنچا تو دیکھا کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمشریف فرما ہیں اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے ہیں۔طَلحہ بن عبید اللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُمجھے دیکھ کر جلدی سے میری طرف لپکے مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی، اللہعزَّوَجَلَّکی قسم ! مہاجرین میں سے اُن کے سوا کوئی نہیں اُٹھا ( راوی کہتے ہیں )حضرت کعبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے حضرتِ طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی اس عنایت کو کبھی فراموش نہیں کیا ۔حضرت سیدنا کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ جب میں نے نبیِّ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی خدمت میں سلام عرض کیا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکا چہرئہ انور خوشی سے دمک رہا تھاآ پصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا :’’تمہیں اس دن کی خوشخبری ہو کہ جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا، آج کا دن سب سے بہتر دن ہے۔‘‘ میں نے عرض کی :’’یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! یہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی طرف سے ہے یااللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے ؟ فرمایا: ’’ نہیں بلکہاللہ عزَّوَجَلَّکی طرف سے ۔ ‘‘ اور رسول اکرم، نورِ مجسم ،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمخوش ہوتے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرہ خوشی سے چاند کی طرح چمکنے لگتا گویا کہ چاند کا ایک ٹکڑا ہو۔اس سے ہمیں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی خوشی کا اندازہ ہو جاتا، جب میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے سامنے بیٹھ گیا تو عرض کی :یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میں اپنا مالاللہ عزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے نام پر صدقہ کردوں۔ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے فرمایا ،کچھ مال اپنے پاس ر کھو، تمہارے لئے بہتر ہے، میں نے عرض کی ،میں اپنا خَیْبَر والا حصہ رکھ لیتا ہوں اوراللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے سچ بولنے کے سبب نجات عطا فرمائی ہے ، لہٰذا میری تکمیلِ توبہ سے یہ بھی ہے کہ میں آیندہ بھی ہمیشہ سچ ہی بولوں گا ۔ پساللہ عزَّوَجَلَّکی قسم ! جب سے میں نے رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے یہ بات کہی اس وقت سے میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا جسےاللہ عزَّوَجَلَّنے سچ بولنے کی وجہ سے مجھ سے زیادہ انعام عطا فرمایا ہواور رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کرنے کے بعد سے آج تک میں نے کبھی جھوٹ بولنے کا ارادہ بھی نہیں کیا اور مجھے امید ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّآیندہ بھی مجھے جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھے گا۔اللہ عزَّوَجَلَّنے (ہمارے بارے میں ) یہ آیاتِ کریمہ نازل فرمائیں :لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ(۱۱۷)وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاؕ-حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِؕ-ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠(۱۱۸) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)(پ:۱۱ ، التوبۃ:۱۱۹۔ ۱۱۷) ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبر بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیابعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں ، پھر اُن پر رحمت سے متوجہ ہوا، بے شک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے، اور ا ن تین پر جو موقوف رکھے گئے ، یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہو کر ان پر تنگ ہو گئی اور وہ اپنی جان سے تنگ آئے اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں بے شک اللہ ہی تو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔
حضرتِ کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : خداعزَّوَجَلَّکی قسم !جب سے مجھےاللہ عزَّوَجَلَّنے اِسلام کی دولت عطا فرمائی، مجھ پر اس سے بڑا اور کوئی انعام نہیں کیا کہ میں نے رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے سچ بولا اور جھوٹ نہ بولا ، ورنہ میں بھی جھوٹ بولنے والوں کی طرح ہلاک ہوجاتا،کیونکہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے جھوٹ بولنے والوں کو جس قدر بُرا قرار دیا شاید ہی دوسروں کو اس قدر قابلِ مَذَمَّت قرار دیا ہو۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْؕ-فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْؕ-اِنَّهُمْ رِجْسٌ٘-وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۹۵) یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْۚ-فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ(۹۶)( پ:۱۱،التوبۃ:۹۵،۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان :اب تمہارے آگیااللہکی قسمیں کھائیں جب تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤگے اس لئے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو، تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو، وہ تو نرے پلید ہیں ، اوران کا ٹھکانہ جہنم ہے ، بدلہ اس کا جو کماتے تھے ۔ تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ، تو بے شک اللہ تو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔
حضرتِ کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ، ہم تینوں کا معاملہ ان لوگوں سے الگ ہے جن کے قسم کھانے پر رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اُن کا عذر قبول فرمالیا لیکن آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے ہمارا معاملہ مؤخَّر کردیا یہاں تک کہاللہ عزَّوَجَلَّنے ہمارا فیصلہ یوں فرمایا :’’ وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْن خُلِّفُوْا۔۔الخ‘‘ ا س آیت سے غزوہ سے پیچھے رہ جانا مراد نہیں بلکہ اس سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کا ہمارے معاملہ کو اُن لوگوں کے معاملہ سے مؤخر کردینا مراد ہے، جنہوں نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے قسمیں کھائیں اور عذر خواہی کی اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اُن کا عذر قبول فرمالیا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمغزوئہ تبوک کے لئے جمعرات کے دن تشریف لے گئے اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمجمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسفر سے چاشت کے وقت واپس تشریف لاتے، پہلے مسجد میں دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر تشریف فرما ہوتے۔
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَ قائِدَ کَعْبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ مِنْ بَنِیْہِ حِیْنَ عَمِيَ،قَالَ:سَمِعتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ بِحَدِیْثِہٖ حِیْنَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ۔قَالَ کَعْبٌ:لَمْ اَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ غَزْوَۃٍ غَزَاہَا قَطُّ اِلَّا فِيْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ، غَیْرَ اَنِّيْ قَدْ تَخَلَّفْتُ فِيْ غَزْوَۃٍ بَدْرٍ،وَلَمْ یُعَاتِبْ اَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْہُ،اِنَّمَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُوْنَ یُرِیْدُوْنَ عِیْرَقُرَیْشٍ حَتّٰی جَمَعَ اللہُ تَعَالٰی بَیْنَہم وبَیْنَ عَدُوِّہم عَلٰی غَیْرِ مِیْعَادٍ وَلَقَدْ شَہِدْتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ حِیْنَ تَوَاثَقْنَا عَلَی الْاِسْلَامِ،وَمَا اُحِبُّ اَنَّ لِيْ بِہَا مَشْہَدَ بَدْرٍ،وَاِنْ کَانَتْ بَدْرٌ اَذْکَرَ فِي النَّاسِ مِنْہَا۔وَکَانَ مِنْ خَبَرِيْ حِیْنَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ اَنِّيْ لَمْ اَکُنْ قَطُّ اَقْوٰی وَلَا اَیْسَرَ مِنِّيْ حِیْنَ تَخَلَّفْتُ عَنْہُ فِيْ تِلْکَ الْغَزْوَۃِ،وَاللہِ!مَا جَمَعْتُ قَبْلَہَا رَاحِلَتَیْنِ قَطُّ حَتّٰی جَمَعْتُہم ا فِيْ تِلْکَ الْغَزْوَۃِ وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُرِیْدُ غَزْوَۃً اِلاَّ وَرّٰی بِغَیْرِہَاحَتّٰی کَانَتْ تِلْکَ الْغَزْوَۃُ،فَغَزَاہَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ حَرٍّ شَدِیْدٍ،وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِیْدًا وَمَفَازًا،وَاسْتَقْبَلَ عَدَدًا کَثِیْرًا،فَجَلّٰی لِلْمُسْلِمیْنَ اَمْرَہم لِیَتَاَہَّبُوْا اُہْبَۃَ غَزْوِہم فَاَخْبَرَہم بِوَجْہِہم الَّذِيْ یُرِیْدُ،وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَثِیْرٌ وَلَا یَجْمَعُہم کِتَابٌ حَافِظٌ ( یُرِیْدُ بِذٰلِکَ الدِّیْوَانَ ) قَالَ کَعْبٌ:فَقَلَّ رَجُلٌ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَغَیَّبَ اِلاَّ ظَنَّ اَنَّ ذٰلِکَ سَیَخْفٰی لَہٗ مَا لَمْ یَنْزِلْ فِیْہِ وَحْيٌ مِنَ اللہِ،وَغَزَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْغَزْوَۃَحِیْنَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلَالُ، فَاَنَا اِلَیْہَا اَصْعَرُ، فَتَجَہَّزَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَہٗ وَطَفِقْتُ اَغْدُوْ لِکَيْ اَتَجَہَّزَ مَعَہٗ، فَاَرْجِعُ وَلَمْ اَقْضِ شَیْئًا،وَاَقُوْلُ فِيْ نَفْسِيْ:اَنَا قَادِرٌ عَلٰی ذٰلِکَ اِذَا اَرَدْتُّ، فَلَمْ یَزَلْ یَتَمَادٰی بِيْ حَتّٰی اِسْتَمَرَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ، فَاَصْبَحَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَادِیًا وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَہٗ،وَلَمْ اَقْضِ مِنْ جِہَازِیْ شَیْئًا،ثُمَّ غَدَوْتُ فَرَجَعْتُ وَلَمْ اَقْضِ شَیْئًا،فَلَمْ یَزَلْ ذٰلِکَ یَتَمَادٰی بِيْ حَتّٰی اَسْرَعُوْا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ،فَہم مْتُ اَنْ اَرْتَحِلَ فَاُدْرِکَہم ،فَیَالَیْتَنِیْ فَعَلْتُ،ثُمَّ لَمْ یُقَدَّرْ ذٰلِکَ لِيْ،فَطَفِقْتُ اِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوج رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَحْزُنُنِيْ اَنِّيْ لَا اَرٰی لِيْ اُسْوَۃً،اِلَّا رَجُلًا مَغْمُوْصًا عَلَیْہِ فِي النِّفَاقِ،اَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَ اللہُ تَعَالٰی مِنَ الضُّعَفَائِ،وَلَمْ یَذْکُرْنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَلَغَ تَبُوْکَ،فَقَالَ وَہُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوْکَ:مَا فَعَلَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ؟فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِيْ سَلِمَۃَ: یَارَسُوْلَ اللہِ!حَبَسَہٗ بُرْدَاہٗ والنَّظَرُ فِيْ عِطْفَیْہٖ فَقَالَ لَہٗ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ بِئْسَ مَا قُلْتَ:وَاللہِ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْہِ اِلاَّ خَیْرًا،فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَیْنَا ہُوَ عَلٰی ذٰلِکَ رَاٰی رَجُلًا مُبْیِضًا یَزُوْلُ بِہِ السَّرَابُ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ( کُنْ اَبَا خَیْثَمَۃَ ) فَاِذَا ہُوَ اَبُوْ خَیْثَمَۃَ الْاَنْصَارِيُّ وَہُوَ الَّذِیْ تَصَدَّقَ بِصَاعِ التَّمْرِ حِیْنَ لَمَزَہُ الْمُنَافِقُوْنَ قَالَ کَعْبُ:فَلَمَّا بَلَغَنِيْ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَجَّہَ قَافِلًا مِنْ تَبُوْکَ حَضَرَنِیْ بَثِّیْ،فَطَفِقْتُ اَتَذَکَّرُ الْکَذِبَ وَاَقُوْلُ بِمَ اَخْرُجُ مِنْ سَخَطِہٖ غَدًا؟وَاَسْتَعِیْنُ عَلٰی ذٰلِکَ بِکُلِّ ذِيْ رَاْيٍ مِنْ اَہْلِيْ،فَلَمَّا قِیْلَ:اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ اَظَلَّ قَادِمًا،زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ حَتّٰی عَرَفْتُ اَنِّيْ لَمْ اَنْجُ مِنْہُ بِشَيْئٍ اَبَدًا،فَاَجْمَعْتُ صِدْقَہٗ،وَاَصْبَحَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَادِمًا،وَکَانَ اِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَاَ بِالْمَسْجِدِ فَرَکَعَ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ،فَلَمَّا فَعَلَ ذٰلِکَ جَائَ ہُ الْمُخَلَّفُوْنَ یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْہِ وَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ،وَکَانُوْا بِضْعًا وَثَمَانِیْنَ رَجُلًا،فَقَبِلَ مِنْہم عَلَانِیَتَہم وَبَایَعَہم وَاسْتَغْفَرَلَہم وَوَکَلَ سَرَائِرَہم اِلَی اللہِ تَعَالٰی حَتّٰی جِئْتُ،فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ ’’ تَعَالَ ‘‘ فَجِئْتُ اَمْشِيْ حَتّٰی جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ،فَقَالَ لِيْ،مَا خَلَّفَکَ؟اَلَمْ تَکُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَہْرَکَ؟قَالَ قُلْتُ،یَا رَسُوْلَ اللہِ، اِنِّيْ وَاللہِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَیْرِکَ مِنْ اَہْلِ الدُّنْیَا لَرَاَیْتُ اَنِّيْ سَاَخْرُجُ مِنْ سَخَطِہٖ بِعُذْرٍ،لَقَدْ اُعْطِیْتُ جَدَلًا،وَلٰکِنَّنِيْ وَاللہِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُکَ الْیَوْمَ حَدِیْثَکَذِبٍ تَرْضٰی بِہٖ عَنِّیْ لَیُوْشِکَنَّ اللہُ یُّسْخِطُکَ عَلَيَّ،وَاِنْ حَدَّثْتُکَ حَدِیْث صِدْقٍ تَجِدُعَلَيَّ فِیْہٖ اِنِّيْ لَاَرْجُوْ فِیْہٖ عُقْبَی اللہِ عَزَّوَجَلَّ ،وَاللہِ مَا کَانَ لِيْ مِنْ عُذْرٍ،وَاللہِ مَا کُنْتُ قَطُّ اَقْوٰی ولَا اَیْسَرَ مِنِّيْ حِیْنَ تَخَلَّفْتُ عَنْکَ قَالَ:فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،اَمَّا ہٰذَا فقَدْ صَدَقَ،فَقُمْ حَتّٰی یَقْضِيَ اللہُ فِیْکَ وَسَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِيْ سَلِمَۃَ فَاتَّبَعُوْنِيْ فَقَالُوْا لِيْ: وَاللہِ مَا عَلِمْنَاکَ اَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ ہٰذَا لَقَدْ عَجَزْتَ فِيْ اَنْ لَا تَکُوْنَ اِعْتَذَرْتَ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ اِلَیْہِ الْمُخَلَّفُوْنَ،فَقَدْ کَانَ کَافِیَکَ ذَنْبَکَ اِسْتِغْفَارُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَکَ۔قَالَ:فَوَاللہِ مَا زَالُوْا یُؤَنِّبُوْنَنِيْ حَتّٰی اَرَدْتُّ اَنْ اَرْجِعَ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔فَاُکَذِّبَ نَفْسِيْ،ثُمَّ قُلْتُ لَہم :ہَلْ لَقِيَ ہٰذَا مَعِيَ مِنْ اَحَدٍ؟قَالُوْا:نَعَمْ،لَقِیَہٗ مَعَکَ رَجُلَانِ قَالَا مِثْلَ مَا قُلْتَ،وَقِیْلَ لَہم ا مِثْلُ مَا قِیْلَ لَکَ،قَالَ:قُلْتُ،مَنْ ہم ا؟قَالُوْا:مُرَارَۃُ بْنُ الرَّبِیْعِ الْعَمْرِيُّ،وہِلَالُ ابْنُ اُمَیَّۃَ الْوَاقِفِيُّ۔قَالَ،فَذَکَرُوْا لِیْ رَجُلَیْنِ صَالِحَیْنِ قَدْ شَہِدَا بَدْرًا فِیْہم ا اُسْوَۃٌ، قَالَ: فَمَضَیْتُ حِیْنَ ذَکَرُوْہم ا لِيْ۔ونَہٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کَلَا مِنَا اَیُّہَا الثَّلاثَۃُ مِنْ بَیْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْہُ،فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ اَوْ قَالَ:تَغَیَّرُوْا لَنَاحَتّٰی تَنَکَّرَتْ لِيْ فِيْ نَفْسِي الْاَرْضُ، فَمَا ہِيَ بِالْاَرْضِ الَّتِيْ اَعْرِفُ،فَلَبِثْنَا عَلٰی ذٰلِکَ خَمْسِیْنَ لَیْلَۃً۔فَاَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَکَانَا وَقَعَدَا فِيْ بُیُوْتِہم ا یَبْکِیَانِ۔وَاَمَّا اَنَا فَکُنْتُ اَشَبَّ الْقَوْمِ وَاَجْلَدَہم فَکُنْتُ اَخْرُجُ فَاَشْہَدُ الصَّلَاۃَ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ،وَاَطُوْفُ فِي الْاَسْوَاقِ وَلَا یُکَلِّمُنِيْ اَحَدٌ،وَاٰتِیْ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاُسَلِّمُ عَلَیْہِ وَہُوَ فِیْ مَجْلِسِہٖ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، فَاَقُوْلُ فِيْ نَفْسِيْ:ہَلْ حَرَّکَ شَفَتَیْہِ بِرَدِّ السَّلَامِ اَمْ لَا؟ثُمَّ اُصَلِّيْ قَرِیْبًا مِنْہُ وَاُسَارِقُہُ النَّظَرَ،فَاِذَا اَقْبَلْتُ عَلٰی صَلَا تِيْ نَظَرَ اِلَيَّ وَاِذَاالْتَّفَتُّ نَحْوَہُ اَعْرَضَ عَنِّيْ،حَتّٰی اِذَا طَالَ ذٰلِکَ عَلَيَّ مِنْ جَفْوَۃِ الْمُسْلِمِیْنَ مَشَیْتُ حَتّٰی تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ اَبِيْ قَتَادَۃَ وَہُوَ ابْنُ عَمِّيْ وَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَيَّ،فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَوَاللہِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ،فَقُلْتُ لَہٗ یَا اَبَا قَتَادَۃَ! اَنْشُدُکَ بِاللہِ ہَلْ تَعْلَمُنِيْ اُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟فَسَکَتَ،فَعُدْتُّ فَنَاشَدْتُّہٗ فَسَکَتَ،فَعُدْتُّ فَنَاشَدْتُّہُ،فَقَالَ:اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ۔فَفَاضَتْ عَیْنَايَ،وَتَوَلَّیْتُ حَتّٰی تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ،فَبَیْنَا اَنَا اَمْشِيْ فِيْ سُوْقِ الْمَدِیْنَۃِ اِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ نَبَطِ اَہْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ یَبِیْعُہُ بِالْمَدِیْنَۃِ یَقُولُ،مَنْ یَّدُلُّ عَلٰی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ؟فَطَفِقَ النَّاسُ یُشِیْرُوْنَ لَہٗ اِلَيَّ حَتّٰی جَائَ نِيْ فَدَفَعَ اِلَيَّ کِتَابًا مِنْ مَلِکِ غَسَّانَ،وَکُنْتُ کَاتِبًا،فَقَرَاْتُہُ فَاِذَا فِیْہٖ:اَمَّا بَعْدُ، فَاِنَّہٗ قَدْ بَلَغَنَا اَنَّ صَاحِبَکَ قَدْ جَفَاکَ وَلَمْ یَجْعَلْکَ اللہُ بِدَارِ ہَوَانٍ وَلَا مَضْیَعَۃٍ،فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِکَ،فَقُلْتُ حِیْنَ قَرَاْتُہَا:وَہٰذِہٖ اَیْضًا مِنَ الْبَلَائِ،فَتَیَمَّمْتُ بِہَا التَّنُّوْرَ فَسَجَرْتُہَا،حَتّٰی اِذَا مَضَتْ اَرْبَعُوْنَ مِنَ الْخَمْسِیْنَ وَاسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ اِذَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْتِیْنِيْ،فَقَالَ:اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْمُرُکَ اَنْ تَعْتَزِلَ امْرَاَتَکَ،فَقُلْتُ اُطَلِّقُہَا اَمْ مَاذَا اَفْعَلُ ؟ فَقَالَ:لَا،بَلِ اعْتَزِلْہَا فَلَا تَقْرَبَنَّہَا،وَاَرْسَلَ اِلٰی صَاحِبَیَّ بِمِثْلِ ذٰلِکَ۔فَقُلْتُ لِاِمْرَاَتِیْ:اِلْحَقِيْ بِاَہْلِکِ فَکُوْنِيْ عِنْدَہم حَتّٰی یَقْضِيَ اللہُ فِيْ ہٰذَا الْاَمْرِ۔فَجَائَ تِ امْرَاَۃُ ہِلَالِ بْنِ اُمَیَّۃَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَہٗ:یَا رَسُوْلَ اللہِ،اِنَّ ہِلَالَ بْنَ اُمَیَّۃَ شَیْخٌ ضَائِعٌ لَیْسَ لَہٗ خَادِمٌ،فَہَلْ تَکْرَہُ اَنْ اَخْدُمَہٗ؟قَالَ:لَا،وَلٰکِنْ لَا یَقْرَبَنَّکِ فَقَالَتْ:اِنَّہٗ وَاللہِ مَا بِہٖ مِنْ حَرَکَۃٍ اِلٰی شَيْئٍ،وَ وَاللہِ مَا زَالَ یَبْکِيْ مُنْذُ کَانَ مِنْ اَمْرِہٖ مَا کَانَ اِلٰی یَومِہٖ ہَذَا۔فَقَالَ لِيْ بعض اَہْلِيْ:لَوِاسْتَاْذَنْتَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي امْرَاَتِکَ فَقَدْ اَذِنَ لِامْرَاَۃِ ہِلَالِ بْنِ اُمَیَّۃَ اَنْ تَخْدُمَہٗ؟فَقُلْتُ،لَا اَسْتَاْذِنُ فِیْہَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وَمَا یُدْرِیْنِيْ مَاذَا یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اسْتَاْذَنْتُہٗ فِیْھَا،وَاَنَا رَجُلٌ شَابٌ!فَلَبِثْتُ بِذٰلِکَ عَشْرَ لَیَالٍ،فَکَمُلَ لَنَا خَمْسُوْنَ لَیْلَۃً مِنْ حِیْنَ نُہِيَ عَنْ کَلَامِنَا۔ثُمَّ صَلَّیْتُ صَلَاۃَ الْفَجْرِ صَبَاحَ خَمْسِیْنَ لَیْلَۃً عَلٰی ظَہْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِنَا،فَبَیْنَا اَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِيْ ذَکَرَ اللہُ تَعَالٰی عَنَّا،قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِيْ وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ،سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ اَوْفٰی عَلٰی سَلْعٍ یَقُوْلُ بِاَعْلٰی صَوْتِہٖ:یَا کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ اَبْشِرْ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا،وَعَرَفْتُ اَنَّہٗ قَدْجَائَ فَرَجٌ۔فاٰذَنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِتَوْبَۃِ اللہِ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْنَا حِیْنَ صَلّٰی صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَذَہَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُوْنَنَا ، فَذَہَبَ قِبَلَ صَاحِبَيَّ مُبَشِّرُوْنَ وَرَکَضَ اِلَيَّ رَجُلٌ فَرَسًا وَسَعٰی سَاعٍ مِنْ اَسْلَمَ قِبَلِيْ،وَاَوْفٰی عَلَی الْجَبَلِ،فَکانَ الصَّوْتُاَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ،فَلَمَّا جَائَ نِیََ الَّذِیْ سَمِعْتُ صَوْتَہٗ یُبَشِّرُنِیْ نَزَعْتُ لَہٗ ثَوْبَيَّ فَکَسَوْتُہم ا اِیَّاہُ بِبُشْرَاہٗ،وَاللہِ مَا اَمْلِکُ غَیْرَہم ا یَوْمَئِذٍ،وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ فَلَبِسْتُہم ا وَانْطَلَقْتُ اَتَاَمَّمُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا یُہَنِّؤنَنِيْ بِالتَّوْبَۃِ وَیَقُوْلُوْنَ لِيْ،لِتَہْنِکَ تَوْبَۃُ اللہِ عَلَیْکَ۔حَتّٰی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَاِذَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ حَوْلَہٗ النَّاسُ،فَقَامَ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ یُہَرْوِلُ حَتّٰی صَافَحَنِيْ وَہَنَّاَنِيْ،وَاللہِ مَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ غَیْرُہٗ،فَکَانَ کَعْبٌ لَا یَنْسَاہَا لِطَلْحَۃَ،قَالَ کَعْبٌ،فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَہُوَ یَبْرُقُ وَجْہُہٗ مِنَ السُّرُوْرِ ’’ اَبْشِرْ بِخَیْرِ یَوْمٍ مَرَّ عَلَیْکَ مُذْ وَلَدَتْکَ اُمُّکَ ‘‘ فَقُلْتُ:اَمِنْ عِنْدِکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ!اَمْ مِنْ عِنْدِ اللہِ؟قَالَ: ’’ لَا،بَلْ مِنْ عِنْدِ اللہِ عَزَّوَجَلَّ ‘‘ وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْہُہٗ حَتّٰی کَاَنَّ وَجْہَہٗ قِطْعَۃُ قَمَرٍ وَکُنَّا نَعْرِفُ ذٰلِکَ مِنْہُ،فَلَمَّا جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ قُلْتُ،یَا رَسُوْلَ اللہِ!اِنَّ مِنْ تَوْبَتِیْ اَنْ اَنْخَلِعَ مِنْ مَالِیْ صَدَقَۃً اِلَی اللہِ وَاِلٰی رَسُوْلِہٖ۔فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ’’ اَمْسِکْ عَلَیْکَ بعض مَالِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ ‘‘ فَقُلْتُ اِنِّيْ اُمْسِکُ سَہم يَ الَّذِیْ بِخَیْبَرَ۔وَقُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللہِ!اِنَّ اللہَ تَعَالٰی اِنَّمَا اَنْجَانِيْ بِالصِّدْقِ،وَاِنَّ مِنْ تَوْبَتِيْ اَنْ لَا اُحَدِّثَ اِلاَّ صِدْقًا مَا بَقِیْتُ،فَوَاللہِ!مَا عَلِمْتُ اَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَبْلَاہُ اللہُ تَعَالٰی فِيْ صِدْقِ الْحَدِیْثِ مُنْذُ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَحْسَنَ مِمَّا اَبْلَانِيَ اللہُ تَعَالٰی،وَاللہِ!مَا تَعَمَّدْتُ کِذْبَۃً مُنْذُ قُلْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی یَوْمِيْ ہٰذَا،وَاِنِّيْ لَاَرْجُوْ اَنْ یَّحْفَظَنِيَ اللہُ تَعَالٰی فِیْمَا بَقِيَ،قَالَ:فَاَنْزَلَ اللہُ تَعَالٰی:
{ لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ }حَتّٰی بَلَغَ { اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ(۱۱۷)وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاؕ-حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ }حَتّٰی بَلَغَ{ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹) } ( پ ۱۰ ،التوبۃ، ۱۱۷ ، ۱۱۸ ، ۱۱۹)
قَالَ کَعْبٌ،وَاللہِ! مَا اَنْعَمَ اللہُ عَليَّ مِنْ نِعْمَۃٍ قَطُّ بَعْدَ اِذْ ہَدَانِيَ اللہُ لِلْاِسْلَامِ اَعْظَمَ فِيْ نَفْسِيْ مِنْ صِدْقِيْ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ لَا اَکُوْنَ کَذَبْتُہٗ،فَاَہْلِکَ کَمَا ہَلَکَ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا؛اِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ لِلَّذِیْنَ کَذَبُوْا حِیْنَ اَنْزَلَ الْوَحْيَ شَرَّ مَا قَالَ لِاَحَدٍ،فَقَالَ اللہُ تَعَالٰی:{ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْؕ-فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْؕ-اِنَّهُمْ رِجْسٌ٘-وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۹۵) یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْۚ-فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ(۹۶) } ( پ ۱۱ ،التوبۃ: ۹۵ ، ۹۶)
قَالَ کَعْبٌ،کُنَّا خُلِّفْنَا اَیُّہَا الثَّلاثَۃُ عَنْ اَمْرِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ قَبِلَ مِنْہم رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،حِیْنَ حَلَفُوْا لَہٗ فَبَایَعَہم وَاسْتَغْفَرَ لَہم ،وَاَرْجَاَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمْرَنَا حَتّٰی قَضَی اللہُ تَعَالٰی فِیْہِ بِذٰلِکَ،قَالَ اللہُ تَعَالٰی( وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا ) وَلَیْسَ الَّذِيْ ذُکِرَ مِمَّا خُلِّفْنَا تَخَلُّفَنَا عَنِ الْغَزْوِ،وَاِنَّمَا ہُوَ تَخْلِیْفُہٗ اِیَّانَا وَاِرْجَاؤُہٗ اَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَہٗ وَاعْتَذَرَ اِلَیْہِ فَقَبِلَ مِنْہُ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ ( مسلم،کتاب التوبہ،باب حدیث توبۃ کعب ابن مالک، ص ۱۴۸۲ ، حدیث: ۲۷۶۹)
وَفِيْ رِوَایَۃٍ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِيْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ یَوْمَ الْخَمِیْسِ وَکَانَ یُحِبُّ اَنْ یَّخْرُجَ یَوْمَ الْخَمِیْس( بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب من اراد غزوۃ فوری بغیرھا ومن احب الخروج یوم الخمیس، ۲/ ۲۹۶ ، حدیث: ۲۹۵)
وَفِيْ رِوَایَۃٍ:وَکَانَ لَا یَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ اِلَّا نَہَارًا فِي الضُّحٰی،فاِذَا قَدِمَ بَدَاَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلّٰی فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِیْہ. ( مسلم،کتاب صلاۃ المسافرین و قصر ھا، باب استحباب الرکعتین فی المسجد الخ، ص ۳۶۱ ، حدیث: ۷۱۶)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 21 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناعِمْرَان بِنْ حُصَیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہجُہَیْنَہ قبیلے کی ایک عورت جو زِناسے حاملہ تھی بارگاہِ نَبوَّت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی :یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں حَد(گناہ کی سزا)کی مُستَحِق ہوں ،اُس (حد) کو مجھ پر قائم فرمادیں۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اس کے وَلی (سرپرست) کو بُلایا اور اُس سے فرمایا کہ اسے اپنے ہاں اچھے طریقے سے رکھو !جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کو میرے پاس لاؤ ۔چنانچہ، اس نے اسی طرح کیا ۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اس عورت کے متعلق حکم فرمایا کہ اس کے کپڑوں کو اس کے جسم پر باندھ دو اور اس کو رَجم کردو ۔چنانچہ ،وہ رَجْم کردی گئی ۔پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ حضرتِ عمرفاروقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے خدمتِ اَقدس میں عرض کی:اس نے زِناکیاہے، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمپھر بھی اس کی نمازِجنازہ پڑھتے ہیں ؟ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہمَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاکے ستّر(70) آدمیوں پر تقسیم کی جائے تو اُن کی بخشش کے لئے کفایت کرے۔ کیااس سے بڑھ کر کوئی بات ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکی خاطر اس نے اپنی جان قربان کردی۔
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الحُصَیْنِ الخُزَاعِیِّ رَضِِیَ اللہُ عَنْہم ا:أَنَّ اِمْرَأۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ أَتَتْ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہِیَ حُبْلٰی مِنَ الزِّنٰی ، فَقَالَتْ:یَا رَسُوْلَ اللہِ ، أصَبْتُ حَدّاً فَأَقِمْہُ عَلَیَّ ، فَدَعَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَلِیَّہَا ،فَقَالَ:أَحْسِنْ إِلَیْہَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِیْ فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِہَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَشُدَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَرُجِمَتْ،ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہَافَقَالَ لَہُ عُمَرُ: تُصَلِّی عَلَیْہَا یَارَسُوْلَ اللہِ وَقَدْ زَنَتْ؟قَالَ:لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِینَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہم ،وَہَلْ وَجَدْتَّ أَفضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَ ا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ؟رَوَاہُ مُسْلِم
(مسلم ،کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، ص۹۳۳، حدیث:۱۶۹۶)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 22 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عبَّاسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو توچاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جواللہ عزَّوَجَلَّسے توبہ کرے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کی توبہ قُبول فرماتاہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِِ رَضِیَ اللہُ عَنْہماأَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیاً مِنْ ذَہَبٍ أحَبَّ أَنْ یَّکُونَ لَہُ وَادِیانِ، وَلَنْ یَمْلَا فَاہُ إِلاَّ التُّرَابُ، وَیَتُوْبُ اللہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال …الخ، ۴/ ۲۲۹، حدیث: ۶۴۳۹-۶۴۳۷)(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب لو ان لابن ادم، ص۵۲۲، حدیث:۱۰۴۹)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 23 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّایسے دو آدمیوں کو دیکھ کر ضِحْک فرمائے گا جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو گا(پھر بھی) وہ دونوں جنت میں داخل ہونگے ۔ اُن میں سے ایک تواللہ عزَّوَجَلَّکی راہ میں لڑکر شہید ہو ا تھا پھر اللہ عزَّوَجَلَّ نے اس کے قاتل کو توبہ کی توفیق بخشی اور وہ مسلمان ہوگیا اور جہاد کرتا ہوا شہید ہو گیا۔
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ! یَضْحَکُ اللہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی إِلٰی رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ أَحَدُہم ا الْاٰخَرَ یَدْخُلاَ نِ الْجَنَّۃَ ، یُقَاتِلُ ہَذَا فِی سَبِیْلِ اللہِ فَیُقْتَلُ، ثُمَّ یَتُوْبُ اللہُ عَلَی الْقَاتِلِ فَیُسْلِمُ فَیُسْتَشْہَدُ(مُتَّفَقٌ عَلَیْہ)(بخاری، کتاب الجھادوالسیر، باب الکافر یقتل المسلم… الخ ، ۲/۲۶۲، حدیث: ۲۸۲۶)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 24 ، باب : توبہ و استغفار کا بیان