Main Icon

باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 575

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ،لَهُ شَيْءٌ يُوْصِي فِيْهِ، يَبِيْتُ لَيْلَتَيْنِ اِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوْبَةٌ عِنْدَهُ. وَفِی رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: يَبِيْتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَالِكَ اِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي.

عن ابن عمر رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:ما حق امرئ مسلم ،له شيء يوصي فيه، يبيت ليلتين الا ووصيته مكتوبة عنده. وفی روایۃ لمسلم: يبيت ثلاث ليال. قال ابن عمر: ما مرت علي ليلة منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ذالك الا وعندي وصيتي.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےروایت ہےکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس مسلمان کےپاس کوئی چیزلائقِ وصیت ہواس کےلیےیہ جائز نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارےکہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:’’جب سے میں نے سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےیہ بات سنی ہےمجھ پرایک رات بھی ایسی نہیں گزری کہ میری وصیت میرے پاس موجودنہ ہو۔‘‘

شرح حدیث

وصیت کرنامستحب ہے:اِمام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’وصیت لکھنے پرتمام مسلمانوں کا اجماع ہے لیکن ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہےکہ وصیت کرنامستحب ہے، واجب نہیں، ہاں اگرانسان پرکسی کاقرضہ ہویاکسی کاحق ہویااس کے پاس کسی کی امانت ہوتواس کی وصیت کرنااس پرلازم ہے۔‘‘کیا خبرموت کہاں اور کب آئے؟”دوراتیں بھی اس حال میں نہ گزارےکہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔“اس کے تحت مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’اگر یہ حکم وجوبی ہے تو منسوخ ہے کہ اب میراث کے اَحکام آچکے اور اگر اِستحبابی ہے تو اب بھی باقی ہے،واقعی جو وصیت کرنا چاہے وہ بغیر وصیت کئے ایک رات بھی نہ گزارے،کیا خبر موت کہاں اور کب آئے،نیز وصیت لکھ کر کرے بلکہ آج کل رجسٹری کرادے کہ زبانی وصیتیں بدل جاتی ہیں، ہاں! ادائے قرض اور ادائے امانات کی وصیت اب بھی واجب ہےجبکہ اُن قرضوں اور امانتوں کی کسی کو خبر نہ ہو۔‘‘موت سے پہلے آخرت کی تیاری:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک جہاں موت سے قبل وصیت نامہ لکھ لینے کی ترغیب دلائی گئی ہے وہیں اس میں موت کی یاد اور فکرِ آخرت کی ترغیب بھی ہے ۔ موت کا کچھ پتا نہیں کہ کہاں اور کب آجائے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، جو ہر صورت آکر ہی رہے گی، ہر شاہ وگدا کو اس کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے، لیکن سمجھدار وہ ہے جو موت سے پہلے آخرت کی تیاری کرلے، اپنے قیمتی اور انمول لمحات کو فضول ولغو کاموں میں صَرف کرنے کے بجائے خیروبھلائی کے کاموں میں خر چ کرے، جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیاری میں مشغول رہے، کئی ہنستے بولتے انسان اچانک موت کا شکار ہوکر اندھیری قبر میں پہنچ جاتے ہیں، ہمیں بھی اسی طرح مرنا پڑے گا، اندھیری قبر میں اترنا پڑے گا، اپنی کرنی کا پھل بھگتنا پڑے گا۔موت سے متعلقہ تین عبرت انگیز حکایات ملاحظہ کیجئے:(1)حسرت زدہ بادشاہ:منقول ہےکہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکا گزر ایک کھوپڑی کے قریب سے ہواتوآپ نے اسے ٹھوکر مارکرفرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سےمجھ سے کلام کر۔“ کھوپڑی میں سے آواز آئی:”اےرُوحُ اللّٰہ! میں فلاں فلاں زمانے کا بادشاہ ہوں، میں اپنے محل میں تخت پر یوں بیٹھاتھاکہ سَر پر تاج جبکہ نوکر چاکر اور لشکری میرے آس پاس تھے کہ یکایکمَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَامآئے اور مجھے یوں محسوس ہواکہ ہر جوڑ الگ الگ ہورہاہےاورپھر میری رُوح کھینچ لی گئی،کاش! میں لوگوں کو جمع کرنے کے بجائے تنہائی اختیار کرتا، کاش! لوگوں کے قریب رہنے کے بجائے ان سے دور بھاگتا۔“(2)مغرور آدمی کا بُرا انجام:حضرت سیِّدُنا یزید رَقّاشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتےہیں:”بنی اسرائیل کا ایک انتہائی مغرورآدمی اپنے گھر میں کسی فرد کے ساتھ تنہائی میں تھا،اچانک اس نے دیکھاکہ کوئی دروازے سےاندر آیاہے، گھبرا کر فوراًغصے سے بَھڑک اٹھا اورپوچھنے لگا:تم کون ہواورکس کی اجازت سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہو؟آنے والے نے جواب دیا:میں گھر کے مالک کی اجازت سے داخل ہواہوں،میں وہ ہوں جسےاندر آنے سے کوئی پہرے دار نہیں روک سکتاہے، نہ مجھے کسی بادشاہ کی اجازت درکار ہےاور نہ ہی کسی کا رُعب ودبدبہ مجھے خوف زدہ کرسکتاہے، نہ ہی کوئی ضدی ومغرور مجھ سے پیچھا چھڑاسکتاہےاور نہ کوئی سرکش شیطان مجھ سےبچ سکتا ہے۔یہ سن کر اس مغرور آدمی کو انتہائی ندامت ہوئی اور اس کے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی یہاں تک کہ اوندھے منہ گرگیا، پھر اپنا سر اٹھاکر ذلت اور بھیک مانگنے والے انداز میں کہنے لگا:”اس کا مطلب ہے آپ مَلک الموت ہیں؟فرمایا: ہاں ! میں ہیمَلَکُ الْمَوْتہوں۔مغرور آدمی نے پوچھا:کیا آپ مجھے کچھ مہلت دے سکتے ہیں تاکہ میں توبہ تائب ہو سکوں؟مَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:”ہرگزنہیں !تیری مدت ختم ہوچکی ہے، سانسوں کی گنتی پوری ہوچکی ہے، وقت پورا ہو چکا ہے اور اب تیرے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔“مغرور آدمی نے پھر پوچھا:آپ مجھے کہاں لے جائیں گے؟ فرمایا:تیرے اس عمل کی طرف جو تو نے آگے بھیجا ہے اور اس گھر کی طرف جو تو نے تیار کیا ہے۔ اس نے کہا:میں نے کوئی نیک عمل آگے بھیجاہےنہ کوئی اچھاگھر تیار کیا ہے۔مَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَامنے کہا:پھر توجہنم کی وادی کی جانب لے جاؤں گاجوگوشت کوبھون کر رکھ دیتی ہے۔پھر آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اس کی روح قبض کرلی،وہ اپنے اہلِ خانہ کے درمیان گر پڑا اور سب نے رونادھونااور چیخنا چلانا شروع کردیا۔ حضرت سیِّدُنا یزید رَقّاشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:” اگر گھروالے اس کے بُرے انجام کو جان لیتے تو اور زیادہ روتے۔“(3)موت آکرہی رہے گی یاد رکھ :حضرت سیِّدُنا اَعْمَش، حضرت سیِّدُناخَیْثَمَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ مَاکےحوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ملک الموتعَلَیْہِ السَّلَامحضرت سیِّدُنا سُلَیمانعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس آئے اور آپ کے قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص کو مسلسل دیکھتے رہےپھر باہر چلے گئے،اس شخص نے حضرت سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامسے پوچھا: یہ کون تھے؟ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:یہمَلَکُ الْمَوْتتھے۔اس نے کہا:میں نے ان کی طرف دیکھا تووہ مجھے یوں دیکھ رہے تھے کہ جیسے مجھے ہی لینے آئے ہوں۔حضرت سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:اب تم کیا چاہتےہو؟ کہا:میں چاہتاہوں کہ آپ مجھے بچا لیں اور ہَوا کو حکم دیں کہ وہ مجھے ہِنْد کے کسی دوردراز علاقہ میں پہنچا دے۔حکم سنتے ہی ہَوا نے اسے وہیں پہنچادیا۔ملک الموتعَلَیْہِ السَّلَامجب دوبارہ آئے تو حضرت سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامنے پوچھا:تم میرے قریب بیٹھے شخص کو مسلسل کیوں دیکھ رہے تھے؟ملک الموتعَلَیْہِ السَّلَامنے کہا:مجھے اس پر حیرانگی ہورہی تھی کہ مجھےحکم یہ ملاتھا کہ کچھ دیر بعد اس کی رُوح ہند کے دوردراز علاقہ میں قبض کروں حالانکہ وہ آپ کے پاس بیٹھاتھا۔
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے ……… مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بُو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے ……… جو آباد تھے وہ مکاں اب ہیں سُونے
جگہ جی لگانے کی دُنیا نہیں ہے ……… یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے ……… مکیں ہوگئے لامکاں کیسے کیسے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے ……… زمین کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے ……… یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
مدنی گلدستہ’’حسن‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جمہورعلمائے کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکےنزدیک وصیت کرنامستحب ہے۔
(2) اگرکسی پرقرضہ ہویا کسی کاکوئی اور حق ہویاکسی کی امانت ہوتواسے وصیت کرنالازم ہے۔
(3) ہر وقت موت کو یاد رکھنا چاہیے اور آخرت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہیے کیا خبر کب موت آجائے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں بھی موت سےپہلےآخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 575