Main Icon

باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1066

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ اَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! لَيْسَ لِيْ قَائِدٌ يَقُوْدُ نِیْ اِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَاَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّي فِيْ بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ ، فَلَّمَا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: ہَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاَجِبْ.

عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ قال: اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل اعمى، فقال: يا رسول الله! ليس لي قائد يقود نی الى المسجد، فسال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يرخص له فيصلي في بيته فرخص له ، فلما ولى دعاه فقال له: ہل تسمع النداء بالصلاة؟ قال: نعم، قال: فاجب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک نابینا شخص نے حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے مسجد تک پہنچانے والا کوئی نہیں، میں گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت چاہتاہوں، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے اجازت مرحمت فرمادی، جب وہ واپس جانے لگاتو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اسے بُلاکر فرمایا: ” کیا تم نماز کے لیے اذان سنتے ہو؟‘‘ عرض کی: جی ہاں، فرمایا: ”تو پھر مسجد ہی میں آکر نماز اداکیا کرو۔‘‘

شرح حدیث

وہ نابینا کون تھے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خدمت میں جو صحابی حاضر ہوئے وہ حضرت سَیِّدُنا ابنِ اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ مجھے مسجد تک پہنچانے والا کوئی نہیں یعنی میرے پاس کوئی غلام یا خادم نہیں ہے جو میرا ہاتھ پکڑے اور مجھے جماعت سے نماز ادا کرنے کے لیے مسجد تک لے آئے۔ آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ درخواست اس لیے کی تھی کہ آپ حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے مسجد کی جماعت ترک کرکے گھر میں جماعت کے ساتھ یا انفرادی طورپر نماز پڑھنے کی اجازت حاصل کرنا چاہتے تھے تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اولاً انہیں اجازت مرحمت فرمائی لیکن جب یہ واپس لوٹ گئے تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں بلایا اور فرمایا: کیاتمہیں نماز کے لیے دی جانے والی اذان سنائی دیتی ہے؟ عرض کی: جی ہاں، تو فرمایا:پھر جماعت میں حاضر ہوا کرو۔“جماعت ترک کرنے کے اَعذار:خیال رہے کہ ہر عاقل بالغ آزاد اورقادرمسلمان پرپنج وقتہ نماز جماعت سے پڑھنا واجب ہے، ہاں!مجبوری کی صورت میں جماعت ترک ہو جائے تو گناہ نہیں،یہاں چند وہ باتیں بیان کی جاتی ہیں جن کی وجہ سے جماعت ترک کی جائے توگناہ نہیں ،چنانچہ”بہارِ شریعت“ میں ہے:(1) مریض جسے مسجد تک جانے میں مُشقّت ہو (2) اپاہج (3) جس کا پاؤں کٹ گیا ہو (4)جس پر فالج گرا ہو (5) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے(6) اندھا اگرچہ اندھے کے ليے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے (7)سخت بارش اور(8) شدید کیچڑ کا حائل ہونا(9)سخت سردی(10)سخت تاریکی (11)آندھی (12)مال یا کھانے کے تلف(ضائع) ہونے کا اندیشہ (13)قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے (14) ظالم کا خوف (15) پاخانہ (16) پیشاب (17) ریاح کی حاجت شدید ہے (18) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو (19) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے (20) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے ليے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا، یہ سب ترکِ جماعت کے ليے عُذر ہیں۔دواِشکال اور اُن کے جوابات:سوال:جب نابیناکو جماعت ترک کرنے کی اجازت ہےتو پھر حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنا اِبن اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو جماعت چھوڑنے کی اجازت کیوں عطا نہ کی؟ اس میں کیا حکمت تھی؟
جواب :حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُافضل مہاجرین صحابہ کرام میں سے ہیں تو ان کی فضیلت و شان کے لائق جماعت میں حاضر ہونے کا حکم دیا گیااور حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ حکم وحی کی وجہ سے یا اپنے اجتہاد کی بنا پردیا۔ “اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانَۂ شَمعِ رِسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”اس سلسلہ میں ہماری رائے یہی ہے، حقیقتِ حال سےاﷲہی آگاہ ہے کہ حضرت اِبنِ اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُپر چلنا دشوار نہ تھا اور وہ بغیر کسی حرج کے راستہ پالیتے تھے جیسا کہ اب بھی بہت سے نابینا لوگوں میں یہ مشاہدہ کیاجاتاہے پھر میں نےزُرْقَانِی عَلَی الْمُؤَطّاکا مطالعہ کیا تو اس میں بعینہٖ یہی بات منقول تھی کہ تمام اہلِ علم کی یہی رائے ہے کہ اُن پرتنہا چلنے میں دشواری نہ تھی جیسا کہ اب بھی بہت نابینا افراد پرتنہاچلنا دشوار نہیں ہے۔“
اس کا یہ جواب بھی ممکن ہے کہ فقط جماعت کی تاکید بیان کرنے کے لیے ایسا فرمایا ہو جیسے ترکِ نماز کو کفرقرار دیا گیا یا اس طرح کی دیگربے شمار حدیثیں۔
ہر بیماری ترکِ جماعت کا عذر نہیں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” اس (حدیثِ پاک ) سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچے وہاں تک کے لوگوں کو مسجد میں آنا بہت ضروری ہے، وہ دور کے لوگ جہاں اذان نہ پہنچی ہو ان کے لیے بھی مسجد آنا بہت بہتر ہے مگر اتنی سختی نہیں، اس حدیث کا یہی مطلب ہے۔”لَاصَلٰوۃَ لِجَارِالْمَسْجِدِ اِلَّافِی الْمَسْجِدِ“(یعنی مسجد کے پڑوسی کی مسجد کے علاوہ نماز کامل نہیں ہوتی۔) دوسرے یہ کہ ہر بیماری عذر نہیں جو جماعت یا مسجد کی حاضری کو معاف کردے بلکہ وہ بیماری عذر ہے جس سے مسجد میں آنا ناممکن یا سخت مشکل ہوجائے، دیکھو نابینا ہیں بیمار ہیں مگر انہیں حاضری کا حکم ہوا، بعض روایات میں ہے کہ عتبان ابنِ مالک نابینا( صحابیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ) کو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے مسجد نہ آنے کی اجازت دے دی یا تو ان کا گھر دور ہوگا جہاں اذان کی آواز نہ پہنچتی ہوگی یا ان کا راستہ اتنا خراب ہوگا کہ بغیر ساتھی کے مسجد نہ پہنچ سکیں اور ساتھی کوئی ہوگا نہیں، لہٰذا اَحادیث میں تعارُض (اختلاف وٹکراؤ)نہیں ،اذان کی آواز پہنچنے سے مراد آج کل کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز نہیں یہ تو دو دو میل تک پہنچ جاتی ہے۔ “

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1066