Main Icon

باب:نماز کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1046

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّان رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”يَقُولُ مَا مِنْ اِمْرِئٍ مُسْلِـمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ تُؤْتَ كَبِيرَةٌ وَذٰلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ.“

عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم:”يقول ما من امرئ مسلـم تحضره صلاة مكتوبة فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب ما لم تؤت كبيرة وذلك الدهر كله.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن عفانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان شخص پر فرض نماز کاوقت آ جائےپھر وہ ا س نماز کا وضو اچھی طرح کرے پھر خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھے اور اس کا رکوع کرےتو وہ نماز اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے جب تک کہ وہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے اور یہ معاملہ عمر بھر رہتا ہے۔“

شرح حدیث

خشوع سے نماز پڑھنے کا مطلب:حدیث میں فرمایا:”نماز کا وضو اچھی طرح کرے“اس کا مطلب یہ ہے کہ وضو کو پورے فرائض و سنن کے ساتھ کرے۔ ” نماز میں اچھی طرح خشوع کرے“ یعنی نماز کے تمام ارکان کامل طریقے سے تواضع و انکساری کے ساتھ ادا کرے یا مطلب یہ ہے کہ خشیتِ قلب کے ساتھ نماز پڑھے، نظریں جائے سجدہ کی طرف ہوں اور ہر چیز سے توجہ ہٹا کر صرف نماز کی طرف توجہ ہو۔ نماز میں خود کو کَفِّ ثوب ، اِدھر اُدھر دیکھنے، فضول کاموں اور جمائی وغیرہ سے بچانا بھی خشوع میں داخل ہے۔اِس حدیث میںاﷲتعالیٰ کے اِس فرمان کی طرف اِشارہ ہے:قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)(پ۱۸،المؤمنون:۲)ترجمہ کنز الایمان: بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گِڑ گِڑاتے ہیں۔
اور یہ خشوع نماز میں ظاہر و باطن دونوں میں ہونا چاہیے۔نبی پاک
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو اپنی داڑھی یا کپڑوں سے کھیلتے دیکھا تو ارشاد فرمایا:”اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء بھی خشوع کرتے۔صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْہَادِیتفسیرِ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں:”نماز میں خشوع یہ ہے کہ اس میں دل لگا ہو اور دنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اور نظر جائے نماز سے باہر نہ جائے اور گوشۂ چشم سے کسی طرف نہ دیکھے اور کوئی عبث(فضول) کام نہ کرے اور کوئی کپڑا شانوں پر نہ لٹکائے اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے لٹکتے ہوں اور آپس میں ملے نہ ہوں اور انگلیاں نہ چٹخائے اور اس قسم کے حرکات سے باز رہے ۔ بعض نے فرمایا کہ خشوع یہ ہے کہ آسمان کی طرف نظر نہ اٹھائے ۔“صحابہ کرام خشوع سے نماز پڑھتے:حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُمَافرماتے ہیں:’’جب صحابہ کرامرَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُمْنماز پڑھتے تو وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہتے، اپنی نظریں سجدہ کرنے کی جگہ پر رکھتے تھے اور انہیں یہ یقین ہوتا تھا کہاﷲتعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے اور وہ دائیں بائیں توجہ نہیں کرتے تھے۔‘‘خشوع نماز کی روح ہے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:نماز کا خشوع یہ ہے کہ اس کا ہر رکن صحیح ادا کرے،دل میں عاجزی اور خوف خدا ہو،نگاہ اپنے ٹھکانے پر رہےکہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پاؤں کی پشت،سجدہ میں ناک کے نتھنےاور قعدہ میں گود میں رہے۔خشوع نماز کی روح ہے۔رب فرماتاہے:﴿ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)﴾صِرف رکوع کا اسی لئے ذکر فرمایا کہ یہ سجدہ کا پیش خیمہ ہے اور بمقابلۂ سجدہ کے اس میں مشقت زیادہ ہے،نیز یہ مسلمانوں کی نمازوں کا خاصہ ہے، یہود ونصاریٰ کی نمازوں میں نہ تھا، اس کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے۔ نیز رکوع مستقل عبادت نہیں، صرف نماز ہی میں عبادت ہےاورسجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت ہےجیسے سجدۂ شکر،سجدۂ تلاوت وغیرہ۔(حدیث میں فرمایا:اوریہ معاملہ عمر بھر رہتا ہے۔)یعنی یہ ثواب کسی خاص نماز کا نہیں بلکہ عمر میں ہرنماز کا ہے۔نماز میں جلدی مت کیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث شریف میں خُشوع و خُضوع کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے یعنی بندہ جب نماز پڑھے تو اطمینان کے ساتھ نماز کے تمام ارکان ادا کرے قیام ، رکوع، قومہ، جلسہ اور سجدہ وغیرہ میں کہیں بھی جلدی نہ کرے ۔نماز کے ہر رکن کو اعتدال کے ساتھ ادا کرے۔بعض لوگ نماز پڑھنے میں بہت جلدی مچاتے ہیں اور جلدی جلدی کوّے کی طرح ٹھونگیں مارکر چلے جاتے ہیں۔ یاد رکھیے!جلدی جلدی نماز پڑھنے سے نماز کے فرائض و واجبات رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی یا واجب الاعادہ ہوجاتی ہے۔ اگر نماز کا کوئی فرض ادا ہونے سے رہ گیا تو نماز نہیں ہوگی اور اگر کوئی واجب رہ جائے تو نماز ناقص ہوتی ہے اور اسے پھر سے پڑھنا واجب ہوتا ہے۔سرکارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو اسی طرح جلدی جلدی نماز پڑھتے دیکھا تو تین مرتبہ اس سے نماز دہرائی۔ چنانچہ،
¥سرکار نے نماز سکھائی:
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں جلوہ افروز تھے۔اس شخص نے نماز ادا کی پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”واپس جا ؤاور نماز پڑھو کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“وہ شخص واپس گیا اور (دوبارہ) نماز پڑھی پھر حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:”جاؤ اور نماز پڑھو کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ اس شخص نے تیسری بارکے بعد عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے (نماز کا طریقہ) سکھا دیجئے۔مدنی آقاصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جس قدر آسان ہو پڑھ لو، پھر رکوع کر ویہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اِطمینان ہو جائے۔ پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ ۔پھر سجدہ کرویہاں تک کہ سجدے میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔ پھر اٹھو یہاں تک کہ تمہیں بیٹھنے میں اطمینان ہو جائے۔ پھر سجدہ کر ویہاں تک کہ تم سجدے میں مطمئن ہو جاؤ۔ پھر اٹھو حتّٰی کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ،پھر اپنی ساری نماز میں یہی کرو۔“حدیثِ پاک سے پتا چلا کہ نماز اطمینان سے اُس کے تمام فرائض و واجبات اور سُنَن و مستحبات کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِی”بہارِ شریعت“ میں نماز کے واجبات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”تعدیلِ اَرکان یعنی رکوع و سجود و قومہ و جلسہ میں کم از کم ایک بارسُبْحٰنَ اﷲکہنے کی قدر ٹھہرنا (واجب ہے)۔“مدنی گلدستہ’’خشوع‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اچھی طرح وضو کرنا چاہیے کہ کوئی عضو جس کا دھونا فرض ہے اس کی بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہ جائے ورنہ وضو نہیں ہوگا اور وضو نہیں ہوگا تو نماز بھی نہیں ہوگی۔
(2) آرام اور اطمینان سےخُشوع و خُضوع کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے۔
(3) خُشوع کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے تمام ارکان کامل طریقے سے تواضع و انکساری اور خشیتِ قلب کے ساتھ ادا کرے۔
(4) نماز میں تعدیلِ ارکان (یعنی نماز کے ہر رکن کو اطمینان سے ادا کرنا)واجب ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خشوع کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت……ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنتیں وقت ہی پر……ہوں سارے نوافل ادا یاالٰہی
دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ عبادت……رہوں باوضو میں سدا یاالٰہی
آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1046