Main Icon

باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1069

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ اَنْ يَلْقَى اللهَ تَعَالَى غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هٰؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَاِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى وَاِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ اَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِیْ بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هٰذَا الْمُتَخَلِّفُ فِيْ بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَاَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا اِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُوْمُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّی يُقَامَ فِي الصَّفِّ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى، وَاِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِيْ يُؤَذَّنُ فِيْهِ.

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: من سره ان يلقى الله تعالى غدا مسلما فليحافظ على هؤلاء الصلوات حيث ينادى بهن فان الله شرع لنبيكم صلى الله عليه وسلم سنن الهدى وانهن من سنن الهدى، ولو انكم صليتم فی بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته لتركتم سنة نبيكم ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم، ولقد رايتنا وما يتخلف عنها الا منافق معلوم النفاق، ولقد كان الرجل يؤتى به يهادى بين الرجلين حتی يقام في الصف.وفي رواية له قال: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا سنن الهدى، وان من سنن الهدى الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”جسےیہ پسند ہو کہ کل بروزِ قیامتاﷲتعالیٰ سے حالتِ اسلام میں ملے تو وہ ان (پانچ) نمازوں کو پابندی سے وہاں ادا کرے جہاں اذان دی جاتی ہے، بےشک!اﷲتعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیےسُنَنِ ہُدیٰمشروع فرمائی ہیں اور نمازیں (مسجد میں با جماعت اداکرنا) بھی سُننِ ہُدیٰ میں سے ہے اور اگر تم گھروں میں نماز پڑھنے لگو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دوگے اور اگراپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ اور ہم نے دیکھا کہ جماعت سے صرف وہی منافق پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معروف ہو اور ایک شخص کو دو آدمیوں کےدرمیان سہارا دےکر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کردیا جاتا۔“اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہےکہ ”رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سُنَنِ ہُدیٰ سکھائیں اور نمازیں اُس مسجد میں ادا کرنا بھی سُنَنِ ہُدیٰ میں سے ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔“

شرح حدیث

ایمان پر خاتمے کا نسخہ:مرآۃ المناجیح میں ہے :” معلوم ہوا کہ مسجد اور جماعت کی پابندی کرنے والے کواِنْ شَآءَ اﷲایمان و تقویٰ پر خاتمہ نصیب ہوگا، یہ حدیث ان کے لیے بڑی بشارت ہے۔“سننِ ہدیٰ کی تعریف و اَقسام:حدیثِ مذکور میں مسجد میں باجماعت نماز اداکرنے کوسُنَنِ ہُدیٰ کہا گیا ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے: ”جو کام حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے عادتِ کریمہ کے طور پر کئے وہ سنتِ زوائد ہیں جیسے بالوں میں کنگھی کرنا، کدو رغبت سے کھانا ،اور جو کام عبادۃً کیے وہ سنتِ ہُدیٰ ہیں۔ سنتِ ہُدیٰ کی دو قسمیں ہیں:مؤکدہ اور غیر مؤکدہ، جو کام حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ہمیشہ کئے وہ مؤکدہ ہیں اور اگر ان کا حکم بھی دیا وہ واجب اور جو کام کبھی کبھی کیے وہ غیر مؤکدہ ہیں لہٰذا جماعت کی نماز اورمسجد میں حاضری،حق یہ ہے کہ دونوں واجب ہیں۔“( )” گھروں میں نماز پڑھو گے تو اپنے نبیعَلَیْہِ السَّلَامکی سنت کو چھوڑ دو گے۔“دلیل الفالحین میں ہے: ”یعنی اگر تم فرض نمازیں تنہا یا جماعت کے ساتھ گھر میں پڑھو گے تو اس سے جماعت کا شعارِ دِین ہونا ظاہر نہیں ہوگا اور اس طرح تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کردو گے اور تمہارے نبی کا طریقہ و ہدایت جس کا انہوں نے حکم دیا وہ یہ ہے کہ جماعت کا شعارِ دِین ہونا ظاہر ہو۔ لہٰذا اگر تم اپنے نبی کے طریقے کو چھوڑدو گے تو گمراہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔“صحابہ کرام کا جذبہ جماعت:حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا مشاہدہ اور تجربہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ جماعت سے صرف وہی منافق پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق ظاہرہو ”یعنی جس کے منافق ہونے کی تحقیق ہوچکی تھی اور جس کا نفاق ظاہر ہوچکا تھا اور جس کا نفاق ابھی پوشیدہ ہی ہوتا تھا وہ بھی نماز باجماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا۔“( ) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا شوقِ عبادت اور جماعت میں شریک ہونے کا جذبہ ایسا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی شدید بیمار بھی ہوتے تو بھی دو آدمیوں کے کندھوں کا سہارا لے کر مسجد میں آتے اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ صحابہ کا عزیمت پر عمل ہے کہ جن میں خود چلنے کی طاقت نہ ہوتی وہ دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس طرح مسجد میں آتے کہ پاؤ ں زمین پر گھسٹتے ہوتے جیسا کہ بعض احادیث میں صراحۃً آیا۔ ایسی حالت میں رخصت ہے کہ گھر پڑھ لے۔سُبْحَانَ اﷲ!“مزید فرماتے ہیں:”صحابہ میں یہ عمل کیوں نہ ہوتا، انہوں نے اپنے پیارے نبیصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو سخت بیماری کی حالت میں اس طرح مسجد میں آتے دیکھا تھا۔ خیال رہے کہ عاشق کو محبوب کی ہر ادا پیاری ہوتی ہے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّممومنوں کے پیارے ہیں اور جماعت کی نماز، مسجد کی حاضری، مسواک حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو پیاری۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ اسے یہ چیزیں پیاری ہوں،حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سب سے آخری کام مسواک کیا کہ مسواک کرکے جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَارَک وَسَلَّم۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1069