Main Icon

باب : توبہ و استغفار کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 20

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:کَانَ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ نَفْسًا، فَسَاَلَ عَنْ اَعْلَمِ اَہْلِ الْاَرْضِ، فَدُلَّ عَلٰی رَاہِبٍ، فَاَتَاہُ فَقَالَ: اِنَّہُ قَتَلَ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ نَفْسًا، فَہَلْ لَہُ مِنْ تَوْبَۃٍ ؟ فَقَالَ:لَا، فَقَتَلَہُ فَکَمَّلَ بِہٖ مِائَۃً، ثُمَّ سَاَلَ عَنْ اَعْلَمِ اَہْلِ الْاَرْضِ، فَدُلَّ عَلٰی رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ: اِنَّہُ قَتَلَ مِائَۃَ نَفْسٍ فَہَلْ لَہُ مِنْ تَوْبَۃٍ؟فَقَالَ:نَعَمْ،وَمَنْ یَّحُوْلُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ التَّوْبَۃِ ؟ اِنْطَلِقْ اِلٰی اَرْضِ کَذَا وَکَذَا، فَاِنَّ بِہَا اُنَاسًا یَعْبُدُوْنَ اللہَ تَعَالٰی فَاعْبُدِ اللہَ مَعَہم ، وَلَا تَرْجِعْ اِلٰی اَرْضِکَ فَاِنَّہَا اَرْضُ سُوْئٍ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی اِذَا نَصَفَ الطَّرِیْقَ اَتَاہُ الْمَوْتُ، فَاخْتَصَمَتْ فِیْہِ مَـلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ ومَـلَائِکَۃُ الْعَذَابِ۔ فَقَالَتْ مَـلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ: جَائَ تَائِبًا، مُقْبِـلًا بِقَلْبِہٖ اِلَی اللہِ تَعَالٰی، وَقَالَتْ مَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ: اِنَّہُ لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ، فَاَتَاہم مَلَکٌ فِیْ صُوْرَۃِ اٰدَمِیٍّ فَجَعَلُوْہُ بَیْنَہم ، اَیْ حَکَمًا، فَقَالَ: قِیْسُوْا مَا بَیْنَ الْاَرْضَیْنِ فَاِلٰی اَیَّتِہم ا کَانَ اَدْنٰی فَہُوَ لَہٗ. فَقَاسُوْا فَوَجَدُوْہُ اَدْنٰی اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ اَرَادَ، فَقَبَضَتْہُ مَلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ ( مُتَّفَقٌ عَلَیْہ ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحِ: فَکَانَ اِلَی الْقَرْیَۃِ الصَّالِحَۃِ اَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَجُعِلَ مِنْ اَہْلِہَا۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحِ:فَاَوْحَی اللہُ تَعَالٰی اِلٰی ہٰذِہٖ اَنْ تَبَاعَدِیْ، واِلٰی ہذِہٖ اَنْ تَقَرَّبِیْ، وَقَالَ: قِیْسُوْا مَا بَیْنَہم ا، فَوَجَدُوْہُ اِلٰی ہٰذِہٖ اَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَہٗ:وَفِیْ رِوَایَۃٍ :فَنَائَ بِصَدْرِہٖ نَحْوَہَا۔ ( ملتقطا بخاری، کتاب احادیث الانبیائ، باب حدیث الغار، ۲ / ۴۶۶ ، حدیث: ۳۴۷۰ /مسلم، کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل … الخ، ص ۱۴۷۹ ، حدیث: ۲۷۶۶)

عن ابی سعید سعد بن مالک بن سنان الخدری رضی اللہ عنہ ان نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:کان فیمن کان قبلکم رجل قتل تسعۃ و تسعین نفسا، فسال عن اعلم اہل الارض، فدل علی راہب، فاتاہ فقال: انہ قتل تسعۃ و تسعین نفسا، فہل لہ من توبۃ ؟ فقال:لا، فقتلہ فکمل بہ مائۃ، ثم سال عن اعلم اہل الارض، فدل علی رجل عالم فقال: انہ قتل مائۃ نفس فہل لہ من توبۃ؟فقال:نعم،ومن یحول بینہ وبین التوبۃ ؟ انطلق الی ارض کذا وکذا، فان بہا اناسا یعبدون اللہ تعالی فاعبد اللہ معہم ، ولا ترجع الی ارضک فانہا ارض سوئ، فانطلق حتی اذا نصف الطریق اتاہ الموت، فاختصمت فیہ مـلائکۃ الرحمۃ ومـلائکۃ العذاب۔ فقالت مـلائکۃ الرحمۃ: جائ تائبا، مقبـلا بقلبہ الی اللہ تعالی، وقالت ملائکۃ العذاب: انہ لم یعمل خیرا قط، فاتاہم ملک فی صورۃ ادمی فجعلوہ بینہم ، ای حکما، فقال: قیسوا ما بین الارضین فالی ایتہم ا کان ادنی فہو لہ. فقاسوا فوجدوہ ادنی الی الارض التی اراد، فقبضتہ ملائکۃ الرحمۃ ( متفق علیہ ) وفی روایۃ فی الصحیح: فکان الی القریۃ الصالحۃ اقرب بشبر فجعل من اہلہا۔ وفی روایۃ فی الصحیح:فاوحی اللہ تعالی الی ہذہ ان تباعدی، والی ہذہ ان تقربی، وقال: قیسوا ما بینہم ا، فوجدوہ الی ہذہ اقرب بشبر فغفر لہ:وفی روایۃ :فنائ بصدرہ نحوہا۔ ( ملتقطا بخاری، کتاب احادیث الانبیائ، باب حدیث الغار، ۲ / ۴۶۶ ، حدیث: ۳۴۷۰ /مسلم، کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل … الخ، ص ۱۴۷۹ ، حدیث: ۲۷۶۶)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوسعید خُدرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’تم سے پہلے زمانہ میں ایک شخص نے ننانو ے (99)قتل کئے پھر اس نے روئے زمین کے سب سے بڑے عالِم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک راہب (عابد) کے متعلق بتایا گیا۔ یہ اس کے پاس پہنچا اور کہا: میں نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا میری توبہ قُبول ہوگی؟اس نے کہا:’’نہیں۔‘ ‘قاتل نے اسے بھی قتل کرکے سو(100)کی تعداد پوری کر دی۔پھر روئے زمین کے سب سے بڑے عالِم کے متعلق پوچھا ، تو اسے ایک عالِم کا پتہ بتایا گیا، یہ اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں نے سو(100) قتل کئے ہیں کیا میری توبہ قُبول ہو سکتی ہے؟عالِم نے کہا:ہاں ! تمہارے اور توبہ کے درمیان کون رُکاوٹ بن سکتا ہے !جاؤ،فلاں ،فلاں جگہ چلے جاؤ وہاں کچھ لوگاللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت کر رہے ہیں ،تم اُن کے ساتھاللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت کرواور اپنے علاقے کی طرف نہ جاناکیونکہ وہ بُری جگہ ہے ۔ چنانچہ، وہ قاتل،عالم کے بتائے ہوئے علاقے کی جانب روانہ ہو گیا۔جب وہ آدھے راستہ پر پہنچا تو اسے موت نے آلیا، اور اس کے متعلق رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اِختِلاف ہو گیا،رحمت کے فرشتوں نے کہا،یہ شخص توبہ کرتاہوا،دل سے اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوا آیا تھااورعذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کوئی نیک عمل نہیں کیا، پھر ان کے پاس ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا، اُنہوں نے اس کواپنے درمیان فیصلہ کرنے والا بنالیا،تو اس نے کہا :’’ دونو ں زمینوں کی پیمائش کرو،یہ شخص (یعنی قاتل) جس زمین کے زیادہ قریب ہو اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا ،جب فرشتوں نے پیمائش کی تووہ اس زمین کے زیادہ قریب تھا جہاں اس نے جانے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ، رَحمت کے فرشتوں نے اُسے لے لیا ۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ وہ شخص ایک بالِشت نیک لوگوں کی بستی کے قریب تھا۔ تو اُسے انہیں میں کردیا گیا ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّنے اُس زمین کی طرف وحی فرمائی کہ دور ہو جا! اور اِس زمین سے فرمایا کہ قریب ہو جا! پھر اس فرشتے نے کہا : دونوں زمینوں کی پیمائش کرو !( جب پیمائش کی گئی) تو وہ نیک لوگوں کی بستی کے ایک بالِشت قریب پایا گیا تو اُسے بخش دیا گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ اُس نے اپنا سینہ نیک لوگوں کی بستی کی طرف کردیا تھا۔

شرح حدیث

قاتل کی توبہ بھی قبول ہےعلامہ بَدْرُالدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَنِیعمدۃ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام کبیرہ گناہوں سے توبہ کرنا مشروع ہے حتی کہ کسی کو قتل کردیا تو اس سے بھی توبہ کرنا ضروری ہے ، قاضی نے فرمایا کہ اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ جس طرح توبہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے اسی طرح قتل کو بھی مٹا دیتی ہے اور جو بعض روایات توبہ نہ قبول ہونے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس لئے ہیں تاکہ لوگ قتلِ ناحق پرجرأت نہ کریں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ(پ۵، النساء: ۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اسکے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر کے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔
پس شرک کے علاوہ بقیہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ اور
وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ(پ۵، النساء:۹۳)
ترجمۂ کنز الایمان :اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس کی سزا تو یہی ہے کہ اسے جہنم میں ڈالا جائے لیکن کبھی اسے معاف کردیا جاتا ہے اور جو مسلمان کے قتلِ ناحق کو حلال جانے اور اس کے پاس کوئی تاویل بھی نہ ہو تو پھر وہ کافر ہے اور ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اس حدیثِ پاک سے پتہ چلا کہ عالم عابد سے افضل ہے کیونکہ پہلے شخص (راہب) نے اسے یہ فتویٰ دیا کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوسکتی ، اس راہب پر عبادت غالب تھی اس لئے اس نے اتنے سارے لوگوں کے قتل پر جرأت کرنے کو ناقابلِ معافی گناہ گمان کیا، جب کہ دوسرے شخص (عالم) پر علم کا غَلَبہ تھا اس نے صحیح مسئلہ بتایا اور اسے نجات کا راستہ دکھایا ۔ (عمدۃ القاری، کتاب احادیث الانبیاء باب حدیث الغار، ۱۱/۲۲۵، تحت الحدیث:۳۴۷۰)
ربّ راضی تو سب راضیعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمرقاۃ شرحِ مِشْکٰوۃ میں فرماتے ہیں :اللہ عزَّوَجَلَّنے اس زمین کو حکم دیا جس کی طرف قاتل نے جانے کا ارادہ کیا تھا کہ اس کے قریب ہو جااور جس زمین سے اس نے ہجرت کی تھی اسے حکم دیا کہ اس سے دور ہو جا ، پھراللہ عزَّوَجَلَّنے فرشتوں کو حکم دیا کہ اب زمین کی پیمائش کرو اور یہ میت جن لوگوں کی زمین کے قریب ہو اِسے انہیں میں شمار کیا جائے گا، پس جب پیمائش کی گئی تو میت نیک لوگوں کی بستی سے ایک بالشت قریب تھی پس اس کی مغفرت کر دی گئی ، یہاللہ عزَّوَجَلَّکا فضل ہے ۔ اس حدیث پاک میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ،نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ توبہ کرنے والے کے لئےاللہ عزَّوَجَلَّکی رحمت بہت وسیع ہے ۔ علامہ طِیْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ’’ جب اللہعزَّوَجَلَّکسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس سے سب کو راضی کر دیتا ہے ، اس حدیث میں توبہ کی ترغیب اور نا امیدی سے ممانعت ہے ۔‘‘(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات باب الاستغفار، ۵/۱۶۰، تحت الحدیث۲۳۲۷)صالحین کی صحبت سے توبہ پختہ ہوتی ہےعلامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں :اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ توبہ کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ برائی پر ابھارنے والے دوستوں کے سُدھرنے تک ان سے قطع تعلق رکھے ،گناہوں کی جگہ کو چھوڑ دے اورعلما وصالحین اور دینی پیشواؤں کی صحبت بابرکت اختیار کرکے اپنی توبہ کو پختہ کرے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل وان کثر، ۹/ ۸۳، الجزء السابع عشر)ر حمت ِخداوندی نے دستگیری کیمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے اس حدیثِ پاک کی جو شرح بیان کی اس کا خلاصہ بیان کیا جاتا ہے:’’ اس شخص نے ظلماً ،ڈکیتی سے یا کسی اور طرح سے ناحق سو(100)قتل کئے ،جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو ر حمت ِخداوندی نے دستگیری کی،اپنے کئے پر پشیمان ہوا ، اپنے گناہوں والے علاقے سے نکل کر توبہ کی قُبولیت سے متعلق مسئلہ پوچھنے ایک راہب کے پاس گیا، راہب نے مسئلہ غلط بتاتے ہوئے کہہ دیا کہ تمہاری توبہ قُبول نہیں ہوسکتی،وہ راہب یا تو توبہ کے مسئلے سے جاہل تھا یا اس کا مطلب یہ تھا کہ قتل حقُّ العباد ہے، مَقتُول کے وُرَثاء سے اس میں معافی مانگنا ضروری ہے، اتنے سارے مَقتُولوں کے وارثوں کے پاس یہ کیسے پہنچے گا اور انہیں کیسے راضی کرے گا، لہٰذا اس کی توبہ قُبول نہیں ہوسکتی۔ راہب کا جواب سن کر بخشش سے مایوسی کی وجہ سے وہ گناہ پر دلیر ہوگیا،اور اس نے راہب کو بھی قتل کر دیا۔ مایُوس بلی کتے پر حملہ کردیتی ہے ،اِسی لئے اِسلام نے بڑے سے بڑے مجرم کوبھی بخشش سے مایوس نہ کیا ، پھانسی والے مجرم کو تمام قیدیوں سے الگ کال کوٹھڑی( قیدِ تنہائی) میں ر کھا جاتاہے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو کر دوچار اور کو قتل کردے ۔ بہر حال پھر وہ ایک عالم کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ تمہاری توبہ کیوں قُبول نہ ہوگی اللہ عزَّوَجَلَّ ہر تائب کی توبہ قُبول فرماتا ہے ۔ فلاں بستی میںاللہ عزَّوَجَلَّکے بہت سے نیک بندے رہتے ہیں تُو وہاں جا کراللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت میں مصروف ہو جا!چنانچہ، وہ اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی بستی کی طرف چل دیا۔راستے میں اس کی موت واقع ہوئی مرنے سے پہلے اس نے اپنا چہرہ اور سینہ اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی بستی کی طرف اور پیٹھ اُس گناہوں کی بستی کی طرف کر لی جہاں سے آرہا تھا۔اللہ عزَّوَجَلَّکو اُس کی یہ ادا پسند آگئی ۔ اس کی روح لینے رَحمت اور عذاب کے فرشتے بھی آگئے ، عذاب والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے، بڑے گناہ کرکے آیا تھا۔ رَحمت والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے توبہ کرنے جارہا تھا۔اللہ عزَّوَجَلَّنے ایک فرشتہ انسانی شکل میں بھیجا اس نے فیصلہ کیا کہ دونوں بستیوں کا فاصلہ پیمائش کر لو جس سے یہ قریب ہو گا اسی میں شمار ہوگا ۔اس کی موت اگرچہ دونوں بستیوں کے بالکل درمیان میں واقع ہوئی تھی، لیکن ربّ تعالیٰ نے ارادۂ توبہ کی وجہ سے اُس کا اتنا اِحترام فرمایا کہ اُس کی لاش کو اُس بستی کی طرف نہ سرکایا بلکہ دونوں بستیوں کو حرکت دی کہ اِس کو پیچھے ہٹایا اُس کو آگے بڑھایا۔چنانچہ اولیائے کرامرحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی بستی کا فاصلہ کم ہوگیا تھا اور اس کی روح کو رَحمت کے فرشتے لے گئے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۵۶۔۳۵۸)اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی بستیحضرتِ سَیِّدُناعبد اللہ بن عَمرو بن العاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ جس بستی کی طرف وہ جارہا تھا اس کا نام نَصْرَہ تھا اور جہاں سے چلا تھا س کا نام کُفَرَہ تھا۔(معجم کبیر، ۱۳/۲۴، حدیث۷۶) اِمام ابُواللَّیْث سَمَرقَنْدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے ’’تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن‘‘ میں بھی ان بستیوں کے نام ذکر کئے ہیں۔ ( تنبیہ الغافلین،باب ما یرجی منرحمۃ اللہ تعالی، ص۴۴، حدیث:۸۱)حدیث ِ مذکور سے متعلق سوال،جوابسوال :قتلِ ناحق میں وُرَثاء کے حقوق تَلَف ہوتے ہیں اور حُقوق العباد کی معافی کے لئے بندوں سے معافی ضروری ہے ،مذکورہ شخص مقتولین کے ورثاء سے اپنے حُقوق معاف کرائے بغیر ہی فوت ہوگیا تھا پھر اس کی بخشش کیسے ہوگئی ؟
جواب:جب اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے سے راضی ہوجائے تو اپنے حقوق بھی معاف فرما دیتا اور بندوں کے حُقوق حق والوں سے معاف کرادیتا ہے۔اِس موقعہ پر بھی ربّ تعالیٰ اُس سے راضی ہوگیااب مَقْتُولِیْن اوراُن کے وُرَثاء کو ربّ کریم اپنی بے شمار نعمتیں عطا فرماکر اُن سے اُن کے حقوق معاف کر والے گا۔(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۵۶۔۳۵۸)
اس ضِمن میں ایک رَحمت بھری روایت ملاحظہ فرمائیے:
اللہ
عزَّوَجَلَّصلح کروائے گاحضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :ایک رو ز سرکارِ دو عالَم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف فرماتھے۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تبَسُّم فرمایا توامیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی:یارسولَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پرمیرے ماں باپ قربان! آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کس لئے تَبَسُّم فرمایا:ارشاد ہوا:میرے دو اُمَّتیاللہ عزَّوَجَلَّکی بار گاہ میں دو زانوگر پڑیں گے ، ایک عرض کر ے گا :یا اللہعزَّوَجَلَّ!اِس سے میر اانصاف دِلا کہ اِس نے مجھ پر ظلم کیا تھا ۔اللہ عزَّوَجَلَّمُدَّعی(یعنی دعویٰ کرنے والے)سے فرمائے گا :اب یہ بے چا رہ(یعنی جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ)کیا کرے اِس کے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں۔ مظلوم(یعنی مُدَّعی)عرض کر ے گا:میرے گناہ اس کے ذِمّے ڈال د ے۔اتنا اِرشاد فرما کر سرورِ کائنات،شاہِ موجُوداتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرو دئیے اورفرمایا : وہ دن بَہُت عظیم دن ہوگا کیونکہ اُس وقت (یعنی بروز قیامت )ہر ایک اس بات کا ضَرورت مند ہوگا کہ اس کا بو جھ ہلکا ہو ۔اللہ عزَّوَجَلَّمظلوم (یعنی مُدَّعی)سے فرمائے گا دیکھ تیرے سامنے کیا ہے ؟ وہ عرض کرے گا:اے پروَردگارعزَّوَجَلَّ!میں اپنے سامنے سونے کے بڑے شہر اور بڑے بڑے مَحلَّات دیکھ رہا ہوں جوموتیوں سے آراستہ ہیں یہ شہر اور عُمدہ مَحلَّات کس پیغمبر یا صِدّیق یا شہید کے لئے ہیں ؟اللہ عزَّوَجَلَّفرمائے گا:یہ اُس کے لئے ہیں جواِن کی قیمت ادا کرے۔ بندہ عرض کرے گا:اِن کی قیمت کون ادا کرسکتا ہے؟اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا:تُو ادا کر سکتا ہے ۔ وہ عرض کرے گا :کس طر ح ؟اللہ عزَّوَجَلَّفرمائے گا:اِس طرح کہ تُواپنے بھائی کے حُقُوق مُعاف کردے۔ بندہ عرض کرے گا:یا اللہعَزَّوَجَل!َّ میں نے سب حُقُوق مُعاف کئے۔ اللہعزَّوَجَلَّفرمائے گا :اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑاور دو نوں اِکٹھّے جنَّت میں چلے جاؤ۔ پھر سرکار ِنامدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّسے ڈرو اور مخلوق میں صُلح کرواؤ کیونکہاللہ عزَّوَجَلَّبھی برو زِ قِیامت مسلمانوں میں صُلح کروائے گا۔ (مستدرک حاکم،کتاب الاھوال باب اذا لم یبق من الحسنات…۵/۷۹۵،حدیث:۸۷۵۸)
سوال:قراٰن کریم میں ہے:
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ(پ۱۶،مریم:۶۴)(ترجمۂ کنز الایمان: ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے ربّ کے حکم سے) معلوم ہوا کہ فرشتے تو خدا کے حکم سے آتے ہیں یہاں عذاب و رحمت کے فرشتے کیسے آئے ؟
جواب : فرشتوں کے لئے ربّ تعالیٰ کی طرف سے قانون مقرر کردیا گیا ہے، کہ کس میت کو عذاب کے فرشتے لیں اور کس کو رَحمت کے۔ وہ اِسی قانون کے تحت ہر میت تک پہنچ جاتے ہیں ،یہاں بھی ایسا ہی ہوا ۔کیونکہ وہ سو (100)قتل کرکے آیا تھا اس لئے عذاب کے فرشتے آئے۔ لیکن وہ تائب ہوگیا تھا اس لئے رَحمت کے فرشتے آئے۔دونوں قسم کے فرشتے مقررہ قانون کے مطابق ہی آئے تھے، لہٰذا یہ حدیث آیتِ مذکورہ کے خلاف نہیں۔( مراٰۃ المناجیح ، ۳ /۳۵۷)
اللہ عزَّوَجَلَّکی رَحمت بہت بڑی ہے ،وہ کریم پروَردگارعزَّوَجَلَّبڑے بڑے گناہوں کو لمحہ بھر میں معاف فرما دیتا ہے۔ جو اپنے گناہوں پر نادِم ہوکر سچّی توبہ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی توبہ قُبول نہ ہو۔ انسان کے گناہ چاہےکتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں لیکناللہ عزَّوَجَلَّکی رَحمت سے بڑے نہیں ، ایک ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کی طرح ہے تو اندازہ لگائیے کہ 100بندوں کے قتل کا گناہ کتنا سنگین ہوگا۔ لیکن جب ایسا قاتل بھی سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو رَحمت ِخداوَندی اُسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ اس کی رَحمت کا دریا ہردم موجزن ہے، دریائے رَحمتِ الٰہی کے ایک قطرے سے ہم جیسے گناہ گاروں کا کام بن جائے گا ۔اللہ عزَّوَجَلَّہم سب کوہر آن اپنی رَحمت میں رکھے !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرحمت دا دریا الٰہی ہر دم وگدا تیرا جے اک قطرہ بخشے مینوں کم بن جاوے میر ا’’رَحْمَت‘کے4حروف کی نسبت سے رَحمتِ الٰہی پر مشتمل 4 ایمان افروز واقعات(1)قصَّاب کی توبہحضرتِ سَیِّدُنابکر بن عبدُ اللہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : بنی اسرائیل کا ایک قصَّاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عا شِق ہوگیا۔ ایک دن لونڈی اپنے مالک کے کسی کام سے دوسرے گاؤں جارہی تھی ،قصَّاب نے اس کا پیچھاکیا اور جنگل میں ایک جگہ روک کر گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔یہ دیکھ کر سمجھدار وباحیا لونڈی نے کہا :اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ ،جتنی تُومجھ سے مَحَبَّت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری مَحَبَّت میں گر فتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقیعَزَّوَجَلّکا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے ۔اُس نیک سیرت اور خوفِ خدا رکھنے والی لونڈی کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیربن کر قصَّاب کے دل میں پَیوَست ہوگئے اور اُس نے کہا:جب تجھےاللہ عزَّوَجَلَّکا اتنا خوف ہے تو مَیں اپنے پاک پرور دگارعزَّوَجَلَّسے کیوں نہ ڈروں ، مَیں بھی تو اُسی مالک عزَّوَجَلَّ کا بندہ ہوں ، جا!تو بے خوف ہو کر چلی جا۔چنانچہ، وہ لونڈی چلی گئی۔ قصاب نے اپنے گناہوں سے سچّی تو بہ کی اور واپس پلٹ گیا۔ راستے میں اسے شدید پیاس محسو س ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کو ئی نام ونشان نہ تھا قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شِدَّت سے اس کا دَم نکل جاتا، اتنے میں اس زمانے کے نبیعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ایک قاصِد وہاں سے گزرا اس نے قصاب کو دیکھ کر کہا :تم کیوں پریشان ہو ؟اس نے کہا : مجھے سخت پیاس لگی ہے۔ قاصِدنے کہا: آؤ! ہماللہ عزَّوَجَلَّسے دعاکریں کہ وہ اپنی رَحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔ قصَّاب نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کرو ں ، آپ نیک بندے ہیں آپ ہی دعا فرمائیں۔ قاصِد نے کہا : مَیں دعا کر تا ہوں ، تم آمین کہنا، پھر قاصِد نے دعا شروع کی اور قصَّاب آمین کہتا رہا،یکایک بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور انکے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ جب وہ دونوں جد اہوئے تو بادل قصَّاب کے ساتھ ساتھ رہا،قاصِد نے قصَّاب سے کہا : تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں ،لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ بادل تمہارے سر پر سایہ فگن ہے ، بتاؤ! کس عظیم نیکی سے تم پر یہ خاص کرم ہوا ہے ؟ قصَّاب نے اپنا واقعہ بتایا تو قاصِد نے کہا :اللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جومقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ الثانیۃ بعد المائۃ،ص۱۲۲)اللہ عزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الٰہی
(2)فاحشہ کی توبہحضرتِ سَیِّدُناحَسَن بَصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :ایک فاحِشہ عورت کے بارے میں مشہور تھاکہ اسے دنیا کا تہائی حُسن دیا گیاہے۔اُس کی بدکاری بھی اِنتہا کو پہنچ چکی تھی، جب تک سو (100) دینار نہ لے لیتی اپنے قریب کسی کو نہ آنے دیتی ۔لوگ اُس کے حُسن کی وجہ سے اِتنی بھاری رقم ادا کرکے بھی اس کے پاس جاتے۔ایک مرتبہ ایک عا بد کی اچانک اس پر نظر پڑی تووہ بھی اس کے فتنے میں مبتلا ہوگیا۔چنانچہ، دن رات مزدوری کر کے 100 دینار جمع کئے اور اس فاحشہ کے پاس پہنچ کر کہا : میں پہلی ہی نظر میں تیرا دیوانہ ہوگیا تھا،تیرا قُرب پانے کے لئے میں نے مزدوری کی اور اب100دینار لے کر تیرے پاس آیا ہوں۔ وہ سونے کے تخت پر بیٹھی ہوئی تھی اس نے کہا :میرے قریب آؤ اور اپنی دیرینہ خواہش پوری کر لو ،مَیں حاضر ہو ں۔ عا بد اس کے قریب تخت پر جا بیٹھا۔ جب دونوں بد کاری کے لئے بالکل تیار ہوگئے تو عابِد کی عبادت کام آگئی ،اسےاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں حاضری کا دن یاد آگیا۔ اُس کی شَہوَت خَتم ہوگئی ، جسم پر کَپکَپی طاری ہوگئی،وہ اپنے اِس فعلِ بد کے اِرادے پر بہت شرمِندہ ہوا اور اس عورت سے کہا: میں اس گناہ سے با ز آیا،یہ سَو دینار بھی تم لے لو لیکن مجھے یہاں سے جانے دو۔
عورت نے حیران ہوکر پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟تم تو میرے لئے بہت بے چین تھے ؟عابِد نے کہا:اگر میں نے یہ گناہ کر لیا تو بروزِ قیامت اپنے ربّ کی ناراضی لے کر ا س کے سامنے کیسے حاضر ہوں گا؟ خوفِ الٰہی نے میرا دل تجھ سے اُچاٹ کر دیا ہے میں یہ گناہ کبھی نہیں کروں گا ،تم مجھے جانے دو۔
یہ سن کر عورت بہت حیران ہوئی اورکہا: اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو مَیں بھی پُختہ ارادہ کر تی ہو ں کہ تمہارے علاوہ کوئی اور میرا شوہر ہر گز نہیں بن سکتا، مَیں تم ہی سے شادی کروں گی۔ عابِدنے کہا : جب تک میں یہاں سے چلا نہ جاؤں اس وقت تک میں شادی کے لئے تیار نہیں۔ عورت نے کہا: ٹھیک ہے ابھی تم چلے جاؤ لیکن میں تمہارے پاس آؤں گی اور تم ہی سے شادی کرو ں گی ۔ چنانچہ، وہ عابِد سر پر کپڑا ڈالے منہ چھپائے بہت شرمندہ ہو کر اپنے شہر کی طرف روانہ ہوگیا۔عابد کی باتیں عورت کے دل پر اَثر کر چکی تھیں۔ چنانچہ، وہ اپنے تمام سابِقہ گناہوں سے توبہ کر کے عابد کے گھر پہنچی۔ عابد نے اسے دیکھتے ہی ایک زور دار ،درد بھری چیخ ماری اور اس کی روح عالَمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی۔ عورت کو اس کی موت کا بہت غم ہو ا۔پھر اس نے عابد کی مَحَبَّت میں اس کے ایک غریب ونادار بھائی سے شادی کر لی۔
اللہ عزَّوَجَلَّنے انہیں سات بیٹے عطا فرمائے جو سب کے سب ولی بنے ۔(عیون الحکایات، الحکایۃ الاربعون بعد المائۃ، ص۱۵۹)
بخش ہماری ساری خطائیں کھول دے ہم پر اپنی عطائیں
برسادے رحمت کی برکھا یاا اللہ ! میری جھولی بھردے
(3) ماں سے بھی زیادہ مہربان’’تفسیر نعیمی‘‘ میں ہے کہ ’’ دو بھائی تھے ، ایک پرہیز گار دوسرا بد کار۔ جب بدکار مرنے لگا تو پرہیز گار بھائی نے کہا ، دیکھا تجھے میں نے بَہُت سمجھا یا مگرتُو اپنے گناہوں سے باز نہ آیا، اب بول تیرا کیا حال ہوگا؟ اُس نے جواب دیا کہ اگر قِیامت کے روز میرا ربّعزَّوَجَلَّمیرا فیصلہ میری ماں کے سِپُرد کر دے تو بتاؤ کہ ماں مجھے کہاں بھیجے گی دوزخ میں یا جنّت میں ؟پرہیز گار بھائی نے کہا کہ ماں تو واقعِی جنّت میں ہی بھیجے گی۔گنہگار نے جواب دیا: ’’میراربّ عزَّوَجَلَّمیری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔‘‘ یہ کہا اور انتِقال ہوگیا ۔ بڑے بھائی نے خواب میں اُسے نہایت خوشحال دیکھ کر مغفِرت کی وجہ پوچھی ،تو اس نے کہا: مرتے وَقت کی اُسی بات نے میرے تمام گناہ بخشوادیئے ۔ (تفسیرِ نَعِیمی پ۱، ۱/ ۳۳، تحت اٰیت التسمیۃ)اللہ عزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
ہم گنہگاروں پہ تیری مِہربانی چاہئے
سب گناہ دھل جائے گے رحمت کا پانی چاہئے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ(4)جا ہم نے تجھے بخش دیاقِیامَت کے روزعَذاب کے فِرِشتے ایک بَندے کوپکڑلیں گے، حُکم ہو گا کہ اِس کے اَعضاء کودیکھ لواِس میں کوئی نیکی ہے یانہیں ؟چُنانچِہ، فِرِشتے تمام اَعضاء کودیکھ ڈالیں گے،کوئی نیکی نہیں ملے گی۔ پھرفِرِشتے اُس سے کہیں گے۔’’اب ذرا اَپنی زَبان باہَرنکالوکہ اُس میں دیکھ لیں کوئی نیکی ہے یانہیں ؟‘‘جب وہ زَبان نِکالے گاتواُس پرسَفَید خَط میںبِسْمِ اﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْملِکھاہواپائیں گے۔ اُسی وَقت حُکم ہو گا: ’’جا! ہم نے تجھے بَخش دیا۔‘‘(نُزھَۃُالْمجالس، فصل فی فضائل بسم اللہ الرحمن الرحیم، ۱/۳۸)
گنہگارو نہ گھبراؤ نہ گھبراؤ نہ گھبراؤ نظر رَحمت پہ رکّھو جنّتُ الفردوس میں جاؤ
اللہ عزَّوَجَلَّکے کرم کی بات ہے کہ جس کو چاہے بَخش دے۔ یقینا اُس شخص نے اِخلاص کے ساتھبِسْمِ اﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمپڑھی تھی جو کام آگئی کہ اِخلاص کے ساتھ کیا جانے والا بظاہر چھوٹا عمل بھی بَہُت بڑا دَرَجہ رکھتا ہے۔ چُنانچِہ اما مُ المُخْلِصِین،سیِّدُ المُرسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ قَبولیّت نشان ہے:اَخْلِصْ دِیْنَکَ یَکْفِکَ الْعَمَلُ الْقَلِیْلُ۔ ترجمہ:اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔(مستدرک حاکم، کتاب الرقاق، ۵/۴۳۵، حدیث:۷۹۱۴)
جو کریم پرورد گار
عزَّوَجَلَّاپنے بندوں پر اتنا کرم کرتا ہے اس کی نافرمانی بندوں کو ہر گز زَیب نہیں دیتی ۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ربِّ کریم کی ناراضی والے ہر کام سے بچیں اور اُسے راضی کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔وہ بہت کریم ہے اپنے بندوں کے چھوٹے چھوٹے اَعمال سے خوش ہو کر انہیں دائمی سعادتوں سے نواز دیتا ہے۔اللہ عزَّوَجَلَّکی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ اُس کی راہ میں سفر کرکے دینِ اسلام کے اَحکامات کو عام کرنا بھی ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّ اسی عظیم مقصد کے حصول کے لئے تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوت اسلا می‘‘ بھر پور کوشش کر رہی ہے ۔’’دعوت اسلا می‘‘ کے زیرِ اہتمام عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے پوری دنیا میں دینِ اسلام کا عظیم پیغام پھیلانے کے لئے کوشاں ہیں۔ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے ان مدَنی قافلوں میں سفر کر کے رضائے الٰہی کے حصول کے لئے کوشش فرمائیں۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں اپنی دائمی رضا سے مالامال فرمائے اور ہمیشہ اپنی ناراضی والے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدَنی گلدَستہ
’’ عَفْو وکَرَم‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے7 مدنی پھول
(1)پچھلی اُمتوں کے واقعات بیان کر کے مُتَّبِعِین کی اِصلاح کرنا ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سُنَّتِ مبارَکہ ہے۔
(2) رَ ہبانِیَت حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ
عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مُتَّبِعِیْن سے شروع ہوئی۔راہب وہ پادری، جَوگی کہلاتے تھے، جو خوفِ خدا میں تَارِکُ الدُّنْیا (دنیا سے بے رغبت) ہوجاتے تھے ، ایک گوشہ میں بیٹھ کرﷲﷲہی کرتے تھے ان میں سے اکثر عالِم بھی ہوتے تھے یہود و نصاریٰ کے ہاں ترکِ دنیا بہترین عبادت تھی۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳ /۳۵۶)
(3)دینی مسائل ہمیشہ علمائے کرام
رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامہی سے معلوم کرنے چاہئیں ، مسئلہ پوچھنے کے لئے عالِموں کے پاس جانا عبادت ہے نیز عالِم کے شہر کی تعظیم اور اس طرف منہ کرکے سونا یا مرنا بھی ربّ تعالیٰ کو پسند ہے ۔سنت یہ ہے کہ مومن کعبہ کو منہ اور سینہ کرکے سوئے، میت کو بھی کعبہ کے رُخ دَفن کیا جاتا ہے ، بعض عُشَّاق ،مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًایا بغداد شریف کی طرف منہ کرکے دعائیں مانگتے ہیں ، نمازِ غوثیہ میں بعدِ نماز گیارہ قدم ’’بغداد شریف‘‘ کی طرف منہ کرکے چلتے ہیں اور اُدھر ہی منہ کرکے دعا مانگتے ہیں ، اُن سب کی اصل مذکورہ حدیث ہے۔ دیکھو!اس شہر میںکَعْبَۂ مُعَظَّمَہ یا بَیْتُ الْمُقَدَّسنہ تھا۔ صرف نیک لوگوں کی بستی تھی جس کے ادب کی برکت سے مذکورہ شخص(یعنی 100 لوگوں کا قاتل ) بخشا گیا۔
(4)
اللہ عزَّوَجَلَّکی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی مزید گناہوں پر اُبھارتی ہے۔سچّی توبہ سے بڑے سے بڑے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہے۔
(5)اولیائے کرام
رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی زیارت و ملاقات کے لئے جانا نیکی وبھلائی کا باعث ہے اگر کسی وجہ سے زیارت و ملاقات نہ ہو سکے تب بھی اچھی نیت کی بَرَکت سے کثیر اَجرو ثواب ملتا ہے ۔
(6)توبہ کرنے والے کے لئے مُستَحَب ہے کہ وہ گناہ والی جگہ کو چھوڑ دے۔
(7)
اللہ عزَّوَجَلَّکے محبوب اور مُقَرَّب بندوں سے عَقِیدَت ومَحَبَّت باعثِ مغفرت ہے اور اُن کے قُرب میں توبہ بہت جلد قُبول ہوتی ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی سچّی مَحَبَّت عطا فرمائے، اپنے گناہوں پر نَدامت وسچّی توبہ کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں ہر وقت اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدخسارے کا سوداجس شخص کے پاس ایک نفیس شے ہو جسے بیچ کر وہ لاکھوں دینار وصول کرسکتا ہو پھر وہ ایک پیسے کے عوض فروخت کردے تو کیا یہ عظیم خسارہ نہیں کہلائے گا؟ اور یہ انتہائی درجہ کا نقصان نہیں؟ بِعَیْنِہٖ یہی حالت اس بندے کی ہے جو اپنے عمل سے خداتعالی کی رضا، اس کی بارگاہ میں اپنے عمل کی قبولیت ، مدح و ستائش اور ثواب کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف سے تعریف و توصیف اور ذلیل دنیا کا طلب گار ہو۔(جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ، ص۴۰۲)

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 20