Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 826

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول لله صلى الله عليه وسلم قال: اذا قام احدكم من مجلس ثم رجع اليه فهو احق به.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔“

شرح حدیث

سِرک کر دوسروں کو جگہ دینا سنت ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں اَحادیث مبارکہ میں مجلس میں بیٹھنے کے آداب کو بیا ن کیا گیا ہےکہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیدا کرنے کا حکم ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہ حکم عام ہے کہ کسی کو اُس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے،ہاں اگر وہ شخص ناجائز طور پر وہاں بیٹھا تھا تو اُسے اٹھا دینا جائز ہے۔جیسے کوئی مسجد میں امام یا مؤذن کی مقرر جگہ بیٹھ جاوے یا وہ کسی کی جگہ بیٹھ گیا تھا تو یہ لوگ آکر اٹھاسکتے ہیں کہ یہ جگہ خود ان کی اپنی ہے نہ کہ اس بیٹھے ہوئے کی۔ مجلس میں آنے والے اسلامی بھائیوں کے لیے جگہ ایثار کرتے ہوئے سَرکنا سنت مبارکہ ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا واثلہ بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص تاجدارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف فرما تھے۔ رحمت دوعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس کے لیے اپنی جگہ سے سِرک گئے۔اس نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جگہ کشادہ موجود ہے(آپ کو سِرکنے اور تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں)۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے۔“ادب کا تقاضا:جب کوئی شخص کسی کام مثلاً وضو کرنے یا پانی وغیرہ پینے کے لیے مجلس سے اٹھ کر جائے تو جب وہ واپس آئےگا تو جس جگہ سے وہ اٹھا تھا اس جگہ بیٹھنے کا زیادہ حقدار وہ ہی ہے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:بعض علما نے فرمایا :یہ حکم اِستحبابی ہے کہ یہ ادب کا تقاضا ہے کیونکہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔بعض علمانے فرمایا :اس حکم پر عمل کرنا واجب ہے اور ان کا استدلال یہی حدیث پاک ہے جو حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے۔“حضرت محمد بن مسلمرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا :اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کام کی وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے،لیکن جب وہ جگہ چھوڑ کر چلا جائے تو اب دوسرا حقدار ہے اور ایک قول یہ ہے کہ جب وہ اس لیے اٹھا ہو کہ واپس آئے گا تو اب وہ اُس جگہ کا حقدار ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اگر وہ قریب سے لوٹ آیا تو وہ اس کا حقدار ہے۔امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتےہیں: ہمارے اصحاب نے کہا:یہ حدیث پاک اس شخص کے حق میں ہے جو مسجد کی کسی جگہ پر بیٹھا ہو پھر وہ نماز،وضو یا کسی اور کام کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لیے چلا جائے تو اس کی جگہ سے اس کا حق باطل نہیں ہوتا ،اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ جو شخص اس کی جگہ آکر بیٹھا ہو اسے اٹھا کر اس جگہ بیٹھ جائےاور بیٹھنے والے کے لئے یہ حکم ہے کہ اس کی بات مانے۔(علامہ عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں)ہمارے علمانے فرمایا:اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہو پھر وہ وضو وغیرہ کے لئےجائے تو وہ اسی وقت کی نماز کے لئے اپنی جگہ کا مستحق ہےدیگر نمازوں کے لئے نہیں اور اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ اپنی جگہ کپڑا وغیرہ رکھ کر جائے یا نہ رکھےدونوں صورتوں میں وہ اپنی جگہ کا مستحق ہے۔علامہ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جس شخص نے مسجد میں کسی جگہ کو درس وتدریس اور فتویٰ نویسی کے لئے متعین کردیا تو امام مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مدرس اور مفتی اس جگہ کا مستحق ہے۔جمہور علما اس کو استحسان پر محمول کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں یہ حق واجب نہیں غالباً امام مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی مراد بھی یہی ہے۔اسی طرح جو لوگ کھلی فضا میں یا راستوں میں بیٹھتے ہیں جو کسی کی مملوک نہیں اگر کسی نے وہاں بیٹھنے کی عادت بنائی ہو تو اس جگہ کا وہی مستحق ہے حتّٰی کہ اس کی غرض پوری ہوجائے۔امام قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے فرمایا: جمہور کہتے ہیں کہ حدیث میں مذکور حکم واجب نہیں(بلکہ اِستحباب پرمحمول ہے)۔صف میں چادر رکھ کر جگہ روکنا:اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمدرضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:کوئی شخص مسجد میں آیا، ایک جگہ بیٹھا، پھر وُضو کیلئے گیا اور اپنا کپڑا وہاں چھوڑ گیا، دوسرا شخص اُس کپڑے کوہٹا کر وہاں نہ بیٹھے کہ کپڑے والے کا قبضہ سابق (یعنی پہلے سے) ہو لیا ہے۔( آگے چل کراعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:) ایسا قبضہ تھوڑی دیر کیلئے مُسَلَّم(یعنی مانا جاتا )ہے جیسا (کہ) کپڑا رکھ کر وضو کو جانے میں، نہ یہ کہ مسجد میں اپنی کوئی چیز رکھ دیجئے اور وہ جگہ ہمیشہ آپ کیلئےمخصوص ہو جائے کہ جب آئیے دوسروں پرتَقدیم(یعنی فوقیت) پایئے یہ ہرگز نہ جائز نہ مقبول۔مدنی گلدستہ’’مساجد‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکوره اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مجلس میں سے کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی ممانعت ہے کہ یہ فعل ادب کے خلاف ہے ۔
(2) مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے یعنی اسے جگہ دے ۔
(3) سَرک کر دوسرے اسلامی بھائیوں کو جگہ دینا سنتِ مبارکہ ہے۔
(4) اگر کوئی اسلامی بھائی اجتماع وغیرہ میں کسی ضرورت کی بنا پر اپنی جگہ سے تھوڑی دیر کے لیے مثلاً پانی پینے یا کسی اور حاجت کے لیے گیا تو کسی دوسرے کے لئے اس کی جگہ بیٹھنا درست نہیں البتہ اگر وہ اسلامی بھائی چلا ہی گیا کہ اب واپس نہیں آئے گا تو اب اس جگہ کوئی بھی بیٹھ سکتا ہے۔
(5) کوئی شخص کسی کی جگہ آکر بیٹھ جائے تو دوسرا اسے اپنی جگہ سے اٹھا سکتا ہے اور بیٹھنے والے کو چاہیے کہ وہ اس کے لئے جگہ خالی کردے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں مجلس میں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے اور اسلامی بھائیوں کے لیے جگہ کشادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 826