Main Icon

باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 576

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوْطًا فَقَالَ: هٰذَا الْاِنْسَانُ وَهٰذَا اَجَلُهُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَالِكَ اِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الْاَقْرَبُ.

عن انس رضی اللہ عنہ قال: خط النبي صلى الله عليه وسلم خطوطا فقال: هذا الانسان وهذا اجله فبينما هو كذالك اذ جاءه الخط الاقرب.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکچھ لائنیں بنائیں اور(پھر اُن لائنوں کی وضاحت کرتے ہوئے)ارشادفرمایا:’’یہ انسان ہے اوریہ اس کی موت،پس وہ اسی حال میں ہوتاہےکہ اُس کے پاس وہ لائن آجاتی ہےجواُس کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔‘‘

شرح حدیث

لائنوں کی وضاحت کا نقشہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکچھ لائنیں بنائیں جن کانقشہ کچھ یوں ہے:
اِن لائنوں سے پیش آنے والی آفات مراد ہیں،پس انسان ایسی ہی آفات میں گِھرا ہوا ہے ،سب سے قریب والی لائن اُس کے پاس آجاتی ہے اور وہ
اَجَل(یعنی موت) ہے۔ دیگر لائنیں آفات ہیں اور سب سے قریب والی لائناَجَل(یعنی موت) ہےکیونکہ اِس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ لائن جس نے انسان کو گھیرا ہوا ہے (یعنی موت) وہ اُس لائن سے زیادہ قریب ہے جواُس سے باہر ہے۔‘‘لمبی اُمیدیں آخرت کوبھلادیتی ہیں:”فتح الباری“ میں ہے:امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیرِ خداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:’’مجھےتم پرسب سے زیادہ خوف یہ ہے کہ تم خواہشات کی پیروی کروگےاورلمبی اُمیدیں رکھو گے، خواہشات کی پیروی انسان کوحق سے روک دیتی ہےاورلمبی اُمیدیں آخرت کوبھلادیتی ہیں۔خبردار!دنیاتم سےپیٹھ پھیرنے والی ہے۔‘‘ایک روایت میں یوں ہے: ’’خواہشات کی پیروی تمہارے دلوں کو پھیر دے گی اور لمبی امیدیں تمہارے ارادوں کو دنیا کی طرف پھیر دیں گی۔‘‘بعض حکماء نے سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیرِ خداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے کلام سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ’’دنیا پیٹھ پھیرکر جانے والی اور آخرت سامنے سے آنے والی ہے، تو تعجب ہے اس شخص پر جو پیٹھ پھیرکرجانے والی کو قبول کرے اور سامنے سے آنے والی کو پیٹھ دکھائے۔‘‘ حضرت سَیِّدُنَاانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے: ’’چارچیزیں بدبختی سے ہیں: (1)آنکھوں کا خشک ہوجانا (یعنی خوفِ خدا کے سبب آنکھوں کا نہ رونا) (2)دل کی سختی(3)لمبی امیدیں (4) اوردنیاکی حرص۔‘‘حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عَمرورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے:’’اس اُمَّت کے پہلے کےلوگوں کی کامیابی کا راز زُہداور یقین ہےاوراس اُمت کےآخرکے لوگوں کی ہلاکت کا رازبخل اورلمبی اُمیدیں ہیں۔‘‘ کہا گیا ہے کہ اُمیدوں کا کم ہونا ہی زُہد کی حقیقت ہےلیکن امیدوں کا کم ہونا حقیقتاً زُہد نہیں بلکہ زُہد کا سبب ہے کیونکہ جس نے اپنی امیدوں کو کم کیا اس نے زُہد اختیار کیا اور لمبی امیدوں سے طاعت میں سُستی، توبہ میں تاخیر،دنیا میں رغبت، آخرت کو بھولنا اور دل میں سختی پیدا ہوتی ہے کیونکہ دِلوں کی نرمی اور صفائی موت، قبر، ثواب وعقاب اور قیامت کی سختیوں کو یاد کرنے سے ہوتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس نے امیدوں کو کم کیا اس کے اِرادے کم ہوجاتے ہیں اور اس کا قلب منور ہوجاتا ہے کیونکہ جب وہ موت کو قریب سمجھتا ہے تو طاعت میں کوشش کرتا ہے اور اس کے اِرادے کم ہوجاتے ہیں اور وہ قلیل پر ہی راضی ہوجاتا ہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 576