Main Icon

باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1118

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنها اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم كَانَ اِذا لَمْ يُصَلِّ اَرًبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ ، صَلَّاهُنَّ بَعْدَهَا .

عن عائشة رضي الله عنها ان النبي صلی اﷲ علیہ وسلم كان اذا لم يصل اربعا قبل الظهر ، صلاهن بعدها .

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ”نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کبھی ظہرسے پہلے چار رکعت نہ ادا کرپاتے تو ظہر کی نماز کے بعد ادا فرمالیتے۔‘‘

شرح حدیث

سننِ قبلیہ وبعدیہ کی مشروعیت میں حکمت:عَلَّامَہ اِبْنِ دَقِیْق الْعِیْد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْمَجِیْدفرماتے ہیں:”فرضوں سے پہلے اور بعد میں سنتوں کی مشروعیت میں کئی حکمتیں ہیں ۔دُنیاوی اُمُور میں مشغولیت عبادت میں اس حضورِ قلب اور خشوع کے لئے رکاوٹ بنتی ہے جو عبادت کی روح ہے۔فرائض سے قبل کچھ رکعتیں ادا کرنےسےنفس عبادت سے مانوس ہو کر خشوع سے قریب ہوجاتا ہے اورفرائض اچھی حالت میں ادا ہوتے ہیں ۔فرائض کے بعد سنن و نوافل کی مشروعیت کی ایک حکمت یہ بھی ہےکہ بمطابقِ حدیث نوافل وسنن سے فرائض میں ہونے والی کمی پوری ہوجاتی ہے ۔ “مخلوق پر نظرِ رحمت:حضرت سیدنا ثوبانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور پُرنورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدوپہر کے بعد چار رکعت پڑھنے کو محبوب رکھتے، اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی:”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں دیکھتی ہوں کہ اس وقت میں آپ نماز کو محبوب رکھتے ہیں۔ فرمایا: ”اس وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اوراﷲ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیمخلوق کی طرف نظرِِ رحمت فرماتا ہے اور آدم و نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰعَلَیْھِمُ الصَّلاۃُ وَالسَّلامبھی اس وقت پابندی سے نماز پڑھا کرتے تھے ۔“ظہر کی سنتوں پر تہجد کا ثواب:حضرت سیدنا براء بن عازِبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں،گویا تہجد کی چار رکعتیں پڑھیں اور جس نے عشا کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو یہ شبِ قدرمیں پڑھی جانے والی چار رکعتوں کی طرح ہیں۔“مدنی گلدستہ’’حوضِ کوثر ‘‘کے7حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکور ہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) سُنَن و نوافل گھر میں ادا کرنا افضل ہے،نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسنت قبلیہ اور بعدیہ اپنے کاشانۂاقدس ہی میں ادا فرمایا کرتے تھے ۔
(2) جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں ادا کیں گویا اس نے تہجد کی چار رکعتیں ادا کرلیں ۔
(3) فرائض سے قبل سنتوں کی ادائیگی میں ایک حکمت یہ ہے کہ نفس عبادت کی طرف مائل ہوجاتاہے اور فرائض میں دِلجمعی اور خشوع نصیب ہوتاہے۔
(4) جو ظہرکی سنتوں کا پابند ہو اسے اعمالِ صالحہ کی توفیق ملتی ہے اور اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں۔
(5) ظہر کی سنتیں پابندی سے اداکرنے والے کے لئےایمان پر خاتمے اور جہنم سے آزادی کی بشارت ہے۔
(6) ظہر کا وقت شروع ہوتے ہی آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاپنی مخلوق پر نظرِ رحمت فرماتا ہے ،اس وقت کی عبادت حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بہت محبوب تھی۔
(7) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے پیارے نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اداؤوں کو بغور ملاحظہ کرتے، پھر خود بھی سنتوں پر پابندی سے عمل کرتے اور دوسروں کو بھی ترغیب دِلاتے ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں ظہرکی سنتِ قبلیہ وبعدیہ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1118