Main Icon

باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1067

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ وَ قِيْلَ: عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمَعْرُوْفِ بِاِبْنِ اُمِّ مَكْتُوْمٍ الْمُؤَذِّنِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! اِنَّ الْمَدِيْنَةَ كَثِيْرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَحَيَّهَلًا.

عن عبد الله و قيل: عمرو بن قيس المعروف بابن ام مكتوم المؤذن رضی اللہ عنہ انه قال: يا رسول الله! ان المدينة كثيرة الهوام والسباع. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تسمع حي على الصلاة حي على الفلاح، فحيهلا.

حدیث ترجمہ

حضرت عبداﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاورکہاگیاہےکہ یہ عَمرو بن قیس ہیں اور ابنِ اُمّ مکتوم مؤذنرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے نام سے مشہور ہیں، انہوں نےعرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مدینہ طیبہ میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت زیادہ ہیں تو نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”تمحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِسنتے ہو تو مسجد آؤ۔“

شرح حدیث

یثرب کو طیبہ بنادیا:حدیثِ مذکور میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ جسے اذان سنائی دے وہ جماعت میں ضرور حاضر ہو اور جب تک ترکِ جماعت کے اَعذار میں سے کوئی عذر نہ پایا جائے اس وقت تک جماعت ترک نہ کرے۔ مشکاۃ شریف میں یہ حدیث کچھ تفصیل کے ساتھ یوں بیان کی گئی ہے:”حضرت سَیِّدُنا عبداﷲابنِ اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:”یارسولَاﷲ(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! مدینہ طیبہ میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت زیادہ ہیں اور میں نابینا ہوں تو کیا میرے لیے (جماعت چھوڑنے کی) اجازت ہے؟‘‘ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:”کیا تمحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِسنتے ہو؟‘‘ عرض کی: جی ہاں۔ فرمایا: ”ضرور آؤ۔“اور انہیں اجازت نہ دی۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”خیال رہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تشریف آوری سے پہلے مدینہ منورہ وباؤں اور بیماریوں کا گھر تھا، آپ کے قدمِ پاک نے وہاں سے وباؤں کو نکال کر وہاں کی مٹی کو بھی شفا بنادیا،(سرکارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے ہیں:”تُرْبَۃُ اَرْضِنَا یَشْفِیْ سَقِیْمَنَا“ہمارے مدینہ کی مٹی بیماروں کو شفا دیتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیثاور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جہاں تک بغیراسپیکر کے دی گئی اذان کی آواز پہنچے وہاں تک کے لوگوں کو مسجد میں آنا بہت ضروری ہے۔
(2) ہر بیماری جماعت چھوڑنے یا مسجد میں حاضر نہ ہونے کے لیے عذر نہیں بلکہ صِرف وہ بیماری عذر ہے جس سے مسجد میں آنا ناممکن یا سخت مشکل ہوجائے۔
(3) حضور نبی کریم،رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تشریف آوری سےقبل مدینہ منورہ وباؤں اور بیماریوں کا گھر تھا،آپ کے قدمِ پاک نے وہاں سے وباؤں کو نکال کر وہاں کی مٹی کو بھی شفا بنادیا۔
(4) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانباجماعت نماز کے بہت زیادہ حریص تھے، عُذر پائے جانے کے باوجود اُن کی یہی کوشش ہواکرتی تھی کہ نمازِ باجماعت ہی ادا کریں ۔
(5) نبی مُکرّم،ہادیٔ اُمَم،رسولِ مُحتشَم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مختارِکُل بنایا ہے، آپ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجسے جو چاہیں عطافرمادیں ،جسے چاہیں کسی کام کی اجازت دے دیں، جسے چاہیں کسی کام سے روک دیں ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں دِین ودُنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے ،ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1067