Main Icon

باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1068

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَ يْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَقَدْ هَمَمْتُ اَنْ آمُرَ بحَطَبٍ فَيُحْتَطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ اُخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ فَاُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوْتَهُمْ.

عن ابی ھر يرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: والذي نفسي بيده! لقد هممت ان آمر بحطب فيحتطب، ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها، ثم آمر رجلا فيؤم الناس، ثم اخالف الی رجال فاحرق عليهم بيوتهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!میں نے اِرادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنےکا حکم دوں جب جمع کرلی جائیں تو نماز کا حکم دوں، جب اذان دے دی جائے،تو کسی کو لوگوں کی اِمامت کا حکم دوں، پھراُن لوگوں کی طرف جاؤں (جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے) اور ان کے گھروں کو جلادوں۔“

شرح حدیث

صحابہ کرام جماعت کے پابند تھے:شارحِ بخاری عَلّامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ظاہر ہے کہ یہ زجر و توبیخ منافقوں کے لیے تھی کیونکہ یہی لوگ عشا کی نماز سے سُستی کرتے تھے۔ صحابۂ کرامرَضِیَ اﷲ عَنْہُمْجن کو سرورِ کائناتصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ہدایت کے ستارے فرمایا اور ان میں سے ہر ایک کی اقتدا کو اہتداء (یعنی ہدایت پانے) کا سبب فرمایا اور یہ فرمایا کہ میرے صحابہ پر سَبّ و شَتم (گالی گلوچ)نہ کرو اگر بعد میں آنے والے لوگ پہاڑوں سونا خرچ کردیں تو اُن کے ثواب کے عشرِعشیر(100ویں حصے) کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔(تو اُن سے جماعت کو ترک کردینا کیسے متصور ہوسکتا ہے؟)اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ افضل(زیادہ فضیلت والے)کے ہوتے مَفضول (کم فضیلت والا)امامت کرسکتا ہے جبکہ اس میں مَصلحت ہو اور یہ کہنا کہ رسولصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص امامت نہیں کرسکتا صحیح نہیں اور وہ اس سے ناواقف ہے کہ سرورِ کائناتصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی موجودگی میں پانچ روز ایامِ مرض میں ابو بکر صدیقرَضِیَ اﷲ عَنْہُنماز پڑھاتے رہے تھے اور خود سرورِ کائناتصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے حضرت عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اﷲ عَنْہُکی اقتدا میں فجر کی نماز پڑھی۔“باجماعت نماز کی اہمیت:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور میں اس بات کی تاکید و مبالغہ ہے کہ نماز باجماعت میں حاضر نہ ہونے والوں کو ضرور سزا ملنی چاہیے کیونکہ حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کام کے لیے اپنے آپ کو نماز کی امامت کے لیے پابند نہیں کررہے بلکہ کسی اور کو اپنا نائب بناتے ہیں اور خود جماعت چھوڑنے والوں کو اور ان کے گھروں کو جلانے کا ارادہ فرماتے ہیں۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر جماعت کی نماز بھی واجب ہے اور مسجد کی حاضری بھی کیونکہ نورِ مجسم، رحمتِ عالَم سراپا اخلاق تارکینِ جماعت کے گھر جلانے کا ارادہ فرمارہے ہیں۔“مسجد میں نمازِباجماعت پڑھنا شعارِدین ہے:شارحِ بخاری علامہ سید محمود احمد رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں : ”حضور سیدِ عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا عمومی عمل یہی تھا کہ آپ فرض نمازیں باجماعت ادا فرماتے اِلَّا یہ کہ کوئی مجبوری پیش آجاتی۔ صحابہ کرامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمْکا بھی اسی پر عمل تھا اور عہدِ نبویصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عتاب بن اُسید نے جو عہدِ نبویصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں مکہ کے گورنر تھے، اپنے خطبہ میں فرمایا: ”اے اہلِ مکہ، خدا کی قسم! اگر مجھے یہ خبر پہنچی کہ تم میں سے کوئی قصدًا جماعت کی نماز کے لیے مسجد میں نہیں آیا تو میں اس کی گردن مار دوں گا“ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام کی دوربین نگاہ میں جماعت سے مسجد میں نماز پڑھنے کی کتنی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ علما نے مسجد میں جمع ہوکر نماز ادا کرنے کو شعارِ دین قراردیا۔ جماعت کی اہمیت کے لیے یہ کچھ کم ہے کہ ساری مخلوقات میں جو شخصیت سب سے زیادہ رحیم و کریم ہے اور جسے اس کے رب کریم نےرَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنقرار دیا ہے وہ فرماتا ہے: ”جی چاہتا ہے کہ جو لوگ باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں نہیں آتے ان کے گھروں کو جلادوں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1068