Main Icon

باب : توبہ و استغفار کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 14

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ الْاَغَرِّ بْنِ یَسَارِ الْمُزَنِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یَااَیُّہَا النَّاسُ: تُوْبُوْا اِلَی اللہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ، فَاِنِّیْ اَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ ِالَیْہِ مِئَۃَ مَرَّۃٍ ( رَوَاہُ مُسْلِمٌ) ( مسلم،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص ۱۴۴۹، حدیث: ۲۷۰۳)

عن الاغر بن یسار المزنی رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:یاایہا الناس: توبوا الی اللہ واستغفروہ، فانی اتوب فی الیوم الیہ مئۃ مرۃ ( رواہ مسلم) ( مسلم،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص ۱۴۴۹، حدیث: ۲۷۰۳)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اَغَربسِنْ یَسَارمُزَنِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ نَبِیِّّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : اے لوگوــ∞!اللہسے توبہ کرو اور اس سے بخشش چاہو بے شک میں روزانہ100 مرتبہاللہ عزَّوَجَلَّکے حضور توبہ کرتا ہوں۔

شرح حدیث

توبہ کسے کہتے ہیں ؟ٍ عمدۃُ القاری میں توبہ سے متعلق علمائے کرامرَحِمَہم اللہ السَّلامکے مختلف اقوال :
(1): بعض مشائخِ کرام کے نزدیک نَدامت توبہ ہے ۔
(2): بعض کے نزدیک گناہوں کی طرف نہ لوٹنے کا عَزْمِ مُصَمَّم (یعنی پکا ارادہ ) توبہ ہے۔
(3):گناہ سے باز رہنے کا نام توبہ ہے ۔
(4):مذکورہ تینوں باتوں کے مجموعے کانام توبہ ہے اور یہی سچّی توبہ کہلاتی ہے ۔
(5):علّامہ جَوہَرِی نے فرمایاکہ گناہوں سے رُجوع کرنے کا نام توبہ ہے۔(عمدۃ القاری، الدعوات، باب التوبۃ، ۱۵/۴۱۴)
سچّی توبہ کی علاماتحضرتِ سَیِّدُناعَبدُ اللہ بِنْ مُبارَکرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ’’سچّی توبہ کی چھ علامات ہیں : (۱) گُزَشتَہ گناہوں پر نادِم ہونا (۲)گناہوں کی طرف نہ لوٹنے کا عَزْمِ مُصَمَّ (۳) جن فرائض میں کوتاہی کی ہے ان کی ادائیگی (۴)جن کا حَق تَلَف کیا ہے انہیں ان کا حق دینا (۵)ناجائز و حرام مال سے بدن پر جو چربی چڑھ گئی ہو اُسے غَم وحُزْن کے ذریعے پگھلانا یہاں تک کہ کھال ہڈی سے چمٹ جائے اور پھر اگر اُس پہ گوشت آئے تو ایسا گوشت آئے جو حلال و طیب سے پروان چڑھا ہو(۶) جس طرح بدن کو نفسانی خواہشات کی لذت پہنچائی ہے اسی طرح اسے اطاعت کا مزہ چکھانا ۔‘‘(شرح بخاری لابن بَطّال،کتاب الدعاٗ، باب توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا، ۱۰/۸۰)توبہ واِسْتِغْفَارکی حقیقتمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :اِستِغفَار کے معنی ہیں گُزَشتَہ گناہوں کی معافی مانگنا اور توبہ کی حقیقت ہے کہ آیَندَہ گناہ نہ کرنے کا عَہد کرلینا،یا زبان سے گناہ نہ کرنے کا عَہد، اِستِغفَار اور دل سے عَہد توبہ کہلاتا ہے ۔ اِستِغفَار’’ غَفْرٌ‘‘ سے بنا ہے اس کا مطلب ہے ،چھپانا یا چھلکاو پَوست وغیرہ چونکہ اِسْتِغفَار کی برَکَت سے گناہ ڈھک جاتے ہیں اِس لئے اِسے اِستِغفَارکہتے ہیں۔توبہ کے معنی ہیں رُجوع کرنا ، اگر یہ حَق تعالی کیلئے اِستعما ل ہوتو اُس وقت اِس کے معنی ہوتے ہیں اِرادئہ عذاب سے رُجوع فرمالینااور اگر یہ بندے کی صفت ہو تو اِس کے معنی ہوتے ہیں ،گناہ سے اِطاعت کی طرف، غفلت سے ذِکر کی طرف غَیْبَت سے حضور کی طرف لوٹ جانا،تو بہ صحیح یہ ہے کہ بندہ گُزَشتَہ گناہوں پر نادِم ہو،آیَندَہ نہ کرنے کا عَہد کرے اور جس قدر ہوسکے گزشتہ گناہوں کا عِوَض اور بَدلہ اداکرے ، نمازیں ذِمّہ ہوں تواُن کی ادائیگی کرے، کسی کا قرض رہ گیاہو تو ادا کرے، حضرتِ سَیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِیفرماتے ہیں : ’’توبہ کا کمال (درجہ) یہ ہے کہ دل ،لذّتِ گناہ بلکہ گناہ (ہی کو) بھول جائے۔‘‘( مر اٰۃ لمناجیح ،۳/ ۳۵۲ )تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہمذکورہ حدیثوں میں نبیوں کے تاجدار،حبیب پروَردگار،صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِستِغفَار کا بیان ہواکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروزانہ 70مرتبہ سے بھی زیادہ اِستِغفَار فرمایا کرتے حالانکہ توبہ و اِستِغفار تو کسی گناہ پر ہوتا ہے جبکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو گناہوں سے معصوم ہیں ،بلکہ نہ جانے کتنے گناہ گار آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صَدْقے بخشے جائیں گے۔ جیسا کہ قراٰنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ(پ۲۶، الفتح:۲)
ترجمۂ کنز الایمان :تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے ۔
پھرآپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِستِغفَار کرنے میں کیا حکمت ہے؟ علمائے کرام رَحِمَہم اللہ السَّلَام نے اس کے مختلف جوابات دئیے ہیں جن میں سے کچھ بیان کئے جاتے ہیں :نَبِیَِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِستِغفَار کرنے کی تَوجِیہاتحافظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلانِیقُدِّ سَ سِرُّہُ النُورَانِیفرماتے ہیں : اِستِغفَار کرنا وُقوعِ مَعصِیت کو مُستَلزَم ہے (یعنی توبہ کسی گناہ پر ہی کی جاتی ہے ) حالانکہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَعصُوم( بلکہ تمام معصوموں کے سردار )ہیں ،پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِستِغفَار کرنے کی کیا و جہ ہے؟علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامنے اسکی مختلف حکمتیں بیان فرمائیں ہیں :
(1)عَلَّامَہ اِبن بَطَّال
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَفََّارنے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ انبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَامعبادَت کرتے ہیں ، وہ ہمیشہاللہ عزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرتے ہیں ، اس کے باوجود وہتَقْصِیر(کمی ) کا اِعتراف کرتے رہتے ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکا حق ادا نہ ہوسکنے پر وہاللہ عزَّوَجَلَّسے اِستِغفَار کرتے ہیں۔(شرح بخاری لابن بَطّال، کتاب الدعائ، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۱۰/۷۷)
(2)اِمَام غَزَالی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِینے ’’اِحیاء ُالعُلوم‘‘ میں فرمایا: نَبِیّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدائماً (ہمیشہ) درجاتِ عالیہ کی طرف ترقی کرتے رہتے ہیں اور جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک حال سے دوسرے حال کی طرف ترقی کرتے تو اپنے پہلے حال پر اِستِغفَار کرتے ہیں۔ (فتح الباری، کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۱۲/۸۵، تحت الحدیث:۶۳۰۷)
(3) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَنِینے فرمایا:آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتواضُعًااِستِغفَار کرتے تھے۔
(4) آپ کا اِستِغفَار فرمانا تعلیمِ اُمّت کیلئے ہے۔ (عمدۃ القاری،کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۱۵/۴۱۳، تحت الحدیث:۶۳۰۷)
اِستِغفَار عبادت ہےمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرما تے ہیں :توبہ و اِستِغفَار، نماز، روزے کی طرح عبادت ہے، اِسی لئے حضور انورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبکثرت توبہ واِستِغفَار کیا کرتے تھے ۔ورنہ حضور انورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَعصُوم ہیں گناہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب بھی نہیں آتا، صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں اور وہ حضرات عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں۔
زاہِداں اَزْ گناہْ تَوبَہْ کُنَنْدْ عارِفاں اَزْ عبادتْ اِسْتِغْفَار
(یعنی زاہد گناہ کی وجہ سے توبہ کرتے ہیں اور عارف لوگ عبادت کرکے اِستِغفار کرتے ہیں ) یاپھرآپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکایہ عمل تعلیمِ اُمَّت کے لئے تھا۔ (ملخصاََ ازمراٰۃالمناجیح ،۳/ ۳۵۳)سردارِ دو جہان اُمَّت کے لئے اَمان ہیںنَبِیّ رحمت ،شفیعِ اُمّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بَرَکَت سے مخلوقِ خدا زمینی وآسمانی بلاؤں سے محفوظ رہتی ہے۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت کے لئے اَمان ہیں۔چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُناابو موسی اَشعَرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اللہ عزَّوَجَلَّنے میری امت کے لئے مجھ پر دو اَمن (والی آیتیں ) اتاریں ہیں ، ایک:
αوَمَا کَانَ اللہ لِیُعَذِّبَہم وَاَنْتَ فِیْہم ط
(پ۹،الانفال:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔
اور دوسری :
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳)(پ۹، الانفال:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔
جب میں دنیا سے پردہ کر لوں گاتو ان میں قِیامت تک کے لئے اِستِغفار چھوڑ دوں گا۔(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الانفال، ۵/۵۶، حدیث:۳۰۹۳)
حضورِ انور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتا قیامت اپنی اُمّت کے سارے حالات پر مُطَّلع ہیں ، اُن کے گناہوں کودیکھتے ہیں تودل کوصَدمہ ہوتاہے،اس صَدمے کے جوش میں اُنہیں دعائیں دیتے ہیں ،اس کی تائیدربِّ کریم کے اِس فرمانِ عظیم سے ہوتی ہے۔عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)(پ۱۱،التوبہ:۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: جن پر تمہارا مَشَقَّت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔
بدہنسیں تم ان کی خاطر رات بھر رؤو کَرا ہو(۱)
بد کریں ہر دم بُرائی تم کہو اُن کا بھلا ہو
(ملخصًاازمراٰۃالمناجیح ، ۳ / ۳۵۳)
نَبِی یّرحمت ، شفیعِ اُمَّت ، مالکِ جنت
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنی اُمَّت سے جتناپیارہے اتنا کسی کو کسی سے نہیں ہوسکتا، اُمَّت کا مَشَقَّت میں پڑنا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر بہت گِراں گزرتا ہے ۔’’کریم نبی‘‘کے 7حروف کی نسبت سے نَبِیِّ رَحمت کی اپنی اُمَّت سے مَحَبَّت پر مُشْتَمِل ’’7‘‘اِیمان اَفروزروایات
(1)میں صَدقے یارسولَ اللہ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!نَبِیَِّ کریم، ر ء وف ورحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ اُلفت نشان ہے:’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی، جب آگ نے اِرد گِرد روشن کردیا تو پروانے اور کیڑے مَکوڑے آگ میں گرنے لگے اور وہ شخص اُن کو آگ میں گرنے سے روکنے لگا اوروہ اس پر غالب آکر آگ میں گر تے رہے۔پس میں تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں گر رہے ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصی، ۴/۲۴۲، حدیث:۶۴۸۳)(2)اُمَّت کے لئے تین دعائیںحضرتِ سَیِّدُنا خَبَّاب بِن اَرَترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُبیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت لمبی نماز پڑھی صحابۂ کرامعَلَیْھِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی ہے جتنی آپ عام طور پر نہیں پڑھا کرتے؟ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ہاں ! یہ اللہعزَّوَجَلَّکی طرف رغبت کرتے ہوئے اور اُس سے ڈرتے ہوئے پڑھی تھی میں نے اِس نماز میںاللہ عزَّوَجَلَّسے تین چیزوں کا سوال کیا تھا ،اللہ عزَّوَجَلَّنے دو چیزیں مجھے عطا کردیں اور ایک چیز کے سوال سے مجھے روک دیا ۔ میں نےاللہ عزَّوَجَلَّسے سوال کیا کہ میری اُمَّت کو(عام) قَحْط سے ہلاک نہ کرے ، تو اللہعزَّوَجَلَّنے مجھے یہ چیز عطا فرمادی اور میں نے اللہعزَّوَجَلَّسے سوال کیا میری اُمَّت پر کسی ایسے دشمن کو مُسَلَّط نہ کرے جو اُن کا غیر ہو، تواللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے یہ چیز بھی عطا فرمادی، میں نےاللہ عزَّوَجَلَّسے یہ سوال کیا کہ میری اُمَّت کے لوگ ایک دوسرے سے جنگ نہ کریں تواللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے اس سوال سے روک دیا ۔ (ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی سوال النبی ثلاثا فی امتہ، ۴/۷۲، حدیث:۲۱۸۲)( 3) ہر نبی کے لئے ایک خُصوصی مقبول دعا ہوتی ہےنَبِیِّرحمت، شفیع ِاُمَّت ،صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ ہر نبی کی ایک (خصوصی) مقبول دعا ہوتی ہے، ہر نبی نے دنیا میں وہ مانگ لی اور میں نے اسے قیامت کے دن اپنی اُمَّت کی شَفاعت کے لئے محفوظ رکھا ہے اوراِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّمیری اُمَّت کے ہر اس فرد کو حاصل ہوگی جس نے شرک نہ کیا ہو گا۔‘‘
(مسلم،کتاب الایمان، باب اختباء النبی
صلی اللہ علیہ وسلمدعوۃ الشفاعۃ لامتہ،ص۱۲۹، حدیث:۱۹۹)(4)پانچ نمازوں پرپچاس کاثوابحضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات نَبِیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پچاس نمازیں فرض کی گئیں (پھر آپ کی بار بار درخواست پر) ان میں کمی کی گئی یہاں تک کہ پانچ ہوگئیں پھر کہا گیا : اے محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) بے شک ہمارے ہاں قول نہیں بدلتا تمہارے لئے ان پانچ میں پچاس کا ثواب ہے ۔(ترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء کم فرض اللہ علی عبادہ من الصلوات، ۱/۲۵۴، حدیث:۲۱۳)(5) نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مثل کوئی نہیںحضرتِ سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: وِصال (یعنی بغیر سحر و افطار)کے روزے نہ رکھو۔ صحابہ نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسَلَّم! آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسَلَّمبھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں ؟ فرمایا: تم میں سے کون میری مثل ہے؟ بے شک مجھے تومیرا ربّ کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الصوم، باب التنکیل لمن اکثر الوصال، ۱/۶۴۶، حدیث:۱۹۶۵)(6)اُمت پر شفقتامیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا مولائے کائنات ،علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِخُداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی :وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا(پ۴، الِ عمران: ۹۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔
مسلمانوں نے 3بارپوچھا : یَارَسُوْلَ اللہ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہر سال ؟ آپعَلَیْہِ السَّلامخاموش رہے پھر فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہوجاتا ۔(ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء کم فرض الحج، ۲/۲۲۰، حدیث:۸۱۴)(7)گناہ گاروں کے لئے خوشخبریحضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُبیان کرتے ہیں کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : میری شَفاعت میری اُمَّت کے بڑے گناہ گاروں کے لئے ہے ۔(ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ، باب منہ: شفاعتی لاہل الکبائر من امتی، ۴/۱۹۸، حدیث:۲۴۴۳)
ہمارے پیارے نبی
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممظلوموں کو ظالموں سے ان کا حق دلاتے ،جو بھی آپ کے پاس فریاد لے کر آتا اس کی فریاد رَسی فرماتے ۔دبدبۂ نبوی اور اَبُوجَہْل کی بد حواسیاَبُوجَہْل ایک یتیم بچے کا کفیل تھا اُس نے بچے کا مال ہَڑَپ کر لیا،بچے نے غریبوں کے والی، یتیموں کے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہو کر اَبُوجَہْل کے خلاف اِمداد کی درخواست کی، یہ وہ بارگاہ تھی جہاں سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہ لوٹا، جوآیا اپنی مرادیں پا کر گیا۔ چنانچہ ، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسی وقت اَبُوجَہْل کے پاس تشریف لے گئے اور اُسے یتیم کا مال واپس کرنے کا حکم دیا۔ اُس نے فورًا ہی بِلا چوں وچَراں تمام مال واپس کر دیا ۔ یہ دیکھ کر اُس کے ساتھیوں نے کہا: تجھ پر اتنی گھبراہٹ طاری کیوں ہو گئی کہ فورًا ہی حکمِ مصطفیٰ پا کر مال واپس کر دیا ؟ اَبُوجَہْل نے کہا : میں نے اُن کے دائیں بائیں انتہائی خطر ناک نیزے دیکھے تھے اگر میں ادائیگی سے اِنکار کرتا تو ضرور مارا جاتا اِسی لئے حکمِ مصطفیٰ ماننے ہی میں عافیت سمجھی۔ (ا لسیرۃ الحلبیہ، ۱/۴۴۵)
کافروں پر تیغ والا (1) سے گری برقِ غضب(2) اَبر آسا(3) چھا گئی ہیبت رسولُ اللہ کی
غلاموں اورخادِموں پر کرَمِ مصطفیٰنَبِیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخادِموں اور غلاموں کے ساتھ بھی بڑی نرمی سے پیش آتے اور اِن پر بھی خصوصی کرم فرماتے۔ دُنیوی معاملات اور کام کاج کے سلسلے میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی خادم پر نہ کبھی سختی فرمائی ،نہ ہی کبھی مارا ۔ گھریلو معاملات اور خُدّام کے ساتھ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے برتاؤ سے متعلق اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے بڑھ کر کون واقف ہو سکتا ہے۔ آپ فرماتی ہیں : ’’مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خَادِمًا وَلَا اِمْرَئَۃً قَطُّ‘‘ یعنی رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھی کسی خادم یا عورت کو نہ مارا۔(ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی التجاوز فی الامر، ۴/۳۲۸، حدیث:۴۷۸۶)کتنی مرتبہ معاف کیا جائے؟ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھی کسی غلام یا خادم کو نہیں مارا ۔مارنا تو بہت دور کی بات ہے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ تو خود کسی خادم کو ڈانتے نہ دوسروں کو اس کی اجازت دیتے۔ منقول ہے ایک آدمی نے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کی :’’یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آخر ہم اپنے خادموں سے کتنی مرتبہ درگزر کریں ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخاموش رہے اس نے دوبارہ پوچھا :آپ خاموش رہے ، جب تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’اُعْفُوْا عَنْہُ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً‘‘ یعنی اس سے دن میں 70مرتبہ در گزر کرو۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب النکاح، باب النفقات، الفصل الثانی، ۲/۲۶۵، حدیث:۳۳۶۷)
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام
جانور وں پر کرمِ مصطفیٰحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام مخلوق کے لئے سراپا رحمت بن کردنیا میں جلوہ گر ہوئے ۔ یہ کیسے ممکن تھاکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبے زبان جانوروں پر توجہ نہ فرماتے؟آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جانوروں کے ساتھ کی جانے والی ہر زیادتی اور نا رَوا سُلوک سے نہ صرف لوگوں کو منع فرمایا بلکہ خود عملًا ان کے ساتھ شَفقَت و نرمی فرمائی ،ان کے آرام و خوراک پر حد درجہ توجہ فرما کر اُس دَور میں دنیا میں جانوروں پر رحم وکرم کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی جب اِنسان اِنسان پر رحم نہ کرتا تھا۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جانوروں کو بِلا ضرورت مارنے، زندہ جانور کا گوشت کاٹنے،منہ پرمارنے، داغنے،بے ضرر جانوروں کو مارنے،بے جا استعمال کرنے، جانوروں کو آپس میں لڑانے،طاقت سے زیادہ کام لینے اور انہیں بھوکا پیاسا رکھنے اور انہیں پریشان کرنے سے منع فرمایا۔ ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں جانور بھی فریاد کرتے اور اُن کی فریاد رَسی کی جاتی اُن کی مشکلیں حل کی جاتیں۔ نَبِیِّ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جانوروں پر شَفقَت کا اندازہ ان واقعات سے لگایئے ۔(1)ہِرنی کی فریادحضرتِ سَیِّدُنازید بن اَرقمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نَبِیّ رَحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک اَعرابی کے خیمے کے پاس سے گزراتو وہاں ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی ۔نَبِیِّ رحمت ،بے کسوں کے فریادرَسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر نظر پڑتے ہی ہرنی نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ خیمے والا اَعرابی مجھے جنگل سے پکڑ کر لایا ہے ، جبکہ میرے دو بچے جنگل میں ہیں ،میرے تھنوں میں دودھ گاڑھا ہورہا ہے یہ نہ تو مجھے ذَبح کرتا ہے کہ میں اِس تکلیف سے راحت پاجاؤں اور نہ مجھے چھوڑتا ہے کہ اپنے بچوں کو دودھ پلا آؤں۔ ہرنی کی فریاد سن کر مظلوموں کے فریاد رَس مدنی آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اگر میں تجھے چھوڑدوں تو کیا تو اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس آجائے گی ؟ عرض کی :جی ہاں ! یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں ضرور واپس آؤں گی ،اگر میں نہ آؤں تواللہ عزَّوَجَلَّمجھے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والے کا سا عذاب دے۔ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے چھوڑا تو وہ بڑی تیزی وبے قراری سے جنگل کی طرف چلی گئی ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ خوشی خوشی واپس آگئی۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے خیمے کے ساتھ باند ھ دیا۔ اتنے میں وہ اَعرابی بھی پانی کا مشکیزہ اٹھائے بارگاہ ِرسالتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں حاضر ہو گیا ۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :یہ ہرنی ہمیں بیچ دو ! عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ بطورِ ہدیہ پیشِ خدمت ہے۔ چنانچہ ، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے آزاد فرمادیا۔ حضرتِ سَیِّدُنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم! میں نے اس ہرنی کو دیکھا کہ وہ جنگل میں تسبیح اور کلمہ پڑھتی ہوئی جارہی تھی ۔ (دلائل النبوۃ، ۶/۳۵)(2) اُونٹ پرشَفقَتِ نبویحضرتِ سَیِّدُنایَعْلٰی بِنْ مُرَّہ ثَقَفِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ :ایک سفر میں مجھے نَبِیِّ رحمت، شفیعِ ِاُمَّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہم راہی کا شرف ملا تو میں نے اس سفر میں تین عظیم ُالشَّان چیزیں دیکھیں۔ راستے میں ایک اُونٹ کے ذریعے پانی نکال کرکھیت میں ڈالا جا رہا تھا ۔ اونٹ کی نظر جیسے ہی بے کسوں کے فریادرَس، نَبِیِّ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پڑی توبڑی بے قراری سے چیخا اور اپنی گردن زمین پررکھ دی۔ یہ دیکھ کرنَبِیِّ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماونٹ کے پاس ٹھہر گئے اور اِس کے مالک کو بُلوا کر فرمایا:یہ اُونٹ ہمارے ہاتھ بیچ دو! اس نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم یہ آپ کی بارگاہ میں تحفۃً پیش کرتے ہیں ، یہ ایسے گھر والوں کا ہے جن کے پاس اِس اُونٹ کے علاوہ کوئی ذریعہ معاش نہیں۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایا:اِس اُونٹ نے ہم سے چارہ کی کمی اور کام کی زیادتی کی شکایت کی ہے ۔لہٰذا تم اِس سے اچھا سُلوک کیا کرو۔( یعنی خوراک پوری دو اور حد سے زیادہ کام نہ لو)یہ فرما کرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآگے چل دیئے ۔ ایک مقام پر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآرام کی غرض سے لیٹے تو ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیااور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سایہ کرلیا پھر کچھ دیر بعد واپس اپنی جگہ چلا گیا ۔ جب میرے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنیند سے بیدار ہوئے اور میں نے واقعہ عرض کیا تو فرمایا: اس درخت نےاللہ عزَّوَجَلَّسے اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں سلام عرض کرنے کی اجازت مانگی تو اسے اجازت مل گئی۔یہ ہمیں سلام کرنے آیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر خدمت ہوئی جسے مرگی کا مرض تھا۔طبیبوں کے طبیباللہ عزَّوَجَلَّکے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی ناک کا بانسہ پکڑکر فرمایا: نکل !میںاللہ عزَّوَجَلَّکارسول محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہوں۔ واپسی پر جب اس عورت سے بچے کے متعلق پوچھا تو عرض گزار ہوئی : اُس ذاتِ پاک کی قسم جس نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو نَبِیِّ برحق بنا کر بھیجا! آپ کے بعد ہم نے اس میں کوئی تشویش والی بات نہ پائی ( یعنی ذرہ بھر بھی بیماری کا اثر نہ پایا)۔ (مسند امام احمد،حدیث یعلی بن مرۃ الثقفی، ۶/۱۷۸، حدیث:۱۷۵۷۶)
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد( ) اِسی دَر پر شُتُرانِ ناشاد( ) گلۂ رنج و عنا( ) کرتے ہیں
اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم جانور بھی کریں جن کی تعظیم
سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم پیڑ سجدے میں گرا کرتے ہیں
ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیسے کریم ورحیم ہیں کہ کسی کا دکھ درد نہیں دیکھ سکتے ۔انسان تو انسان آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانوروں پر بھی خوب شَفقَت وکرَم فرماتے اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید فرماتے ۔ ہمارے نبی کواللہ عزَّوَجَلَّنے بے شمار اِختیارات عطا فرمائے ہیں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانورں کی بولی سمجھتے ، ان کی فریاد رَسی فرماتے اور کسی کو کیسی ہی جسمانی روحانی بیماری یا پریشانی ہوتی ،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنظرِ کرم فرماتے تو اُس کی بیماریاں اور مصیبتیں دور ہو جاتیں۔گناہوں کا مریض آتا تو نگاہِ نبی سے مرضِ عِصیاں کا قَلَع قَمَع(یعنی خاتمہ )ہو جاتا۔ ہمیں بھی مرضِ عِصیاں نے جاں بَلَب(مرنے کے قریب) کر دیا ہے ہم طبیبوں کے طبیب،اللہ عزَّوَجَلَّکے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ ِبے کس پناہ میں عرض کرتے ہیں :
ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا
تم جو چاہو تو ابھی مَیل مرے دل کے دُھلیں کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا
ِاسْتِغْفَارکرنے کے بے شمار فضائل و برکات ہیں ، شیخ طریقت امیرِ اہلسنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی
دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَہنے مدنی پنج سورہ میں اِسْتِغْفَار کے 5فضائل ذکر کئے ہیں ان میں سے 3یہاں ذکر کئے جاتے ہیں :
حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ محبوبِ ربِّ ذوالجلال، صاحبِ جودو نَوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے : جس نے اِسْتِغْفَار کو اپنے اوپر لازم کر لیااللہ عزَّوَجَلَّاس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیگا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، ۴/۲۵۷، حدیث:۳۸۱۹)
حضرتِ سَیِّدُنا زبیر بن عوام
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُسَرَّت نشان ہے جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامۂ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہیے کہ اس میں اِسْتِغْفَار کا اضافہ کرے ۔ (مجمع الزوائد، کتاب التوبۃ، باب الاکثار من الاستغفار، ۱۰/۳۴۷، حدیث:۱۷۵۷۹)سَیِّدُ الْاِسْتِغْفَار پڑھنے والے کے لئے جنت کی بِشارتحضرتِ سَیِّدُنا شَدَّاد بِنْ اَوْسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلِیْن رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن َصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : یہ سَیِّدُ الْاِسْتِغْفَار ہے :اللھم اَنْتَ رَبِّی لَا اِلَہَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْ ءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ واَبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ۔ترجمہ: اے اللہ تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں اور بقدرِ طاقت تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں میں اپنے کئے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں مجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا۔(بخاری، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار،۴/۱۸۹،۱۹۰، حدیث:۶۳۰۶)
جس نے اسے دن کے وقت ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا پھر اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے رات کے وقت اسے ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا پھر صبح ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔
مدنی گلدستہ’’نبی‘‘ کے 3 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 3 مَدَنی پھول
(1)توبہ کی بڑی فضیلت ہے کہ خود حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدن میں کئی مرتبہ اِستِغفَار فرمایا کرتے تھے۔ (2)ہمیں بھی روزانہ کم از کم ستر مرتبہ توبہ و اِستِغفَار کرنی چاہیے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ستر مرتبہ اِستِغفَارفرمایا ۔
(3)اِستِغفار سے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں ،
اللہ عزَّوَجَلَّبھی خوش ہوتاہے اوریہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت بھی ہے ۔
توبہ کا موقع ملنا بھی بہت بڑی سعادت کی بات ہے بہت سے لوگوں کو توبہ کا موقع بھی نہیں ملتا اور وہ بغیر توبہ کئے اس دارِ فانی سے چلے جاتے ہیں ،موت کا کوئی بھروسہ نہیں اس لئے ہمیں بھی بکثرت توبہ واِستِغفار کرنی چاہیے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ،مرتے وقت کلمۂ طیبہ نصیب فرمائے اور پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جلووں میں مدینے میں شہادت کی موت عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭∞

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 14