Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 834

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَلَّمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْمُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتّٰى يَدْعُوَ بِهٰؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ:اللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُوْلُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِیْکَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِيْنِ مَاتُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنيَا اللّٰهُمَّ مَتِّعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَااَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَاْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيْبَتَنَا فِي دِيْنِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا اَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:قلما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم من مجلس حتى يدعو بهؤلاء الدعوات:اللهم اقسم لنا من خشيتك ما تحول به بيننا وبين معاصیک ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ماتهون به علينا مصائب الدنيا اللهم متعنا باسماعنا وابصارنا وقوتنا مااحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثارنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا اكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں :بہت کم ایسا ہوتا کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان الفاظ کے ساتھ دعا مانگے بغیر مجلس سے تشریف لے جاتے:”اللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُوْلُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِیْکَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِيْنِ مَاتُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنيَا اللّٰهُمَّ مَتِّعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَااَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَاْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيْبَتَنَا فِي دِيْنِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا اَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا.یعنی اےاللّٰہ!ہمیں اپنے خوف سے وہ حصہ عطا فرماجو ہمارے اور گناہوں کے درمیان آڑہو جائے اور اطاعت سےوہ حصہ عطا فرما جس کےذریعے تو ہمیں جنت میں پہنچادے اور یقین سےوہ حصہ عطا فرما جس کے ذریعےتو ہم پر دنیا کے مصائب آسان کر دے۔اےاللّٰہ! جب تک ہمیں زندہ رکھ اپنے کانوں،آنکھوں اور قوت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمااور اسے ہمارا وارث بنا اور ہمارا انتقام صرف ان لوگوں تک محدود کردے جو ہم پر ظلم کریں اور دشمنوں کے مقابل ہماری مدد فرما اوردینی معاملات میں ہمیں مصائب میں مبتلا نہ فرمااور دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد نہ بنا اور دنیا کو ہمارے علم کا مقصد نہ بنا اور بے رحم لوگوں کو ہم پر مسلط نہ فرما۔

شرح حدیث

حدیث سے ماخوذ مسائل وفوائد:اس حدیثِ پاک کے تحت مرآۃ المناجیح میں جو مسائل وفوائد اور مدنی پھول ذکرکئے گئے ہیں وہ یہ ہیں: * اکثرکسی مجلس سے اٹھتے وقت سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ دعا مانگ لیتے تھے اور یہ سب کچھ صحابہ کرام کی اور ان کے ذریعہ ہماری تعلیم کے لیے تھا۔خیال رہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی جن دعاؤں میں مغفرت کی طلب یا گناہوں کا اقرار ہے ان سب میں تعلیمِ اُمَّت مقصود ہے ورنہ سرکار خود معصوم ہیں بلکہ ارادۂ گناہ سے محفوظ ہیں۔*’’اےاللّٰہ!ہمیں اپنے خوف سے وہ حصہ عطا فرماجو ہمارے اور گناہوں کے درمیان آڑہو جائے۔‘‘ یعنی ہم سب کو اپنا دلی خوف دے جس کی بر کت سے ہم گناہوں سے محفوظ رہیں۔تَحُوْلُواحد مخاطب ہے اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ خوفِ خدااللّٰہکی نعمت ہے اور اس خوف کے بعد بھی ہمیں گناہوں سے ربّ ہی بچاتا ہے ہم خود نہیں بچتے،مطلقًا خوفِ خدا تو شیطان کو بھی حاصل ہے،ربّ تعالیٰ نے اس کا قول قرآنِ پاک میں نقل فرمایا:﴿اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(۲۸)﴾(پ۶،المائدہ :۲۸) (ترجمہ ٔکنز الایمان:میںاللّٰہسے ڈرتا ہوں جو مالک سارے جہان کا۔)خوفِ خدا اور عشق ِجنابِ مصطفےٰکی بڑی نعمتیں ہیں۔*’’اور اطاعت سےوہ حصہ عطا فرما جس کے ذریعے تو ہمیں جنت میں پہنچادے۔‘‘ یعنی ہمیں اپنی بندگی کی توفیق بھی دے اور اسے قبول بھی فرما،یہاں بھی وہی اشارہ ہے کہ فقط عبادت جنت میں پہنچنے کے لیے کافی نہیں،مؤمن جنات اور فرشتوں کی عبادتیں انہیں جنتی نہیں بناتی۔*’’اور یقین سےوہ حصہ عطا فرما جس کے ذریعےتو ہم پر دنیا کے مصائب آسان کر دے۔‘‘ربّ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ہر مصیبت کے بعد دو۲ آسانیوں کی بشارت دی ہے:﴿فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ(۵)﴾(پ۳۰، الم نشرح:۵) (ترجمہ ٔکنز الایمان: تو بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔)خدایا ہمیں اس بشارت پر ایسا یقین ہو جائے کہ ہم ہر مصیبت کو آئندہ راحت کا پیش خیمہ سمجھیں جس کی وجہ سے یہ زحمت رحمت بن جائے۔شعر
ناخوش اور خوش بود در جانِ مَن ……… جان فدائے یار دِل رنجانِ من
*’’اے
اللّٰہ!جب تک ہمیں زندہ رکھے ہمیں اپنے کانوں ،آنکھوں اور قوت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما۔‘‘ یعنی ہمیں توفیق دے کہ اپنے حَوَاس و قوَّتوں کے ذریعہ دنیوی و اُخروی نفع اٹھائیں کہ انہیں تیری طاعتوں میں صَرف کریں۔*’’اور اسے ہمارا وارث بنا ‘‘ اس جملہ کی بہت شرحیں ہیں، بہترین شرح یہ ہے کہ وارث سے مراد مِیراث ہے یعنی ہمارے تقویٰ اور مذکورہ نفع کو ہماری مِیراث بھی بنا کہ ہمارے بعد لوگ ہماری ان صفات کو اختیار کرلیں اور فائدے اٹھائیں۔ہماری مِیراث صرف مال نہ ہو بلکہ مال،حال،اعمال، کمال اور خوفِذُوْالجَلَالسب کچھ ہماری مِیراث ہو۔خیال رہے کہ مِیراثِ اِضطراری صرف بعض رشتہ داروں کو ملتی ہے مگر مِیراث اِختیاری تا قیامت سارے انسانوں کو۔کنویں،مساجد، سرائیں،قبرستان،وغیرہ مَوقوفہ (وقف کی گئیں)چیزوں سے سبھی فائدہ اٹھاتے ہیں،یہ مال کی میراث اختیار ی ہے،علما کے علم،صوفیاء کے تقوےاورحضورعَلَیْہِ السَّلَامکے کمالات سے تاقیامت دنیا فائدہ اٹھائے گی، سخیوں کی کمائی میں فقیر وں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔شعر
ہاتھ اٹھا کر ایک ٹکڑا اے کریم ……… ہیں سخی کے مال میں حقدار ہم
*’’ہمارا انتقام صرف ان لوگوں تک محدود کردے جو ہم پر ظلم کریں۔‘‘ یعنی ہمیں توفیق دے کہ ہم بدلہ لینے میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑیں صرف ظالم سے ہی بدلہ لیں،جاہلیت والوں کی طرح ایک فرد کا بدلہ ساری قوم سے نہ لیں۔
ثَارَکے لغوی معنیٰ ہیں کینہ،غصہ اور بدلہ،اس جملہ کی اور بھی شرحیں کی گئیں ہیں مگر یہ شرح بہتر ہے۔*’’اور دشمنوں کے مقابل ہماری مدد فرما‘‘ اس طرح کہ ہمیں ذاتی دشمنوں کو معاف کرنے کی ہمت دے اور قومی و دینی دشمنوں کو مغلوب کرنے کی طاقت دے۔*’’اوردینی معاملات میں ہمیں مصائب میں مبتلا نہ فرما‘‘ یعنی ہم پرایسی مصیبت نہ بھیج جو ہمارا دین برباد کردے کہ ہمیں بدعقیدہ بنادے یا ناقص کردے کہ ہم حرام کھانے لگیں یا عبادات میں کوتاہی کرنے لگیں۔*’’اور دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد نہ بنا ‘‘ یعنی نہ تو ہمارا یہ حال ہو کہ مال،عزت،سلطنت وغیرہ ہمارا اصل مقصد بن جائے اور نہ یہ حال ہو کہ ہمارے علم اور فکر دنیا ہی کے لیے وقف ہوں یا فقط ہم دنیاوی علوم ہی پڑھیں دینی علوم کی طرف توجہ ہی نہ دیں اور دینی علم بھی سیکھیں تو صرف اپنی تعظیم کرانے اور مال کمانے کے لیے،ر بّ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ(۲۹) ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِؕ-﴾(پ۲۷، النجم:۲۹،۳۰)(ترجمہ ٔکنز الایمان: اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے۔)اس دعا میں اشارۃً فرمایا گیا کہ دنیا کا قصد اور علم سے دنیا حاصل کرنا قدرے جائز ہے بلکہ اگر یہ دنیا دِین کے لیے ہو تو اس کا طلب کرنا عبادت ہے،دنیا صِفر ہے اور دِین عَدَدْ،صِفر اگر اکیلا ہو تو کچھ بھی نہیں اور اگر عدد سے مل جائے تو اسے دس گنا کردیتی ہے۔*’’اور بے رحم لوگوں کو ہم پر مسلط نہ فرما‘‘ یعنی دنیا میں ہم پر نفس امارہ، شیطان،کافر و ظالم سلطان کو مسلط نہ کر اور قبر و حشر میں عذاب کے فرشتوں کو ہم پر مقرر نہ فرما لہٰذا یہ جملہ نیا ہے پہلے جملوں کا تکرار نہیں۔مدنی گلدستہ’’مَسْجَدِ نبوی‘‘کے8حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) بے فائدہ گفتگو جس میں وقت ضائع ہو یہ آخرت کے لئے نقصان دہ ہے۔
(2) وقت کی قدروقیمت مال سے زیادہ ہے۔
(3) انسان کا سرمایہ اس کے اوقات ہیں اورجب وہ انہیں بے فائدہ کاموں میں صَرف کرتا ہے اور اس سرمایہ کو آخرت کے لئے ذخیرہ نہیں کرتاتو بے شک وہ اپنا سرمایہ ضائع کرنے والا ہوتا ہے۔
(4) بے فائدہ کلام وہ ہے کہ اگر اسے نہ کیا جائے تو کوئی گناہ اورنہ ہی کسی قسم کا کوئی نقصان ہو ۔
(5) سرکارِ مدینہ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مَروی جن دعاؤں میں مغفرت کی طلب یا گناہوں کا اقرار ہے ان سب میں تعلیمِ اُمَّت مقصود ہے ورنہ سرکار خود معصوم ہیں بلکہ اِرادۂ گناہ سے محفوظ ہیں۔
(6) خوفِ خدا اور عشقِ مصطفےٰ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بڑی نعمتیں ہیں۔
(7) قرآنِ کریم میں ہر مصیبت کے بعد دو آسانیوں کی خوشخبری ہے۔
(8) علمِ دِین سے دنیا حاصل کرنا قدرے جائز ہےاور اگر یہ دنیا کا حُصُول دِین کے لیے ہو تو اس کا طلب کرنا عبادت ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مجلس سے اُٹھتے وقت مجلس کے اختتام کی دعا پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 834