Main Icon

باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 827

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا اِذَا اَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ اَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِيْ .

عن جابر بن سمرة رضي الله عنهما قال:كنا اذا اتينا النبي صلى الله عليه وسلم جلس احدنا حيث ينتهي .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔“

شرح حدیث

لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل ہمیں اگر سنتوں بھرے اجتماع وغیرہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہو اور ہم چونکہ اپنے طور پر اپنے آپ کو معزز سمجھتے ہیں اس لیے ہماری تو یہ ہی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں نہایت ہی ادب و اِحترام کے ساتھ منچ پر یا کم از کم اگلی نشست پر ہی بٹھائیں ہمارا تعارف بھی پیش ہونا چاہیے،عوام کے سامنے ذرا اچھے القاب کے ساتھ ہمارا اعلان بھی ہوجائے وغیرہ وغیرہ جبکہ ہمارے پیارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے جاں نثار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکواس قدر پاکیزہ آداب اور سنتوں کی تعلیم فرمائی کہ یہ حضراتِ قُدسیہ جب بھی مجلس میں داخل ہوتے تو انہیں مجلس کے آخر میں جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتے۔چنانچہ مرآۃ المناجیح میں ہے:”(آنے والا) کنارہ مجلس پر بیٹھتا تھا لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر درمیان پہنچنے کی کوشش نہ کرتاتھا یہ آداب حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سکھائے تھے۔“ آج بدقسمتی سے ہم لوگ کس قدر سنتوں سے دور ہیں کہ اَوَّلاً تو اجتماعات میں آتے ہی نہیں پھر جو آتے ہیں اُن میں سے بعض دیر سے آتے ہیں اور پھر دھکے مارتے ہوئے لوگوں سے ٹکراتے ہوئے آگے بڑھے چلے جاتے ہیں حالانکہ اس طرح کرنے سے پہلے سے آنے والوں کو تکلیف پہنچتی ہےاور اُن کی حق تلفی بھی ہوتی ہے۔یونہی جہاں کہیں کسی بھی مقصد کے لیے قطار بنائی گئی ہو اس کے اندر بیچ میں گھسنابھی سخت نادانی ہے،یقیناً جتنے اسلامی بھائی آپ کے پیچھے ہیں اُن سب کی حق تلفی ہوئی، وہ نہ بھی دیکھ رہے ہوں ربعَزَّ وَجَلَّتو دیکھ رہا ہے،ایک دو کے اجازت دینے سے بھی بیچ میں گھسنا جائز نہ ہوگا،جب تک کہ قطار والے سب اجازت نہ دیں،اتنی اُلجھنوں میں پڑنے کی بجائے آخر میں کھڑے ہوجانا ہی مناسب ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ مجلس میں بعد میں آنے والا پہلے سے موجودلوگوں کا ادب کرتے ہوئے انہیں تکلیف دینے سے بچنے کے لئےاورنفس جو بلند مرتبے کی خواہش کرتا ہے اس کی مخالفت کرنے کے لئےآگے نہ بڑھے ۔“حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی مجلس:شہنشاہِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عاجزی و اِنکساری پرقربان!آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے بیٹھنےکی کوئی جگہ معین نہ فرماتے اور مجلس کے آخری حصے میں بھی بیٹھ جاتے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا امام حسن مجتبیٰرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سَیِّدُنا علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے دریافت کیا : تاجدارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماٹھتے بیٹھتےاللّٰہتعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے،کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتےاور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔جب کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔اپنے ہم نشینوں کو علیٰ قدرِمراتب (یعنی ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق) نوازا کرتے تھے جس سے ہر ایک یہی گمان کرتا تھا کہ آقائے دوجہان، رحمتِ عالَمیانصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سب سے زیادہ نظرِ کرم میرے ہی حال پر ہے۔ جو شخص بارگاہِ رسالتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں حاضر ہوتا یا کسی حاجت کے سبب آنا پڑتا تو جب تک وہ فارغ ہو کر چلا نہ جاتا اتنی دیر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے پاس تشریف رکھتے۔ جس نے بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں اپنی حاجت پیش کی اس کی ضرور آ پصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حاجت روائی فرمائی یا اسے سمجھا کر مطمئن کردیا۔مدنی گلدستہ’’ عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں مجلس ختم ہورہی ہو۔
(2) ہمارے پیارے نبی
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے آداب بھی بتائے۔
(3) مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا بُرا ہے۔
(4) حضورنبی پاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتےاور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے۔
(5) حضورنبی اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مجلس کے آداب پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 827