باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”باجماعت نماز تنہا شخص کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔“

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ اَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ دَرَجَةً.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1064 ، باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” باجماعت نماز کا ثواب گھر اور بازار میں ادا کی گئی نماز سے پچیس گُنا زیادہ ہے اور یہ اس لئے کہ جب وہ اچھی طرح وضو کرکے صرف نماز ہی کے لیے مسجد کی طرف چلے تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے،پھرجب وہ نماز پڑھتا ہے تو جب تک اپنی نماز کی جگہ پر موجود ر ہے توفرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا مانگتے رہتے ہیں جب تک کہ بےوضو نہ ہو، فرشتے کہتے ہیں: ”اےاﷲ! اس پر رحمت نازل فرما، اےاﷲ! اس پر رحم فرما“اور جب تک وہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز میں ہی رہتا ہے۔“

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِیْ جَمَاعةٍ تُضَعَّفُ عَلٰی صَلَاتِهِ فِيْ بَيْتِهِ وَفِيْ سُوْقِهِ خَمْسًا وَّعِشْرِيْنَ ضِعْفًا، وَذٰلِكَ اَنَّهُ اِذَا تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُو ءَ، ثُمَّ خَرَجَ اِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ اِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً اِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيْئَةٌ، فَاِذَا صَلَّی لَمْ تَزَلِ الْمَلَا ئِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِیْ مُصَلَّاهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ، تَقُوْلُ : اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ، وَلَا يَزَالُ فِیْ صَلَاةٍ مَّا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1065 ، باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک نابینا شخص نے حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے مسجد تک پہنچانے والا کوئی نہیں، میں گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت چاہتاہوں، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے اجازت مرحمت فرمادی، جب وہ واپس جانے لگاتو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اسے بُلاکر فرمایا: ” کیا تم نماز کے لیے اذان سنتے ہو؟‘‘ عرض کی: جی ہاں، فرمایا: ”تو پھر مسجد ہی میں آکر نماز اداکیا کرو۔‘‘

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ اَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! لَيْسَ لِيْ قَائِدٌ يَقُوْدُ نِیْ اِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَاَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّي فِيْ بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ ، فَلَّمَا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: ہَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاَجِبْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1066 ، باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حضرت عبداﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاورکہاگیاہےکہ یہ عَمرو بن قیس ہیں اور ابنِ اُمّ مکتوم مؤذنرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے نام سے مشہور ہیں، انہوں نےعرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مدینہ طیبہ میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت زیادہ ہیں تو نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”تمحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِسنتے ہو تو مسجد آؤ۔“

عَنْ عَبْدِ اللهِ وَ قِيْلَ: عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمَعْرُوْفِ بِاِبْنِ اُمِّ مَكْتُوْمٍ الْمُؤَذِّنِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! اِنَّ الْمَدِيْنَةَ كَثِيْرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَحَيَّهَلًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1067 ، باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!میں نے اِرادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنےکا حکم دوں جب جمع کرلی جائیں تو نماز کا حکم دوں، جب اذان دے دی جائے،تو کسی کو لوگوں کی اِمامت کا حکم دوں، پھراُن لوگوں کی طرف جاؤں (جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے) اور ان کے گھروں کو جلادوں۔“

عَنْ اَبِیْ ھُرَ يْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَقَدْ هَمَمْتُ اَنْ آمُرَ بحَطَبٍ فَيُحْتَطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ اُخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ فَاُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوْتَهُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1068 ، باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”جسےیہ پسند ہو کہ کل بروزِ قیامتاﷲتعالیٰ سے حالتِ اسلام میں ملے تو وہ ان (پانچ) نمازوں کو پابندی سے وہاں ادا کرے جہاں اذان دی جاتی ہے، بےشک!اﷲتعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیےسُنَنِ ہُدیٰمشروع فرمائی ہیں اور نمازیں (مسجد میں با جماعت اداکرنا) بھی سُننِ ہُدیٰ میں سے ہے اور اگر تم گھروں میں نماز پڑھنے لگو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دوگے اور اگراپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ اور ہم نے دیکھا کہ جماعت سے صرف وہی منافق پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معروف ہو اور ایک شخص کو دو آدمیوں کےدرمیان سہارا دےکر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کردیا جاتا۔“اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہےکہ ”رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سُنَنِ ہُدیٰ سکھائیں اور نمازیں اُس مسجد میں ادا کرنا بھی سُنَنِ ہُدیٰ میں سے ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔“

عَنْ اِبْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ اَنْ يَلْقَى اللهَ تَعَالَى غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هٰؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَاِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى وَاِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ اَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِیْ بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هٰذَا الْمُتَخَلِّفُ فِيْ بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَاَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا اِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُوْمُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّی يُقَامَ فِي الصَّفِّ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى، وَاِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِيْ يُؤَذَّنُ فِيْهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1069 ، باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا :”جس بستی یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز کی جماعت نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، پس تم پرجماعت لازم ہے کیونکہ بھیڑیا اس بکری کو کھاتا ہے جو ریوَڑ سے دور ہو۔“

عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلَاةُ اِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ. فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَاِنَّمَا يَاْكُلُ الذِّئْبُ مِنَ الْغَنَمِ الْقَاصِيَةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1070 ، باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان