Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 830

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ.وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنْ اَبِي مِجْلَزٍ :اَنَّ رَجُلاً قَعَدَ وَسْطَ حَلْقَةٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ:مَلْعُوْنٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْ لَعَنَ اللهُ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ.

عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن من جلس وسط الحلقة.وروى الترمذي عن ابي مجلز :ان رجلا قعد وسط حلقة فقال حذيفة:ملعون على لسان محمد صلى الله عليه وسلم او لعن الله على لسان محمد صلى الله عليه وسلم من جلس وسط الحلقة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا حذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ترمذی نےحضرتابو مِجْلَزْ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت کیا کہ ایک شخص حلقے کے درمیان بیٹھا تو حضرت سَیِّدُنَا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان پریہ شخص ملعون(یعنی لعنت کیا گیا )ہے۔“یا کہا:”اللّٰہتعالیٰ نے حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان سے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب کچھ لوگ حلقہ بنا کر بیٹھے ہوں یا سنتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے تو آنے والے اسلامی بھائی کو چاہیے کہ مجلس کے کنارے یا اختتام میں جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے یہ نہ ہو کہ سب کے کندھوں کو پھلانگتا ہوا حلقہ کے بیچ میں جا بیٹھے،اس طرح دوسروں کو ایذا بھی ہوتی ہے اور اپنا وقار بھی خراب ہوتا ہے اور ایسا کرنا سخت منع ہےکہ ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی گئی ہے۔حلقے کے درمیان بیٹھنے سے مراد؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:علامہ خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے فرمایا کہ حلقہ کے درمیان بیٹھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص آئے اور حلقہ کے آخریا کنارہ میں جہاں جگہ ملے وہاں نہ بیٹھے بلکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا درمیان میں جا بیٹھے،اس ایذا دینے کی وجہ سے اس پر لعنت کی گئی ہے۔ایذا یہ ہے کہ وہ حلقہ کے درمیان میں بیٹھا جس کے سبب کئی لوگوں کے لئے وہ رکاوٹ بنا اور اس کے بیٹھنے کے سبب(جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے )انہیں تکلیف پہنچی ۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اس فرمانِ عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو کوئی کسی جلسہ میں آخر میں آوے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتاہوا بیچ میں پہنچے وہ لعنتی ہے چاہیے کہ اگر کنارہ پر جگہ ملے تو وہاں ہی بیٹھ جاوے۔دوسرے یہ کہ یہ شخص درمیان میں بیٹھا ہو اور لوگ اس کے اِردگِرد دست بستہ کھڑے ہوں یہ عمل متکبرین کا ہے بڑا آدمی بھی لوگوں کے ساتھ حلقہ میں بیٹھے۔بعض لوگ مذاق دل لگی کرنے کے لیے کسی کو درمیانِ حلقہ میں بٹھاکر اسے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں وہ ہر طرف کے لوگوں سے مذاق کرتا ہے وہ بھی لعنتی ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص مجلس میں آیا ،طریقہ یہ تھا کہ جہاں جگہ خالی تھی وہاں بیٹھ جاتا تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہوتی لیکن اس نے ایسا نہ کیا بلکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا مجلس کے درمیان جاکر بیٹھ گیا یا یہ مطلب ہے کہ حلقے کے درمیان بیٹھ جاتا ہے تو لازماً بعض لوگوں کی طرف اس کی پشت ہوگی ،بعض لوگ اُس کے سبب پوشیدہ ہوجائیں گےاور بعض کو اس سے اذیت وتکلیف پہنچے گی اور لوگوں کو بلاوجہ پریشان کرنا لعنت ومذمت کا باعث ہے۔بعض نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ ملعون ہونے سے مراد یہ ہے جب حلقے میں بیٹھنے والوں کو تکلیف ہوگی تو وہ اسے لعن طعن کریں گےلیکن حدیث کے الفاظ ”مَلْعُوْنٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ“اس شرح کی اجازت نہیں دیتے اس لئے کہ یہ لعنت ومذمت نفس الاَمر(حقیقت) میں ہے خواہ لوگ لعنت کریں یا نہ کریں۔بعض علماء کی رائے یہ ہے یہاں حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے سے مراد مسخرہ ہے کیونکہ وہ اس کی پروا نہیں کرتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور وہ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا مذاق میں مصروف ہوتا ہے اور لوگ اس کے ارد گرد بطورِتَمَسْخُر(مذاق) کھڑےرہتے اور ہنستے ہیں،ایسے شخص کو ملعون کہا گیا ہے۔“مدنی گلدستہ’’ بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حلقے کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت کی گئی ہے۔
(2) حلقے کے درمیان بیٹھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص آئے اور حلقے کے آخریا کنارے میں جہاں جگہ ملے وہاں نہ بیٹھے بلکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا درمیان میں جا بیٹھے۔
(3) مجلس اور حلقے کے درمیان میں بیٹھنے والے پر لعنت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ وہ دوسروں کوبلاوجہ اذیت وتکلیف پہنچاتا ہے۔
(4) کوئی شخص درمیان میں بیٹھا ہو اور لوگ اس کے اِردگِرد دَست بستہ کھڑے ہوں یہ تکبر کرنے والوں کا طریقہ ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔
(5) ایسا مسخرہ بھی ملعون ہے جو اِس کی پروا نہیں کرتا کہ وہ کیا بول رہا ہے اور وہ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا مذاق کررہا ہوتا ہے اور لوگ اُس کے اِرد گِرد بطورِ تمسخر کھڑے اور ہنس رہے ہوتے ہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے مجلس کے درمیان بیٹھنےاور ہر ایسےفعل سے بچائےجو لعنت کا سبب بنے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 830