- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- حدیث نمبر 18
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: ’’ اِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ یَقْبَلُ تَوبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ۔ ‘‘ رَوَاہُ التِّرْمِذِی، وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ ( ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ … الخ، ۵ /۳۱۷ ، حدیث: ۳۵۴۸)
عن ابی عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم ا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’ ان اللہ عزوجل یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر۔ ‘‘ رواہ الترمذی، وقال حدیث حسن ( ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ … الخ، ۵ /۳۱۷ ، حدیث: ۳۵۴۸)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو عبد الرحمن عَبْدُ اللہ بن عمر خطابرَضِیَ اللہ عَنْہما سے مروی ہے کہ رسول ِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ بندے کی توبہ قُبول کرتا ہے غَرْغَرہ سے پہلے تک ۔ ‘‘
شرح حدیث
آخری سانس تک توبہ قبول ہےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں : یعنیاللہ عزَّوَجَلَّبندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک کہ روح بالکل حلق میں نہ آجائے، یعنی جب تک موت کا یقین نہ ہوجائے ، موت کا یقین ہوجانے کے بعد کی جانے والی توبہ قابل قبول نہیں جیسا کہاللہ عزَّوَجَلَّقراٰنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِۚ-حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْـٰٔنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌؕ-(پ۴، النساءَ: ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان کی جو کافر مریں۔
تفسیرِ ابنِ عباس میں ہے کہ موت کے حاضر ہوجانے سے مراد مَلَکُ الْمَوْتعَلَیْہِ السَّلامکو دیکھ لینا ہے اور یہ حکم تَغْلِیْبًا (یعنی اکثریت کی بنیاد پر) ہے کیونکہ بہت سے لوگ انہیں نہیں دیکھ پاتے اور بہت سے لوگ انہیں موت سے پہلے دیکھ لیتے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات، باب الاستغفار، ۵/۱۷۴، تحت الحدیث:۲۳۴۳)قبضِ روح پَیروں سے شروع ہوتی ہےمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں کہ نَزْع کی حالت میں جب موت کے فرشتے نظر آجائیں تواسے ’’غَر غَرَہ‘‘ کہتے ہیں۔اس وقت کفر سے توبہ قُبول نہیں کیونکہ ایمان کے لیے اِیمان باِلغَیب ضروری ہے اور اب غیب مُشاہَدہ میں آگیا ( یعنی دیکھ لیا گیا) اسی لئے ڈوبتے وقت فرعون کی توبہ قُبول نہ ہوئی، مگر گناہوں سے توبہ اُس وقت بھی قُبول ہے۔ بعض علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامنے فرمایا کہ مَلَکُ الْمَوتعَلَیْہِ السَّلامہر مرنے والے کو نظر آتے ہیں مومن ہو یا کافر، خیال رہے کہ قبضِ روح پاؤں کی طرف سے شروع ہوتا ہے تاکہ بندے کی اس حالت میں دل و زبان چلتے رہیں ،گنہگار توبہ کرلیں ، کہا سنا معاف کرالیں۔ کوئی وَصِیَّت کرنی ہو تو کرلیں یہ بھی خیال رہے کہ غَرغَرہ کے وقت گناہوں سے توبہ کے معنی ہیں گُزَشتہ گناہوں پر شرمندہ ہوجانا۔ (مراٰۃالمناجیح ، ۳/ ۳۶۵)
ہمارا پاک پَروَردگار کتنا رحیم و کریم ہے کہ انسان اگر ساری زندگی اُس کی نافرمانی میں گزار دے لیکن آخری وقت اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کی توبہ قُبول فرمالیتاہے ۔ مسلمان کی توبہ تو حالتِ نَزْع میں بھی قُبول ہے، لیکن کافرکی توبہ اس حالت میں قُبول نہیں ہوتی۔ ہاں حالتِ نَزْع طاری ہونے سے قبل بڑے سے بڑے کافر کی توبہ بھی قُبول ہو جاتی ہے ۔ توبہ واِستِغفار سےاللہ عزَّوَجَلَّبہت خوش ہوتا ہے۔’’اِسْتِغْفَار‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے اِسْتِغْفَار کے فضائل پرمشتمل سات روایات(1)حضرتِ سَیِّدُناجَابِر بِنْ عَبْدُ اللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُاپنے دا دا سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہو کر عرض کی: ہائے میرے گناہ! ہائے میرے گناہ ! اُس نے یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی تو رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :یہ دعا پڑھو ! ’’اللھُمَّ مَغْفِرَتُکَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِیْ وَرَحْمَتُکَ اَرْجٰی عِنْدِ یْ مِنْ عَمَلِیْ‘‘ ترجمہ:اے اللہ عزَّوَجَلَّ!تیری شانِ غفّاری میرے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے اور میں اپنے عمل کے مقابلے میں تیری رحمت کی زیادہ اُمید رکھتا ہوں۔‘‘ اس نے یہ کلمات دُہرائے ،تورَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :دوبارہ پڑھو، اس نے پھریہ کلمات دُہرائے۔ فرمایا: پھرپڑھو،اس نے پھروہی کلمات پڑھے تو فرمایا : کھڑے ہوجاؤ! بے شکاللہ عزَّوَجَلَّنے تمہاری مغفرت فرمادی ہے۔ (مستدرک حاکم، کتاب الدعاء والتکبیر، باب دعاء مغفرۃ الذنوب الکثیرۃ، ۲/۲۳۸، حدیث:۲۰۳۸)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد(2)نبیِّ رحمت ،شفیعِ امتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّفرماتا ہے:’’ اے میرے بندو! تم سب گناہ گار ہو مگر جسے میں نے بچایا ،لہٰذا مجھ سے مغفرت کا سوال کرو، میں تمہاری مغفرت فرمادوں گا اور تم میں سے جس نے یقین کرلیا کہ میں بخش دینے پر قادر ہوں پھر مجھ سے میری قدرت کے وسیلہ سے استغفار کیا تو میں اس کی مغفرت فرمادوں گا ۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ، ۴/۴۹۴، حدیث: ۴۲۵۷)(3)حضرتِ سَیِّدُنااِبن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے مروی ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: جس نے اِستِغفَارکو اپنے اوپر لازم کرلیااللہ عزَّوَجَلَّاس کی ہرپریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطافرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطافرما ئے گا جہاں سے اُسے گُمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتا ب الادب، با ب فی الاِستِغفَار، ۴/۲۵۷، حدیث:۳۸۱۹)(4)حضرتِ سَیِّدُنا زبیر بن عَوَّامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جو اِس با ت کو پسند کرتاہے کہ اُس کا نامۂ اعمال اُسے خوش کرے تو اُسے چاہیے کہ نامۂ اعمال میں اِستِغفَارکا اضافہ کرے۔(معجم الاوسط، باب الالف، ۱/۲۴۵، حدیث:۸۳۹)(5)حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ بِنْ بُسْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سناکہ خوشخبری ہے اُس کے لئے جو اپنے نامۂ اعمال میں اِستِغفَار کو کثرت سےپائے۔ (ابن ماجہ ،کتا ب الادب، باب فی الاِستِغفَار، ۴/۲۵۷، حدیث:۳۸۱۸)(6)اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ مَدَنی آقا،مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: جو بندہ گناہ کر بیٹھے پھر اَحسن طریقے سے وضو کرے پھر کھڑے ہوکر دورکعتیں ادا کرے پھراللہ عزَّوَجَلَّسے اِستِغفَارکرے تو اسکی مغفرت کردی جاتی ہے۔ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیتِ مبارَکہ تلاوت فرمائی:وَالَّذِیْنَ اِذَافَعَلُوْافَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْااَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللہ فاَسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْط (پ۴،اٰل عمران:۱۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اوروہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریںاللہکو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں۔(ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲/۱۲۲، حدیث:۱۵۲۱)(7)حضرتِ سَیِّدُنا انَسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم رَء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک سفر کے موقع پر ارشادفرمایا : اِستِغفَار کرو۔تو ہم اِستِغفَار کرنے لگے، پھر فرمایا: اسے ستّر70 مرتبہ پورا کرو۔ جب ہم نے یہ تعداد پوری کردی تو رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جو آدمی یاعورتاللہ عزَّوَجَلَّسے ایک دن میں ستّر مرتبہ اِستِغفَار کرتاہےاللہ عزَّوَجَلَّاس کے سات سو گناہ معاف فرمادیتاہے اور بیشک جو بندہ دن یا رات میں سات سو سے زیادہ گناہ کرے وہ بڑا بد نصیب ہے۔(شعب الایمان، باب فی محبۃ اللہ ، ۱/۴۴۲، حدیث:۶۵۲)توبہ کی راہ میں رُکاوَٹ بننے والے اُمور اور اُن کا حلتوبہ کی بہت اہمیت وفضیلت ہے ۔ان تمام تر فضائل کے باوجود بعض بدنصیب گناہ گار نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر توبہ کرنے میں ٹال مَٹَول سے کام لیتے ہیں۔بہت سے اُمُور ایسے ہیں جو توبہ کی راہ میں رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ، اُن میں سے چند اُمور اور اُن کا حَل بیان کیا جاتا ہے۔(1)گُناہوں کے اَنجام سے غَفلتگناہوں کے انجام سے غافِل ہونا بھی توبہ کی راہ میں رُکاوٹ بن جاتا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ اس کی نِگاہوں سے اوجھل ہے جبکہ اس کی نفسانی خواہشات کا نتیجہ فوری طور پر اُس کے سامنے آجاتا ہے اور یہ اِنسان کا فطری تقاضا ہے کہ یہ تاخیر سے وُقوع پذیر ہونے والی چیز کے مقابلے میں فوری طور پر حاصل ہونے والی شے کی طرف بہت جلد مُتَوَجِّہ ہوتا ہے ۔ مثلاً بَدکاری کرنے والا فوری طور پر حاصل ہونے والی لَذَّت کی طرف مائل ہوجاتاہے اور اُس کی اُخرَوِی سزا کے بارے میں سوچنے سے غفلت برتتا ہے۔اس کا حل:
ایسا شخص غور و فکر کرے کہ اگرچہ یہ عذاب میری نگاہوں سے اوجھل سہی لیکن ہیں تو یقینی ، کتنے ہی دُنیاوی فوائد ایسے ہیں جنہیں میں مستقبل میں ہونے والے نقصان کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہوں مثلاً کوئی ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ تمہیں دل کا مرض ہے، لہٰذاچکنائی والی چیزیں مثلاً پراٹھا ، سموسے ،پکوڑے وغیرہ کھانا بالکل ترک کردو ،ورنہ تمہاری تکلیف میں اِضافہ ہوجائے گا ۔تو میں مَحض ایک ڈاکٹر کی بات پر اعتبار کرکے آیَندہ نقصان سے بچنے کے لئے اُن اشیاء کو اُن کی تمام تر لَذَّت کے باوجود چھوڑ دیتا ہوں تو کیا یہ نادانی نہیں ہے کہ میں ایک بندے کے ڈرانے پر اپنی لذتوں کو چھوڑ دیتا ہوں لیکن تمام کائنات کے خالِقعزَّوَجَلَّکے وعدۂ عذاب کو سچا جانتے ہوئے بھی اپنے نَفس کی ناجائز خواہشات کو ترک نہیں کرتا۔اِس انداز سے غوروفکر کرنے کی بَرَکت سے مذکورہ رُکاوَٹ دور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ(2)لَذَّتِ گناہ کا دل ودِماغ پر غَلَبہبعض اوقات اِنسان کے دل ودماغ پر مختلف گناہوں مثلاً زِنا، شراب نوشی، بدنگاہی، نامَحْرَم عورتوں سے ہنسی مذاق ، فلم بِینی وغیرہ کی لَذَّت کا اس قَدَر غلبہ ہوجاتا ہے کہ وہ اُن گناہوں کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اُنگناہوں کے بغیر اُسے اپنی زندگی بہت اُداس اور وِیران محسوس ہوتی ہے ،یوں وہ توبہ سے محروم رہتا ہے۔اس کا حل:
اِس قسم کی صورتِ حال سے دوچار شخص اِس طرح غور و فکر کرے کہ جب میں زندگی کے مختصر ایام میں اِن لَذَّتوں کو نہیں چھوڑ سکتا تو مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لَذَّتوں (یعنی جنت کی نعمتوں ) سے محرومی کیسے گوارہ کروں گا؟ جب میں صبر کی آزمائش برداشت نہیں کرسکتا تو نارِ جہنم کی تکلیف کس طرح برداشت کروں گا ؟اِن گناہوں میں اگرچہ لَذَّت ہے لیکن اِن کا اَنجام طویل غم کا سبب ہے ،کسی دانا کا قول ہے کہ ’’کبھی لَذَّت کی وجہ سے گناہ نہ کرو کہ لَذَّت جاتی رہے گی لیکن گناہ تمہارے ذِمّے باقی رہ جائے گا اور کبھی مَشَقَّت کی وجہ سے نیکی کو ترک نہ کرو کہ مَشَقَّت کا اَثر ختم ہوجائے گا لیکن نیکی تمہارے نامۂ اعمال میں محفوظ رہے گی ۔‘‘اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّاِس اَنداز سے غوروفکر کرنے کی بَرَکت سے مذکورہ رُکاوَٹ دُور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ جب ایسا شخص نیکیوں کی وجہ سے حاصل ہونے والے سکونِ قَلب کو ملاحظہ کرے گا تو گناہوں کی لَذَّت کو بھول جائے گا۔ جیساکہ ایک شخص جسے سبزی بڑی پسند تھی اور وہ کسی دوسرے کھانے حتی کہ گوشت کو بھی خاطر میں نہ لاتا تھا ۔ اُس کا دوست اُسے مرغی کھانے کی دعوت دیتا لیکن وہ یہ کہہ کر اس کی دعوت کو ٹھکرا دیتا کہ اس سبزی میں جو لَذَّت ہے کسی اور کھانے میں کہاں ؟ آخر کار ایک دن جب اس کے دوست نے اُسے مرغی کھانے کی دعوت دی تو اس نے سوچا کہ آج مرغی بھی کھا کر دیکھ لیتے ہیں کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے اور مرغی کھانے لگا ۔جب اس نے پہلا لقمہ منہ میں رکھا تو اسے اتنی لَذَّت محسوس ہوئی کہ اپنی پسندیدہ سبزی کو بھول گیا اور کہنے لگا :’’ہٹاؤ اس سبزی کو ،اب میں مرغی ہی کھایا کروں گا ۔‘‘ بلاتشبیہ جب تک کوئی شخص محض گناہوں کی لَذَّت میں مبتلا اور نیکیوں کے سُکون وسُرُور سے ناآشنا ہوتا ہے ،اسے یہ گناہ ہی رونقِ زندگی محسوس ہوتے ہیں لیکن جب اُسے نیکیوں کا نور حاصل ہوجاتا ہے تو وہ گُناہوں کی لَذَّت کو بھول جاتا ہے اور نیکیوں کے ذریعے سُکونِ قَلب کا مُتَلاشِی (تلاش کرنے والا)ہوجاتا ہے ۔(3) لمبی اُمیدیںتوبہ میں تاخیر کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ نفس وشیطان اِس طرح انسان کا ذہن بناتے ہیں کہ ابھی تو بڑی عمر پڑی ہے بعد میں توبہ کرلینایا ابھی توتم جوان ہو بڑھاپے میں توبہ کرلینایانوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد توبہ کرلینا وغیرہ ۔ چنانچہ، ایسا شخص بھی نفس وشیطان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے توبہ سے محروم رہتا ہے۔اس کا حل:ایسے شخص کو اس طرح فکر ِمدینہ کرنی چاہیے کہ جب موت یقینی ہے اور مجھے اپنی موت کے آنے کا وقت بھی معلوم نہیں تو توبہ جیسی سعادت کو کل پر مو قوف کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ؟جس گناہ کو چھوڑنے پر آج میرا نفس تیار نہیں ہورہا کل اُس کی عادت پُختہ ہوجانے پر میں اُس سے اپنادامن کس طرح بچاؤں گا؟اوراِس بات کی بھی کیا ضَمانَت ہے کہ میں بڑھاپے میں پہنچ پاؤں گا یا نوکری سے ریٹائر ہونے تک میں زندہ رہوں گا ؟ حضرتِ سَیِّدُنا لقمان حکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے سے فرمایا:’’ اے میرے بیٹے توبہ میں تاخیر کرنے سے بچ! کیونکہ موت اچانک آ جاتی ہے۔‘‘ (شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ۵/۴۳۹، حدیث:۷۱۹۸)
پھرموت تو کسی خاص عمر کی پابند نہیں ،بچہ ہو یا بوڑھا ، جوان ہو یا اُدھیڑ عمر یہ بِلااِمتیاز سب کو زندگی کی رَونَقوں کے بیچ سے اُٹھا کر قبر کے گڑھے میں پہنچا دیتی ہے ،یہ وہ ہے کہ جب اِس کے آنے کاوقت آجائے تو کوئی خوشی یا غم ، کوئی مصروفیت یا کسی قسم کے اَدھورے کام اِس کی راہ میں رُکاوَٹ نہیں بن سکتے، ایک دن مجھے بھی موت آئے گی اور مجھے زیرِ ِ زمین دَفن ہونا پڑے گا ، اگر میں بغیر توبہ کئے مر گیا تو مجھے کتنی حسرت ونَدامَت کا سامنا کرنا پڑے گا ، ابھی مہلت مُیَسَّرہے، لہٰذ امجھے فورا توبہ کرلینی چاہیے ۔اِس اَنداز سے غوروفکر کرنے کی بَرَکت سے مذکورہ رُکاوٹ دور ہوجائے گی اوراِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔(4)رحمت ِ الٰہی کے بارے میں دھوکے کا شکار ہوناہمارے معاشرے میں اِس قسم کے لوگ بھی بکثرت پائے جاتے ہیں کہ جب اُنہیں گناہوں سے توبہ کی ترغیب دلائی جائے تو اِس قسم کے جملے بول کر لاجواب کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’اللہ عزَّوَجَلَّبڑا غفور ورحیم ہے ، ہمیں اُس کی رَحمت پر بھروسا ہے ، وہ ہمیں عذاب نہیں دے گا۔‘‘اور توبہ پر آمادہ نہیں ہوتے ۔اس کا حل:
ایسوں کی خدمت میں مدنی التجا ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکے رحیم وکریم ہونے میں کسی مسلمان کو شک وشبہ نہیں ہوسکتا لیکن جس طرح یہ دونوں اس کی صِفات ہیں اسی طرح قَہَّاراور جَبَّار ہونا بھی رَبّ تعالیٰ کی صِفات ہیں۔ اور یہ بات بھی قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ کچھ نہ کچھ مسلمان جہنم میں بھی ضرور جائیں گے تو اب آپ ہی بتائیے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ مسلمان تو غضب ِ الٰہی کا شکار ہوں اور جہنم میں جائیں لیکن آپ پر رحمت ِ الٰہی کی چھما چھم برسات ہو اور آپ کو داخلِ جنت کیا جائے ؟ اِس سلسلے میں ہمارے اَکابرین کا طرزِ عمل ملاحظہ ہو :
اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا:’’اگر آواز دِی جائے کہ ایک شخص کے سوا سب جہنم میں چلے جائیں تو مجھے امید ہے کہ وہ (یعنی جہنم میں نہ جانے والا)شخص میں ہی ہوں گااور اگر اعلان کیا جائے کہ ایک آدمی کے علاوہ سب جنت میں داخل ہوجائیں تو مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ (یعنی جنت میں داخلے سے محروم رہ جانے والاشخص)میں ہی نہ ہوں۔‘‘ (حلیۃ الأولیائ، ۱/۸۹، حدیث:۱۴۲)
اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنامولائے کائنات،علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اپنے صاحبزادے سے فرمایا:’’اے بیٹے !اللہ عزَّوَجَلَّسے ایسا خوف رکھو کہ تمہیں گمان ہونے لگے کہ اگر تم تمام اہلِ زمین کی نیکیاں اس کی بارگاہ میں پیش کرو تو وہ اُنہیں قُبول نہ کرے اوراللہ عزَّوَجَلَّسے ایسی اُمید رکھو کہ تم سمجھو کہ اگر سب اہلِ زمین کی برائیاں لے کر اس کی بارگاہ میں جاؤگے تو بھی تمہیں بخش دے گا ۔‘‘ (احیاء العلوم ، ۴/۲۰۲)
دیانت داری سے سوچئے کہ رحمت ِ الٰہی پر اِس قدر یقین کا اظہار کہیں سامنے والے کو خاموش کروانے کے لئے تو نہیں ہے ؟ اگر آپ کا یقین اتنا ہی کامل ہے تو کیا آپ اپنا تمام مال ودولت ،گھر بار غریبوں میں تقسیم کرنے کے بعد اس بات کے منتظر ہونے کو تیار ہوں گے کہاللہ عزَّوَجَلَّاپنی رحمت کے صَدقے آپ کو زمین میں مدفون خزانے کا پتا بتادے گا ۔۔یا ۔۔ ڈاکوؤں کی آمد کی اطلاع ہونے پر آپ اپنے گھر میں موجود تمام روپیہ اور زیورات یہ سوچ کر صحن میں ڈھیر کردینے کی ہم ت کریں گے کہاللہ عزَّوَجَلَّاپنے فَضل سے ڈاکوؤں کو اِس کی طرف سے غافل کردے گا یا اُنہیں اندھا کردے گا اور اِس طرح آپ لُٹ جانے سے محفوظ رہیں گے ؟ اگر اِن سوالوں کا جواب نفی میں ہوتو اب آپ کا یقینِ کامل کہاں رخصت ہوگیا ؟ خدارا! نفس وشیطان کے دھوکے سے اپنی جان چھڑائیے کہ گناہ کر کے توبہ کئے بغیر مغفرت کا اُمیدوار بننے والے کو حدیث ِ نبوی میں اَحمق قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ،سرورِ عالم ،نورِ مجسمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’ سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنا مُحَاسَبَہ کرے اور آخرت کی بہتری کے لئے نیکیاں کرے اور احمق وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اوراللہ عزَّوَجَلَّسے اِنعامِ آخرت کی امید رکھے ۔‘‘ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ، ۴/۴۹۶، حدیث:۴۲۶۰)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:’’ تم میں سے کوئی شخصاللہ عزَّوَجَلَّکے حِلم وبُردباری سے دھوکا میں نہ پڑ جائے، جنَّت ودوزخ تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہیں ، پھر آپ نے یہ آیات کریمہ تلاوت فرمائیں :فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)(پ۳۰،الزلزلۃ:۷،۸)ترجمۂ کنز الایمان: تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر بُرائی کرے اسے دیکھے گا ۔
(الکامل لابن عدی، میسرہ بن عبد ربہ تستری، ۸/۱۸۰، حدیث:۱۹۰۸)(5) توبہ پر اِستِقامت نہ ملنے کا خوفبعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں کہ بعد ِ توبہ گناہوں سے بچ پائیں گے یا نہیں ؟ اس لئے توبہ کرنے کا کیا فائدہ؟اس کا حل:
یہ سَراسَرشیطانی وسوسہ ہے کیونکہ آپ کو کیا معلوم کہ توبہ کرنے کے بعد آپ زندہ رہیں گے یا نہیں ؟ ہوسکتا ہے کہ توبہ کرتے ہی موت آجائے اور گناہ کرنے کا موقع ہی نہ ملے ۔ وقت ِ توبہ آیندَہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا پُختہ ارادہ ہونا ضروری ہے ، گناہوں سے بچنے پر اِستِقامَت دینے والی ذات تواللہ رَبُّ الْعٰلَمِیْنکی ہے ۔اگر ارتکاب ِ گناہ سے محفوظ رہنانصیب نہ بھی ہوا تب بھی کم از کم گُزَشتہ گناہوں سے جان تو چھوٹ جائے گی اور سابقہ گناہوں کا معاف ہوجانا معمولی بات نہیں۔اگر بعد ِ توبہ گناہ ہو بھی جائے تو دوبارہ پُرخلوص توبہ کرلینی چاہیے۔ ہوسکتا ہے یہی آخری توبہ ہو اور اسی پر دنیا سے جانا نصیب ہو۔حضرتِ سَیِّدُنا ابوسعید خدریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :شیطان نےاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی: ’’اے میرے رَبّ! مجھے تیری عِزَّت وجَلال کی قسم!جب تک بندوں کے جسموں میں روح باقی ہے،میں اُنہیں بہکاتا رہوں گا۔‘‘اللہ عزَّوَجَلَّنے جواباًارشاد فرمایا:’’ مجھے اپنی عزت وجلال اور بُلندمقام کی قسم!میں ہمیشہ اُس وقت تک اُن کی مغفرت کرتا رہوں گا،جب تک کہ وہ مجھ سے مغفرت مانگتے رہیں گے۔‘‘ (مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری، ۴/۵۸، حدیث:۱۱۲۳۷) اس انداز میں غور و فکر کرنے سے مذکورہ رُکاوَٹ دور ہو گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ(6)کثرت ِگناہ کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوجانابعض لوگ بدقسمتی سے طویل عرصے تک بڑے بڑے گناہوں مثلاً چوری، قتل، ڈاکے،دہشت گردی وغیرہ میں مُبْتَلارہتے ہیں۔ شیطان ان کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے گناہوں کے بعد تجھے معافی نہیں ملے گی یا اب تیری بخشش ہونا مشکل ہے ۔ علمِ دین سے محروم یہ افراد مایوسی کا شکار ہوکر گناہوں پر مزید دلیر ہوجاتے ہیں اور توبہ سے محروم رہتے ہیں۔اس کا حل:
ایسوں سے عرض ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے،اللہ عزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایا:لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-(پ۲۴، الزمر:۵۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ۔
رحمت ِ خُداوَندی کس طرح اپنے اُمیدوارکو آغوش میں لیتی ہے ،اِس کا اندازہ درج ذیل تین روایات سے لگائیے :
(1)مکی مدنی سرکار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’حق تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے ، جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر شَفقَت کرتی ہے ۔‘‘ (مسلم ، کتاب التوبۃ، باب سعۃ رحمۃ اللہ …الخ، ص۱۴۷۲، حدیث:۲۷۵۴)
(2) رحمتِ عالَم ،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اللہ عزَّوَجَلَّکی سو رحمتیں ہیں ،ننانوے رحمتیں ،اس نے قیامت کے لئے رکھی ہیں اور دنیا میں فقط ایک رحمت ظاہر فرمائی ہے۔ساری مخلوق کے دل اسی ایک رحمت کے باعث رحیم ہیں۔ماں کی شَفقت و مَحَبَّت اپنے بچے پر اور جانوروں کی اپنے بچے پر مامتا، اِسی رحمت کے باعث ہے۔قیامت کے دن ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ اس ایک رحمت کو جمع کر کے مخلوق پر تقسیم کیا جائے گا،اور ہر رحمت زمین و آسمان کے طبقات کے برابر ہوگی۔
(مسلم ، کتاب التوبۃ، باب سعۃ رحمۃ اللہ …الخ، ص۱۴۷۱-۱۴۷۲، حدیث:۲۷۵۲-۲۷۵۳)
(3)حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ دو شخصوں کو جہنم سے باہر لایا جائے گا۔اللہ عزَّوَجَلَّارشادفرمائے گا:’’ جو عذاب تم نے دیکھا وہ تمھارے ہی عملوں کے سبَب سے تھا ، میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ‘‘ پھر ان کو دوبارہ جہنم میں ڈالے جانے کا حکم دیا جائے گا۔ان میں سے ایک شخص جلدی جلدی دَوزَخ کی طرف جائے گا اور کہتا جائے گاکہ ’’میں گناہوں کے بوجھ سے اتنا ڈر گیا ہوں کہ اب اِس حکم کو پورا کرنے میں کوتاہی نہیں کر سکتا۔‘‘ اور دوسرا کہے گا کہ’’یاالٰہی عزَّوَجَلَّ! میں نیک گُمان رکھتا تھا اور مجھے اُمید تھی کہ ایک مرتبہ دوزخ سے نکالنے کے بعد ، دوبارہ دوزخ میں ڈالنا ، تیری رحمت گوارانہ کرے گی۔ ‘‘ تباللہ عزَّوَجَلَّکی رَحمت جوش میں آئے گی اور اُن دونوں کو جنت میں جانے کا حکم دے دیا جائے گا۔ (ترمذی، کتاب صفۃ الجہنم، ۴/۲۶۹، حدیث:۲۶۰۸، بتغیر قلیل)
انسان سے چاہے کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوجائیں لیکن جب وہ نادِم ہوکر توبہ کے لئے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو جائے تو اُس کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رحمت ِ عالمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کرو تب بھیاللہ عزَّوَجَلَّتمہاری توبہ قُبول فرمالے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبہ، ۴/۴۹۰، حدیث:۴۲۴۸)(7) بُری صُحبَتبعض لوگوں کا اُٹھنا بیٹھنا ایسوں کے ساتھ ہوتا ہے جو خود بھی خَسارے میں ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کو بھی خسارے میں مُبْتَلا کردیتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خودگناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے دوستوں میں سے کسی کو توبہ کی طرف مائل ہونے دیتے ہیں۔ بلکہ اگر کوئی اُن کی ’’محفل‘‘سے غیرحاضری کرکے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے لئے چلا جائے اور دوسرے دن اُنہیں نیکی کی دعوت پیش کرے تو اس کا خوب مذاق اُڑاتے ہیں۔اس کا حل:
ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ، مکی مدنی سلطان،رحمتِ عَالَمِیانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِسی طرف اِشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اچھے اور برے مُصَاحِب کی مثال ، مُشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، مشک اٹھانے والے سے یا تو تُو مشک خریدے گا یا تجھے اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تیرے کپڑے جلائے گا یا تجھے اس سے ناگوار بُو آئے گی۔‘‘ (مسلم، کتاب البر، باب استحباب مجالسۃ الصالحین ومجانبۃ قرناء السوء ، ص۱۴۱۴، حدیث:۲۶۲۸)
اس لئے ہمت کر کے پہلی فُرصت میں بُری صحبت سے اِجْتِنَاب(بچا) کریں کہ اگرہم ایسے افراد کی صحبت اِختیار کئے رہیں گے جو ارتکاب ِ گناہ میں کسی قسم کی شرم محسوس نہ کریں اور ان کا مَطْمَحِ نظر(مقْصَدِ اصلی)صرف دنیا ہو تو سچّی توبہ کا نصیب ہونا محض ایک خواب ہے ۔ لہذا نیک صحبت اِختیار کریں کہ جب ہمیں ایسے اسلامی بھائیوں کی صحبت مُیَسَّر آئے گی جو اپنے ہرفعل میںاللہ عزَّوَجَلَّکی گِرِفْت کا خیال رکھنے والے ہوں اور عذاب ِجہنم کے خوف کی وجہ سے ارتکابِ گناہ سے بچتے ہوں تو ہمارے اَندر بھی اِن عُمدَہ اَوصاف کا ظُہور ہونا شروع ہوجائے گا ۔ پھر ہم بھی جَلوَت وخَلوَت میں اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرنے والے بن جائیں گے اور یہ خوف ِ خدا ہمیں سابِقہ زندگی میں کئے ہوئے گناہوں پر توبہ کرنے کی طرف مائل کرے گا ۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ(8) اپنے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہونابعض لوگ اِس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ ہم بہت پہلے توبہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں،لہذا اب ہمیں توبہ کی حاجت نہیں۔اس کا حل:
ایسوں کو چاہیے کہ توبہ کی شرائط پر غور کریں اور اپنا مُحَاسَبَہ کریں کہ کیا واقعی ہم سچّی توبہ کرچکے ہیں اور کیا بعد ِ توبہ ہم سے کوئی گناہ سرزَد نہیں ہوا ۔ اُمید ہے کہ اس مُحَاسَبے کے بعد اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے توبہ کی سعادت حاصل ہوگی ۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ(9)کسی فتنے کا شکار ہونابعض لوگ توبہ پر آمادہ ہونے اور بظاہر کوئی رُکاوَٹ نہ ہونے کے باوجود توبہ سے محروم رہتے ہیں۔ اس کی بڑی اور خُفیہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی عورت کے فتنے میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں ،لہٰذا! انہیں اِس بات کا خوف ہوتا ہے کہ توبہ کرنے اور مدنی ماحول اپنانے کے بعد انہیں اپنی من پسند شے سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔ چنانچہ، وہ توبہ کی خواہش کے باوجود توبہ نہیں کر پاتے ۔اس کا حل:
اس قسم کی آزمائش میں مبتلا لوگوں کو چاہیے کہ وہ وقتی لذّت کی بجائے اُس کے نقصانات مثلاً مال، وقت اورصحت کی بربادی ، خاندان کی بدنامی ، نیکیوں سے محرومی اوراللہ عزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ناراضی وغیرہ پر نگاہ کریں اور ایسے اعمال اِختیار کریں جس سے دنیا میں بھی عافیت نصیب ہو اور آخرت میں بھی کامیابی ملے۔اِس آفت سے چھٹکارے کے لئے اپنے ضمیر سے یہ سوال کریں کہ جو جذبات میں کسی کی بہن یا بیٹی کے بارے میں رکھتا ہوں ،اگر کوئی دوسرا میری بہن یا بیٹی کے بارے میں بھی ایسے خیالات رکھتا ہو تو کیا مجھے یہ گوارہ ہوگا ؟ اس ضمن میں درجِ ذیل حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں :
ایک نوجوان رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوااور عرض کرنے لگا :’’یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے زنا کی اجازت دیجئے۔‘‘یہ سنتے ہی صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانجلال میں آ گئے اور اسے مارنا چاہا۔رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ’’ اسے نہ مارو۔‘‘پھر اسے اپنے پاس بلا کر بٹھایا اور نہایت نرمی اور شَفقَت کے ساتھ سوال کیا: ’’اے نوجوان!کیا تجھے پسند ہے کہ کوئی تیری ماں سے ایسا فعل کرے؟‘‘اس نے عرض کی: ’’میں اس کو کیسے روا رکھ سکتا ہوں ؟‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’تو پھر دوسرے لوگ تیرے بارے میں اسے کیسے روا رکھ سکتے ہیں ؟‘‘پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:’’تیری بیٹی سے اگر اس طرح کیا جائے تو تو اسے پسند کرے گا؟‘‘عرض کی:’’ نہیں۔‘‘فرمایا:’’اگر تیری بہن سے کوئی ایسی ناشائستہ حرکت کرے تو ؟اور اگر تیری خالہ سے کرے تو؟‘‘اسی طرح آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک ایک رشتے کے بارے میں سوال فرمایا اور وہ یہی کہتا رہا کہ مجھے پسند نہیں اور لوگ بھی رضا مند نہیں۔تب رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کراللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی: ’’یا الٰہیعزَّوَجَلَّ!اِس کے دل کو پاک کر دے ، اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما اور اس کا گناہ بخش دے۔‘‘اس کے بعد وہ نوجوان تمام عمر زِنا سے بے زار رہا۔(مسند امام احمد، حدیث ابی امامہ الباھی، ۸/۲۸۵، حدیث:۲۲۲۷۴)
اُمید ہے کہ اِس تَفْہِیم کے بعد مذکورہ افراد توبہ کرنے میں دیر نہیں کریں گے ۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ(10) دنیاوی ترقی سے محروم ہونے کا خوفبعض لوگ اس لئے توبہ کی سعادت حاصل نہیں کرپاتے کہ انہیں مُتَوَقِّع طور پر حاصل ہونے والی دنیاوی ترقی سے محرومی کا خوف لاحِق ہوتا ہے ۔اس کا حل:
سرکارِ دوعالم،نُوْرِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’دُنیا کی مَحَبَّت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔‘‘ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب ذم الدنیا، ۵/۲۲، حدیث:۹)
لِہٰذا ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو تَرْجِیْح دینا اُنہیں سِوائے ہلاکت کے کچھ نہ دے گا ۔ کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے: ’’جو شخص اپنی دنیا سے مَحَبَّت کرتا ہے تو وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت سے مَحَبَّت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے تو (اے مسلمانو!) فنا ہونے والی چیز (یعنی دنیا) کو چھوڑ کر باقی رہنے والی چیز (یعنی آخرت) کو اِختیار کرو۔ ‘‘(مسند امام احمد، حدیث ابی موسی الاشعری، ۷/۱۶۵، حدیث:۱۹۷۱۷)
نیز آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کیا حیثیت ہے ؟ اس سلسلے میں فرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ ہو : ’’ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! دنیاآخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ انگلی کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔‘‘(مسلم، کتاب الجنۃ، باب فناء الدنیا وبیان الحشر ، ص۱۵۲۹، حدیث:۲۸۵۸)اللہ عزَّوَجَلَّہمیں سچّی توبہ کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(11)اہلِ خانہ اور دوستوں کی تنقیدبعض حضرات توبہ کرکے اپنا طرزِ زندگی بدلنا چاہتے ہیں لیکن جونہی وہ کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں ان کے گھر والے آڑے آجاتے ہیں اور انہیں اس طرح سمجھاتے نظر آتے ہیں کہ’’ دیکھو ابھی تو تم جوان ہو ، بڑھاپے میں داڑھی رکھ لینا ،ابھی تو تمہاری شادی بھی کرنی ہے اگر تم کسی دینی ماحول سے وابستہ ہوگئے تو کوئی تمہیں اپنی لڑکی نہیں دے گا۔‘‘وغیرہ وغیرہاس کا حل:
اس سلسلے میں ذرا سی ہمت کی ضرورت ہے ، اگر ارادہ پختہ ہو اور نگاہ رحمت ِ الٰہی پر ہو تو مشکل مراحِل بھی بآسانی طے ہوجایا کرتے ہیں۔ لہذا گھر والوں کی تنقید سے ہرگز مت گھبرائیں اور نہ ہی اُن کے ڈرانے پر خوف زدہ ہوں بلکہ اُن سے اُلجھے بغیر گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اس ضمن میں شیخ ِ طریقت امیرِ اہل سنّت بانیِ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَہکے عطا کردہ ’’گھر میں مدنی ماحول بنانے کے مدنی پھولوں ‘‘پر عمل کرنا بے حد مفید ثابت ہوگا ۔’’ یارَبِّ کریم!ہمیں مُتَّقِی بنا‘‘کے اُنّیس حروف کی نسبت سے گھر میں ’’مدنی ماحول‘‘ بنا نے کے19 مد نی پھول(1)گھر میں آتے جاتے بلند آواز سے سلام کیجئے۔
(2) والِدہ یا والِدصاحِب کو آتے دیکھ کرتعظیماً کھڑے ہو جایئے ۔
(3) دن میں کم از کم ایک بار اسلامی بھائی والِدصاحِب کے اور اسلامی بہنیں ماں کے ہاتھ اور پاؤں چوما کریں۔
(4)والِدَین کے سامنے آواز دھیمی رکھئے،ان سے آنکھیں ہرگز نہ ملائیے، نیچی نگاہیں رکھ کر ہی بات چیت کیجئے۔
(5)ان کا سونپا ہوا ہر وہ کام جو خلاف شرع نہ ہو فوراً کر ڈالیں۔
(6)سنجیدگی اپنایئے۔ گھر میں تُو تُکار، اَبے تَبے اور مذاق مسخری کرنے، بات بات پر غصّے ہو جانے ، کھانے میں عیب نکالنے ، چھوٹے بھائی بہنوں کو جھاڑنے ، مارنے،گھرکے بڑوں سے اُلجھنے ، بحثیں کرتے رہنے کی اگر آپ کی عادَتیں ہوں تو اپنا رَوَیّہ یکسر تبدیل کر دیجئے ،ہر ایک سے مُعافی تَلافی کر لیجئے ۔
(7) گھر میں اور باہر ہر جگہ آپ سنجیدہ ہو جائیں گے تواِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّگھر کے اندر بھی ضَرور اِس کی بَرَکتیں ظاہِر ہوں گی۔
(8) ماں بلکہ بچّوں کی امّی ہو تو اُسے نیز گھر (اور باہَر)کے ایک دن کے بچّے کو بھی’’ آپ ‘‘کہہ کر ہی مخاطِب ہوں۔
(9)اپنے مَحَلّے کی مسجِدمیں عشا کی جماعَت کے وَقت سے لے کر دوگھنٹے کے اندر اندر سو جایئے ۔ کاش !تہجُّد میں آنکھ کُھل جائے ورنہ کم از کم نَماز ِفجر تو بآسانی (مسجِد کی پہلی صَف میں باجماعت )مُیَسَّر آئے اور پھر کا م کاج میں بھی سُستی نہ ہو ۔
(10) گھرکے افراد میں اگر نَمازوں کی سُستی ،بے پردَگی ،فلموں ڈِراموں اور گانے باجوں کا سلسلہ ہو اور آپ اگر سرپرست نہیں ہیں ،نیز ظنِّ غالب ہے کہ آپ کی نہیں سُنی جا ئے گی تو بار بار ٹَوکاٹَوک کے بجائے،سب کو نَرمی کے ساتھمکتبۃُ المدینہ سے جاری شُدہ سنّتوں بھر ے بیانا ت کی آڈیو/وِڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز سنایئے دکھائیے، مَدَنی چینل دکھایئے۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ’’مَدَنی نتا ئج‘‘ برآمد ہوں گے۔
(11)گھر میں کتنی ہی ڈانٹ بلکہ ما ر بھی پڑے ،صَبرصَبراور صَبر کیجئے۔اگر آپ زَبان چلائیں گے تو ’’مَدَنی ماحول ‘‘ بننے کی کوئی اُمّید نہیں بلکہ مزید بِگاڑ پیدا ہو سکتا ہے کہ بے جا سختی کرنے سے بسا اوقات شیطان لوگو ں کوضِدّی بنا دیتا ہے۔
(12) مَدَنی ماحول بنانے کا ایک بہترین ذَرِیعہ یہ بھی ہے کہ گھر میں روزانہ فیضا نِ سنَّت کا دَرس ضَرورضَرورضَرور دیجئے یا سنئے۔
(13) اپنے گھر والوں کی دنیا و آخِرت کی بہتری کے لئے دل سوزی کے ساتھ دعا بھی کر تے رہئے کہ فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے :اَلدُّعا سِلَاحُ المُؤْ مِنِ ع نیدُعا مومِن کا ہتھیار ہے۔ (مستدرک حاکم، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل والتسبیح ، باب الدعاء سلاح المؤمن و عماد الدین ۲/۱۶۲، حدیث:۱۸۵۵)
(14)سُسرال میں رہنے والیاں جہاں گھر کا ذِکر ہے وہاں سُسرال اور جہاں والِدَین کاذِکر ہے وہاں ساس اورسُسَر کے ساتھ وُہی حُسنِ سُلو ک بجا لائیں جبکہ کوئی مانِعِ شَرعی نہ ہو۔ ہاں یہ احتیاط ضروری ہے کہ بہو سسر کے ہاتھ پاؤں نہ چومے ،یونہی داماد ساس کے۔
(15) مسائلُ القُراٰن صَفحَہ290پر ہے :ہر نَماز کے بعد یہ دُعا اوّل وآخِر دُرود شریف کے ساتھ ایک بار پڑھ لیجئے،اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّبال بچے سنّتوں کے پابند بنیں گے اور گھر میں مَدَنی ماحول قائم ہو گا ۔(دعا یہ ہے:)
(اللَّھُمَّ)رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴)(پ۱۹،الفرقان:۷۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ہمارے ربّ ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔
نوٹ:۔ (’’اللھُمَّ ‘‘ آیتِ قراٰنی کا حصّہ نہیں )
(16)نافرمان بچّہ یا بڑا جب سویا ہوتو 11یا21دن تک اُس کے سِرہانے کھڑے ہو کر اول و آخر ایک بار درود شریف پڑھ کر یہ آیاتِ مبارکہ صرف ایک بار اتنی آواز سے پڑھئے کہ اُس کی آنکھ نہ کُھلے: (مدّت۱۱تا۲۱دن)بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ(۲۱) فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠(۲۲)(پ:۳۰، البروج:۲۱،۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بلکہ وہ کمالِ شرف والا قرآن ہے لوح محفوظ میں۔
یاد رہے! بڑا نافرمان ہو تو سوتے سوتے سرہانے وظیفہ پڑھنے میں اس کے جاگنے کا اندیشہ ہے خصوصاً جب کہ اس کی نیند گہری نہ ہو ،یہ پتا چلنا مشکل ہے کہ صرف آنکھیں بندہیں یا سور ہا ہے، لہٰذا جہاں فتنے کا خوف ہو وہاں یہ عمل نہ کیا جائے خاص کر بیوی اپنے شوہر پر یہ عمل نہ کرے۔
(17) نیز نافرمان اولاد کو فرماں بردار بنانے کے لیے تاحُصُولِ مُرادنَمازِ فَجرکے بعد آسمان کی طرف رُخ کر کے ’’یَاشَھِیْدُ‘‘ 21بار پڑھئے(اوّل وآخِر، ایک بار درود شریف)۔
(18) مَدَنی اِنعامات کے مطابِق عمل کی عادت بنایئے اورگھر کے جن افراد کے اندرنَرم گوشہ پائیں اُن میں اور آپ اگر باپ ہیں تو اَولاد میں نرمی اور حکمتِ عملی کے ساتھ مَدَنی اِنعامات کا نِفاذ کیجئے،اللہ عزَّوَجَلَّکی رَحمت سے گھر میں مَدَنی انقِلاب برپا ہو جائیگا۔
(19) پابندی سے ہر ماہ کم از کم تین دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کر کے گھر والوں کیلئے بھی دعا کیجئے ۔ مَدَنی قافِلے میں سفر کی بَرَکت سے بھی گھروں میں مَدَنی ماحول بننے کی ’’مَدَنی بہاریں ‘‘ سننے کو ملتی ہیں۔(12) بے وقوفانہ شرم وجِھجککچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی توبہ کی راہ میں مذکورہ رُکاوَٹوں میں سے کوئی رُکاوَٹ نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی یہ سوچ کر توبہ سے محروم رہتے ہیں کہ توبہ کرنے کے بعد جب میرا اندازِ زندگی تبدیل ہوگا مثلاً پہلے میں نمازیں قضا کردیا کرتا تھا مگر بعد ِ توبہ پانچ وقت مسجد کا رُخ کرتے دکھائی دوں گا ، پہلے میں شَیوڈ تھا بعد ِ توبہ میرے چہرے پر سُنَّت مصطفیٰ یعنی داڑھی شریف سجی ہوئی نظر آئے گی ، پہلے میں خلاف ِ سُنَّت لباس پہنتا تھا مگر بعد ِ توبہ میرے بدن پر سُنَّت کے مطابق لباس دکھائی دے گا،عَلٰی ھٰذَالْقِیَاس ،… تو لوگ مجھے عجیب نگاہوں سے دیکھیں گے اور مجھے شرم محسوس ہوگی ۔اس کاحل:
ایسے شرمیلوں کی خدمت میں مدنی التجا ہے کہ یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے ۔ ذرا سوچئے تو سہی کہ آج ان لوگوں کی پروا کرتے ہوئے اگر آپ نیکی کے راستے پر چلنے سے کَتراتے رہے اور سنّتوں سے منہ موڑتے رہے لیکن کل جب قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اپنا نامۂ اعمال پڑھ کر سنانا پڑے گااور اگر اس میں گناہ ہی گناہ ہوئے تو کس قدر شَرم آئے گی۔ لہٰذا آخرت میں شرمندہ ہونے سے بچنے کے لئے دنیاکی عارضی شَرم وجھجک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوراً توبہ کی سعادت حاصل کرلینی چاہیے۔اللہ عزَّوَجَلَّہمارا حامی وناصر ہو اور ہمیں جلد از جلد توبہ کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدَ نی گُلد ستہ’’رحمت‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول
(1)اللہ عزَّوَجَلَّاپنے بندوں پر بہت زیادہ مہربان ہے، اس کی رَحمت بہت بڑی ہے وہ مرتے دم تک اپنے بندوں کو توبہ کا موقع عطا فرماتا ہے ۔ انسان کو اپنے کریم پروَردگارعزَّوَجَلَّکی رَحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
(2)شیطان ہر طرح کے ہَتھکَنڈے اِستِعمال کرکے بندوں کو توبہ سے روکنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔
(3) عالَمِ نزع میں کافر کی کفر سے توبہ مقبول نہیں ،بلکہ کفر سے توبہ عالَمِ نزع سے پہلے ضروری ہے۔
(4) اگر بار بار اپنا اِحْتِساب کیا جائے،توبہ کے فضائل اور گناہوں کے عذابات کو مدِّنظر رکھا جائے تو توبہ واِستِغفارکی راہ میں رکاوٹ بننے والے اُمور کو دُور کیا جاسکتا ہے۔اللہ عزَّوَجَلَّکتنا مہربان اوررحیم ہے کہ بندہ ساری زندگی گناہوں میں گزار دیتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے بندے کو آخری وقت تک مہلت دیتا ہے کہ اب بھی وقت ہے توبہ کرلے میں تجھے بخش دونگا۔پیارے اسلامی بھائیو!موت کا کچھ پتہ نہیں کس وقت کس لمحے آجائے،اچھا خاصا چلتا پھرتا انسان دیکھتے ہی دیکھتے اچانک موت کا شکار ہو کر اندھیری قبر میں پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح ایک دن ہمیں بھی مرنا پڑے گا اپنی کرنی کا پھل بھُگتنا پڑے گا،عقل مند وہی ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرلے۔لہٰذا ہمیں اپنے گناہوں سے فوراََ توبہ کرکے تقویٰ وپرہیز گاری کی راہ اپنالینی چاہیے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّتبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوت اسلامی ‘‘آج کے اس پُرفِتَن دورمیں ہمیں ایسا سنتوں بھرا مدنی ماحول فراہم کرتی ہے کہ جہاں توبہ کا ذہن بنتا ہے، اپنی سابقہ گناہوں بھری زندگی پر نَدامت ہوتی ہے اور آیندہ نیک بننے کا جذبہ ملتاہے اس ماحول میں آکر ناجانے کتنے گناہ گار نیک و پرہیز گار بن گئے ہیں۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں بھی سچّی توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے تا دم آخر وابستہ رکھے!
اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوت اسلامی تیری دھوم مچی ہواٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمذلت و رسوائی کا سامناامام محمدبن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِینقل کرتے ہیں : ’’ حاسد شخص مجلس میں ذلت اور مذمت پاتا ہے ، ملائکہ سے لعنت اور بُغض پاتا ہے، مخلوق سے غم اور پریشانیاں اٹھاتا ہے، نزع کے وقت سختی اور مصیبت سے دوچار ہوتا ہے اور قیامت کے دن حشر کے میدان میں بھی رُسوائی ، توہین اور مصیبت پائے گا۔ ‘‘(احیاء العلوم، ۳/۲۳۳)
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 18