- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1065
باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1065
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِیْ جَمَاعةٍ تُضَعَّفُ عَلٰی صَلَاتِهِ فِيْ بَيْتِهِ وَفِيْ سُوْقِهِ خَمْسًا وَّعِشْرِيْنَ ضِعْفًا، وَذٰلِكَ اَنَّهُ اِذَا تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُو ءَ، ثُمَّ خَرَجَ اِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ اِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً اِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيْئَةٌ، فَاِذَا صَلَّی لَمْ تَزَلِ الْمَلَا ئِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِیْ مُصَلَّاهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ، تَقُوْلُ : اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ، وَلَا يَزَالُ فِیْ صَلَاةٍ مَّا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ.
عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صلاة الرجل فی جماعة تضعف علی صلاته في بيته وفي سوقه خمسا وعشرين ضعفا، وذلك انه اذا توضا فاحسن الوضو ء، ثم خرج الى المسجد لا يخرجه الا الصلاة، لم يخط خطوة الا رفعت له بها درجة و حطت عنه بها خطيئة، فاذا صلی لم تزل الملا ئكة تصلي عليه ما دام فی مصلاه ما لم يحدث، تقول : اللهم صل عليه اللهم ارحمه، ولا يزال فی صلاة ما انتظر الصلاة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” باجماعت نماز کا ثواب گھر اور بازار میں ادا کی گئی نماز سے پچیس گُنا زیادہ ہے اور یہ اس لئے کہ جب وہ اچھی طرح وضو کرکے صرف نماز ہی کے لیے مسجد کی طرف چلے تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے،پھرجب وہ نماز پڑھتا ہے تو جب تک اپنی نماز کی جگہ پر موجود ر ہے توفرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا مانگتے رہتے ہیں جب تک کہ بےوضو نہ ہو، فرشتے کہتے ہیں: ”اےاﷲ! اس پر رحمت نازل فرما، اےاﷲ! اس پر رحم فرما“اور جب تک وہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز میں ہی رہتا ہے۔“
شرح حدیث
گھر سے وضو کرکے مسجد جانا:حدیثِ مذکور میں مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر اور بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ افضل ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہاں بازار سے مراددکان ہے نہ کہ بازارکی مسجد، بعض مسجدوں میں 25 کا ثواب ہے،بعض میں 27 کا،بعض میں 500کا،جیسی مسجدہو،جیسی جماعت، جیسا امام ویسا ثواب لہٰذا احادیث میں تعارُض (ٹکراؤ واختلاف)نہیں جو کوئی اپنے گھرمیں جماعت کرالے وہ بھی مسجدکے ثواب سے محروم ہے۔“(مزید فرماتے ہیں):” گھر سے وضوکرکے مسجدکو جانا ثواب ہے کیونکہ یہ چلنا عبادت ہے اورعبادت باوضو افضل۔ بعض لوگ بیمار پُرسی کرنے باوضو جاتے ہیں۔ یہ(گناہ معاف ہونا) گنہگاروں کے لیےہے نیک کاروں کے لیے ہر قدم پر دو نیکیاں اور دو درجے بلندہوتے ہیں کیونکہ جس چیز سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے بے گناہوں کے درجے بڑھتے ہیں۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مسجد کی طرف جانے کا یہ ثواب اسی صورت میں ملے گا جب صِرف نماز کے لیے مسجدجائے، اگر کسی دنیاوی کام کے لیے مسجد گیا یا نماز کے ساتھ مسجد جانے کی کوئی دنیاوی غرض بھی تھی تو یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی، ہاں!جونماز کے ساتھ تلاوتِ قرآن پاک، حُصُولِ عِلمِ دِین یا کسی اور نیک کام کی نیت بھی کرے تو اسے یہ فضیلت ملے گی کہ یہ تو نیکی پر نیکی بڑھانا ہے۔“ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار:حدیث پاک میں بیان کیا گیا کہ بندہ جب تک نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز میں ہی رہتا ہے۔شیخ عبدالحق مُحدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مذکورہ فضیلت اسی صورت میں حاصل ہوگی جب ایک نماز پڑھ کر صبر و برداشت سے کام لیتے ہوئے دوسری نماز کےانتظار میں اسی جگہ بیٹھا رہے، اگر نماز ادا کرکے کسی دوسری جگہ چلا گیا تو فضیلت فوت ہو جائے گی۔“( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”جب تک بندہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے اسے ثواب ملتا رہتا ہے کیونکہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے بلکہ مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ منقول ہے کہ ایک غلام اپنے مالک سےاجازت لے کرنماز اداکرنے مسجد گیا ، مالک باہر ہی کھڑارہا،غلام نے دیر لگادی، آقا نے غلام سے کہا:”جلدی باہر آجا، غلام نے کہا: وہ نہیں آنے دیتا، آقا نے کہا: کون؟ کہا: جو تجھے اندر آنے کی توفیق نہیں دیتا۔“مختلف روایات میں تطبیق:باجماعت نماز کی فضیلت کے بارے میں احادیث مختلف ہیں کسی میں ستائیس درجے افضلیت کا بیان ہے کسی میں پچیس درجے کا ،ان دو طرح کی روایتوں میں مُحَدِّثِینِ کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامنے کئی طرح سے تطبیق بیان فرمائی ہے،چنانچہ شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ہوسکتا ہے کہ اَوَّلاً پچیس کے عدد کی وحی ہوئی ہوبعد میں فضل و انعام کے طورپر زیادہ کردیا گیا ہو یانماز اور نمازی کے حال کے فرق سےبھی فضیلت میں فرق آتاہے (یعنی جس نماز میں نیک لوگ کثیر ہوں یا جس کی نماز میں خشوع و خضوع زیادہ ہو اسے ستائیس گُنا اور اس کے علاوہ کو پچیس گُنا ثواب ملتاہے)۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ستائیس درجے جہری نماز میں ہو اور پچیس سِرّی نماز میں۔ ایک قول یہ ہےکہ پچیس اور ستائیس میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ قلیل کثیر کے ضمن میں موجود ہوتا ہے۔“( یعنی ستائیس میں پچیس بھی شامل ہے)مدنی گلدستہ’’جماعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر عاقل، بالغ، آزاد اور قادرشخص پر جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے، بِلاعذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور کئی بار ترک کرنے والا فاسق ہے ۔
(2) جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس یا پچیس درجے افضل ہے۔
(3) نماز پڑھنے کے بعدجب تک نمازی باوضو حالت میں اپنی جگہ پر بیٹھا رہےگا فرشتے اس کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے رہیں گے۔
(4) جس عمل سے گناہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سےنیک بندوں کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
(5) جو بندہ اچھی طرح وضو کرکے خاص طور پر نماز کے لیے مسجد کی طرف جائے تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹادیا جاتا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1065