- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- حدیث نمبر 19
حدیث مبارکہ
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ،قَال اَتَیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَسْاَلُہُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ، فَقالَ مَا جَائَ بِکَ یَا زِرُّ ؟ فقُلْتُ اِبْتِغَائَ الْعِلْمِ، فَقَالَ:اِنَّ الْمَلائِکَۃَ تَضَعُ اَجْنِحَتَہَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضیً بِمَا یَطْلُبُ فَقُلْتُ:اِنَّہُ قَدْ حَکَّ فِی صَدْرِیْ اَلْمَسْحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ،وکُنْتَ اِمْرَئً ا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ فَجِئْتُ اَسْاَلُکَ: ہَلْ سَمِعْتَہُ یَذْکُرُ فِی ذٰلِکَ شَیْئاً ؟ قَالَ: نَعَمْ، کَانَ یَاْمُرُنَا اِذَا کُنَّا سَفْرًا اَوْ مُسَافِرِیْنَ اَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَۃَ اَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلاَّ مِنْ جَنَابَۃٍ، لٰکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ۔ فَقُلْتُ: ہَلْ سَمِعْتَہُ یَذْکُرُ فِی الْہَوَی شَیْئاً ؟ قَالَ: نَعَمْ، کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فِیْ سَفَرٍ، فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَہُ اِذْ نَادَاہُ اَعْرَابِیٌّ بِصَوْتٍ لَہٗ جَہْوَرِیٍّ یَا مُحَمَّدُ! فَاَجَابَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نَحْوًا مِنْ صَوْتِہٖ: ’’ ہَاؤُمُ ‘‘ فَقُلْتُ لَہُ: وَیْحَکَ اُغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ فَاِنَّکَ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم، وَقَدْ نُہِیْتَ عَنْ ہَذَا! فَقَالَ: وَاللہِ لَا اَغْضُضُ، قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: اَلْمَرْئُ یُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا یَلْحَقْ بِہم ؟ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ’’ اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘‘ فَمَا زَالَ یُحَدِّثُنَا حَتّٰی ذَکَرَ بَاباً مِنَ الْمَغْرِبِ مَسِیْرَۃُ عَرْضِہٖ اَوْ یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ عَرْضِہٖ اَرْبَعِیْنَ اَوْ سَبْعِیْنَ عَاماً۔قَالَ سُفْیانُ اَحَدُ الرُّوَاۃِ: قِبَلَ الشَّامِ خَلَقَہُ اللہُ تَعَالٰی یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ مَفْتُوْحاً لِلتَّوْبَۃِ لَا یُغْلَقُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْہُ۔رواہ الترمذی وغَیرُہ۔ ( ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ … الخ، ۵ /۳۱۶ ، حدیث:۳۵۴۶)
عن زر بن حبیش،قال اتیت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ اسالہ عن المسح علی الخفین، فقال ما جائ بک یا زر ؟ فقلت ابتغائ العلم، فقال:ان الملائکۃ تضع اجنحتہا لطالب العلم رضی بما یطلب فقلت:انہ قد حک فی صدری المسح علی الخفین بعد الغائط والبول،وکنت امرئ ا من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فجئت اسالک: ہل سمعتہ یذکر فی ذلک شیئا ؟ قال: نعم، کان یامرنا اذا کنا سفرا او مسافرین ان لا ننزع خفافنا ثلاثۃ ایام ولیالیہن الا من جنابۃ، لکن من غائط وبول ونوم۔ فقلت: ہل سمعتہ یذکر فی الہوی شیئا ؟ قال: نعم، کنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی سفر، فبینا نحن عندہ اذ ناداہ اعرابی بصوت لہ جہوری یا محمد! فاجابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نحوا من صوتہ: ’’ ہاؤم ‘‘ فقلت لہ: ویحک اغضض من صوتک فانک عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وقد نہیت عن ہذا! فقال: واللہ لا اغضض، قال الاعرابی: المرئ یحب القوم ولما یلحق بہم ؟ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ’’ المرئ مع من احب یوم القیامۃ ‘‘ فما زال یحدثنا حتی ذکر بابا من المغرب مسیرۃ عرضہ او یسیر الراکب فی عرضہ اربعین او سبعین عاما۔قال سفیان احد الرواۃ: قبل الشام خلقہ اللہ تعالی یوم خلق السموات والارض مفتوحا للتوبۃ لا یغلق حتی تطلع الشمس منہ۔رواہ الترمذی وغیرہ۔ ( ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ … الخ، ۵ /۳۱۶ ، حدیث:۳۵۴۶)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا زِرّ بِنْ حُبَیْشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سَیِّدُناصَفوَان بِن عَسَّالرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے پاس موزو ں پر مَسح کا حکم پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا :اے زِر کیسے آنا ہوا؟ میں نے عرض کی :علم کی تلاش میں ، فرمایا ،فرشتے طالبِ علم کے مقصد پر رِضا مندی کی وجہ سے اُس کے لئے اپنے پَر بچھاتے ہیں۔میں نے عرض کی، پاخانہ اورپیشاب کرنے کے بعد موزوں پر مَسح کرنے کے بارے میں میرے دل میں شُبہ پڑگیا ہے، آپ صحابیِ رسول ہیں ،اِس لئے میں آپ سے معلوم کرنے آیا ہوں کہ کیا آپ نے حضورِپاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کے مُتَعَلِّق کچھ سنا ہے؟ فرمایا:’’ہا ں !نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں فرمایا کرتے تھے کہ’’جب ہم حالتِ سفر میں ہوں تو جَنابَت کے علاوہ تین دن رات تک پیشاب،پاخانے یا نیند کی وجہ سے موزے نہ اتاریں۔‘‘میں نے پوچھا: کیا آپ نے مَحَبَّت کے بارے میں بھی نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کچھ سنا ہے؟ فرمایا:ہاں !ہم ایک سفر میں حضور ِاکرم، نورِ مُجِسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم راہ تھے ،ایک اَعرابی نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوبلند آواز سے پکارا،یَامُحَمَّد( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! تورسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اتنی ہی بلند آواز سے جواب دیا کہ ’’میں یہاں ہوں ‘‘میں نے اُس اَعرابی سے کہا:تجھ پر افسوس ہے!اپنی آواز پَست کر، کیونکہ تو نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ہے اور تجھے اِس (بُلند آواز)سے منع کیا جاچکاہے۔اُس نے کہا: خدا کی قسم!میں اپنی آواز پَست نہیں کروں گا۔پھراس اَعرابی نے نبیِّ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک آدَمی کسی قوم سے مَحَبَّت کرتا ہے اور ابھی تک وہ اس سے ملا نہیں ؟اَعرابی کی یہ بات سن کر حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ قِیامت کے دن ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا۔‘‘ حضرتِ زِرّ بِنْ حُبَیْشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُناصفوانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُہم سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مغرب کی جانب ایک دروازے کا ذکر فرمایاجس کی چوڑائی 40یا 70سال کی مَسافَت ہے یا فرمایا: اِس کی چوڑائی میں گُھڑ سوار چالیس یا ستر سال کی راہ چلتا رہے۔حضرتِ سَیِّدُناسفیانَرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ وہ دروازہ ملک شام کی طرف ہے اسےاللہ عزَّوَجَلَّنے اُس دن پیداکیاجس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ سورج کے مغرب کی طرف طلوع ہونے تک توبہ کے لئے کھلا ہواہے۔
شرح حدیث
انبیاء کے وارثعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاریمیں فرماتے ہیں علمائے کرامرَحِمَہم اللہ السَّلَامانبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَامکے وارث ہیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ جو علم حاصل کرنے کے لئے چلااللہ عزَّوَجَلَّاس کے لئے جنت کے راستے آسان فرما دیتاہے اور ملائکہ طالبِ علم کے لئے اپنے پَر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان میں موجود ہر شئے اس کے لئے اِسْتِغْفَار کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر میں مچھلیاں۔ ایک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ۔ نیز علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامانبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَامکے وارث ہیں اور انبیاءعَلَیْھِمُ السَّلَامدِرہم و دینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ علم کا وارث بناتے ہیں۔(عمدۃ القاری، کتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل، ۲/۵۵، تحت الباب)
اِس حدیثِ پاک میں علم کی فضیلت ، موزوں پر مَسح کے مسائل ، مسلمانوں کی آپس میں مَحَبَّت اور توبہ کی قُبولیت کے مُتَعَلِّق بیان ہوا،علم حاصل کرنے کی بہت فضیلت ہے علمِ دین ایک اچھا ہم نشین، باعثِ برَکت اور ایک لازوال دولت ہے۔ چنانچہ،’’عِلم ‘‘کے 3حروف کی نسبت سے فضیلت ِعلم سے مُتَعَلِّق 3روایات ملاحظہ فرمائیے :(1)علم و عُلما کی شانحضرتِ سَیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’علم حاصل کرو کیونکہاللہ عزَّوَجَلَّکی رِضاکے لیے علم سیکھنا خَشِیَّت، اسے تلاش کرناعبادت ، اس کی تکرارکرناتسبیح اوراس کی جستجو کرنا جہاد ہے اور لاعلم کو علم سکھانا صَدَقہ ہے اور اسے اَہل پہ خرچ کرنا قُربت یعنی نیکی ہے کیونکہ علم حلال و حرام کی پہچان کا ذریعہ ہے اور اہلِ جنت کے راستے کا نشان ہے اور وَحشت میں باعثِ تَسکین ہے اور سفر میں ہم نشین ہے اور تنہائی کا ساتھی ہے اور تنگدستی وخوشحالی میں راہنما ہے، دشمنوں کے مقابلے میں ہتھیار ہے اور دوستوں کے نزدیک زِینت ہے ،اللہ عزَّوَجَلَّاس کے ذریعے سے قوموں کوبُلندی وبَرتَری عطا فرماکربھلائی کے مُعاملہ میں قائد اور اِمام بنادیتاہے پھر اُن کے نشانات اور اَفعال کی پَیرَوِی کی جاتی ہے اور اُن کی رائے کو حرفِ آخِر سمجھا جاتاہے اور ملائکہ اُن کی دوستی میں رَغبت کرتے ہیں اوران کو اپنے پرَوں سے چھوتے ہیں اور اُن کے لئے ہر خشک و تر چیز اور سمندر کی مچھلیاں اور جاندار اور خشکی کے دَرِندے اور چوپائے اِستِغفَار کرتے ہیں کیونکہ علم جہالت کے مقابلہ میں دلوں کی زندگی ہے اور تاریکیوں کے مقابلہ میں آنکھوں کا نور ہے، علم کے ذریعے بندہ اَخیار یعنی اولیا کی مَنازِل کو پالیتا ہے اور دنیا و آخرت میں بلند مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے اور علم میں غور وفکرکرنا روزوں کے برابر ہے اور اسے سیکھنا سکھانانماز کے برابر ہے ،اسی کے ذریعہ صِلہ رحمی کی جاتی ہے اور اسی سے حلال وحرام کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور یہ عمل کا اِمام ہے اور عمل اِس کے تابع ہے اور خوش بختوں کو علم کا اِلہام کیا جاتا ہے جبکہ بد بختوں کو اس سے محروم کردیاجاتا ہے ۔‘‘ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر، باب جامع فی فضل العلم، ص۷۷، حدیث:۲۴۰)(2)علما کی سیاہی اورشہدا کا خونحضرتِ سَیِّدُناابو الدرداءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’قیامت کے دن عُلَمَا کی سیاہی اور شُہدا کے خون کو تولا جائے گا۔ ‘‘ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر، باب جامع فی فضل العلم، ص۴۸، حدیث:۱۳۹) ایک روایت میں ہے کہ ’’ علما کی سیاہی شہدا کے خون پر غالب آجائے گی۔ ‘‘ (تاریخ بغداد، محمد بن الحسن، ۲/۱۹۰، حدیث:۶۱۸)
(3)عابِد وعالِمحضرتِ سَیِّدُنا ابواُمَامَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ قیامت کے دن عالِم اور عبادت گزار کواٹھایا جائے گا تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ جبکہ عالِم سے کہا جائے گا کہ جب تک لوگوں کی شفاعت نہ کرلو ٹھہرے رہو۔‘‘
(شعب الایمان، باب فی طلب العلم، ۲/۲۶۸، حدیث:۱۷۱۷)
مذکورہ روایات سے علم کی فضیلت واہم یت کااندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں اپنی رِضا کی خاطر علمِ دین حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمموزوں پر مَسح کے مسائلحدیثِ مذکور میں موزوں پر مَسح کے مُتَعَلِّق بیان ہوا۔ چنانچہ، اس سے مُتَعَلِّق چند ضروری مسائل بیان کئے جاتے ہیں :
مسئلہ (1)جو شخص موزہ پہنے ہوئے ہو، وہ اگر وُضو میں بجائے پاؤں دھونے کے مَسح کرے جائز ہے اور بہتر پاؤں دھونا ہے بشرطیکہ مَسح جائز سمجھے، اس کے جواز میں بکثرت حدیثیں آئی ہیں جو قریب قریب تَواتُر کے ہیں ،اِسی لیے امام کَرْخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِیفرماتے ہیں :’’جو اِس کو جائز نہ جانے اس کے کافر ہو جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘اِمَام شَیْخُ الْاِسْلَام فرماتے ہیں :’’جو اسے جائز نہ مانے گمراہ ہے۔ ‘‘ (بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۳، حصہ ۲)
مسئلہ(2) جس پر غُسل فرض ہے وہ مَوزوں پر مَسح نہیں کرسکتا ۔
مَسح کرنے کے لئے چند شرطیں ہیں :
(1) موزے ایسے ہوں کہ ٹخنے چُھپ جائیں اس سے زِیادہ ہونے کی ضرورت نہیں اورا گردوایک اُنگل کم ہو جب بھی مَسح دُرُست ہے، ایڑی نہ کھلی ہو۔
(2) پاؤں سے چِپٹا ہو، کہ اس کو پہن کر آسانی کے ساتھ خوب چل پھر سکیں۔
(3) چمڑے کا ہو یا صرف تَلا چمڑے کا اور باقی کسی اور دَبِیز (موٹی )چیز کا جیسے کِرْمِچ(ایک قسم کا ٹاٹ جو عموماً تِرپال بنانے کے کام آتا ہے) وغیرہ۔
(4) وُضو کرکے پہنا ہویعنی پہننے کے بعد اور حدث سے پہلے ایک ایسا وقت ہو کہ اس وقت میں وہ شخص با وُضو ہو خواہ پورا وُضو کرکے پہنے یا صرف پاؤں دھو کر پہنے بعد میں وُضو پورا کر لیا۔
(5) نہ حالت جنابت میں پہنا نہ بعد پہننے کے جُنب ہوا ہو۔
(6) مُدّت کے اندر ہو اور اس کی مدت مقیم کے لیے ایک دن رات ہے اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں۔
(7) کوئی موزہ پاؤں کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر پھٹا نہ ہو یعنی چلنے میں تین اُنگل بَدَن ظاہر نہ ہوتا ہو اور اگر تین اُنگل پھٹا ہو اور بَدَن تین اُنگل سے کم دکھائی دیتا ہے تو مَسح جائز ہے اور اگر دونوں تین تین اُنگل سے کم پھٹے ہوں اور مجموعہ تین اُنگل یا زِیادہ ہے تو بھی مَسح ہو سکتا ہے۔ سِلائی کُھل جائے جب بھی یہی حکم ہے کہ ہر ایک میں تین اُنگل سے کم ہے تو جائز، ورنہ نہیں۔ (بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۳۔۳۶۵، حصہ ۲)
مسئلہ(3) :سوتی یا اُونی موزے پر مَسح جائز نہیں ان کو اتار کر پاؤں دھونا فرض ہے۔ (بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۴، حصہ ۲)مَسح میں ’’2‘‘ فرض ہیں :(1)ہر موزہ کا مَسح ہاتھ کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر ہونا ۔(2) (مَسح) موزے کی پِیٹھ پر ہونا ۔مَسح کا طریقہسیدھے ہاتھ کی تین انگلیاں ،سیدھے پاؤں کی پُشت کے سِرے پر اور اُلٹے ہاتھ کی اُنگلیاں اُلٹے پاؤں کی پُشت کے سِرے پر رکھ کر پنڈلی کی طرف کم سے کم بقدر تین اُنگل کے کھینچ لی جائیں اور سنّت یہ ہے کہ پنڈلی تک پہنچائے۔
مسئلہ(4):انگلیوں کا تر ہونا ضروری ہے ،ہاتھ دھونے کے بعد جو تَری (گیلا پن) باقی رہ گئی اس سے مَسح جائز ہے اور سر کا مَسح کیا اور ہُنوز(ابھی تک) ہاتھ میں تَری موجود ہے تو یہ کافی نہیں بلکہ پھر نئے پانی سے ہاتھ تر کرلے، کچھ حصہ ہتھیلی کا بھی شامل ہو تو حَرَج نہیں۔(بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۶، حصہ ۲)مَسح ٹوٹنے سے متعلق چند مسائل(1)جن چیزوں سے وُضو ٹوٹتا ہے اُن سے مَسح بھی جاتا رہتا ہے۔
(2)مُدَّت پوری ہوجانے سے مَسح ٹوٹ جاتا ہے اوراس صورت میں صرف پاؤں دھولینا کافی ہے پھر سے پورا وُضو کرنے کی حاجت نہیں اور بہتریہ ہے کہ پورا وُضو کرلے۔
(3) مَسح کی مدت پوری ہو گئی اور قوی اندیشہ ہے کہ موزے اتارنے میں سردی کے سبب پاؤں جاتے رہیں گے تو نہ اتارے اور ٹخنوں تک پورے موزے کا (نیچے اوپر اغل بغل اور ایڑیوں پر) مَسح کرے کہ کچھ رہ نہ جائے۔
(4) موزے اتار دینے سے مَسح ٹوٹ جاتا ہے اگرچہ ایک ہی اتارا ہو۔ یوہیں اگر ایک پاؤں آدھے سے زِیادہ موزے سے باہر ہو جائے تو جاتا رہا،موزہ اتارنے یا پاؤں کا اکثر حصہ باہر ہونے میں پاؤں کا وہ حصہ معتبر ہے جو گٹوں سے پنجوں تک ہے پنڈلی کا اعتبار نہیں ان دونوں صورتوں میں پاؤں کا دھونا فرض ہے۔
(5) موزہ ڈھیلا ہے کہ چلنے میں موزے سے اَیڑی نکل جاتی ہے تو مَسح نہ گیا۔ ہاں اگر اُتارنے کی نیت سے باہر کی تو ٹوٹ جائے گا۔
(6) موزے پہن کر پانی میں چلا کہ ایک پاؤں کا آدھے سے زِیادہ حصہ دُھل گیا یا اور کسی طرح سے موزے میں پانی چلا گیا اور آدھے سے زِیادہ پاؤں دُھل گیا تو مَسح جاتا رہا۔
(7) پائتا بوں (جُرّابوں ) پر اس طرح مَسح کیا کہ مَسح کی تری مَوزوں تک پہنچی تو پائتابوں کے اتارنے سے مَسح نہ جائے گا۔ (بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۷، حصہ ۲)
مَدَنی مشورہ : مزید معلومات اور علم میں اِضافے کے لئے بہارِ شریعت حصہ دوم کا مطالعہ فرمائیں۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ ڈھیروں معلومات کا خزانہ ہاتھ آئے گا۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّداپنے گناہ گار کو اپنے ہی دامن میں لوصحابۂ کرامعَلَیْہم الرِضْوَانبارگاہ ِ نَبُوَّت میں حاضری کے آداب سے بخوبی واقف تھے اسی لئے جب انہوں نے اُس اَعرابی کی بلند آواز سنی تواُسے اِس انداز میں گفتگو کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن شہر سے دور رہنے کی وجہ سے اسے بارگاہِ رِسالت کے زیادہ آداب معلوم نہ تھے، اِس لئے بُلند آواز سے کلام کیا۔ مگرقربان جائیں غریبوں کے آقا، مدینےوالے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شَفقَت ورَحمت پرکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بالکل بھی نہ جھڑکا بلکہ اُس کی دِلجوئی کے لئے اس جیسی ہی بلند آواز میں اسے جواب دیا۔ ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شَفقَت ومَحَبَّت کے تو کیا کہنے! آپ کو اپنی اُمّت سے بہت زیادہ پیار ہے ،وہ ہمارے گناہوں اور خطا ؤں کے باوجود ہمیں دُھتکارتے نہیں بلکہ اپنے رَحمت بھرے دَامن میں چُھپا لیتے ہیں۔
اپنے خطاواروں کواپنے ہی دامن میں لو کون کرے یہ بھلا تم پہ کروڑوں درود
ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی کوئی کمی سَروَرا تم پہ کروڑوں درود
اور
جو غم زَدوں کو گلے لگا لے بُروں کو دامن میں جو چھپا لے ہے دوسرا کون اس جہاں میں سوائے خَیْرُالاَنام ایسابار گاہِ رِسالت کے آداببارگاہِ رِسالت کے آداب بیان کرتے ہوئےاللہ عزَّوَجَلَّقراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ۲۶،الحجرات:۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
صدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِیاس آیتِ مبارکہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :’’ جب حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جناب میں کچھ عرض کر و تو آہستہ پَست آواز سے عرض کرو ، یہی دربارِ رسالت کا اَدَب و اِحترام ہے ،اس آیت میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاجلال و اِکرام و اَدب واِحترام تعلیم فرمایا گیا اور حکم دیا گیا کہ نِدا کرنے (پکارنے) میں اَدَب کا پورا لحاظ رکھیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پُکارتے ہیں اس طرح نہ پکاریں بلکہ کلماتِ اَدَب و تعظیم و توصیف وتکریم والقابِ عظمت کے ساتھ عرض کرو جو عرض کرنا ہو ،کہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے ۔
شانِ نزول :حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عبَّاسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے مروی ہے کہ یہ آیت ثَابِت بِن قَیْس بِن شَمَّاس کے حق میں نازل ہوئی انہیں ثِقلِ سماعت(اونچا سننے کا مرض) تھا اور آواز اُن کی اُونچی تھی ، بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے کہ میں اہلِ نار سے ہوں ، حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے اُن کا حال دریافت فرمایا، اُنھوں نے عرض کی: وہ میرے پڑوسی ہیں اور میرے علم میں انہیں کوئی بیماری تو نہیں ہوئی ، پھر آ کر حضرت ثابترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے اس کا ذکر کیا ، ثابت نے کہا:’’ یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں تو میں جہنّمی ہوگیا۔ ‘‘ حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے یہ حال خدمتِ اقدس میں عرض کیا: تو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ وہ اہلِ جنّت سے ہے۔‘‘(مسلم، کتاب الایمان، باب مخافۃ المؤمن ان یحبط عملہ، ص۷۳، حدیث:۱۱۹) (خزائن العرفان، پ۲۶، الحجرات :۲)
حدیثِ مذکور میں دیہاتی صحابی نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اونچی آواز میں کلام کیا حالانکہ قراٰن میںاللہ عزَّوَجَلَّ نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اونچی آواز سے بات کرنے سے منع فرمایا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ دیہات کے رہنے والے تھے اور آدابِ بارگاہِ نبوت سے ناآشنا تھے اس لئے انہوں نے اس طرح کلام کیا اور ایک توجیہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِینےمِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح میں یہ بیان فرمائی ہے کہ اونچی آواز سے مراد جان بوجھ کر اختیاری طور پر اونچی آواز سے بات کرنا ہے جو کہ بے ادبی کا موجب ہے ۔ (جب کہ یہاں ایسا معاملہ نہیں تھا) (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب المناقب والفضائل، باب جامع المناقب، ۱۰/۵۸۲، تحت الحدیث:۶۲۱۱)
امامِ اہلسنّت اپنے رسالہ ’’تَجَلِّی الْیَقِیْن بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن‘‘ میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ’’یا محمد‘‘ پکارنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :علما تصریح فرماتے ہیں حضور اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو نام لے کر نِدا کرنی حرام ہے، اور واقعی محلِ انصاف ہے جسے اس کا مالک و مولیٰ تبارک وتعالی نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا : اگر یہ لفظ کسی دعا میں وارد ہو جو خود نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے (یَا مُحَمَّدُ إِنِّیْ تَوَجَّہْتُ بِکَ إِلٰی رَبِّیْ) تاہم اس کی جگہ ’’یَارَسُوْلَ اللہ‘‘ ، ’’یَا نَبِیَّ اللہ‘‘ چاہیے ، حالانکہ الفاظِ دعا میں حتی الوَسع تَغْیِیْر(تبدیلی) نہیں کی جاتی ۔ (فتاوی رضویہ، ۳۰/ ۱۵۷)
جوبدبخت وملعون شخص نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو (مَعَاذَ اللہ) گالی دے ، بے اَدَبی کرے یا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تنْقِیْص(یعنی عزت میں کمی) کرے گا وہ کافر ہوجائے گا۔چنانچہ،گستاخ رسول کی سزاحضرت سیِّدُنا عَلَّامَہ قَاضِی عِیَاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکا اِجماع ہے کہ شا تِمِ نبی ( یعنی نبی کو گالی دینے والا)اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَنْقِیْص(یعنی عزت میں کمی)کرنے والا کافر ہے۔ اس پر عذابِ الٰہی کی وعید جاری ہے اور اُمّتِ مسلمہ کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے ۔وَمَنْ شَکَّ بِکُفْرِہٖ وَعَذَابِہٖ کَفَرَ۔یعنی جو اس کے کفر اور مستحقِ عذاب الٰہی ہونے میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ ‘‘(الشفا بتعریف حقوق المصطفی، ۲/۲۱۵-۲۱۶)
’’قِیامت کے دن ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا ‘‘ حدیثِ پاک میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جو شخص جس سے محبت کرے گا بروزِ قیامت اسی کے ساتھ ہوگا، جیسا کہ احادیث میں بھی اس بات کا ذکر ہے۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ’’یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک شخص کسی قوم کے ساتھ محبت کرتاہے مگر اُن جیسے اَعمال نہیں کرسکتا؟ ‘‘فرمایا:’’اے ابو ذررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ! تم اُسی کے ساتھ ہوگے جس سے تمہیں محبت ہے۔‘‘میں نے عرض کی :’’میںاللہ عزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں۔‘‘ارشاد فرمایا:’’اے ابو ذررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ! تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسکے ساتھ ہی رہوگے۔‘‘(ابو داؤد ، کتاب الادب، باب احباء الرجل، ۴/۴۲۹، حدیث:۵۱۲۶) اس حدیث سے یہ پتہ چلا کہ ہمیں اچھوں سے محبت اور انہیں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے اچھوں کی صحبت دنیا میں بھی فائدہ مند اور آخرت میں بھی سرخروئی کا باعث ہے جبکہ برے لوگوں اور بدمذہبوں کی صحبت صاحبِ ایمان کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ چنانچہ،بری صحبت سے بچو ،ایمان کی حفاظت کرومیرے آقا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت پروانۂ شمعِ رسالت مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناپنے فتاوی میں فرماتے ہیں : ’’ان (بد مذہبوں ) کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے ان سے میل جول حرام ہے اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔اللہ عزَّوَجَلَّنے فرمایا:وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)(پ۷، الانعام:۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان :اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو پھر یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔
وقال تعالٰی (اوراللہ عزَّوَجَلَّنے فرمایا)لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-(پ۲۸، المجادلۃ:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان :تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں۔
اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے اور اسے امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی قریب بحرام کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب اور مَعَاذَ اللہ بالآخر اس پر اندیشہ کفر ہے۔ امام جلال الدین سیوطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرح الصدور میں فرماتے ہیں : ایک شخص رافضیوں کے پاس بیٹھا کرتا تھا اس کے مرتے وقت لوگوں نے اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کی، اس نے کہا: نہیں کہا جاتا۔ پوچھا: کیوں ؟ کہا یہ دو شخص کھڑے ہیں یہ کہتے ہیں تو ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا جو ابوبکر و عمر (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما) کو برا کہتے تھے اب چاہتاہے کہ کلمہ پڑھ کر اٹھے، نہ پڑھنے دیں گے۔‘‘
جب صدیق اکبر وفاروق اعظم (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم) کو برا کہنے والوں کے پاس بیٹھنے والوں کی یہ حالت ہے تو یہ لوگ تواللہ جَلَّ وَعَلااور رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بر ا کہتے ہیں ان کی تنقیصِ شان کرتے ہیں انھیں طرح طرح کے عیب لگاتے ہیں اُن کے پاس بیٹھنے والے کو کلمہ نصیب ہونا اور بھی دشوار ہے ۔نَسْأَلُ اللہ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ(ہم اللہ عزَّوَجَلَّ سے معافی اور عافیت چاہتے ہیں۔ )(فتاوی رضویہ، ۲۱/ ۲۷۸)توبہ کا دروازہحدیث پاک میں ’’توبہ کے دروازے‘‘ کا بیان ہوا جو اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے یہاللہ عزَّوَجَلَّکا بہت بڑا کرم واِحسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو توبہ جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ۔وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے اس کے ہاں کرم ہی کرم ہے۔غور کیجئے جو خد ائے بزُرْگ وبَرترعزَّوَجَلَّدن رات ہم پر اپنے انعامات کی بارش بر ساتا ہے اور جس نے ہمارے لئے توبہ کا دروازہ قیامت تک کھول رکھا ہے اس کی نافرمانی کسی طرح بھی دُرُست نہیں۔اگر انسان شیطان کے بہکاوے میں کوئی گناہ کر بیٹھے تو اسے فوراً توبہ کر لینی چاہیے اگرچہ کتنی ہی بار گناہ ہو ہر بار اگر سچّی توبہ کرلی جائے تو ہمارا کریمپَر وَرد گار عزَّوَجَلَّہماری توبہ ضرور قُبول فرمائے گا۔
’’توبہ ‘‘سے متعلق بزرگانِ دینرَحِمَھُمُ اللہ الْمُبِیْنکے چند اقوال ملاحظہ فرمائیے :(1) باربار گناہ بار بار توبہفَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا(۲۵)(پ۱۵،بنی اسرائیل:۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:تَو بے شک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے
حضرتِ سَیِّدُنا سَعِید بِن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :یہ فرمانِ باری تعالیٰ اس شخص کے بارے میں ہے جوگناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے۔ (الزہد لابن المبارک، باب فضل ذکر اللہ ، ص۳۸۶ ، حدیث:۱۰۹۳۔۱۰۹۴)(2)توبہ کرنے والے گناہ گاروں کے لئے خوشخبریحضرتِ سَیِّدُنا فُضَیْلرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :’’اللہ عزَّوَجَلَّنے فرمایا ،گناہ گاروں کو ( اس بات کی ) خوشخبری دیجئے کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو اُن سے قُبول کی جائے گی اور صِدِّیقین کو اس بات سے ڈرائیے کہ اگر میں نے عدل سے کام لیا تو اُن کو عذاب دوں گا۔‘‘(احیاء العلوم، ۴/۱۸)(3)گناہوں پر نَدامت کی بَرَکتحضرتِ سَیِّدُناعَبْدُ اللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمفرماتے ہیں :’’ جو شخص اپنے گناہ کو یاد کرے اور اپنے دل کو اس گناہ سے پاک کر لے تو نامۂ اعمال سے بھی وہ گناہ مٹ جاتا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۴/۱۸)(4) شیطان افسوس کرے گابعض بزرگ فرماتے ہیں کہ’’ بندہ گناہ کرکے اُس پر مسلسل نادِم رہتا ہے حتی کہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے، شیطان کہتا ہے افسوس ! کاش میں اسے گناہ میں مبتلا نہ کرتا۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴/۱۸)(5)میں اِسی سے ڈرتا تھاحضرتِ سَیِّدُنا عُروہ بن عامررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :’’ قیامت کے دن آدمی کے گناہ اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے ایک گناہ سامنے آئیگا تو وہ کہے گا ’’میں اِسی سے ڈرتا تھا ‘‘ پس اسی بات پر اسے بخش دیا جائے گا ۔‘‘(الزہد لابن المبارک، باب فضل ذکر اللہ ، ص۴۷۹، حدیث:۱۳۶۲)(6) پلک جھپکنے سے پہلے توبہ قُبولحضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بن سلامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا:’’ میں تم سے جو بات بھی بیان کروں گا وہ کسی بھیجے ہوئے نبی یا اتاری گئی کتاب سے بیان کروں گا، بے شک! بندہ جب گناہ کا مُرْتَکِب ہوتا ہے پھر پلک جھپکنے کے برابر بھی نادم ہو تو پلک جھپکنے سے بھی جلدی وہ گناہ زائل ہوجاتا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴/۱۸)(7) توبہ کرنے والوں کے دل نرم ہوتے ہیںامیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناِعمر فاروقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا :’’توبہ کرنے والوں کے پاس بیٹھا کرو کیونکہ اُن کے دل بہت نرم ہو تے ہیں۔‘‘ (الزہد لابن مبارک، باب ما جاء فی الحزن والبکائ، ص۴۲، حدیث:۱۳۲)(8) صبح شام توبہحضرتِ سَیِّدُنا طَلْق بِن حَبِیْبعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ المُجِیْبفرماتے ہیں :اللہ عزَّوَجَلَّکے حقوق اِتنے ہیں کہ بندہ انہیں ادا نہیں کرسکتا لیکن صبح شام توبہ کیا کرو۔ (الزہد لابن مبارک،باب الھرب من الخطایا والذنوب، ص۱۰۱، حدیث:۳۰۲)(9) توبہ سے محرومیایک بزرگرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : مجھے مغفرت سے محرومی کا اتنا خوف نہیں جتنا توبہ کی محرومی سے ڈرتا ہوں۔(کیونکہ مغفرت توتوبہ کے لوازِمات اوراس کے پیچھے آنے والی شے ہے) (قوت القلوب، ۱/۳۰۵۔ احیاء العلوم، ۴/۱۸)(10)بیس سال بعد توبہمنقول ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک نوجوان نے بیس سال تکاللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت کی پھر اتناہی عرصہ نافرمانیوں میں مبتلا رہا ۔ایک دن آئینے میں داڑھی کے سفید بال دیکھ کر اپنی نافرمانیوں پر نادم ہو ااور بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوا :’’ یا اللہعزَّوَجَلَّمیں نے 20سال تک تیر ی عبادت کی پھر 20سال تیری نافرمانی کی اگر میں تیری طرف رجوع کروں تَو تُو میری توبہ قُبول کرلے گا ؟‘‘تو اس نے یہ غیبی آواز سنی :’’ تُو نے ہم سے دوستی کی تَو ہم نے بھی تجھ سے مَحَبَّت کی، تو نے ہمیں چھوڑا تَو ہم نے بھی تجھے چھوڑ دیا، تونے ہم اری نافرمانی کی توہم نے تجھے مہلت دی اب اگر تو ہماری طرف رُجوع کرے گا تو ہم تجھے قُبول کریں گے۔ ‘‘(العقد الفرید لابن عبد ربہ الأندلسی، کتاب الزمردۃ فی المواعظ والزہد، ۳/۱۳۰۔ احیاء العلوم، ۴/۱۹)’’چل مد ینہ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے صالحین سے مَحَبَّت کی فضیلت پر مشتمل7روایات(1)حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسَرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی کہ ایک شخص نے نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! قیامت کب آئے گی ؟ فرمایا: تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ عرض کی: میرے پاس ( نفلی) نمازوروزہ وصدقات کی کثرت تو نہیں مگر میںاللہ عزَّوَجَلَّاو راس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: تو اس کے ساتھ ہے، جس کو تو محبوب رکھتا ہے۔ (بخاری،کتاب الادب،باب علامۃحب اللہ ، ۴/۱۴۷، حدیث:۶۱۷۱)
(2)حضرتِ سَیِّدُنا صَفْوَان بِن قُدَامَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّیعنی بندہ جس سے محبت رکھتا ہے اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ (ترمذی،کتاب الزھد، باب ماجاء ان المرء مع من احب، ۴/۱۷۲، حدیث:۲۳۹۳)
(3)اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنامولائے کائنات،علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِخُداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جوحَسَن و حُسین اور ان کے والد ووالدہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنسے مَحَبَّت کرے وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔
(ترمذی،کتاب المناقب، باب مناقب علی رضی اللہ عنہ، ۵/۴۱۰، حدیث:۳۷۵۴)
(4) ایک شخص بارگاہِ رِسالت مآب میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا : یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ میرے نزدیک اہل و مال سے زیادہ پیارے ہیں اور میں آپ کو دل میں یاد رکھتا ہوں ، جب تک میں اپنی آنکھوں سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت نہیں کرلیتا مجھے صبر و قرار نہیں آتا اور جب میں اپنی موت اور آپ کی جدائی کو یاد کرتا ہوں ،تو میں سوچتا ہوں کہ آپ جنت میں نبیوں کے ساتھ بلند وبالا مقام پر ہوں گے اگر میں جنت میں داخل ہوا تو آپ کی زیارت نہ کرسکوں گا۔ (پھر سکون کیسے ملے گا ؟) اس موقع پر یہ آیت طیبہ نازل ہوئی :وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹)(پ۵، النسآء:۶۹)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔
آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس پیارے صحابی کو بُلایا اوراسے یہ آیت ِمبارکہ پڑھ کر سنائی۔(شعب الإیمان، باب فی حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ۲/۱۳۱، حدیث:۱۳۸۰)
(5)دوسری روایت میں ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوااورنظر بچا کر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھنے لگا اور کسی طرف متوجہ نہ ہوا، تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : کیا حال ہے؟ عرض کی : میرے ماں باپ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قربان! آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف نظر کرنے سے مجھے دِلی سکون ملتا ہے ۔بروزِ قیامت جباللہ عزَّوَجَلَّآپ کو بلند مرتبہ عطا فرمائے گا(تو اس وقت میرا کیا حال ہوگا میں تو آپ کی زیارت سے محروم ہو جاؤں گا ؟) اس پرمذکورہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی۔ (الشفا بتعریف حقوق المصطفی، ۲/۲۰)
(6) حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسَرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا : اگر تم اس کی قدرت رکھو کہ تمہاری صبح و شام اس حال میں ہو کہ تمہارا دل ہر ایک کی کدُورَت سے پاک و صاف ہو تو ایسا کرو۔ اس کے بعد فرمایا: اے فرزند! یہ میری سنت ہے اور جس نے میری سنت کو زندہ رکھا اس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا۔(ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع، ۴/۳۰۹، حدیث:۲۶۸۷)
(7)حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر غِفاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک آدمی کسی قوم سے مَحَبَّت کرتاہے لیکن ان جیسے کام نہیں کر سکتا۔فرمایا:’’اے ابو ذر ! تم اُس کے ساتھ ہو جس سے مَحَبَّت کرتے ہو۔ ‘‘حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر غِفاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی کہ میں تواللہ عزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مَحَبَّت کرتا ہوں۔فرمایا:’’ تم اس کے ساتھ ہو جس سے مَحَبَّت کرتے ہو۔‘‘(ابو داود، کتاب الادب، باب إخبار الرجل الرجل بمحبتہ إیاہ، ۴/۴۲۹، حدیث:۵۱۲۶)مدنی گلدستہ’’عِلمِ دِین‘‘کے6 حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 6 مدنی پھول
(1)علمِ دین کے حصول کے لئے دُور دَرَاز کا سفر کرنا صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکی سُنّتِ مبارکہ ہے۔
(2) نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بلند آواز سے عام لوگوں کی طرح پکارنا اعمال کے ضائع ہونے کاسبب ہے ۔
(3) غیرِ شرعی کام کو دیکھ کر اس کو اپنی حیثیت کے مطابق ختم کرنا ضروری ہے۔
(4) موزوں پر مَسح کی مدت سفر میں تین دن تین راتیں اور حضر(اِقامت) میں ایک دن اور ایک رات ہے۔ (5) لوگوں کے ساتھ اُن کی عقل کے مطابق کلام کرناسُنّتِ رسول ہے۔
(6) جو جس قوم سے مَحَبَّت کرے گا بروزِ قیامت اسی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں بُرے کاموں اور بُرے لوگوں کی صحبت سے بچنے اورنیک لوگوں کی صحبت اِختیار کرنے کی سعادت عطا فرمائے اور جب ہم سے بتقاضائے بشریت کوئی گناہ سَرزَد ہو جائے توفوراً توبہ کی توفیق عطا فرمائے، اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوب خوب تَعْظِیم وتَوْقِیْرکرنے کی توفیق مَرْحَمَت فرمائے، انبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَاماولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَاماور ہر نیک بندے کی بے اَدَبی سے ہم سب کو محفوظ رکھے !
محفوظ سدا رکھنا شہا بے اَدبوں سے اور مجھ سے بھی سر زد نہ کبھی بے ادبی ہواٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم400رکعت نفلمنقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا فتح موصلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیدردِ سر میں مبتلا ہوئے تو خوش ہو کر ارشاد فرمایا:’’اللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے اس مرض میں مبتلا کیا جس میں انبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَامکو مبتلا کیا، اب اس کا شکرانہ یہ ہے کہ میں 400رکعت نفل پڑھوں۔‘‘ (152رحمت بھری حکایات، ص۱۷۱)
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 19