باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 826
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول لله صلى الله عليه وسلم قال: اذا قام احدكم من مجلس ثم رجع اليه فهو احق به.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔“
شرح حدیث
سِرک کر دوسروں کو جگہ دینا سنت ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں اَحادیث مبارکہ میں مجلس میں بیٹھنے کے آداب کو بیا ن کیا گیا ہےکہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیدا کرنے کا حکم ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہ حکم عام ہے کہ کسی کو اُس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے،ہاں اگر وہ شخص ناجائز طور پر وہاں بیٹھا تھا تو اُسے اٹھا دینا جائز ہے۔جیسے کوئی مسجد میں امام یا مؤذن کی مقرر جگہ بیٹھ جاوے یا وہ کسی کی جگہ بیٹھ گیا تھا تو یہ لوگ آکر اٹھاسکتے ہیں کہ یہ جگہ خود ان کی اپنی ہے نہ کہ اس بیٹھے ہوئے کی۔ مجلس میں آنے والے اسلامی بھائیوں کے لیے جگہ ایثار کرتے ہوئے سَرکنا سنت مبارکہ ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا واثلہ بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص تاجدارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف فرما تھے۔ رحمت دوعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس کے لیے اپنی جگہ سے سِرک گئے۔اس نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جگہ کشادہ موجود ہے(آپ کو سِرکنے اور تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں)۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے۔“ادب کا تقاضا:جب کوئی شخص کسی کام مثلاً وضو کرنے یا پانی وغیرہ پینے کے لیے مجلس سے اٹھ کر جائے تو جب وہ واپس آئےگا تو جس جگہ سے وہ اٹھا تھا اس جگہ بیٹھنے کا زیادہ حقدار وہ ہی ہے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:بعض علما نے فرمایا :یہ حکم اِستحبابی ہے کہ یہ ادب کا تقاضا ہے کیونکہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔بعض علمانے فرمایا :اس حکم پر عمل کرنا واجب ہے اور ان کا استدلال یہی حدیث پاک ہے جو حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے۔“حضرت محمد بن مسلمرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا :اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کام کی وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے،لیکن جب وہ جگہ چھوڑ کر چلا جائے تو اب دوسرا حقدار ہے اور ایک قول یہ ہے کہ جب وہ اس لیے اٹھا ہو کہ واپس آئے گا تو اب وہ اُس جگہ کا حقدار ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اگر وہ قریب سے لوٹ آیا تو وہ اس کا حقدار ہے۔امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتےہیں: ہمارے اصحاب نے کہا:یہ حدیث پاک اس شخص کے حق میں ہے جو مسجد کی کسی جگہ پر بیٹھا ہو پھر وہ نماز،وضو یا کسی اور کام کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لیے چلا جائے تو اس کی جگہ سے اس کا حق باطل نہیں ہوتا ،اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ جو شخص اس کی جگہ آکر بیٹھا ہو اسے اٹھا کر اس جگہ بیٹھ جائےاور بیٹھنے والے کے لئے یہ حکم ہے کہ اس کی بات مانے۔(علامہ عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں)ہمارے علمانے فرمایا:اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہو پھر وہ وضو وغیرہ کے لئےجائے تو وہ اسی وقت کی نماز کے لئے اپنی جگہ کا مستحق ہےدیگر نمازوں کے لئے نہیں اور اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ اپنی جگہ کپڑا وغیرہ رکھ کر جائے یا نہ رکھےدونوں صورتوں میں وہ اپنی جگہ کا مستحق ہے۔علامہ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جس شخص نے مسجد میں کسی جگہ کو درس وتدریس اور فتویٰ نویسی کے لئے متعین کردیا تو امام مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مدرس اور مفتی اس جگہ کا مستحق ہے۔جمہور علما اس کو استحسان پر محمول کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں یہ حق واجب نہیں غالباً امام مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی مراد بھی یہی ہے۔اسی طرح جو لوگ کھلی فضا میں یا راستوں میں بیٹھتے ہیں جو کسی کی مملوک نہیں اگر کسی نے وہاں بیٹھنے کی عادت بنائی ہو تو اس جگہ کا وہی مستحق ہے حتّٰی کہ اس کی غرض پوری ہوجائے۔امام قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے فرمایا: جمہور کہتے ہیں کہ حدیث میں مذکور حکم واجب نہیں(بلکہ اِستحباب پرمحمول ہے)۔صف میں چادر رکھ کر جگہ روکنا:اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمدرضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:کوئی شخص مسجد میں آیا، ایک جگہ بیٹھا، پھر وُضو کیلئے گیا اور اپنا کپڑا وہاں چھوڑ گیا، دوسرا شخص اُس کپڑے کوہٹا کر وہاں نہ بیٹھے کہ کپڑے والے کا قبضہ سابق (یعنی پہلے سے) ہو لیا ہے۔( آگے چل کراعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:) ایسا قبضہ تھوڑی دیر کیلئے مُسَلَّم(یعنی مانا جاتا )ہے جیسا (کہ) کپڑا رکھ کر وضو کو جانے میں، نہ یہ کہ مسجد میں اپنی کوئی چیز رکھ دیجئے اور وہ جگہ ہمیشہ آپ کیلئےمخصوص ہو جائے کہ جب آئیے دوسروں پرتَقدیم(یعنی فوقیت) پایئے یہ ہرگز نہ جائز نہ مقبول۔مدنی گلدستہ’’مساجد‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکوره اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مجلس میں سے کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی ممانعت ہے کہ یہ فعل ادب کے خلاف ہے ۔
(2) مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے یعنی اسے جگہ دے ۔
(3) سَرک کر دوسرے اسلامی بھائیوں کو جگہ دینا سنتِ مبارکہ ہے۔
(4) اگر کوئی اسلامی بھائی اجتماع وغیرہ میں کسی ضرورت کی بنا پر اپنی جگہ سے تھوڑی دیر کے لیے مثلاً پانی پینے یا کسی اور حاجت کے لیے گیا تو کسی دوسرے کے لئے اس کی جگہ بیٹھنا درست نہیں البتہ اگر وہ اسلامی بھائی چلا ہی گیا کہ اب واپس نہیں آئے گا تو اب اس جگہ کوئی بھی بیٹھ سکتا ہے۔
(5) کوئی شخص کسی کی جگہ آکر بیٹھ جائے تو دوسرا اسے اپنی جگہ سے اٹھا سکتا ہے اور بیٹھنے والے کو چاہیے کہ وہ اس کے لئے جگہ خالی کردے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں مجلس میں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے اور اسلامی بھائیوں کے لیے جگہ کشادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 826