Main Icon

باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 578

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، اَوْ غِنًى مُطْغِيًا، اَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا،اَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، اَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، اَوِالدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ ،اَوِ السَّاعَةَ وَالسَّاعَةُ اَدْهَى وَاَمَرُّ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بادروا بالاعمال سبعا، هل تنتظرون الا فقرا منسيا، او غنى مطغيا، او مرضا مفسدا،او هرما مفندا، او موتا مجهزا، اوالدجال فشر غائب ينتظر ،او الساعة والساعة ادهى وامر.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’سات چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، کیا تم بھلا دینے والے فقر کا انتظار کررہے ہو یا سرکشی میں مبتلا کردینے والی مالداری، یا فساد پیدا کرنے(یعنی خراب کردینے) والی بیماری یامَخْبُوْطُ الْحَوَاسکردینے والے بڑھاپے یا اچانک موت یا دجال کا جو غائب شر ہے اور اس کا انتظار کیا جارہا ہے یا قیامت کا اور قیامت بہت کڑی اور سخٹ کڑوی ہے۔

شرح حدیث

قیامت کی تلخی سخت ترہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:مذکورہ حدیث میں اُن لوگوں کوزجروتوبیخ کی گئی ہےجودین کےکاموں میں کوتاہی کرتےہیں، یعنی تم اپنے رب کی کب عبادت کرو گے ؟ کیونکہ اگر تم قلتِ مَشاغِل اور جسمانی قوت وطاقت کے ہوتے ہوئے بھی رب تعالیٰ کی عبادت نہیں کرو گے تو پھر کثرتِ مَشاغِل اور جسمانی قوت وطاقت کی کمزوری کی صورت میں اس کی عبادت کیسے کرو گے؟سرکشی میں مبتلا کردینے والی مالداری یعنی وہ مالداری جو تمہیں باغی ، نافرمان اور حد سے تجاوُز کرنے والا بنادے۔ بُھلادینے والا فقریعنی وہ فقر جو اپنے صاحب کو اس طرح مدہوش کردے کہ وہ بھوک، برہنہ حالت اور خوراک کو طلب کرنے میں تَرَدُّد کی وجہ سے طاعتِ الٰہی کو ہی بھول جائے۔یا فساد پیدا کرنے والی بیماری یعنی اپنی شدت کے سبب بدن کو خراب کردینے والی یا سُستی پیدا کرکے دین کو خراب کردینے والی بیماری۔مَخْبُوطُ الْحَوَاسکردینے والے بڑھاپے یعنی وہ بڑھاپا جو رائے کمزور کردے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آدمی کامَخْبُوطُ الْحَوَاسہونا یہ ہے کہ جب اس کے کلام میں کثرت سے خرافات ہوں اور بوڑھے آدمی کا مخبوط الحواس ہونا یہ ہے کہ اسے اس بات کا پتا نہ ہو کہ وہ اپنے بڑھاپے کے سبب کیا کہہ رہا ہے۔اچانک موت یعنی ایسی اچانک موت کہ بندہ توبہ اور وصیت تک نہ کرسکے۔ علامہ قاضیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اچانک موت سے مراد جیسے قتل ہوجانا، غرق ہوجانا اور گرنے کے سبب مرجانا،کسی مرض یا بڑھاپے کے سبب آنے والی موت مراد نہیں ہے۔ قیامت بہت کڑی یعنی بہت زیادہ شدید تکالیف والی،بھیانک اور دشوار گزار ہےاور قیامت سخت کڑوی ہےیعنی وہ شخص جو قیامت کے معاملے میں غافل ہے قیامت اس کے لیے اس کی زندگی میں پیش آنے والی تمام تکالیف وتلخیوں سے بھی زیادہ کڑوی ہے۔‘‘جوانی کوکھیل کودمیں ضائع نہ کرو:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح میں فرماتےہیں:’’صحت،جوانی،مالداری،فراغت اورزندگی کورائیگاں نہ جانےدواس میں نیک اعمال کرلوکہ یہ نعمتیں باربارنہیں ملتیں،میاں محمدصاحب فرماتےہیں۔شعر:
سدا نہ حسن جوانی رہندی سدا نہ صحبتِ یاراں
سدا نہ بلبل باغاں بولے سدا نہ باغ بہاراں
(یعنی)باغ میں بہاراوربہارمیں بلبل کی شوروپکارہمیشہ نہیں رہتے کبھی آتےہیں اسے غنیمت نہ جانو۔ اوراگر تمہیں نیکیاں کرنےکاموقعہ ملاہےتوپھرتم نیکیاں کیوں نہیں کرتےاوریہ کیوں کہتے ہوکہ آئندہ کرلیں گے تم کس چیز کا انتظار کررہے ہو؟ایسی امیری کا جو سرکش بنا دے یا ایسی فقیری کا جب تمہیں کچھ نہ بن پڑے، لوگ تمہیں بھول جائیں۔ہم نےدیکھاہےکہ بعض لوگوں کو حج کا موقعہ ملتاہےمگروہ نہیں کرتے،یہ کہتےہیں کہ آئندہ دیکھا جائے گا، وہ آئندہ آئندہ کرتے ہی دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ جوانی کو کھیل کودمیں ضائع کردینااوربڑھاپے میں جب ہاتھ پاؤں بھی قابو میں نہ رہیں عبادت کرنے کی خواہش کرنا بے وقوفی ہے، جو کرنا ہے جوانی میں کرلوکہ جوان صالح کا بہت بڑا درجہ ہےاورتم نیک اعمال کیوں نہیں کرتے،کیاتم دجال کی آمد یا قیامت کےآنے کے مُنتظر ہو؟ اس وقت تم نیکیوں کی تمنا کرو گے مگر کرنہ سکو گے، یہ فرمان اظہارِ عتاب کے لیے ہے،مقصد یہ ہے کہ نیک اعمال میں جلدی کرے۔‘‘
دنیاآخرت کی کھیتی ہے:امام ابنِ جوزیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیارشادفرماتے ہیں:”انسان کبھی تندرست ہوتا ہے مگر کسبِ معاش میں مشغولیت کی بناء پرفارغ نہیں ہوتا اورکبھی خوشحال ہوتا ہےلیکن تندرست نہیں رہتا۔ پس جب تندرست اور فارغ ہو اور طاعت کے بجائے سُستی غالب آجائے تو ایساشخص خسارے میں ہے ۔دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس میں ایسی تجارت موجودہے جس کا نفع آخرت میں ملے گا۔ وہ شخص قابلِ رشک ہے جو اپنی صحت اور فراغت کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بندگی واطاعت میں گزارے تو جس نے اپنی صحت وفراغت کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں ضائع کردیاوہ دھوکے میں رہا کیونکہ فراغت کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آ گھیرتی ہےاوراگر ایسا نہ بھی ہوتوپھر بڑھاپا ہی کافی ہے ۔جیساکہ کسی شاعرنے کہاہے:یَسُرُّ الْفَتَی طُوْلُ السَّلَامَۃِ وَالْبَقَا……فَکَیْفَ تَرَی طُوْلَ السَّلَامَۃِ یَفْعَلُیَرُدُّ الْفَتَی بَعْدَ اِعْتِدَالٍ وَ صِحَۃٍ……یَنُوْ ءُ اِذَا رَامَ الْقِیَامَ وَ یُحْمَلُترجمہ:(1)لمبی عمراورطویل سلامتی (صحت) نوجوان کوخوش کرتی ہے، تو(اے انسان) تُوکیسے سمجھتاہے کہ طویل سلامتی ایساکرتی رہے گی؟(2)وہ تونوجوان کوصحت اورمعتدل زندگی کے بعدبڑھاپے کی طرف لوٹادے گی کہ جب کھڑاہوناچاہے گاتومشقت سے اٹھے گااور(کبھی)بوجھ کی مثل اٹھایا جائے گا۔“مدنی گلدستہ’’حُسَیْن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نیکی کرنےکاموقعہ ملےتونیکی کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہیے کیامعلوم آئندہ موقع ملے یا نہ ملے اورموت آپہنچے۔
(2) جومالداری انسان کوسرکشی میں مبتلاکردےاس سےعافیت کی دعاکرنی چاہیے۔
(3) جوانی کوکھیل کودمیں ضائع کردینااوربڑھاپے میں عبادت وریاضت کرنے کی خواہش کرنا بےوقوفی ہے جو کرنا ہےوہ جوانی میں کرلوکہ جوانی کی عبادت بڑھاپےکی عبادت سےبہترہے۔
(4) وہ شخص قابلِ رشک ہے جو اپنی صحت اور فراغت کو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بندگی واطاعت میں گزارے اور جس نے اپنی صحت وفراغت کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں ضائع کردیاوہ دھوکے میں رہا کیونکہ فراغت کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آگھیرتی ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے، گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہ معاف فرمائےاور ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 578