Main Icon

باب : توبہ و استغفار کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 15

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ ( بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، ۴/۱۹۱، حدیث:
۶۳۰۹) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلم لَلّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِاَرْضٍ فَلاۃٍ ، فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہُ فَاَیِسَ مِنْہَا، فَاَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّہَا وَقَدْ اَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ ، فَبَیْنَمَا ہُوَکَذَالِکَ اِذْ ہُوَبِہَا قائِمَۃً عِنْدَہٗ ، فَاَخَذَ بِخِطَامِہَا ، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ ’’ اللہم اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ ‘‘ اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ ( مسلم، کتاب التوبۃ،باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا، ص ۱۴۶۹ ، حدیث: ۲۷۴۷)

عن ابی حمزۃ انس بن مالک الانصاری خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’اللہ افرح بتوبۃ عبدہ من احدکم سقط علی بعیرہ وقد اضلہ فی ارض فلاۃ ( بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، ۴/۱۹۱، حدیث:
۶۳۰۹) وفی روایۃ لمسلم للہ اشد فرحا بتوبۃ عبدہ حین یتوب الیہ من احدکم کان علی راحلتہ بارض فلاۃ ، فانفلتت منہ وعلیہا طعامہ وشرابہ فایس منہا، فاتی شجرۃ فاضطجع فی ظلہا وقد ایس من راحلتہ ، فبینما ہوکذالک اذ ہوبہا قائمۃ عندہ ، فاخذ بخطامہا ، ثم قال من شدۃ الفرح ’’ اللہم انت عبدی وانا ربک ‘‘ اخطا من شدۃ الفرح ( مسلم، کتاب التوبۃ،باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا، ص ۱۴۶۹ ، حدیث: ۲۷۴۷)

حدیث ترجمہ

خادِمِ رسول حضرتِ سَیِّدُنااَنس بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے نَبِیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عزَّوَجَلَّاپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے ۔‘‘(مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں )’’ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تواللہ عزَّوَجَلَّکو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ جیسے تم میں سے کوئی شخص کسی جنگل میں اپنی سُواری پر جائے اور سُواری گم ہو جائے ، اور سُواری پر اُس کا کھانا اور پانی ہو اور وہ(سُواری کے ملنے سے) مایوس ہوجائے اور ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے ،پھر اچانک وہ سُواری اس کے پاس کھڑی ہوئی ہو، وہ اس کی مَہار (یعنی رسی ) پکڑلے ،پھر خوشی کی شدت میں یہ کہے :’’اےاللہ عزَّوَجَلَّ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا ربّ ہوں۔‘‘ شدتِ خوشی میں اس سے الفاظ اُلٹ ہو جائیں۔

شرح حدیث

جوہوش میں نہ ہو اس پر مواخذ ہ نہیںفتح الباری شرح بخاری میں ہے کہ شدید گھبراہٹ ،کسی انتہائی تعجب خیز واقعے یا کسی اور وجہ سے انسان ہوش میں نہ رہے یا بھول کر اس کی زبان سے ایسے کلمات نکل جائیں (جو خلافِ شرع ہوں ) توان پر مواخذہ (یعنی پکڑ)نہیں۔ اسی طرح ان الفاظ کو بطورِ حکایت یا کسی شرعی فائدے کیلئے بیان کرنے پر بھی کوئی مواخذہ نہیں۔ ہاں مذاق میں یا کسی کی نقل اتارتے ہوئے یا فضول گوئی میں ایسے کلمات کہے تو پھرمواخذہ ہوگا۔ (فتح الباری، کتاب الدعوات، باب التوبہ، ۱۲/۹۱، تحت الحدیث:۶۳۰۹)توبہ کرنا کس پر فرض ہے ؟اِکْمَالُ الْمُعْلِمشرح مسلم میں ہے : توبہ کرناہر اس شخص پر فرض ہے جو اپنی طرف سے ہونے والے گناہ کو جان لے خواہ وہ گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ اور توبہ تمام فرائض کی اصل ہے۔حضرتِ سیدناسُفْیَان بِنْ عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : توبہ اس امت پراللہ عزَّوَجَلَّکی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو کہ پچھلی امتوں پر نہ تھی اور بنی اسرائیل کی توبہ خود کوقتل کرنا تھی۔ (اکمال المعلم، کتاب التوبۃ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا،۸/۲۴۲، تحت الحدیث:۲۶۷۵)اللہ عزَّوَجَلَّکے خوش ہونے سے کیا مراد ہے ؟علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیفرماتے ہیں :حدیثِ مذکور میںاللہ عزَّوَجَلَّکیلئے خوشی کا اِطلاق مجازًاکیا گیا ہے اور اس سےاللہ عزَّوَجَلَّکی رضا مراد ہے یعنیاللہ عزَّوَجَلَّبندۂ مومن کی توبہ سے بہت راضی ہوتا ہے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ ، ۱۵/۴۱۵، تحت الحدیث:۶۳۰۸)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :ایسے مقامات پر خوشی سے مراد رِضا ہوتی ہے، کیونکہ اِصطِلاحی فرحت و خوشی سے ربّ تعالی پاک ہے، خیال رہے کہ رِضا اور ہے اور ارادہ کچھ اور ۔اللہ عزَّوَجَلَّہر بندے کے ایمان و شکر سے راضی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْؕ(پ۲۳،الزمر:۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر شکر کرو تو اسے تمھارے لئے پسند فرماتا ہے ۔
اور ہر شخص کو اس نے ایمان کا حکم بھی دیا ہے:
اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ(پ۵،النساء: ۱۳۶) ترجمۂ کنزالایمان:ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر۔
لیکن ہر شخص کے ایمان کا ارادہ نہیں فرمایا ورنہ دنیا میں کوئی کافر نہ ہوتا۔ یہاں اس کی رِضا کا ذکر ہے نہ کہ ارادے کا۔ اورجس طرح ا س شخص کو نااُمیدی کے بعداُمید سے ایسی خوشی ہو ئی جو بیان سے باہر ہے کیونکہ اُسے اپنی جان سے بھی نااُمیدی ہوچکی تھی۔اپنے گناہ گار بندے کی توبہ پر ربِّ کریم کو جو خوشی ہوتی ہے ہم اُسے بیان نہیں کرسکتے۔ (
اللہ عزَّوَجَلَّکی خوشی کو بندے کی خوشی کی مثال دے کر بیان کرنا) یہ تشبیہ مرکب ہے یعنی پورے واقعے کو پورے واقعے سے تشبیہہ دی گئی ہے ،نہ کہ ہر حال کو ہر حال سے، لہٰذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ(مَعَاذَ اللہ) رَبّ تعالیٰ مایوس بھی ہوا ہو اور بعد میں اُسکی آس بندھی ہو،بلکہ مقصد یہ ہے کہ رَبّ تعالیٰ ہم پر خودہم سے زیادہ مہربان ہے۔ جتنی خوشی ہم کو اپنی جان بچنے سے ہوتی ہے، اُس سے زیادہ خوشیاللہ عزَّوَجَلَّکو بندے کا ایمان بچنے سے ہوتی ہے۔بندے کا یہ کہنا کہ ’’اےاللہ عزَّوَجَلَّ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں ‘‘تویہ کلام انتہائی خوشی بیان فرمانے کیلئے ہے نہ کہ تشبیہ کیلئے کیونکہ ربّ تعالیٰ غلطیوں اور خطا سے پاک ہے، خوشی کی وجہ سے بندے کی مَت کٹ گئی( یعنی عقل منقطع ہو گئی) وہ کہنا توچاہتا تھاکہ’’ یاربّ !میں تیرا بندہ، تو میرا ربّ ہے ‘‘لیکن اُلٹا کہہ گیا، اس سے معلوم ہوا کہ خطا ًمنہ سے کفر نکل جانے پر بندہ کا فر نہیں ہوتا کیونکہ حضورِ انورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس پر حکم کفر نہ فرمایا، لیکن یہ اُس وقت ہے جب خطاپر اِطِّلاع نہ ہو، اِطِّلاع ہونے پر فورًاتوبہ ضروری ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،۳/۳۵۹)
حدیثِ مذکور میں ربِّ کریم کی انتہائی رِضا بیان کی گئی ہے:
اللہ عزَّوَجَلَّبندے کی توبہ پر اُس آدمی سے بھی کہیں زیادہ راضی ہوتا ہے جو اُونٹ پر سوار جنگل سے گزر ر ہا ہو ،گرمی کی شِدَّت سے پریشان ہو کر ایک درخت کے سائے تلے ٹھہر ے تو تھکاوٹ کی وجہ سے اُسے نیند آجائے ۔جب بیدار ہو تو اونٹ کومع سامان گُم پائے۔ تلاشِ بِسیار(بہت زیادہ تلاش کرنے) کے بعد بھی جب اونٹ نہ ملے تویہ سوچ کر اُسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اب یہیں مرجاؤں گا، کیونکہ دُور دُور تک پانی وآبادی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔پھر اچانک وہ اپنے اونٹ کو سامان سمیت اپنے پاس کھڑا دیکھے ۔توایسے شخص کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی کیونکہ جس کی جان بھی بچ جائے اور بھاگی ہوئی یا گمشدہ چیز بھی مل جائے تو واقعی اس کی خوشی بیان سے باہر ہوتی ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّبھی اپنے گناہ گاربندے کی توبہ سے بہت زیادہ راضی ہوتا ہے۔ گناہ گاربندہ درحقیقت گناہوں کی نُحوسَت کی وجہ سے اپنے ربِّ کریم ،مالک حقیقی،اللہ عزَّوَجَلَّکے دَر سے دُور ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ نادِم ہو کرواپس آئے تواللہ عزَّوَجَلَّاس سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اور یہ خوشی اس شخص کی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جس کی گمشدہ سُواری مع سامان کے اچانک واپس آجائے ۔( ملخصًااز تفہیم البخاری، ۹/۵۸۹ )
ہمارا کریم پَروَرد گار
عزَّوَجَلَّاپنے بندوں کی توبہ پر بہت خوش ہوتا ہے ۔بندے سے چاہے کتنے ہی گناہ سرزد ہوجائیں توبہ کرنے میں ہر گز سستی نہیں کرنی چاہیے مگر قُبولیت کیلئے سچّی توبہ ہونا شرط ہے۔’’بَخْشِشْ‘‘کے 4 حروف کی نسبت سے بَخْشِشْ کی4روایات(1)بڑے سے بڑے گناہ گار کی توبہ بھی قُبول ہےحضرتِ سَیِّدُنا اَبو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت،محسنِ انسانیتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کروتو اللہ عزَّوَجَلَّ تمہاری توبہ قُبول فرمالے گا۔‘‘ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، ۴/۴۹۰، حدیث:۴۲۴۸)(2)الٰہی میں تیری رَحمت کے قربانحضرتِ سَیِّدُناابوذَرغِفاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ نور کے پیکر، دو جہاں کے تاجوَر،صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ اے میرے بندو! میں نے ظلم کو خود پر حرام کردیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے، لہٰذاایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔ اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہومگر جسے میں نے ہدایت دی ،تم مجھ سے ہدایت چاہو میں تمہیں ہدایت دونگا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جسے میں نے کھلایا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو ! تم سب بے لباس ہو مگر جسے میں نے کپڑے پہنائے ،تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس عطافرماؤں گا ۔اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہواور میں تمام گناہوں کو بخش دیتاہوں تم مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو!تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور تم میرے نفع تک بھی نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نفع پہنچاسکو ۔اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے اورر تمہارے اِنس وجن تم میں سے کسی ایک متقی پر ہیز گار کی طر ح ہوجائیں تو بھی میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا ۔اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور تمہارے اِنس وجن تم میں سب سے زیادہ گناہ گارشخص کی طر ح فا جِر ہوجائیں تو بھی میرے مُلک میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔ اے میرے بند و! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور تمہارے اِنس وجن کسی ایک مکان میں یکجا ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورافرمادوں تو بھی میرے خزانے میں کچھ کمی نہ آئے گی مگر اتنی کہ جیسے کسی سوئی کوسمندر میں ڈال دیا جائے تو وہ جتنی کمی کرتی ہے۔ اے میرے بندو ! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں شمار کرتا ہوں پھر تمہیں اِن کا پورا اَجر عطا فرماؤں گا لہٰذا جوبھلائی پائے تو وہاللہ عزَّوَجَلَّکاشکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔‘‘
حضرتِ سَیِّدُنا سَعِید
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو اِدْرِیْس خَوْلَانِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُجب یہ حدیثِ مبارک سناتے تو گھٹنوں کے بَل کھڑے ہوجایاکرتے تھے۔(مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۳، حدیث:۲۵۷۷)(3)اللہ عزَّوَجَلَّکی شانِ غَفّاریحضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ نَبِیِّ مُعَظَّم،رَسُولِ مُحتَرَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: بندہ جب کوئی گناہ کرلیتا ہے ،پھر کہتا ہے :مولیٰ !میں نے گناہ کرلیا مجھے بخش دے، تو ربِّ کریم فرماتا ہے: یقینا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ربّ ہے جوگناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا بھی ہے،میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔پھرجب تک ربّ چاہے بندہ گناہ سے بچا رہتا ہے،پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: یاربّ! میں نے گناہ کرلیا مجھے بخش دے،تو ربِّ کریم فرماتا ہے:یقینا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ربّ ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پرپکڑتا بھی ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر بندہ ٹھہرا رہتا ہے جتنا ربّ چاہے، پھر گناہ کر بیٹھتا ہے اور عرض کرتا ہے: یاربّ! مجھ سے گناہ سرزد ہو گیا ہے ،مجھے بخش دے، تو ربّ فرماتا ہے: یقینا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ربّ ہے جو گناہ بخشتا ہے اوراس پر پکڑتا بھی ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا جو چاہے کرے ۔ (بخاری،کتاب التوحید، باب قولاللہ تعالٰی: یریدون ان یبدلوا کلام اللہ ،۴/۵۷۵، حدیث:۷۵۰۷)(4)کون سا گناہ گار بہتر ہے؟حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رَسُوْلُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ بخشِش نشان ہے: ہر آدمی گناہ گار ہے اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو توبہ کر لیتا ہے ۔ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، ۴/۴۹۱، حدیث:۴۲۵۱)
اس حدیثِ پاک سے اِستِغفَار کی فضیلت بیان کر نا مقصود ہے کہ جب بندہ سچّی توبہ کر لے لیکن پھر نفس کے بہکاوے میں آکر دوبارہ گناہ کر لے پھر نادِم ہو کر سچّی توبہ کرے، پھر گناہ کر بیٹھے، پھر توبہ کرلے، تو
اللہ عزَّوَجَلَّاس سے ناراض نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے۔اللہ عزَّوَجَلَّکی رَحمت بہت وسیع ہے وہ ہر سچّی توبہ قُبول فرماتا ہے اگرچہ کتنی ہی مرتبہ کی جائے ۔ ہمیں چاہئے کہ جب بھی ہم سے گناہ سرزد ہو جائے تو فورًا بارگاہِ خدا وَندی میں توبہ کر کے اپنے کریم ربّ کو راضی کرلیں۔اللہ عزَّوَجَلَّہم پرہر وقت اپنی رَحمت کا سایہ رکھے اورگناہوں سے سچّی توبہ اور خوب اِستِغفَارکرنے کی توفیق مَرحَمَت فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدَنی گلدستہاِسْتِغْفَار‘‘کے7حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 7 مَدَنی پھول
(1)ہمارا کریم ربّ سچّی توبہ کرنے والوں کی توبہ قُبول فرماکر انہیں اپنے سایۂ رَحمت میں جگہ عطا فرماتا ہے ۔
(2)توبہ
اللہ عزَّوَجَلَّکی خوشنودی کا سبب ہے۔
(3) کہنا کچھ چاہتا تھا زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا۔ یعنی جب کہ اس اَمر سے اِظہار ِنفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہوجائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے ۔( بہار شریعت، ۱/ ۴۵۶، حصہ ۹)
(4)
اللہ عزَّوَجَلَّکی رَحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔اللہ عزَّوَجَلَّبندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا ۔
(5) مصیبت زدہ و غمگین دل سے نکلی ہوئی دُعابہت جلدقَبول ہوتی ہے۔
(6)اِستِغفَار کو اپنا وظیفہ بنا لینا چاہیے کہ اس سے دین ودنیا کی بے شمار بھلائیاں ملتی اورآفتیں دور ہوتی ہیں۔
(7) توبہ واِستِغفَار میں جتنی زیادہ شَرمِندَگی اور عاجزی ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ ربِّ کریم کی رَحمت متوجہ ہوتی ہے۔
اے
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں گناہوں کی آفت سے محفوظ رکھ۔گناہ ہو جانے پر سچّی توبہ اور اس پر اِسْتِقَامَت کی توفیق عطا فرما۔ہم پر ہر آن اپنی رَحمت کا سایہ رکھاٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 15