Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 836

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ تَعَالَى فِيْهِ وَلَمْ يُصَلُّوْا عَلَى نَبِيِّهِمْ فِيْهِ اِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةٌ فَاِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:ما جلس قوم مجلسا لم يذكروا الله تعالى فيه ولم يصلوا على نبيهم فيه الا كان عليهم ترة فان شاء عذبهم وان شاء غفر لهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!زبان پر ہر وقتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر جاری رکھنا یہاللّٰہوالوں کی صفت ہے کہ وہ کسی بھی حال میںذِکرُاللّٰہسے غافل نہیں رہتے،ہمیں بھیذِکرُاللّٰہکی ایسی عادت بنا لینی چاہیے کہ ہمارا کوئی بھی لمحہذِکرُاللّٰہسے خالی نہیں گزرنا چاہیے کہ آدمی جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کرتا ہے تو شیطان کے مکر وفریب سے بچا رہتا ہے اور شیطان اس کو غافل نہیں کرپاتا ۔ جہاں انساناللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر سے غافل ہوا، شیطان فوراً اُس کے دل میں وسوسے ڈالتاہے اور اُس کو بہکاتاہےاور جو وقتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر کے بغیر گزر جاتا ہے اُس پر انسان کو ندامت ہوگی اور ایسی مجلس کہ جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر کے بغیرختم کردی جائے اس مجلس میں شرکت کرنے والوں کے بارے میں حدیثِ پاک میں فرمایا گیا ہے:’’گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اور ان کے لیے ندامت ہوگی۔‘‘مذکورہ دونوں احادیث مبارکہ میں ایسی مجالس کے نقصان کو بیان کیا گیا ہے جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِ پاک پڑھنے سے خالی ہوں ۔مُردار گدھا کھانے والے :مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”گویا یہ غافل لوگ مُردار گدھا کھا کر اٹھے جوانتہائی نجس اور پلید بھی ہے اور حیوانات میں حقیر بھی اورجانوروں میں احمق مشہور بھی اور شیطان کے ساتھ اِختلاط (میل جول)رکھنے والا بھی کہ اس کے بولنے پرلَاحَوْلَپڑھی جاتی ہے۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”غرضکہکے ذکر سے خالی مجلسیں مُردار گدھے کی طرح ہیں اوران میں شرکت کرنےوالے اس مُردارکے کھانے والےہیں۔اَلْحَمْدُلِلّٰہمؤمن کی کوئی مجلسکے ذکر سے خالی نہیں ہوتی۔ وعدے پراِنْ شَآءَ اللّٰہکہتا ہے۔چھینک پراَلْحَمْدُلِلّٰہ،جماہی پرلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّاباللّٰہ،غم کی خبر پراِنَّالِلّٰہ۔غرضکہ بات بات پرتعالیٰ کا نام لیتا ہے۔دُرُود ہو اُس دافعِ شرِجن و اِنس پر،صَلٰوۃہو اُس غمخوارِ اُمَّت پر جس نے ہماری زندگی سنبھال دی اور ہماری مجلسیںکے ذِکر سے آباد کردیںصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔“
دوسری حدیث پاک میں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر کے ساتھ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھنے کا ذِکر بھی ہے اور فرمایا گیا کہ ”جولوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود ِپاک نہ پڑھیں تو یہ مجلس اُن کے لئے ندامت کا باعث ہوگی۔“ذِکْرُ ﷲکی بہترین قسم:مرآۃ المناجیح میں ہے:اگرچہذِکْرُاﷲمیں دُرُود شریف بھی داخل تھا مگر چونکہ درود شریفذِکْرُاﷲکی بہترین قسم ہے اس لیے اس کا ذکرخصوصیت سے کیا گیا کیونکہ درود پاک میںتعالیٰ کا نام بھی ہے حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا چرچہ بھی حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اُن کی آل اولاد کو دعائیں بھی۔حدیث پاک میں مذکور ہے:’’اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہے توا نہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔‘‘ اِس جملے کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا مجلسوں میں جھوٹ غیبت وغیرہ گناہ ہوجاتے ہیں،اگر ان میں حمد و صلوٰۃ وغیرہ بھی ہوتی رہے تو اس کی برکت سے یہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اگر مجلس اِن خیر ذکروں سے خالی ہو تو گناہ تو پایا گیا،کفارہ نہ ادا ہوا لہٰذا اب پکڑ اور سزا کا سخت اندیشہ ہے۔ اس جملے میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:﴿وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجمہ ٔکنز الایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں۔)حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ذکر بھی معافی گناہ کا ذریعہ ہے اس جملہ سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مجلس میںرسول کا ذکر ہو تو اس کے گناہ یقیناً بخشے جائیں گے ربّ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔خدا تعالیٰ تک رسائی کا ذریعہ :اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانہ شمع رِسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنعلامہ محقق محمد سنوسیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکا کلام ذِکر کرتے ہوئےفرماتے ہیں:”لَااِلٰہَ اِلَّااﷲکہنے سے ذَاکر ( یعنی ذِکر کرنے والے )کے دِل میں نورِ حقیقت کی بَہجت(رونق)تو آگئی مگر اس سے نفع یابی آدابِ شریعت کی بجا آوری پر موقوف ہےاور اس ادب کی بجاآوری کی صورت یہی ہے کہ اس کلمہ والے آقا جو اسے خدائے برتر کے پاس(سے) لے کر تبلیغ فرمانے والے ہیں،(یعنی)سَیِّدُنَا محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،اُن کاذِکر پاک جاری رکھے۔اس لئے حقیقت پر دلالت کرنے والے کلمہ ٔتوحید کو کہہ لینے کے بعد ضرورت ہے کہ ذَاکر ہمارے آقا محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِسالت کا بھی اِثبات کرے تاکہ شریعت کی مضبوط پناہ میں لاکر اپنے نورِ توحید کو محفوظ رکھ سکے۔اسی لئے ذاکِر کہتا ہے:لَا اِلٰہَ اِلَّااﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ۔اسی طرحتعالیٰ کے اَذکار میں سے کسی بھی ذِکر میں مومن کو سَیِّدُنا محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکر سے غافل نہیں ہونا چاہئے ۔خدا کے ذِکر کے بعد سرکار پر دُرُود بھیجے،یا ان کی رسالت کا اقرار کرے ،ساتھ ہی آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمپر دُرُود کی اَدائیگی،تعظیم کی بجا آوری اورسرکارِاَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے دامنِ پاک سے وابستگی بھی رکھے اس لئے کہ حضورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمخدائے برترکے عظیم ترین باب اور ذریعہ ہیں کہ دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی ان سے وابستگی کے بغیر دستیاب نہ ہوگی۔اس لئے جوسرکارِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ذِکر پاک اورحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا دامن تھامنے سے غافل ہوا وہ نامُراد رہا اوراُسے دنیا وآخرت کی بھلائی سے محروم کرکے بے تعلقی کے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ہمارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمہی تو خدائے برتر کی جانب مخلوق کے رہبر ہیں، جو اپنے رہبر ہی سے غافل ہو اسےخدا تعالیٰ تک رسائی کیسے حاصل ہوگی؟“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 836