باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرتِ سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسُولِ اَکرَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میراکندھا پکڑکرارشاد فرمایا:’’دنیا میں اس طرح رہوگویا تم مسافر یا راستہ طے کرنے والے ہو۔‘‘سَیِّدُنا ابنِ عُمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرمایاکرتے تھےکہ’’جب شام ہوجائے توصبح کااورصبح ہو جائے توشام کاانتظار نہ کرو اور اپنی صحت میں سے کچھ اپنی بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں سے کچھ اپنی موت کے لیے لے لو۔‘‘

عَنِ ابْنِِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:اَخَذَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي فَقَالَ:كُنْ فِي الدُّنْيَا كَاَنَّكَ غَرِيْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ:اِذَا اَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَاِذَا اَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 574 ، باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےروایت ہےکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس مسلمان کےپاس کوئی چیزلائقِ وصیت ہواس کےلیےیہ جائز نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارےکہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:’’جب سے میں نے سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےیہ بات سنی ہےمجھ پرایک رات بھی ایسی نہیں گزری کہ میری وصیت میرے پاس موجودنہ ہو۔‘‘

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ،لَهُ شَيْءٌ يُوْصِي فِيْهِ، يَبِيْتُ لَيْلَتَيْنِ اِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوْبَةٌ عِنْدَهُ. وَفِی رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: يَبِيْتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَالِكَ اِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 575 ، باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکچھ لائنیں بنائیں اور(پھر اُن لائنوں کی وضاحت کرتے ہوئے)ارشادفرمایا:’’یہ انسان ہے اوریہ اس کی موت،پس وہ اسی حال میں ہوتاہےکہ اُس کے پاس وہ لائن آجاتی ہےجواُس کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوْطًا فَقَالَ: هٰذَا الْاِنْسَانُ وَهٰذَا اَجَلُهُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَالِكَ اِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الْاَقْرَبُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 576 ، باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللّٰہابن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مربع (چوکور) لائن کھینچی اور پھر اس لائن کے درمیان میں سے دوسری جانب باہر تک ایک اور لائن کھینچی، پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس چوکور لائن کےاندر درمیانی لائن کے دونوں طرف کچھ چھوٹی چھوٹی لائنیں کھینچیں اور ارشاد فرمایا:’’یہ انسان ہے اوریہ (چوکور) لائن اس کی موت ہے جو اُس کا اِحاطہ کرنے والی ہے یا اس کااحاطہ کرچکی ہےاور باہرنکلنے والی یہ لائن اس کی امیدیں ہیں اوریہ چھوٹی چھوٹی لائنیں دُنیاوی مشکلات ہیں،اگروہ ایک مشکل سے بچ گیا تو دوسری مشکل اسے ڈَس لے گی اور اگراس سےبھی بچ گیا توتیسری مشکل اسے ڈَس لے گی۔‘‘

عَنِ ابْنِِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا اِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ، فَقَالَ: هَذَا الْاِنْسَانُ وَهَذَا اَجَلُهُ مُحِيْطًا بِهِ اَوْقَدْ اَحَاطَ بِهِ وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ اَمَلُهُ، وَهَذِهِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْاَعْرَاضُ فَاِنْ اَخْطَاَهُ هَذَا، نَهَشَهُ هَذَا وَاِنْ اَخْطَاَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 577 ، باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’سات چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، کیا تم بھلا دینے والے فقر کا انتظار کررہے ہو یا سرکشی میں مبتلا کردینے والی مالداری، یا فساد پیدا کرنے(یعنی خراب کردینے) والی بیماری یامَخْبُوْطُ الْحَوَاسکردینے والے بڑھاپے یا اچانک موت یا دجال کا جو غائب شر ہے اور اس کا انتظار کیا جارہا ہے یا قیامت کا اور قیامت بہت کڑی اور سخٹ کڑوی ہے۔

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، اَوْ غِنًى مُطْغِيًا، اَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا،اَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، اَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، اَوِالدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ ،اَوِ السَّاعَةَ وَالسَّاعَةُ اَدْهَى وَاَمَرُّ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 578 ، باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’تم لذتوں کوختم کردینےوالی یعنی موت کوزیادہ یادکیاکرو۔‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَكْثِرُوْا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعْنِي الْمَوْتَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 579 ، باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنااُبی بن کعبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہےکہ جب رات کاتہائی حصہ گزرجاتا تو سرکارِ دوعالَم،نورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیام فرماتے اورارشادفرماتے :’’اے لوگو!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکرکرو، پہلا صُورپھونکے جانے کا وقت قریب آگیا، اس کے بعد دوسرا صور پھو نکا جائے گا اور موت اپنی تمام سختیوں سمیت آگئی ہے،موت اپنی تمام سختیوں سمیت آگئی ہے۔‘‘میں نےعرض کی: ’’یارسولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں اکثرآپ پردرودِ پاک کی کثرت کرتاہوں تومیں آپ پر درود پڑھنے کے لئےکتناوقت مقررکروں؟‘‘فرمایا:’’جتنا چاہو۔‘‘ میں نے عر ض کی: ’’چوتھائی۔‘‘فرمایا: ’’جتنا چاہولیکن اور زیادہ کرلو توتمہارےلیے بہتر ہے۔‘‘میں نے عرض کی:”آدھا دن ۔‘‘ فرمایا: ’’جتنا چا ہو ،لیکن اورزیادہ کرلوتوتمہارےلیے بہتر ہے۔‘‘میں نے عرض کی:’’دوتہائی۔‘‘ فرمایا: ’’جتنا چا ہو،لیکن اورزیادہ کرلوتوتمہارےلیے بہتر ہے۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’میں سارا وقت آپ پر درو دِ پاک پڑھتا رہوں گا۔‘‘فرمایا: ’’پھر تو یہ عمل تمہار ی تمام پریشا نیوں کو کافی ہو گا اور تمہاری مغفر ت کاذریعہ بن جائے گا۔‘‘

عَنْ اُبَيِّ بْنِِ كَعْبٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا ذَهَبَ ثُلُثَ اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ: يَا اَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيْهِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ! اِنِّي اُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ اَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي؟ قَالَ: مَا شِئْتَ، قُلْتُ: اَلرُّبُعَ؟ قَالَ:مَا شِئْتَ، فَاِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: فَالنِّصْفَ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ، فَاِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ، فَاِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: اَجْعَلُ لَكَ صَلَا تِي كُلَّهَا؟ قَالَ: اِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرَ لَكَ ذَنْبُكَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 580 ، باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان