Main Icon

باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1115

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم يُصَلِّي في بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ اَرْبَعًا ثُمَّ يَخْرُجُ،فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ .

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلی اﷲ علیہ وسلم يصلي في بيتي قبل الظهر اربعا ثم يخرج،فيصلي بالناس ثم يدخل فيصلي ركعتين.وكان يصلي بالناس المغرب ، ثم يدخل فيصلي ركعتين ، ويصلي بالناس العشاء، ويدخل بيتي فيصلي ركعتين .

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرےگھر میں ظہرسے پہلے چاررکعت ادا فرماتے پھر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے،واپس آ کر پھردو رکعت پڑھتے۔پھرمغرب کی نماز پڑھا کر میرے گھر تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتےاورعشا کی نماز پڑھا کرمیرے گھرتشریف لاتے تب بھی دورکعتیں ادا فرماتے ۔

شرح حدیث

مرآۃ المناجیح میں ہے:”(حدیثِ مذکور سے )سنتِ مؤکدہ کی تعداد بھی معلوم ہوئی اوریہ بھی کہ سنتیں گھر میں ادا کرنا افضل ہے اگرچہ مسجد میں بھی جائز۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں سنت مؤ کدہ کابیان ہے۔چار رکعتیں ظہرسےقبل، دو ظہرکےبعد،دومغرب کے بعد اور دو عشا کے بعد سُنتِ مُؤ کَّدہ ہیں۔ ان کی ادائیگی پر دِین ودُنیا کی بے شمار بھلائیاں ملتی ہیں اورانہیں ترک کرنے میں سراسرنقصان ومحرومی ہے۔ یہ بھی معلوم ہواکہ اُمّہاتُ المومنین
رِضْوَانُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِنَّ اَجْمَعِیْننبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہرہرادا اور شب و روز کے گھریلو معاملات بغور ملاحظہ فرمایا کرتی تھیں،ان عظیم ہستیوں کا اُمَّت پر بہت بڑا اِحسان ہے کہ انہوں نےشہنشاہ کونین ،نانائے حَسَنَینصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےمبارک معمولات سے اُمَّت کو آگاہ کیا،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نجی وذاتی معاملات بھی لوگوں کے سامنے لے کر آئیں،اس طرح دنیا کو سروَرِ دوعالَم ،شہنشاہِ بنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گھریلو حالات سے آگاہی نصیب ہوئی۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّان امہات المؤمنین کے صدقے ہمیں سنتوں کا عامل بنائے ،ہماری دنیا وآخرت بہتر فرمائے۔آمینصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1115