Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 837

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللهَ تَعَالٰى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَايَذْكُرُ اللهَ تَعَالٰى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من قعد مقعدا لم يذكر الله تعالى فيه كانت عليه من الله ترة ومن اضطجع مضجعا لايذكر الله تعالى فيه كانت عليه من الله ترة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جوشخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر نہ کرے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے اُس پر ندامت ہوگی اور جوکسی بستر میں لیٹے اور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر نہ کرےتو اس پر بھیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ندامت ہوگی ۔“

شرح حدیث

مؤمن کی کوئی حالت ذِکرِاِلٰہی سے خالی نہ ہو:اس حدیث میں مجلس سے مراد ہر جائز مجلس ہے جو کہ گندگی وغیرہ سے خالی ہو لہٰذا قضائے حاجت کی مجلس،اسی طرح شراب خوروں کی مجلس اس سے مستثنیٰ(الگ)ہے ان موقعوں پر خدا تعالیٰ کا نام لینا بے ادبی ہے۔مطلب یہ ہے کہ جب کسی دینی یا دنیاوی مجلس میں بیٹھو اور جب بھی سونے کے لیے بستر پر دراز ہو توکا ذکر ضرور کرلو ورنہ کل قیامت میں ان اوقات کے ضائع ہو جانے پر کفِ افسوس ملو گے۔بعض لوگ ہر وقت دُرُود شریف پڑھتے رہتے ہیں ا ن کی اصل یہ حدیث ہے،مؤمن کی کوئی حالتذِکْرُﷲسے خالی نہ چاہیئے۔شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:بندے کو چاہیے کہ ہر حال میں اپنی نشست وبرخاست(بیٹھنے،اُٹھنے)،نیند اور بیداری کی حالت میں شب وروزاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر میں مشغول رہےکیونکہ جو وقتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر سے خالی گزرے گا قیامت کے دن بندے کو اس پر بڑی حسرت ہوگی۔مدنی گلدستہ’’ صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر سے خالی مجلسیں مُردار گدھے کی طرح ہیں اوران میں شرکت کرنےوالے اس مُردارکےکھانے والےہیں۔
(2) مؤمن کی کوئی مجلس
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر سے خالی نہیں ہوتی۔
(3) درود شریف
ذِکْرُﷲکی بہترین قسم ہے کہ دُرُود پاک میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام بھی ہے، حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چرچہ بھی۔
(4) عمومًا مجلسوں میں جھوٹ غیبت وغیرہ گناہ ہوجاتے ہیں،اگر ان میں حمد و صلوٰۃ
وغیرہ بھی ہوتی رہے تو اس کی برکت سے یہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(5) حضور ِانور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذِکر بھی گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔
(6) بندے کو چاہیے کہ ہر حال میں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر میں مشغول رہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمارے دلوں کو اپنی یاد سے معمور فرمائے اورہمیں وہ زبان عطا فرمائے جو ہر وقت اُس کے اور اُس کے محبوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکر میں مشغول رہے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 837