باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 578
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، اَوْ غِنًى مُطْغِيًا، اَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا،اَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، اَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، اَوِالدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ ،اَوِ السَّاعَةَ وَالسَّاعَةُ اَدْهَى وَاَمَرُّ.
عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بادروا بالاعمال سبعا، هل تنتظرون الا فقرا منسيا، او غنى مطغيا، او مرضا مفسدا،او هرما مفندا، او موتا مجهزا، اوالدجال فشر غائب ينتظر ،او الساعة والساعة ادهى وامر.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’سات چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، کیا تم بھلا دینے والے فقر کا انتظار کررہے ہو یا سرکشی میں مبتلا کردینے والی مالداری، یا فساد پیدا کرنے(یعنی خراب کردینے) والی بیماری یامَخْبُوْطُ الْحَوَاسکردینے والے بڑھاپے یا اچانک موت یا دجال کا جو غائب شر ہے اور اس کا انتظار کیا جارہا ہے یا قیامت کا اور قیامت بہت کڑی اور سخٹ کڑوی ہے۔
شرح حدیث
قیامت کی تلخی سخت ترہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:مذکورہ حدیث میں اُن لوگوں کوزجروتوبیخ کی گئی ہےجودین کےکاموں میں کوتاہی کرتےہیں، یعنی تم اپنے رب کی کب عبادت کرو گے ؟ کیونکہ اگر تم قلتِ مَشاغِل اور جسمانی قوت وطاقت کے ہوتے ہوئے بھی رب تعالیٰ کی عبادت نہیں کرو گے تو پھر کثرتِ مَشاغِل اور جسمانی قوت وطاقت کی کمزوری کی صورت میں اس کی عبادت کیسے کرو گے؟سرکشی میں مبتلا کردینے والی مالداری یعنی وہ مالداری جو تمہیں باغی ، نافرمان اور حد سے تجاوُز کرنے والا بنادے۔ بُھلادینے والا فقریعنی وہ فقر جو اپنے صاحب کو اس طرح مدہوش کردے کہ وہ بھوک، برہنہ حالت اور خوراک کو طلب کرنے میں تَرَدُّد کی وجہ سے طاعتِ الٰہی کو ہی بھول جائے۔یا فساد پیدا کرنے والی بیماری یعنی اپنی شدت کے سبب بدن کو خراب کردینے والی یا سُستی پیدا کرکے دین کو خراب کردینے والی بیماری۔مَخْبُوطُ الْحَوَاسکردینے والے بڑھاپے یعنی وہ بڑھاپا جو رائے کمزور کردے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آدمی کامَخْبُوطُ الْحَوَاسہونا یہ ہے کہ جب اس کے کلام میں کثرت سے خرافات ہوں اور بوڑھے آدمی کا مخبوط الحواس ہونا یہ ہے کہ اسے اس بات کا پتا نہ ہو کہ وہ اپنے بڑھاپے کے سبب کیا کہہ رہا ہے۔اچانک موت یعنی ایسی اچانک موت کہ بندہ توبہ اور وصیت تک نہ کرسکے۔ علامہ قاضیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اچانک موت سے مراد جیسے قتل ہوجانا، غرق ہوجانا اور گرنے کے سبب مرجانا،کسی مرض یا بڑھاپے کے سبب آنے والی موت مراد نہیں ہے۔ قیامت بہت کڑی یعنی بہت زیادہ شدید تکالیف والی،بھیانک اور دشوار گزار ہےاور قیامت سخت کڑوی ہےیعنی وہ شخص جو قیامت کے معاملے میں غافل ہے قیامت اس کے لیے اس کی زندگی میں پیش آنے والی تمام تکالیف وتلخیوں سے بھی زیادہ کڑوی ہے۔‘‘جوانی کوکھیل کودمیں ضائع نہ کرو:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح میں فرماتےہیں:’’صحت،جوانی،مالداری،فراغت اورزندگی کورائیگاں نہ جانےدواس میں نیک اعمال کرلوکہ یہ نعمتیں باربارنہیں ملتیں،میاں محمدصاحب فرماتےہیں۔شعر:
سدا نہ حسن جوانی رہندی سدا نہ صحبتِ یاراں
سدا نہ بلبل باغاں بولے سدا نہ باغ بہاراں
(یعنی)باغ میں بہاراوربہارمیں بلبل کی شوروپکارہمیشہ نہیں رہتے کبھی آتےہیں اسے غنیمت نہ جانو۔ اوراگر تمہیں نیکیاں کرنےکاموقعہ ملاہےتوپھرتم نیکیاں کیوں نہیں کرتےاوریہ کیوں کہتے ہوکہ آئندہ کرلیں گے تم کس چیز کا انتظار کررہے ہو؟ایسی امیری کا جو سرکش بنا دے یا ایسی فقیری کا جب تمہیں کچھ نہ بن پڑے، لوگ تمہیں بھول جائیں۔ہم نےدیکھاہےکہ بعض لوگوں کو حج کا موقعہ ملتاہےمگروہ نہیں کرتے،یہ کہتےہیں کہ آئندہ دیکھا جائے گا، وہ آئندہ آئندہ کرتے ہی دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ جوانی کو کھیل کودمیں ضائع کردینااوربڑھاپے میں جب ہاتھ پاؤں بھی قابو میں نہ رہیں عبادت کرنے کی خواہش کرنا بے وقوفی ہے، جو کرنا ہے جوانی میں کرلوکہ جوان صالح کا بہت بڑا درجہ ہےاورتم نیک اعمال کیوں نہیں کرتے،کیاتم دجال کی آمد یا قیامت کےآنے کے مُنتظر ہو؟ اس وقت تم نیکیوں کی تمنا کرو گے مگر کرنہ سکو گے، یہ فرمان اظہارِ عتاب کے لیے ہے،مقصد یہ ہے کہ نیک اعمال میں جلدی کرے۔‘‘دنیاآخرت کی کھیتی ہے:امام ابنِ جوزیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیارشادفرماتے ہیں:”انسان کبھی تندرست ہوتا ہے مگر کسبِ معاش میں مشغولیت کی بناء پرفارغ نہیں ہوتا اورکبھی خوشحال ہوتا ہےلیکن تندرست نہیں رہتا۔ پس جب تندرست اور فارغ ہو اور طاعت کے بجائے سُستی غالب آجائے تو ایساشخص خسارے میں ہے ۔دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس میں ایسی تجارت موجودہے جس کا نفع آخرت میں ملے گا۔ وہ شخص قابلِ رشک ہے جو اپنی صحت اور فراغت کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بندگی واطاعت میں گزارے تو جس نے اپنی صحت وفراغت کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں ضائع کردیاوہ دھوکے میں رہا کیونکہ فراغت کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آ گھیرتی ہےاوراگر ایسا نہ بھی ہوتوپھر بڑھاپا ہی کافی ہے ۔جیساکہ کسی شاعرنے کہاہے:یَسُرُّ الْفَتَی طُوْلُ السَّلَامَۃِ وَالْبَقَا……فَکَیْفَ تَرَی طُوْلَ السَّلَامَۃِ یَفْعَلُیَرُدُّ الْفَتَی بَعْدَ اِعْتِدَالٍ وَ صِحَۃٍ……یَنُوْ ءُ اِذَا رَامَ الْقِیَامَ وَ یُحْمَلُترجمہ:(1)لمبی عمراورطویل سلامتی (صحت) نوجوان کوخوش کرتی ہے، تو(اے انسان) تُوکیسے سمجھتاہے کہ طویل سلامتی ایساکرتی رہے گی؟(2)وہ تونوجوان کوصحت اورمعتدل زندگی کے بعدبڑھاپے کی طرف لوٹادے گی کہ جب کھڑاہوناچاہے گاتومشقت سے اٹھے گااور(کبھی)بوجھ کی مثل اٹھایا جائے گا۔“مدنی گلدستہ’’حُسَیْن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نیکی کرنےکاموقعہ ملےتونیکی کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہیے کیامعلوم آئندہ موقع ملے یا نہ ملے اورموت آپہنچے۔
(2) جومالداری انسان کوسرکشی میں مبتلاکردےاس سےعافیت کی دعاکرنی چاہیے۔
(3) جوانی کوکھیل کودمیں ضائع کردینااوربڑھاپے میں عبادت وریاضت کرنے کی خواہش کرنا بےوقوفی ہے جو کرنا ہےوہ جوانی میں کرلوکہ جوانی کی عبادت بڑھاپےکی عبادت سےبہترہے۔
(4) وہ شخص قابلِ رشک ہے جو اپنی صحت اور فراغت کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بندگی واطاعت میں گزارے اور جس نے اپنی صحت وفراغت کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں ضائع کردیاوہ دھوکے میں رہا کیونکہ فراغت کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آگھیرتی ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے، گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہ معاف فرمائےاور ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 578