Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 828

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي عَبْدِاللهِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ اَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيْبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلاَ يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّيْ مَا كُتِبَ لَهُ ثُمَّ يُنْصِتُ اِذَا تَكَلَّمَ الْاِمَامُ اِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْاُخْرَى.

عن ابي عبدالله سلمان الفارسي رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا يغتسل رجل يوم الجمعة ويتطهر ما استطاع من طهر ويدهن من دهنه او يمس من طيب بيته ثم يخرج فلا يفرق بين اثنين ثم يصلي ما كتب له ثم ينصت اذا تكلم الامام الا غفر له ما بينه وبين الجمعة الاخرى.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوعبداللّٰہسلمان فارسیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جو شخص جمعہ کے روز غسل کرے اور جس قدر ممکن ہو پاکیزگی حاصل کرے،تیل لگائے یا گھر سے خوشبو لگا کر(نمازِ جمعہ کے لیے )نکلے ،دو آدمیوں کے درمیان گھس کر نہ بیٹھے پھر اس کے لیے جو لکھی گئی ہے وہ نماز ادا کرے اور خطبہ کے وقت خاموش رہے تو اُس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں جمعہ کے دن کے کچھ آداب بیان کئے گئے ہیں اور ان آداب کا لحاظ رکھنے والے کے لیےایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہوں کی مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔ وہ آداب یہ ہیں:جمعہ کے دن غسل کرنا ،تیل اور خوشبو استعمال کرنا پھرنمازِ جمعہ کے لیے جانا اورخطبہ کے وقت خاموش رہنا نیز مسجد میں پہنچ کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے دو آدمیوں کے درمیان گھس کر نہ بیٹھنا بلکہ جہاں جگہ ملے وہاں ہی بیٹھ جانا۔یہ بات مجلس کے آداب میں سے ہے اور اسی وجہ سے امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے اس حدیثِ پاک کو اس باب میں بیان فرمایا۔دو آدمیوں کے درمیان بیٹھنے سے مراد:اس حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”جمعہ کے غسل کا وقت طلوع آفتاب سے شروع ہو جاتا ہے اور زوال کے قریب غسل کرنا زیادہ بہتر ہے۔جمعہ کے دن اپنی حیثیت کے مطابق جو اچھی خوشبو یا تیل میسر ہو وہ لگائے۔ پھر نماز جمعہ کے لیےگھر سے نماز کے ارادے سے نکل جائےاور دو آدمیوں کے درمیان گھس کر نہ بیٹھے یعنی دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ کرے جبکہ انہوں نے درمیان میں جگہ نہ چھوڑی ہواور اگر جگہ چھوڑ ی ہو تو پھر بیچ میں بیٹھنے میں حرج نہیں۔نماز سے یہاں مراد نفلی نماز ہے اور خاموشی سے مراد امام کے خطبہ شروع کرنے کے وقت خاموشی ہے۔جو شخص جمعہ کے اِن آداب کا لحاظ کرتا ہے تو اس جمعہ کی نماز کا ثواب پورے ہفتہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔ یہاں گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جن کا تعلقحُقُوقُ اللّٰہسے ہے۔“مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس (حدیث)سے معلوم ہوا کہ گھر میں خوشبو عطر وغیرہ رکھنا اور کبھی ملتے رہنا خصوصًا جمعہ کو ملنا سنت ہے۔(دو آدمیوں کے درمیان گھس کر نہ بیٹھے) اس طرح کہ نہ تو لوگوں کی گردنیں پھلانگے اور نہ ساتھیوں کو چیرکر ان کے درمیان بیٹھے بلکہ جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائے۔بعض لوگ مسجد میں پیچھے پہنچتے ہیں او رپہلی صف میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ا س سےسبق لیں۔(نماز سے مراد)تَحِیَّۃُ الْمَسْجِدکےنفل یا سنتِ جمعہ(ہیں)۔ پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کیونکہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔غرضکہ اس سے جمعہ کے فرض مراد نہیں کیونکہ آیندہ خطبہ سننے کا ذکر ہے فرضِ جمعہ خطبہ کے بعد ہوتے ہیں۔(خطبہ کے وقت خاموش رہے ) اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خطبہ کے وقت خاموش رہنا فرض ہے،لہٰذا اس وقت نفل پڑھنا،بات کرنا،کھانا پینا سب حرام ہے۔دوسرے یہ کہ جس تک خطبہ کی آواز نہ پہنچتی ہو وہ بھی خاموش رہے کیونکہ یہاں خاموشی کو سننے پر موقوف نہ فرمایا۔(اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں) دوسرے جمعہ سے مراد آیندہ جمعہ ہے یا گزشتہ،دوسرے معنیٰ زیادہ قوی ہیں،معلوم ہوا کہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں،ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-﴾(پ۱۲، ھود:۱۱۴) (ترجمہ ٔکنز الایمان: بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔)

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 828