Main Icon

باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1070

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلَاةُ اِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ. فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَاِنَّمَا يَاْكُلُ الذِّئْبُ مِنَ الْغَنَمِ الْقَاصِيَةَ.

عن ابي الدرداء رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول: ما من ثلاثة في قرية ولا بدو لا تقام فيهم الصلاة الا قد استحوذ عليهم الشيطان. فعليكم بالجماعة فانما ياكل الذئب من الغنم القاصية.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا :”جس بستی یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز کی جماعت نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، پس تم پرجماعت لازم ہے کیونکہ بھیڑیا اس بکری کو کھاتا ہے جو ریوَڑ سے دور ہو۔“

شرح حدیث

تنہا شخص پر شیطان غالب آجاتا ہے:حدیث مذکور میں جماعت کی اہمیت و برکت بیان کی گئی ہے کہ جماعت میں شریک ہونے والا شیطان سے محفوظ رہتا ہے اسی لیے جب کسی بستی یا جنگل میں تین افراد ہوں تو انہیں چاہیے کہ جماعت سے نماز ادا کریں ورنہ شیطان ان پر غالب آتاہے،انہیں دوسرے ذکر و اذکار سے بھی روک دیتا ہے معلوم ہوا کہ نماز چھوڑنا غفلت کا دروازہ ہے۔ اور جماعت سے دور رہنے والےپر شیطان اس طرح حملہ کرتا ہے جیسے بھیڑیا ریوڑ سے دوررہنے والی بکری پر حملہ کرتا ہےکیونکہ وہ چرواہے کی نگاہ سے دور ہوجاتی ہے ،ایسے ہی جماعت کا تارک جنابِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی نگاہِ کرم سے محروم ہوجاتا ہے۔اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث مذکورمیں جماعت کو لازم پکڑنے کا حکم سب کو عام ہےکسی خاص فرد کےلئے نہیں ۔یہاں تارک ِ جماعت کو ریوڑ سےالگ رہنے والی بکری سے تشبیہ دی گئی ہے جو چرواہے کی نظر سے دور ہوتی ہےتو بھیڑیا اس پر حملہ کرتاہے۔جماعت پراﷲ عَزَّ وَجَلَّکا دستِ قدرت ہے اورجماعتاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی حفاظت میں ہوتی ہے تو جوشخص جماعت سے دورہوجائے شیطان اسے بہکاکرایسی ہلاکت و گمراہی میں مبتلا کردیتاہے جو اسے دوزخ کی طرف لے جاتی ہے۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک میں جماعت کو لازم پکڑنے کا حکم دیا گیا ہےیہ حکمِ عام ہے نماز کی جماعت ہو یا نماز کے علاوہ مسلمانوں کی جماعت، ہر حال میں جماعت کے ساتھ رہنا چاہیے۔ حدیثِ پاک میں تین اَفراد کا ذِکر کیا گیا کیونکہ جمع کی کم از کم مقدارتین ہے۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے کے مقابلے میں کئی گُنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ تنہا نماز پڑھنے والا کسی صورت جماعت کی فضیلت حاصل نہیں کرسکتا لہٰذا تمام فرض نمازیں مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کریں، اگرکسی جگہ قریب کوئی مسجد نہ ہو یا وہاں جماعت نہ ہوتی ہوتو پھر بھی کوشش کرکے کم از کم کسی ایک مسلمان کو اپنے ساتھ نماز میں شریک کرلیں اور جماعت قائم کریں کیونکہ
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک جماعت سے نماز پڑھنا بہت افضل عمل ہے،چنانچہ تاجدارِ مدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”دوشخصوں کا اس طرح نماز پڑھنا کہ ان میں سے ایک امام بنے تو یہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک چار افرادکےتنہا نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے اور چار لوگوں کا باجماعت نمازپڑھنا آٹھ افراد کے الگ الگ نماز پڑھنے سے افضل ہے، اور آٹھ افراد کا باجماعت نماز پڑھنا سو افراد کے تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت……ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
پڑھوں سنتِ قبلیہ وقت ہی پر……ہوں سارے نوافل ادا یاالٰہی
مدنی گلدستہ’’ جنت الفردوس ‘‘کے10حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) اگرکسی جگہ تین اَفراد ہوں تو انہیں چاہیے تنہا تنہا نماز پڑھنے کے بجائے جماعت قائم کریں ورنہ شیطان ان پر غالب آجائےگا اور دیگر نیک اُمُور سے بھی روک دے گا۔
(2) کسی مَصلحت کے پیشِ نظر زیادہ مرتبے والے کے ہوتے ہوئے کم مرتبے والا امامت کراسکتا ہے ۔
(3) مسلمانوں پر جماعت اور مسجد کی حاضری دونوں چیزیں واجب ہیں۔
(4) علمائے کرام
رَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامنے مسجد میں جمع ہوکر نماز ادا کرنے کو شعارِ دین قرار دیا ہے۔
(5) جماعت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس پیارے نبی کو ربِّ کریم نے رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن بنایا وہ فرماتے ہیں: ”جی چاہتا ہے کہ جو لوگ باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے مسجدنہیں آتے اُن کے گھروں کو جلادوں۔“
(6) پنج وقتہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنا خاتمہ بالخیرہونے کا بہترین نسخہ ہے۔
(7) جوکام حضور نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بطور عبادت کئے وہ سنتِ ہُدیٰ کہلاتے ہیں۔
(8) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانشدید بیماری کی حالت میں بھی جماعت نہ چھوڑتے اگرچہ کسی کا سہارا لے کر مسجد آنا پڑتا ۔
(9)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک دو اَفراد کا باجماعت نماز پڑھنا چار اَفرادکے علیحدہ نماز پڑھنے سے اور چار کا باجماعت نمازپڑھنا آٹھ افراد کے الگ الگ نماز پڑھنے سے اور آٹھ اَفراد کا باجماعت نماز پڑھنا سو اَفراد کے تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
(10) جماعت پر
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی خاص رحمت ہوتی ہے،جومسلمان جماعت کے ساتھ ہو شیطان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہتا ہے۔اﷲعَزَّ وَجَلَّہمیں دِین ودُنیا کی بھلائیاں عطا فرمائےاور جماعت کی پابندی کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1070