- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔
عَنِ ابنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’لَايُقِيْمَنَّ اَحَدُكُمْ رَجُلًا مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيْهِ وَلٰكِنْ تَوَسَّعُوْا وَتَفَسَّحُوْا.‘‘ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ اِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجِلسْ فِيْهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 825 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 826 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔“
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا اِذَا اَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ اَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِيْ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 827 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابوعبداللّٰہسلمان فارسیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جو شخص جمعہ کے روز غسل کرے اور جس قدر ممکن ہو پاکیزگی حاصل کرے،تیل لگائے یا گھر سے خوشبو لگا کر(نمازِ جمعہ کے لیے )نکلے ،دو آدمیوں کے درمیان گھس کر نہ بیٹھے پھر اس کے لیے جو لکھی گئی ہے وہ نماز ادا کرے اور خطبہ کے وقت خاموش رہے تو اُس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
عَنْ اَبِي عَبْدِاللهِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ اَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيْبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلاَ يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّيْ مَا كُتِبَ لَهُ ثُمَّ يُنْصِتُ اِذَا تَكَلَّمَ الْاِمَامُ اِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْاُخْرَى.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 828 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناعَمر وبن شُعَیْبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے ۔“ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے :” دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے ۔“
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ اَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ اِلَّا بِاِذْنِهِمَا.وَفِيْ رِوَايِةِ لِاَبِيْ دَاوُد:لَا يَجْلِسُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ اِلَّا بِاِذْنِهمَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 829 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُنا حذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ترمذی نےحضرتابو مِجْلَزْ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت کیا کہ ایک شخص حلقے کے درمیان بیٹھا تو حضرت سَیِّدُنَا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان پریہ شخص ملعون(یعنی لعنت کیا گیا )ہے۔“یا کہا:”اللّٰہتعالیٰ نے حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان سے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۔“
عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ.وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنْ اَبِي مِجْلَزٍ :اَنَّ رَجُلاً قَعَدَ وَسْطَ حَلْقَةٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ:مَلْعُوْنٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْ لَعَنَ اللهُ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 830 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“
عَنْ اَبِي سَعِيْدٍالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خَيْرُ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 831 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھا جس میں بے فائدہ باتیں زیادہ ہوں پھر اس شخص نے مجلس سے اٹھنے سے پہلےیہ کہا:”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَیعنی اےاللّٰہ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“تو اس شخص سے مجلس میں سرزد ہونے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلسٍ فَكَثُرَ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ اَنْ يَقُوْمَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذٰلِكَ:سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ اِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذٰلِكَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 832 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابو برزہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے:”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَیعنی اےاللّٰہ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“ایک شخص نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پہلے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھے؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں ۔
عَنْ اَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ بِاَخَرَةٍ اِذَا اَرَادَ اَنْ يَقُوْمَ مِنَ الْمَجْلِسِ:سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ فَقَالَ رَجُلٌ يَارَسُوْلَ اللهِ اِنَّكَ لَتَقُوْلُ قَوْلًا مَاكُنْتَ تَقُولُهُ فِيْمَا مَضَى ؟ قَالَ:ذٰلِكَ كَفَّارَةٌ لِّمَا يَكُوْنُ فِي الْمَجْلِسِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 833 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں :بہت کم ایسا ہوتا کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان الفاظ کے ساتھ دعا مانگے بغیر مجلس سے تشریف لے جاتے:”اللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُوْلُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِیْکَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِيْنِ مَاتُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنيَا اللّٰهُمَّ مَتِّعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَااَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَاْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيْبَتَنَا فِي دِيْنِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا اَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا.یعنی اےاللّٰہ!ہمیں اپنے خوف سے وہ حصہ عطا فرماجو ہمارے اور گناہوں کے درمیان آڑہو جائے اور اطاعت سےوہ حصہ عطا فرما جس کےذریعے تو ہمیں جنت میں پہنچادے اور یقین سےوہ حصہ عطا فرما جس کے ذریعےتو ہم پر دنیا کے مصائب آسان کر دے۔اےاللّٰہ! جب تک ہمیں زندہ رکھ اپنے کانوں،آنکھوں اور قوت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمااور اسے ہمارا وارث بنا اور ہمارا انتقام صرف ان لوگوں تک محدود کردے جو ہم پر ظلم کریں اور دشمنوں کے مقابل ہماری مدد فرما اوردینی معاملات میں ہمیں مصائب میں مبتلا نہ فرمااور دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد نہ بنا اور دنیا کو ہمارے علم کا مقصد نہ بنا اور بے رحم لوگوں کو ہم پر مسلط نہ فرما۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَلَّمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْمُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتّٰى يَدْعُوَ بِهٰؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ:اللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُوْلُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِیْکَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِيْنِ مَاتُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنيَا اللّٰهُمَّ مَتِّعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَااَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَاْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيْبَتَنَا فِي دِيْنِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا اَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 834 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو لوگاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُوْمُوْنَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُوْنَ اللهَ تَعَالٰى فِيْهِ اِلَّا قَامُوْا عَنْ مِثْلِ جِيْفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 835 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ تَعَالَى فِيْهِ وَلَمْ يُصَلُّوْا عَلَى نَبِيِّهِمْ فِيْهِ اِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةٌ فَاِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 836 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جوشخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر نہ کرے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے اُس پر ندامت ہوگی اور جوکسی بستر میں لیٹے اور اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر نہ کرےتو اس پر بھیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ندامت ہوگی ۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللهَ تَعَالٰى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَايَذْكُرُ اللهَ تَعَالٰى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 837 ، باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب