Main Icon

باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 577

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا اِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ، فَقَالَ: هَذَا الْاِنْسَانُ وَهَذَا اَجَلُهُ مُحِيْطًا بِهِ اَوْقَدْ اَحَاطَ بِهِ وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ اَمَلُهُ، وَهَذِهِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْاَعْرَاضُ فَاِنْ اَخْطَاَهُ هَذَا، نَهَشَهُ هَذَا وَاِنْ اَخْطَاَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا.

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: خط النبي صلى الله عليه وسلم خطا مربعا، وخط خطا في الوسط خارجا منه، وخط خططا صغارا الى هذا الذي في الوسط من جانبه الذي في الوسط، فقال: هذا الانسان وهذا اجله محيطا به اوقد احاط به وهذا الذي هو خارج امله، وهذه الخطط الصغار الاعراض فان اخطاه هذا، نهشه هذا وان اخطاه هذا نهشه هذا.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللّٰہابن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مربع (چوکور) لائن کھینچی اور پھر اس لائن کے درمیان میں سے دوسری جانب باہر تک ایک اور لائن کھینچی، پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس چوکور لائن کےاندر درمیانی لائن کے دونوں طرف کچھ چھوٹی چھوٹی لائنیں کھینچیں اور ارشاد فرمایا:’’یہ انسان ہے اوریہ (چوکور) لائن اس کی موت ہے جو اُس کا اِحاطہ کرنے والی ہے یا اس کااحاطہ کرچکی ہےاور باہرنکلنے والی یہ لائن اس کی امیدیں ہیں اوریہ چھوٹی چھوٹی لائنیں دُنیاوی مشکلات ہیں،اگروہ ایک مشکل سے بچ گیا تو دوسری مشکل اسے ڈَس لے گی اور اگراس سےبھی بچ گیا توتیسری مشکل اسے ڈَس لے گی۔‘‘

شرح حدیث

اُمیدوں کی تکمیل سے قبل موت:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِینے مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت یہ دو نقشے بنائے ہیں:
علامہ کرمانی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’(اس نقشے میں) وہ لائن جو چوکور لائن کے درمیان میں لگی ہوئی ہے وہ لائن آدھی چوکور لائن کے اندر ہے اور آدھی اس سے باہر، تو پس وہ جو چوکور لائن کے اندر ہے وہ فرضی طورپرانسان ہے اور وہ لائن جو اس چوکور لائن کے باہر ہے وہ اس بندے کی اُمیدیں ہیں اورچھوٹی چھوٹی تمام لائنیں بندے کو لاحق ہونے والی دنیاوی آفات اور مصائب ہیں،اگر وہ ایک آفت سے بچ جاتا ہے تو دوسری آفت (یعنی موت)اسے ڈس لیتی ہے یعنی اگر وہ اِخترامی موت (آفات کے سبب پیش آنے والی موت) سے نہیں مرتا تو طبعی موت سے ضرور مرجاتا ہے۔ تو حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ انسان لمبی لمبی امیدیں باندھتا ہے،ابھی اس کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں کہ موت اسے اُچک لیتی ہے۔‘‘موت سے فرارممکن نہیں:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’ظاہر یہی ہے کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنےمبارک ہاتھوں سےزمین پریہ لائنیں بنائیں۔علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ یہاں لائن سے مراد نشان یا شکل ہے۔چوکورلائن انسان کی موت یا اس کی عمر کی مدت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے یعنی اسے ہرجانب سےاس طرح گھیرے ہوئے ہے کہ اس سے نکلنا یا فرار ہونا ناممکن ہے، چوکور لائن کے باہر اس کی امیدیں ہیں جن کے بارے میں بندہ گمان کرتا ہے کہ وہ انہیں موت سے قبل حاصل کرلے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہوتا ہے کیونکہ اس کی امیدیں بہت طویل ہوتی ہیں جن کی تکمیل سے وہ فارغ نہیں ہوسکتا اور اس کی موت اس کے بہت قریب ہے۔دیگر چھوٹی چھوٹی لائنیں آفات وبَليات ہیں جیسے بیماری، بھوک، پیاس وغیرہ جو انسان کو لاحق ہوتی ہیں۔ اگر وہ ایک آفت سے بچ جاتا ہے تو دوسری آفت اسے آلیتی ہے اوراسی طرح وہ موت تک پہنچ جاتا ہےلیکن اس کی امیدوں کا اختتام نہیں ہوتا۔‘‘دنیامیں آفتوں سے چھٹکارا نہیں :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اس شکل میں چار چیزیں ہیں،بیچ والا جو مربع خط (چوکورلائن)سے گھرا ہوا ہے اور جسے چھوٹی لکیریں چمٹی ہوئی ہیں یہ تو انسان ہے اور اس کے اردگرد چو کھوٹھا خط (چوکور لائن)اس کی موت ہے جو ہر طرف سے اسے گھیرے ہوئے ہے اور آس پاس کی چمٹی ہوئی لکیریں یہ دنیاوی آفتیں،بلائیں ہیں،بیماریاں،آپس کی دشمنیاں،دنیاوی جھگڑے اور فکریں جو دو طرفہ چمٹی ہوئی ہیں اور اس مربع خط سے اوپر نکلا ہوا حصہ یہ انسان کی دنیاوی امیدیں ہیں یعنی انسان اس قدر آفتوں اور چوطرفہ سے موت میں گھرے ہوئے ہونے کے باوجود اتنی دراز امیدیں رکھتا ہے جو اس موت سے بھی آگے نکلی ہوئی ہیں۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
انسان عمر میں کبھی بھی آفتوں سے چھٹکارا نہیں پاتا،ایک آفت جاتی ہے تو دو آتی ہیں اور جب دو جاتی ہیں تو اور طرف سے تین چار آتی ہیں، یہ آفتیں بلائیں یوں ہی آتی رہتی ہیں حتی کہ اسے موت آجاتی ہے، زیادہ امیدیں باندھنے والے کو موت کی تکلیف بہت ہوتی ہے، نزع کی شدت،دنیا چھوٹنے پر حسرت،امیدیں پوری نہ ہونے کا غم۔ لہٰذا یہ ہی بہتر ہے کہ لمبی امیدیں رکھی ہی نہ جائیں۔غافل مرکر دنیا او ر محبوب چیزوں سے چھوٹتا ہے مگرمؤمن کامل مر کر محبوب سے ملتا ہے،کافر کی موت کا دن چھوٹنے کا دن ہے،مومن کی موت کا دن ملنے کا دن ہے، اس لیے مقبولوں کی موت کو عرس یعنی شادی کہا جاتا ہے۔قبر میں کامیاب ہونے پر فرشتے کہتے ہیں:
نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعَرُوْسسوجا !دُلہن کی طرح۔‘‘لمبی اُمیدوں سے متعلق پانچ اَقوال وحکایات:(1)ایک بزرگرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت زُرارَہ بن ابُواَوفیٰرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکوان کے اِنتقال کے بعد خواب میں دیکھا تو پوچھا:”کون سا عمل آپ کے نزدیک بلند مرتبہ ہے؟“انہوں نے فرمایا:”توکُّل کرنا اور امیدوں کو کم کرنا۔“(2)حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’امیدوں کا چھوٹا ہونا زہد ہے نہ کہ سخت غذا کھانا اور بوری لپیٹ لینا۔‘‘(3)حضرت سیِّدُنا داؤد طائیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: اگر میں ایک مہینہ زندہ رہنے کی امید کروں تو تم دیکھو گے کہ یقیناً میں نے بڑا گناہ کیا اور میں یہ امید رکھ بھی کیسے سکتا ہوں حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ مصیبتوں نے دن و رات ہر گھڑی میں لوگوں کو گھیرا ہوا ہے۔(4)حضرت سیِّدُنامحمد بن ابوتوبہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکہتےہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا معروف کرخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَ لِینے نماز کے لئےاِقامت کہی اورمجھ سےفرمایا:”آگےبڑھ کرنمازپڑھاؤ۔“میں نےعرض کی:”یہ ایک ہی نماز پڑھاؤں گا اس کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھاؤں گا۔“یہ سن کرانہوں نے فرمایا:”تم اپنے دل میں دوسری نماز کے بارےمیں سوچ رہے ہو،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں لمبی امیدوں سے بچائے کہ یہی نیک اعمال میں رکاوٹ بنتی ہیں۔“(5)حضرت سیِّدُنا ابو محمد بن علی زاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَاحِدکہتے ہیں: ہم کوفہ میں ایک جنازے میں شریک ہوئےاس میں حضرت سیِّدُنا داؤد طائیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہبھی شریک تھے،جب لوگ میت کو دفنانے لگے تو آپ ایک جانب بیٹھ گئے، میں آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آیااورقریب بیٹھا تو آپ نے فرمایا: ”جو وعدۂ عذاب کاخوف رکھتا ہے دور کی چیز بھی اس کے قریب آجاتی ہےاور جس کی امیدیں زیادہ ہوں اس کا عمل کم ہوجاتاہےاور ہر آنے والی چیز( یعنی موت)قریب ہی ہے،اےمیرے بھائی!یادرکھوکہ جو چیزتمہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد سے غافل کرے وہ تمہارے لئےمنحوس ہے،یہ بھی جان لو کہ دنیا والے قبر والوں کی طرح ہیں کہ جو ہاتھ سے نکل جاتا ہے اس پر افسوس کرتے ہیں اور جوکچھ آگےکےلئے جمع کر کے رکھتے ہیں اس پر خوش ہوتے ہیں البتہ فرق صرف اتناہےکہ جس چیز پرقبر والے افسوس کرتے ہیں دنیا والے اس کی خاطر مقابلہ اورقتل وغارَت گری کرتے ہیں اور عدالت میں اس کے لئے مقدمہ لڑتے ہیں۔“لمبی اُمیدوں کے اَسباب اور بچنے کا طریقہ:حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:جان لیجئے! لمبی امید باندھنے کے دو سبب ہیں، ایک دنیا کی محبت اور دوسرا جہالت۔
(1)پہلا سبب، دنیا کی محبت:جب بندہ دنیاسےاس قدر مانوس ہوجائےکہ دنیاوی خواہشات، لذتوں اور معاملات کا جداہونا اس کے دل پر ناگوار گزرے تو اس کادل اس موت کےبارے میں غوروفکر سے رُک جاتاہے جو دنیا وی خواہشات ولذتوں سے جدائی کا سبب ہے۔ اصول یہ ہےکہ جوچیزانسان کو ناپسند ہوتی ہے اسےاپنے سےدور کرنے کی کوشش کرتاہےجبکہ یہی انسان بے کار قسم کی آرزوؤں میں مصروف نظر آتاہےاور چاہتاہے کہ خواہشات کے مطابق ہر کام ہوجائے لہٰذا دنیا میں باقی رہنا ہی اس کی اصل چاہت ہوتی ہےاور اسی وجہ سے مسلسل انہی خیالات میں گھرا رہتاہےاور اپنے جی میں گھر بار، بیوی بچے ،دوست احباب، مال ودولت اور دیگر تمام اسباب کو ضروری سمجھتاہےاور پھر اسی سوچ پر اس کا دل جَم جاتاہےاور یوں موت کو بھول جاتاہے۔*موت کو یاد نہ کرنے کے بہانے: اگربندے کے دل میں کبھی موت کا خیال آ بھی جائے اور اس کی تیاری کی ضرورت محسوس کرےتو ٹال مٹول سے کام لیتاہےاور دل میں وعدہ کرتے ہوئے کہتاہے:ابھی تو کافی دن پڑے ہیں جب بڑاہوجاؤں گا توبہ کرلوں گا اور جب بڑاہوجاتاہے تو کہتاہے: بوڑھا ہونے پرتوبہ کرلوں گا اور جب بوڑھا ہوجاتاہے توکہتا ہے: اس گھر کی تعمیر سے فارغ ہوجاؤں یا فلاں زمین کا کچھ حصہ کاشت کرلوں یا سفرسے لوٹ آؤں یا اولاد کی تربیت سے یا شادی بیاہ سے فارغ ہوجاؤں یا ان کی رہائش کا کوئی مناسب انتظام کرلوں یا گالیاں دینے والے فلاں دشمن کوزیرکر لوں تو پھر توبہ کرلوں گا، یوں مسلسل ٹال مٹول کرتارہتا ہے اور ایک کام سے فارغ نہیں ہوتا کہ دوسرے دس کام سر پر آ کھڑےہوتے ہیں، دن یونہی گزرتے رہتے ہیں اورمصروفیت بڑھتی رہتی ہے کہ موت اچانک آدبوچتی ہےاورپھرنہ ختم ہونےوالی حسرتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ توبہ میں تاخیر کرنے والے اکثرجہنمی چیخ و پکار کرتے ہوئے یہی کہیں گے:آہ !تاخیر کرنےپر افسوس ہے۔ حالانکہ توبہ میں تاخیر کرنے والےاس بے چارےکو اتنابھی نہیں معلوم کہ آج جس بات کی وجہ سے توبہ میں تاخیر کررہاہےکل بھی وہ وجہ پائی جائے گی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوجائے گی اوریہ بےچارہ تصورجمائےبیٹھاہےکہ دنیا میں مگن رہنے والااور اس میں مصروف رہنے والاکبھی نہ کبھی فارغ ہوجاتا ہے۔ ہائے افسوس!اس سے وہی فارغ ہوسکتاہےجو اس کی محبت کو دل سے نکال پھینکے۔ان تمام خواہشات کی بنیاد دنیا کی محبت اوراس میں دل لگاناہےنیز آقائے دو عالَم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس فرمان پر غور نہ کرنا ہےکہ”تونے جس سے محبت کرنی ہے کَر مگراس سے جدا ضرور ہوناپڑے گا۔“
(2) دوسرا سبب،جہالت:جہالت یا تو یوں پائی جاتی ہےکہ انسان اپنی جوانی پر بھروسا کرکے یہ سمجھ بیٹھتاہے کہ جوانی میں موت نہیں آئے گی اوربے چارہ اس بات پر غور نہیں کرپاتاکہ شہر بھر کے بوڑھوں کو شمار کیا جائےتو ان کی تعداد مَردوں (جوانوں)کے دسویں حصہ کو بھی نہ پہنچے گی اور تعدادکم ہونے کی وجہ یہی ہے کہ زیادہ تر لوگ جوانی میں ہی مَر جاتے ہیں کہ ایک بوڑھا مرتاہے توہزاربچے اور جوان مَررہے ہوتے ہیں یا جہالت یوں پائی جاتی ہےکہ صحت مند رہنے کی وجہ سے موت نہیں آئے گی اور اچانک موت آنے کو ایک آدھ واقعہ شمار کرتاہے اور یہی اس کی جہالت ہےکہ یہ ایک آدھ واقعہ نہیں ہےاوراگر ایک آدھ واقعہ شمار کربھی لیاجائے توبیماری کا اچانک ظاہر ہوجانا کچھ مشکل نہیں کیونکہ ہر بیماری اچانک آسکتی ہےاور جب انسان اچانک بیمارہوسکتاہےتو اچانک موت کا آنا ذرا بھی مشکل نہیں۔اگر غافل شخص غوروفکر کرے تو یہ بات جان لےگاکہ موت کا کوئی وقت ہمیں معلوم نہیں ہے چاہے جوانی ہو یا بڑھاپا، گرمی ہو یا سردی،خزاں ہو یا بہار، دن ہو یا رات۔ اس غور وفکر سے اس میں احساس پیدا ہوگا اور موت کی تیاری میں مشغول ہوجائے گا لیکن دنیاکی محبت اور جہالت دونوں ہی اس غافل شخص کو لمبی اُمیدوں کی جانب بلاتے ہیں اوریوں موت کو قریب جاننے سے غافل کردیتے ہیں اگرچہ ہمیشہ اس کی یہی سوچ ہوتی ہے کہ موت ہر وقت سامنے ہے مگریہ نہیں سوچتاکہ موت مجھے کہیں بھی اور کسی بھی وقت آجائے گی، یونہی یہ سوچ بھی رکھتاہےکہ جنازے کے ساتھ ساتھ چلے گامگر یہ نہیں سوچتاکہ میرے جنازے کے ساتھ بھی کوئی چلے گا اور وجہ یہی ہےکہ باربار جنازوں میں شرکت کرکےمانوس ہوچکاہےحالانکہ یہ دوسروں کے جنازے ہیں نہ کہ اس کا اپناجنازہ کہ جس سے یہ مانوس ہواہو اور مانوس ہوبھی نہیں سکتاکیونکہ ابھی اس کا اپنا جنازہ تیار ہی نہیں ہوا اورجب تیار ہوگاتو مانوس ہونے کا موقع نہ ملے گاکیونکہ یہی جنازہ پہلااور آخری ہوگا۔
*غفلت سے بچنے کا طریقہ:اپناذہن یوں بنائے کہ دوسرے جس طرح مَرتے ہیں میں بھی مَروں گا ،میراجنازہ بھی اٹھایا جائے گا اور قبر میں ڈال دیاجائے گاشاید میری قبر کو ڈھانپنے والی سِلیں تیار ہوچکی ہوں گی حالانکہ مجھے ان کا کچھ علم نہیں۔ اگر اس غفلت سے چھٹکاراحاصل نہ کیاتوٹال مٹول ہی کرتارہے گاجوکہ سَراسَر جہالت ہے۔ مذکورہ گفتگوسے معلوم ہواکہ لمبی امیدیں باندھنےکا سبب جہالت اور دنیاکی محبت ہےلہٰذا ان سے بچنے کا طریقہ درج ذیل ہے۔*جہالت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ دل کو حاضر رکھ کرمثبت انداز میں سوچ بچار کرے نیز پاکیزہ دل کےساتھ قرآن وحدیث اور بزرگوں کے اَقوال سنے۔*دنیا کی محبت سے بچنے کا طریقہ:دل سے دنیا کی محبت نکالنا بہت مشکل ہے،یہ ایسی پیچیدہ بیماری ہے جس کے علاج نے اگلے پچھلوں کو تھکا دیا ہے، اس کابس یہی علاج ہےکہ قیامت کےدن اور اس میں پہنچنےوالے سخت عذاب اورملنے والے بہت بڑے ثواب پر ایمان لائےاور جب اس پر یقینِ کامل ہوجائے گاتو دل سے دنیا کی محبت نکل جائے گی کیونکہ عمدہ چیز کی محبت دل سے گھٹیا چیز کی محبت نکال دیتی ہےاور جب بندہ دنیا کو حقارت اور آخرت کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھے گاتو دنیا کی جانب توجہ کرنے میں ناگواری محسوس کرے گااگرچہ مشرق و مغرب کی بادشاہت ہی اسے کیوں نہ دے دی جائے اور ناگواری کیوں محسوس نہ کرےگاکہ اس کے پاس تھوڑی سی مقدار ہےاوروہ بھی بدنُمااور بدمزہ ،نیزکس طرح دنیاپر خوش ہوگا یا اس کے دل میں دنیاکی محبت جڑ بناسکے گی جبکہ اس کےدل میں تو آخرت پر ایمان پختہ ہو چکا ہے۔ ہماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرتے ہیں کہ دنیا کو ہماری نظروں میں اتنی ہی وقعت دے جتنی اس نے اپنے نیک بندوں کی نظروں میں دی۔لمبی اُمید سے بچنے کا طریقہ:انسان ہر گھڑی اپنے جسم کے متعلق یوں غور وفکر کرے کہ کس طرح کیڑے میرے جسم کو کھائیں گے، کس طرح میری ہڈیاں بکھر جائیں گی نیز یوں سوچ بچار کرے کہ کیڑے پہلے دائیں آنکھ کی پتلی کھائیں گے یا بائیں آنکھ کی پتلی،آہ! میراجسم کیڑوں کی خوراک بن چکاہوگامجھے صرف وہی علم اور عمل فائدہ دے گا جو خالصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے کیاہوگا،یونہی عنقریب عذابِ قبر،مُنکَرنکیر کے سوالات،حشر ونشر،قیامت کی ہولناکیوں اورحساب کے وقت پکارےجانے کی مشکلات میں گِھر جاؤں گا۔اسی طرح کی سوچیں دل میں موت کی یاد تازہ رکھیں گی اور اس کی تیاری میں مصروف رکھیں گی۔مدنی گلدستہ’’فکرآخرت‘‘کے7حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) موت انسان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، کیا معلوم کب آجائے۔
(2) بندہ لمبی لمبی اُمیدیں باندھتا رہتا ہے حتی کہ موت اسے اُچک لیتی ہے۔
(3) بندے کو چاہیے کہ لمبی امیدیں باندھنے کے بجائے موت کو یاد کرےاورآخرت کی تیاری کرے۔
(4) لمبی امیدیں عبادت میں سُستی،توبہ میں تاخیر،دنیامیں رغبت،آخرت کوبھول جانےاوردلوں میں سختی پیداکرنےکاسبب ہیں۔
(5) زیادہ امیدیں باندھنےوالےکو موت کی تکلیف بھی زیادہ ہوتی ہےکہ نزع کی شدت،دنیا چھوٹنے پر حسرت،امیدیں پوری نہ ہونے کا غم اسےرہتاہےاورجس کی امیدیں کم ہوں اسےموت کی تکلیف بھی کم اوردنیاچھوٹنےکارنج وغم بھی کم ہوتاہے۔
(6) امیدوں میں کمی زہدکاسبب ہےکیوں کہ جس نے اپنی امیدوں کوکم کرلیاتووہ زہداختیارکرنے والے کی طرح ہے۔
(7) کسی بات کو مثال دے کر سمجھانا بھی سنت سے ثابت ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں موت سے قبل آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارا خاتمہ ایمان پرفرمائےاورہماری بلاحساب وکتاب مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 577