Main Icon

باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1065

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِیْ جَمَاعةٍ تُضَعَّفُ عَلٰی صَلَاتِهِ فِيْ بَيْتِهِ وَفِيْ سُوْقِهِ خَمْسًا وَّعِشْرِيْنَ ضِعْفًا، وَذٰلِكَ اَنَّهُ اِذَا تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُو ءَ، ثُمَّ خَرَجَ اِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ اِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً اِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيْئَةٌ، فَاِذَا صَلَّی لَمْ تَزَلِ الْمَلَا ئِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِیْ مُصَلَّاهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ، تَقُوْلُ : اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ، وَلَا يَزَالُ فِیْ صَلَاةٍ مَّا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ.

عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صلاة الرجل فی جماعة تضعف علی صلاته في بيته وفي سوقه خمسا وعشرين ضعفا، وذلك انه اذا توضا فاحسن الوضو ء، ثم خرج الى المسجد لا يخرجه الا الصلاة، لم يخط خطوة الا رفعت له بها درجة و حطت عنه بها خطيئة، فاذا صلی لم تزل الملا ئكة تصلي عليه ما دام فی مصلاه ما لم يحدث، تقول : اللهم صل عليه اللهم ارحمه، ولا يزال فی صلاة ما انتظر الصلاة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” باجماعت نماز کا ثواب گھر اور بازار میں ادا کی گئی نماز سے پچیس گُنا زیادہ ہے اور یہ اس لئے کہ جب وہ اچھی طرح وضو کرکے صرف نماز ہی کے لیے مسجد کی طرف چلے تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے،پھرجب وہ نماز پڑھتا ہے تو جب تک اپنی نماز کی جگہ پر موجود ر ہے توفرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا مانگتے رہتے ہیں جب تک کہ بےوضو نہ ہو، فرشتے کہتے ہیں: ”اےاﷲ! اس پر رحمت نازل فرما، اےاﷲ! اس پر رحم فرما“اور جب تک وہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز میں ہی رہتا ہے۔“

شرح حدیث

گھر سے وضو کرکے مسجد جانا:حدیثِ مذکور میں مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر اور بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ افضل ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہاں بازار سے مراددکان ہے نہ کہ بازارکی مسجد، بعض مسجدوں میں 25 کا ثواب ہے،بعض میں 27 کا،بعض میں 500کا،جیسی مسجدہو،جیسی جماعت، جیسا امام ویسا ثواب لہٰذا احادیث میں تعارُض (ٹکراؤ واختلاف)نہیں جو کوئی اپنے گھرمیں جماعت کرالے وہ بھی مسجدکے ثواب سے محروم ہے۔“(مزید فرماتے ہیں):” گھر سے وضوکرکے مسجدکو جانا ثواب ہے کیونکہ یہ چلنا عبادت ہے اورعبادت باوضو افضل۔ بعض لوگ بیمار پُرسی کرنے باوضو جاتے ہیں۔ یہ(گناہ معاف ہونا) گنہگاروں کے لیےہے نیک کاروں کے لیے ہر قدم پر دو نیکیاں اور دو درجے بلندہوتے ہیں کیونکہ جس چیز سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے بے گناہوں کے درجے بڑھتے ہیں۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مسجد کی طرف جانے کا یہ ثواب اسی صورت میں ملے گا جب صِرف نماز کے لیے مسجدجائے، اگر کسی دنیاوی کام کے لیے مسجد گیا یا نماز کے ساتھ مسجد جانے کی کوئی دنیاوی غرض بھی تھی تو یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی، ہاں!جونماز کے ساتھ تلاوتِ قرآن پاک، حُصُولِ عِلمِ دِین یا کسی اور نیک کام کی نیت بھی کرے تو اسے یہ فضیلت ملے گی کہ یہ تو نیکی پر نیکی بڑھانا ہے۔“ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار:حدیث پاک میں بیان کیا گیا کہ بندہ جب تک نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز میں ہی رہتا ہے۔شیخ عبدالحق مُحدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مذکورہ فضیلت اسی صورت میں حاصل ہوگی جب ایک نماز پڑھ کر صبر و برداشت سے کام لیتے ہوئے دوسری نماز کےانتظار میں اسی جگہ بیٹھا رہے، اگر نماز ادا کرکے کسی دوسری جگہ چلا گیا تو فضیلت فوت ہو جائے گی۔“( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”جب تک بندہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے اسے ثواب ملتا رہتا ہے کیونکہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے بلکہ مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ منقول ہے کہ ایک غلام اپنے مالک سےاجازت لے کرنماز اداکرنے مسجد گیا ، مالک باہر ہی کھڑارہا،غلام نے دیر لگادی، آقا نے غلام سے کہا:”جلدی باہر آجا، غلام نے کہا: وہ نہیں آنے دیتا، آقا نے کہا: کون؟ کہا: جو تجھے اندر آنے کی توفیق نہیں دیتا۔“مختلف روایات میں تطبیق:باجماعت نماز کی فضیلت کے بارے میں احادیث مختلف ہیں کسی میں ستائیس درجے افضلیت کا بیان ہے کسی میں پچیس درجے کا ،ان دو طرح کی روایتوں میں مُحَدِّثِینِ کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامنے کئی طرح سے تطبیق بیان فرمائی ہے،چنانچہ شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ہوسکتا ہے کہ اَوَّلاً پچیس کے عدد کی وحی ہوئی ہوبعد میں فضل و انعام کے طورپر زیادہ کردیا گیا ہو یانماز اور نمازی کے حال کے فرق سےبھی فضیلت میں فرق آتاہے (یعنی جس نماز میں نیک لوگ کثیر ہوں یا جس کی نماز میں خشوع و خضوع زیادہ ہو اسے ستائیس گُنا اور اس کے علاوہ کو پچیس گُنا ثواب ملتاہے)۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ستائیس درجے جہری نماز میں ہو اور پچیس سِرّی نماز میں۔ ایک قول یہ ہےکہ پچیس اور ستائیس میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ قلیل کثیر کے ضمن میں موجود ہوتا ہے۔“( یعنی ستائیس میں پچیس بھی شامل ہے)مدنی گلدستہ’’جماعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر عاقل، بالغ، آزاد اور قادرشخص پر جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے، بِلاعذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور کئی بار ترک کرنے والا فاسق ہے ۔
(2) جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس یا پچیس درجے افضل ہے۔
(3) نماز پڑھنے کے بعدجب تک نمازی باوضو حالت میں اپنی جگہ پر بیٹھا رہےگا فرشتے اس کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے رہیں گے۔
(4) جس عمل سے گناہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سےنیک بندوں کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
(5) جو بندہ اچھی طرح وضو کرکے خاص طور پر نماز کے لیے مسجد کی طرف جائے تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹادیا جاتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1065