باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 836
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ تَعَالَى فِيْهِ وَلَمْ يُصَلُّوْا عَلَى نَبِيِّهِمْ فِيْهِ اِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةٌ فَاِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:ما جلس قوم مجلسا لم يذكروا الله تعالى فيه ولم يصلوا على نبيهم فيه الا كان عليهم ترة فان شاء عذبهم وان شاء غفر لهم.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!زبان پر ہر وقتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر جاری رکھنا یہاللّٰہوالوں کی صفت ہے کہ وہ کسی بھی حال میںذِکرُاللّٰہسے غافل نہیں رہتے،ہمیں بھیذِکرُاللّٰہکی ایسی عادت بنا لینی چاہیے کہ ہمارا کوئی بھی لمحہذِکرُاللّٰہسے خالی نہیں گزرنا چاہیے کہ آدمی جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کرتا ہے تو شیطان کے مکر وفریب سے بچا رہتا ہے اور شیطان اس کو غافل نہیں کرپاتا ۔ جہاں انساناللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر سے غافل ہوا، شیطان فوراً اُس کے دل میں وسوسے ڈالتاہے اور اُس کو بہکاتاہےاور جو وقتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر کے بغیر گزر جاتا ہے اُس پر انسان کو ندامت ہوگی اور ایسی مجلس کہ جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر کے بغیرختم کردی جائے اس مجلس میں شرکت کرنے والوں کے بارے میں حدیثِ پاک میں فرمایا گیا ہے:’’گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اور ان کے لیے ندامت ہوگی۔‘‘مذکورہ دونوں احادیث مبارکہ میں ایسی مجالس کے نقصان کو بیان کیا گیا ہے جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِ پاک پڑھنے سے خالی ہوں ۔مُردار گدھا کھانے والے :مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”گویا یہ غافل لوگ مُردار گدھا کھا کر اٹھے جوانتہائی نجس اور پلید بھی ہے اور حیوانات میں حقیر بھی اورجانوروں میں احمق مشہور بھی اور شیطان کے ساتھ اِختلاط (میل جول)رکھنے والا بھی کہ اس کے بولنے پرلَاحَوْلَپڑھی جاتی ہے۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”غرضکہﷲکے ذکر سے خالی مجلسیں مُردار گدھے کی طرح ہیں اوران میں شرکت کرنےوالے اس مُردارکے کھانے والےہیں۔اَلْحَمْدُلِلّٰہمؤمن کی کوئی مجلسﷲکے ذکر سے خالی نہیں ہوتی۔ وعدے پراِنْ شَآءَ اللّٰہکہتا ہے۔چھینک پراَلْحَمْدُلِلّٰہ،جماہی پرلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّاباللّٰہ،غم کی خبر پراِنَّالِلّٰہ۔غرضکہ بات بات پرﷲتعالیٰ کا نام لیتا ہے۔دُرُود ہو اُس دافعِ شرِجن و اِنس پر،صَلٰوۃہو اُس غمخوارِ اُمَّت پر جس نے ہماری زندگی سنبھال دی اور ہماری مجلسیںﷲکے ذِکر سے آباد کردیںصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔“
دوسری حدیث پاک میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر کے ساتھ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھنے کا ذِکر بھی ہے اور فرمایا گیا کہ ”جولوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود ِپاک نہ پڑھیں تو یہ مجلس اُن کے لئے ندامت کا باعث ہوگی۔“ذِکْرُ ﷲکی بہترین قسم:مرآۃ المناجیح میں ہے:اگرچہذِکْرُاﷲمیں دُرُود شریف بھی داخل تھا مگر چونکہ درود شریفذِکْرُاﷲکی بہترین قسم ہے اس لیے اس کا ذکرخصوصیت سے کیا گیا کیونکہ درود پاک میںﷲتعالیٰ کا نام بھی ہے حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا چرچہ بھی حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اُن کی آل اولاد کو دعائیں بھی۔حدیث پاک میں مذکور ہے:’’اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہے توا نہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔‘‘ اِس جملے کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا مجلسوں میں جھوٹ غیبت وغیرہ گناہ ہوجاتے ہیں،اگر ان میں حمد و صلوٰۃ وغیرہ بھی ہوتی رہے تو اس کی برکت سے یہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اگر مجلس اِن خیر ذکروں سے خالی ہو تو گناہ تو پایا گیا،کفارہ نہ ادا ہوا لہٰذا اب پکڑ اور سزا کا سخت اندیشہ ہے۔ اس جملے میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:﴿وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجمہ ٔکنز الایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں۔)حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ذکر بھی معافی گناہ کا ذریعہ ہے اس جملہ سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مجلس میںﷲرسول کا ذکر ہو تو اس کے گناہ یقیناً بخشے جائیں گے ربّ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔خدا تعالیٰ تک رسائی کا ذریعہ :اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانہ شمع رِسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنعلامہ محقق محمد سنوسیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکا کلام ذِکر کرتے ہوئےفرماتے ہیں:”لَااِلٰہَ اِلَّااﷲکہنے سے ذَاکر ( یعنی ذِکر کرنے والے )کے دِل میں نورِ حقیقت کی بَہجت(رونق)تو آگئی مگر اس سے نفع یابی آدابِ شریعت کی بجا آوری پر موقوف ہےاور اس ادب کی بجاآوری کی صورت یہی ہے کہ اس کلمہ والے آقا جو اسے خدائے برتر کے پاس(سے) لے کر تبلیغ فرمانے والے ہیں،(یعنی)سَیِّدُنَا محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،اُن کاذِکر پاک جاری رکھے۔اس لئے حقیقت پر دلالت کرنے والے کلمہ ٔتوحید کو کہہ لینے کے بعد ضرورت ہے کہ ذَاکر ہمارے آقا محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِسالت کا بھی اِثبات کرے تاکہ شریعت کی مضبوط پناہ میں لاکر اپنے نورِ توحید کو محفوظ رکھ سکے۔اسی لئے ذاکِر کہتا ہے:لَا اِلٰہَ اِلَّااﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ۔اسی طرحﷲتعالیٰ کے اَذکار میں سے کسی بھی ذِکر میں مومن کو سَیِّدُنا محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکر سے غافل نہیں ہونا چاہئے ۔خدا کے ذِکر کے بعد سرکار پر دُرُود بھیجے،یا ان کی رسالت کا اقرار کرے ،ساتھ ہی آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمپر دُرُود کی اَدائیگی،تعظیم کی بجا آوری اورسرکارِاَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے دامنِ پاک سے وابستگی بھی رکھے اس لئے کہ حضورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمخدائے برترکے عظیم ترین باب اور ذریعہ ہیں کہ دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی ان سے وابستگی کے بغیر دستیاب نہ ہوگی۔اس لئے جوسرکارِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ذِکر پاک اورحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا دامن تھامنے سے غافل ہوا وہ نامُراد رہا اوراُسے دنیا وآخرت کی بھلائی سے محروم کرکے بے تعلقی کے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ہمارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمہی تو خدائے برتر کی جانب مخلوق کے رہبر ہیں، جو اپنے رہبر ہی سے غافل ہو اسےخدا تعالیٰ تک رسائی کیسے حاصل ہوگی؟“
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 836