Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 833

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ بِاَخَرَةٍ اِذَا اَرَادَ اَنْ يَقُوْمَ مِنَ الْمَجْلِسِ:سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ فَقَالَ رَجُلٌ يَارَسُوْلَ اللهِ اِنَّكَ لَتَقُوْلُ قَوْلًا مَاكُنْتَ تَقُولُهُ فِيْمَا مَضَى ؟ قَالَ:ذٰلِكَ كَفَّارَةٌ لِّمَا يَكُوْنُ فِي الْمَجْلِسِ.

عن ابي برزة رضي الله عنه قال:كان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يقول باخرة اذا اراد ان يقوم من المجلس:سبحانك اللهم وبحمدك اشهد ان لا اله الا انت استغفرك واتوب اليك فقال رجل يارسول الله انك لتقول قولا ماكنت تقوله فيما مضى ؟ قال:ذلك كفارة لما يكون في المجلس.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو برزہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے:”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَیعنی اےاللّٰہ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“ایک شخص نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پہلے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھے؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں ۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ دونوں اَحادیث مبارکہ میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر کسی ایسی مجلس میں شرکت ہو کہ جس میں ایسی باتیں زیادہ ہوں جو آخرت کے لحاظ سے بے فائدہ ہوں تو مجلس کے اختتام پر حدیث پاک میں مذکور دعا پڑھ لینی چاہیے تاکہ اگر مجلس میں گناہ بھری یا فضول اور بے فائدہ گفتگو ہوئی ہو تو یہ دُعا اس کا کفارہ بن جائے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہاں گناہوں کی معافی سے مراد وہ گناہ ہیں جو کبیرہ گناہوں کے علاوہ ہوں کیونکہ کبیرہ گناہ یا تو توبہ سےمعاف ہوتے ہیں یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے فضل و کرم سے۔“وقت برباد کرنا بھی گناہ ہے :مرآۃ المناجیح میں ہے:(حدیث پاک میں مذکور لفظ)لَغَطُهُسے مراد بے فائدہ گفتگو جس میں وقت ضائع ہو کہ یہ بھی نقصان دہ چیزہے۔بعض نے فرمایا کہ بے ہودہ گفتگولَغَطہے جس میںحَقُّ اللّٰہضائع ہو۔غرضکہ فریب،جھوٹ،غیبت اس سے خارج ہیں کہ یہ چیزیں حقوقُ العباد میں سے ہیں بغیر معاف کرائے معاف نہ ہوں گی۔ اس دعا کا ماخذ یہ آیت ہوسکتی ہے:﴿وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ(۴۸)﴾(پ۲۷،الطور:۴۸) (ترجمہ ٔکنز الایمان: اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو جب تم کھڑے ہو۔)یعنی اس اِضاعتِ وقت(یعنی وقت ضائع کرنے ) کے قصور اور تیری نعمتِ زبان کو غلط استعمال کرنے کی غلطی سے توبہ کرتا ہوں، میں قصور مند بندہ ہوں تُو غفور رحیم رب ہے معافی دے دے۔سُبْحَانَ اﷲ! کیسی پاکیزہ دعا ہے۔بخشش سے وہ ہی مراد ہے جو ابھی اوپر عرض کیا گیا کہ جیسے مال برباد کرنا گناہ ہے ایسے ہی وقت برباد کرنا بھی گناہ،وقت مال سے زیادہ لائقِ قدر ہے اسی گناہ کی معافی مانگی گئی۔اِنسان کا سرمایہ:انسان کا سرمایہ اُس کے اوقات ہیں اورجب وہ انہیں بے فائدہ کاموں میں صَرف کرتا ہے اور اس سرمایہ کو آخرت کے لئے ذخیرہ نہیں کرتاتو بے شک وہ اپنا سرمایہ ضائع کرنے والا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْء تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِیعنی انسان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے کہ جو نفع نہ دے اسے چھوڑ دے۔“بے فائدہ کلام کی تعریف:حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:بے فائدہ کلام وہ ہے کہ اگر تم اسے نہ کرو تو نہ تمھیں کوئی گناہ ہو اورنہ ہی کسی قسم کا کوئی نقصان۔ اسے یوں سمجھئے کہ جیسے آپ اپنے کسی سفر کا حال لوگوں کے سامنے بیان کریں، دورانِ سفر لوگوں سے ملاقات کے واقعات، پسندیدہ کھانوں، کپڑوں پہاڑ وں اور نہروں وغیرہ کا بیان کریں۔تو یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان کے بیان نہ کرنے پر نہ تو کوئی گناہ ہے نہ فی الحال یا آئندہ کسی قسم کا کوئی نقصان اور یہ بھی اسی صورت میں ہے جبکہ واقعات میں اپنی طرف سے نہ تو جھوٹی مبالغہ آرائی ہو نہ ہی اپنا تزکیہ ٔنفس(نیک وپاک ہونا)بیان کیا گیا ہو، نہ کسی کی غیبت یا بُرائی بیان کی ہو۔ان تمام باتوں کا خیال رکھنے کے باوجود اِن واقعات کو بیان کرنے میں بہت ساقیمتی وقت ضائع ہو گیا ۔ایک سال تک روزے رکھنے کی سزا:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”ایک بزرگ کسی محل کے دروازے کے پاس سے گزر ے تو ما لک سے پوچھا: تم نے یہ مکان کب بنایا؟ مالک ابھی جواب دینے ہی والا تھا کہ فوراً اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اے دھوکے باز نفس!تو نے ایسی شے کے بارے میں سوال کیا جو تیرے مطلب کی نہیں لہٰذا میں تجھے ایک سال کے روزے رکھ کر سزا دوں گا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 833