Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 829

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ اَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ اِلَّا بِاِذْنِهِمَا.وَفِيْ رِوَايِةِ لِاَبِيْ دَاوُد:لَا يَجْلِسُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ اِلَّا بِاِذْنِهمَا.

عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل لرجل ان يفرق بين اثنين الا باذنهما.وفي رواية لابي داود:لا يجلس بين رجلين الا باذنهما.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعَمر وبن شُعَیْبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے ۔“ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے :” دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے ۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !جب دو اسلامی بھائی پہلے سے قریب قریب بیٹھے ہوں تو تیسرا آنے والا یوں نہ کرے کہ آتے ہی ان کی رضا مندی کے بغیر دونوں کے بیچ میں گھس کر بیٹھ جائے، اس طرح ہوسکتا ہے کہ ان کو ناگوار گزرے، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں کسی اہم موضوع پر گفتگو کررہے ہوں اور تیسرے کا بیچ میں گھس جانا باعثِ تکلیف ہوجائے، لہٰذا دو اسلامی بھائی پہلے سے بیٹھے ہوں تو نو وارد کے لیے اس بات کی ممانعت ہے کہ وہ ان کے درمیان میں گھس کر دونوں کی علیحدگی کا سبب بنےجیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا ۔عورتیں بھی اس حکم میں داخل ہیں:مرآۃ المناجیح میں ہے:”مجلس میں پہنچ کر دو آدمیوں کو جو ملے ہوئے بیٹھے ہوں ان کو چیر کر بیچ میں بیٹھ جانا ممنوع ہے۔ممکن ہے کہ ان دونوں کی آپس میں محبت ہو ان کی جدائی ناگوار ہو،یہ حکم ہر مجلس کے لیے ہے خواہ مسجد میں ہوں یا اور جگہ۔جب ان کی اجازت سے درمیان میں بیٹھے گا تو انہیں اس سے رنج نہ ہوگا جیساکہ ظاہر ہے۔خیال رہے کہ(حدیث پاک میں لفظ)رَجُلٌ(یعنی مرد )فرمانا اس لیے ہے کہ عورتیں مَردوں کے حکم میں ہیں ۔ان پر اَحکامِ شَرعِیَّہ مردوں کی طرح جاری ہوتے ہیں،ربّ تعالیٰ نے نماز روزے وغیرہ کے احکام مَردوں کو ہی دیئے مگر عورتوں پر بھی یہ عبادات فرض ہیں لہٰذا حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مَرد تو یہ حرکت نہ کریں عورتیں کر لیا کریں۔دو آدمیوں کے درمیان بیٹھنے کی ممانعت کی وجہ ذکرکرتے ہوئےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”کبھی دونوں کے درمیان محبت ہوتی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ تیسرا شخص ان کے درمیان آکر بیٹھے یا وہ کسی راز اور امانت کے بارے میں گفتگو کررہے ہوتے ہیں جس کے سبب انہیں تیسرے کی مداخلت شاق گزرتی ہےاس لئے دو آدمیوں کے درمیان بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔“سرگوشی سننے کی ممانعت:دلیل الفالحین میں ہے:”علامہ علقمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اگر دو آدمی آہستہ گفتگو کررہے ہوں اور تیسرا شخص بھی وہاں قریب میں موجود ہو لیکن اتنا دور ہو کہ اگر یہ دونوں اُونچی آواز میں گفتگو کریں تو اس تک آواز نہ پہنچے پھر وہ شخص اگر ان دونوں کی آہستہ گفتگو سننے کے لئے ان کے پاس آئے تو اس کا ایسا کرنا جائز نہیں۔علامہ ابنِ عبد البَرّرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ دو سرگوشی کرنے والوں کے پاس جائے جبکہ وہ سرگوشی کررہے ہوں۔“مدنی گلدستہ’’مجلسِ خیر‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) جو شخص جمعہ کے دن حدیث میں مذکور آداب کا لحاظ کرتا ہے تو اس جمعہ کی نماز کا ثواب پورے ہفتہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔
(2) دو آدمی بیٹھے ہوں تو تیسرا شخص بغیر اجازت ان کے درمیان آکر نہ بیٹھے۔
(3) جمعہ کی پہلی چارسنتیں گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔
(4) خطبہ کے وقت خاموش رہنا فرض ہے،لہٰذا اس وقت نفل پڑھنا،بات کرنا،کھانا پینا سب حرام ہے۔
(5) بعض لوگ مسجد میں تاخیر سے پہنچتے ہیں اورپہلی صف میں پہنچنے کی کوشش میں بلاوجہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہیں اُن کا ایسا کرنا جائز نہیں۔
(6) مجلس میں پہنچ کر دو آدمیوں کو جو ملے ہوئے بیٹھے ہوں اُن کو چیر کر بیچ میں بیٹھ جانا ممنوع ہےاور یہ حکم صرف مَردوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عورتوں کو بھی ہے۔
(7) دو آدمی سرگوشی کررہے ہوں تو تیسرے شخص کو اُن کی سرگوشی سننے کی اجازت نہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مجلس کے آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 829