- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1066
باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1066
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ اَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! لَيْسَ لِيْ قَائِدٌ يَقُوْدُ نِیْ اِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَاَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّي فِيْ بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ ، فَلَّمَا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: ہَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاَجِبْ.
عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ قال: اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل اعمى، فقال: يا رسول الله! ليس لي قائد يقود نی الى المسجد، فسال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يرخص له فيصلي في بيته فرخص له ، فلما ولى دعاه فقال له: ہل تسمع النداء بالصلاة؟ قال: نعم، قال: فاجب.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک نابینا شخص نے حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے مسجد تک پہنچانے والا کوئی نہیں، میں گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت چاہتاہوں، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے اجازت مرحمت فرمادی، جب وہ واپس جانے لگاتو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اسے بُلاکر فرمایا: ” کیا تم نماز کے لیے اذان سنتے ہو؟‘‘ عرض کی: جی ہاں، فرمایا: ”تو پھر مسجد ہی میں آکر نماز اداکیا کرو۔‘‘
شرح حدیث
وہ نابینا کون تھے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خدمت میں جو صحابی حاضر ہوئے وہ حضرت سَیِّدُنا ابنِ اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ مجھے مسجد تک پہنچانے والا کوئی نہیں یعنی میرے پاس کوئی غلام یا خادم نہیں ہے جو میرا ہاتھ پکڑے اور مجھے جماعت سے نماز ادا کرنے کے لیے مسجد تک لے آئے۔ آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ درخواست اس لیے کی تھی کہ آپ حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے مسجد کی جماعت ترک کرکے گھر میں جماعت کے ساتھ یا انفرادی طورپر نماز پڑھنے کی اجازت حاصل کرنا چاہتے تھے تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اولاً انہیں اجازت مرحمت فرمائی لیکن جب یہ واپس لوٹ گئے تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں بلایا اور فرمایا: کیاتمہیں نماز کے لیے دی جانے والی اذان سنائی دیتی ہے؟ عرض کی: جی ہاں، تو فرمایا:پھر جماعت میں حاضر ہوا کرو۔“جماعت ترک کرنے کے اَعذار:خیال رہے کہ ہر عاقل بالغ آزاد اورقادرمسلمان پرپنج وقتہ نماز جماعت سے پڑھنا واجب ہے، ہاں!مجبوری کی صورت میں جماعت ترک ہو جائے تو گناہ نہیں،یہاں چند وہ باتیں بیان کی جاتی ہیں جن کی وجہ سے جماعت ترک کی جائے توگناہ نہیں ،چنانچہ”بہارِ شریعت“ میں ہے:(1) مریض جسے مسجد تک جانے میں مُشقّت ہو (2) اپاہج (3) جس کا پاؤں کٹ گیا ہو (4)جس پر فالج گرا ہو (5) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے(6) اندھا اگرچہ اندھے کے ليے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے (7)سخت بارش اور(8) شدید کیچڑ کا حائل ہونا(9)سخت سردی(10)سخت تاریکی (11)آندھی (12)مال یا کھانے کے تلف(ضائع) ہونے کا اندیشہ (13)قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے (14) ظالم کا خوف (15) پاخانہ (16) پیشاب (17) ریاح کی حاجت شدید ہے (18) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو (19) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے (20) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے ليے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا، یہ سب ترکِ جماعت کے ليے عُذر ہیں۔دواِشکال اور اُن کے جوابات:سوال:جب نابیناکو جماعت ترک کرنے کی اجازت ہےتو پھر حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنا اِبن اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو جماعت چھوڑنے کی اجازت کیوں عطا نہ کی؟ اس میں کیا حکمت تھی؟
جواب :حضرت ابنِ اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُافضل مہاجرین صحابہ کرام میں سے ہیں تو ان کی فضیلت و شان کے لائق جماعت میں حاضر ہونے کا حکم دیا گیااور حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ حکم وحی کی وجہ سے یا اپنے اجتہاد کی بنا پردیا۔ “اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانَۂ شَمعِ رِسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”اس سلسلہ میں ہماری رائے یہی ہے، حقیقتِ حال سےاﷲہی آگاہ ہے کہ حضرت اِبنِ اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُپر چلنا دشوار نہ تھا اور وہ بغیر کسی حرج کے راستہ پالیتے تھے جیسا کہ اب بھی بہت سے نابینا لوگوں میں یہ مشاہدہ کیاجاتاہے پھر میں نےزُرْقَانِی عَلَی الْمُؤَطّاکا مطالعہ کیا تو اس میں بعینہٖ یہی بات منقول تھی کہ تمام اہلِ علم کی یہی رائے ہے کہ اُن پرتنہا چلنے میں دشواری نہ تھی جیسا کہ اب بھی بہت نابینا افراد پرتنہاچلنا دشوار نہیں ہے۔“
اس کا یہ جواب بھی ممکن ہے کہ فقط جماعت کی تاکید بیان کرنے کے لیے ایسا فرمایا ہو جیسے ترکِ نماز کو کفرقرار دیا گیا یا اس طرح کی دیگربے شمار حدیثیں۔ہر بیماری ترکِ جماعت کا عذر نہیں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” اس (حدیثِ پاک ) سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچے وہاں تک کے لوگوں کو مسجد میں آنا بہت ضروری ہے، وہ دور کے لوگ جہاں اذان نہ پہنچی ہو ان کے لیے بھی مسجد آنا بہت بہتر ہے مگر اتنی سختی نہیں، اس حدیث کا یہی مطلب ہے۔”لَاصَلٰوۃَ لِجَارِالْمَسْجِدِ اِلَّافِی الْمَسْجِدِ“(یعنی مسجد کے پڑوسی کی مسجد کے علاوہ نماز کامل نہیں ہوتی۔) دوسرے یہ کہ ہر بیماری عذر نہیں جو جماعت یا مسجد کی حاضری کو معاف کردے بلکہ وہ بیماری عذر ہے جس سے مسجد میں آنا ناممکن یا سخت مشکل ہوجائے، دیکھو نابینا ہیں بیمار ہیں مگر انہیں حاضری کا حکم ہوا، بعض روایات میں ہے کہ عتبان ابنِ مالک نابینا( صحابیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ) کو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے مسجد نہ آنے کی اجازت دے دی یا تو ان کا گھر دور ہوگا جہاں اذان کی آواز نہ پہنچتی ہوگی یا ان کا راستہ اتنا خراب ہوگا کہ بغیر ساتھی کے مسجد نہ پہنچ سکیں اور ساتھی کوئی ہوگا نہیں، لہٰذا اَحادیث میں تعارُض (اختلاف وٹکراؤ)نہیں ،اذان کی آواز پہنچنے سے مراد آج کل کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز نہیں یہ تو دو دو میل تک پہنچ جاتی ہے۔ “
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1066