Main Icon

باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 579

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَكْثِرُوْا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعْنِي الْمَوْتَ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اكثروا ذكر هاذم اللذات يعني الموت.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’تم لذتوں کوختم کردینےوالی یعنی موت کوزیادہ یادکیاکرو۔‘‘

شرح حدیث

موت کو یادکرناگناہوں سےبچنے کاذریعہ ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’مکمل حدیث یوں ہے کہ تم لذتوں کو ختم کردینے والی موت کو یاد کرو کیونکہ جو اسے تنگی میں یاد کرتا ہے تواس پر کشادگی ہوجاتی ہے اور جو اسے کشادگی میں یاد کرتا ہے اس پر تنگی ہوجاتی ہے۔اس طرح کی روایات سے ہمارے ائمہ نے یہ مسئلہ نکالا کہ ہر شخص کے لیے دل اور زبان دونوں سے موت کو یاد کرنا سنت ہے ورنہ کم ازکم دل میں تو ضرور یاد کرےاور موت کو اس کثرت سے یاد کرے کہ گویا وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہے کیونکہ موت سب سے زیادہ گناہوں سے روکنے والی اور طاعتِ الٰہی کی طرف بلانے والی ہے۔‘‘موت کو یادکرنےسےشہادت کادرجہ:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح میں فرماتےہیں:’’ہرشخص کی موت اس کی دنیاوی لذتیں کھانے پینے،سونے وغیرہ کے مزے فناکردیتی ہے، ہاں مومن مردے کو زندوں کے ذکر اور تلاوتِ قرآن سے لذت آتی ہے،نیز زیارتِ قبرکرنے والے سے اُنس ہوتاہے، برزخی لذتیں پاتا ہے جویہاں کی لذتوں سے کہیں اعلیٰ ہیں، لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ مُردے کو تلاوت و ایصالِ ثواب وغیرہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتاکیونکہ یہاں لذتوں سےجسمانی لذتیں مراد ہیں نہ کہ روحانی۔علماء فرماتے ہیں: جو روزانہ موت کو یادکرلیاکرے اس کے لیے درجہ ٔ شہادت ہے۔‘‘موت سےمتعلق5فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:اَحادیث میں موت کو یاد کرنے کی بہت ترغیب دلائی گئی ہے، نیز موت کو یاد کرنے کے کثیر فوائد بھی بیان فرمائے گئے ہیں، چنانچہ اس ضمن میں پانچ فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے:(1)موت کو زیادہ یاد کیا کرو کہ یہ گناہوں کو مٹاتی اور دنیا سے بے رغبت کرتی ہے۔ (2)نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے۔(3)موت کوکثرت سے یاد کرنے اور اس کے آنے سے پہلے اس کے لئے اچھی تیاری کرنے والا ہی سب سے زیادہ سمجھدار ہے۔(4)دلوں کوبھی زنگ لگ جاتاہے جس طرح لوہے میں پانی لگنے سےزنگ لگ جاتاہے،اس کی جِلا (یعنی صفائی)کثرت سےموت کویادکرنے اور تلاوتِ قرآن سےہوتی ہے۔ (5) جوشخص روزانہ بیس مرتبہ موت کویاد کرےتووہ بھی قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔موت سے متعلق بزرگانِ دِین کے 5اَحوال واَقوال:(1)حضرت سَیِّدُنَا حسن بصریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ’’موت نے دنیا کو رُسوا کرکے کسی عقلمند کے لیے کوئی خوشی نہ چھوڑی۔‘‘(2)حضرت سَیِّدُنا ربیع بن خثیمرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ’’مومن موت سے بہتر کسی غائب چیز کا انتظار نہیں کرتا، نیز فرمایا کرتے کہ میری موت کی خبر کسی کو مت دینا اور مجھے تیز تیز میرے ربعَزَّوَجَلّکی طرف لے چلنا۔‘‘(3)حضرت سَیِّدُنا محمد بن سیرینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْمُبِیْنکے سامنے جب موت کا ذکر کیا جاتا تو آپ کے جسم کا ہر حصہ سن ہوجاتا۔‘‘(4)حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہروزانہ رات کے وقت علماء کو جمع کرتے، پھر آپس میں مل کر قبروآخرت اور موت کے بارے میں گفتگو کرتے، پھر سب یوں روتے گویا ان کے سامنے جنازہ موجود ہے۔‘‘(5) حضرت سَیِّدُنا کعب احبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَفَّارفرماتے ہیں: ’’جو شخص موت کو پہچان لیتا ہے اس پر دنیا کی مصیبتیں اور غم ہلکے ہوجاتے ہیں۔‘‘دل میں موت کی یاد پختہ کرنے کا طریقہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! موت کی یاد سے متعلق احادیثِ مبارکہ اور اَقوال واَحوالِ بزرگانِ دین پڑھ کر یہ مدنی ذہن بنتا ہے کہ موت کو یاد کرنا چاہیے، ہروقت اس کا ذکر کرنا چاہیے، دل میں موت کی یاد کو پختہ کرنا چاہیے۔لیکن یہ سب کیسے ہو؟ حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِینے اِحیاء العلوم میں موت کی یاد کو پختہ کرنے کا بہترین طریقہ بیان فرمایا ہے۔چنانچہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں:جان لیجئے کہ موت خوفناک ہےاور اس کا خطرہ بہت بڑاہے لیکن پھر بھی لوگ اس سے غافل ہیں کہ اس کے بارے میں سوچ بچار کرتے ہیں نہ اسےیاد کرتےہیں اور اگر کوئی یاد بھی کرتاہےتوبے توجہی سے کرتا ہے کہ دل دنیاوی خواہشات میں مشغول رہتاہےلہٰذا موت کی یادسےدل کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا،البتہ فائدہ اس طریقےسےپہنچ سکتاہےکہ موت کواپنےسامنےسمجھتےہوئےیادکرےاوراس کےعلاوہ ہرچیز کو اپنے دل سے نکال دےجیسے کوئی شخص خطرناک جنگل میں سفر کا ارادہ کرے یا سمندری سفر کا ارادہ کرے تو بس اسی کے بارے میں غور وفکر کرتارہتاہےلہٰذا جب موت کی یاد کا تعلق دل سے براہِ راست ہوگاتو اس کا اثر بھی ہوگا اور علامت یہ ہوگی کہ دنیاسے دل اتنا ٹوٹ چکاہوگاکہ دنیاکی ہر خوشی بے معنی ہوکر رہ جائے گی۔موت کو یاد کرنے کا زیادہ مفید طریقہ:اس دنیا سے چلے جانے والےچہروں اور صورتوں کو یاد کرے،ان کے مرنے اور مٹی کے نیچے دفنائے جانے کو یاد کرےنیز ان کے حالات اور عُہدوں کو یاد کرے اور غور کرے کہ کس طرح مٹی میں ان کی حسین صورتیں ملیامیٹ ہوچکی ہیں،کس طرح قبروں میں ان کےاجزا بکھرچکے ہیں،کس طرح ان کی عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے،کس طرح ان کا مال خرچ کیا گیااوران کی بنائی ہوئی عمارتیں اور بسائی ہوئی محفلیں بے رونق ہوگئیں یہاں تک کہ ان لوگوں کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ لہٰذا جب جب وہ کسی شخص کو یاد کرے گا دل میں اس کا خیال لائے گا،اس کے مرنے کی کیفیت اور اس کی شکل وصورت کو ذہن میں لائے گا، اس کی چستی اورپُرآسائش زندگی کے لئے ہاتھ پیر مارنے کے بارے میں سوچے گا، موت کو بھول جانے اور کثرتِ اسباب کے سبب دھوکے میں مبتلا ہونے کو یاد کرے گانیز یہ کہ وہ جوانی پر بھروسا اور لہوو لعب میں مبتلا ہوکر جلد آنے والی سامنے کھڑی موت سے غافل تھا، اب یہ تصور کرے کہ وہ کیسے کوششوں میں لگا ہوا تھا اور اب اس کے ہاتھ پاؤں اور جوڑ علیحدہ علیحدہ ہوچکے ہیں، وہ کیسے گفتگو کیا کرتا تھا اور اب اس کی زبان کو کیڑے کھا چکے ہیں، کس طرح ہنسا کرتا تھا اور اب مٹی اس کے دانتوں کو کھا چکی ہے، وہ اپنی موت سے غافل مرنے سے ایک مہینہ پہلے دس سال تک کی جمع پونجی میں لگا ہوا تھاکہ خبر ہی نہ ہوئی اور موت آگئی،مَلَکُ الْمَوت عَلَیْہِ السَّلَامکی صورت ظاہر ہوئی، یہ سب تصوُّر کرنے کے بعد وہ سوچے گا کہ میں بھی تو ان کے جیسا ہوں اور میری غفلت بھی ان کی غفلت جیسی ہے اور عنقریب میرا بھی وہی انجام ہو گا جو ان سب کا ہوا ہے۔موت کی یادپختہ کردینے والے تین اَقوال:(1)حضرت سیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: جب تم مُردوں کو یاد کروتواپنےآپ کو بھی انہی میں شمار کرو۔(2)حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: خوش قسمت ہے وہ شخص جودوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔(3)حضرت سیِّدُنا عُمَر بن عبد العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْعَزِیْزفرماتے ہیں:”تم اس بات میں غوروفکر کیوں نہیں کرتے کہ روزانہ صبح شام کسی نہ کسی کوبارگاہِ الٰہی کے لئے تیار کرتے ہواوراسے گڑھے میں ڈال دیتے ہوحالانکہ مٹی اس کا تکیہ بن جاتی ہے، دوست احباب پیچھے رہ جاتے ہیں اور اسباب ختم ہوجاتے ہیں۔“موت کی یاد دل میں پختہ کرنےکےلئے مذکورہ انداز میں غوروفکر کرنے کے ساتھ ساتھ قبرستان جائے نیز مریضوں کو دیکھے کہ یہی چیز یں دل میں موت کی یاد تازہ کرتی ہیں یہاں تک کہ دل پر اتنا غلبہ ہوجاتاہے کہ موت آنکھوں کے سامنے نظر آتی ہے اوراس وقت شایدموت کی تیاری میں مصروف ہوجائے اور دھوکے کی دنیاسےدور ہوجائے ورنہ موت کواُوپری دل اورزبان کی نوک سے یاد کرنے میں ڈر وخوف کا فائدہ بہت تھوڑا ہے۔مدنی گلدستہ”شیرِ خدا“کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جوروزانہ بیس مرتبہ اپنی موت کویادکرےوہ قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔
(2) دلوں کوبھی زنگ لگ جاتاہےجس طرح لوہےکو زنگ لگ جاتاہے،اس کی صفائی موت کوکثرت سےیادکرنےاورتلاوتِ قرآن سے ہوتی ہے۔
(3) دوسروں سے عبرت حاصل کریں اس سے پہلے کہ خود باعثِ عبرت بن جائیں۔
(4) قبرستان جانا اور مریضوں کی عیادت کرنا موت کی یاددلاتاہے۔
(5) جو شخص موت کو پہچان لیتا ہے اس پر دنیا کے مَصائب و آلام آسان ہوجاتے ہیں ۔
(6) موت کو کثرت سے یادکرنا گناہوں کو مٹاتا اور دنیا سے بے رغبت کرتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں کثرت سےموت کویادکرنےاوراس کی اچھےطریقےسےتیاری کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 579