- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1046
باب:نماز کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1046
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّان رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”يَقُولُ مَا مِنْ اِمْرِئٍ مُسْلِـمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ تُؤْتَ كَبِيرَةٌ وَذٰلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ.“
عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم:”يقول ما من امرئ مسلـم تحضره صلاة مكتوبة فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب ما لم تؤت كبيرة وذلك الدهر كله.“
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن عفانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان شخص پر فرض نماز کاوقت آ جائےپھر وہ ا س نماز کا وضو اچھی طرح کرے پھر خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھے اور اس کا رکوع کرےتو وہ نماز اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے جب تک کہ وہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے اور یہ معاملہ عمر بھر رہتا ہے۔“
شرح حدیث
خشوع سے نماز پڑھنے کا مطلب:حدیث میں فرمایا:”نماز کا وضو اچھی طرح کرے“اس کا مطلب یہ ہے کہ وضو کو پورے فرائض و سنن کے ساتھ کرے۔ ” نماز میں اچھی طرح خشوع کرے“ یعنی نماز کے تمام ارکان کامل طریقے سے تواضع و انکساری کے ساتھ ادا کرے یا مطلب یہ ہے کہ خشیتِ قلب کے ساتھ نماز پڑھے، نظریں جائے سجدہ کی طرف ہوں اور ہر چیز سے توجہ ہٹا کر صرف نماز کی طرف توجہ ہو۔ نماز میں خود کو کَفِّ ثوب ، اِدھر اُدھر دیکھنے، فضول کاموں اور جمائی وغیرہ سے بچانا بھی خشوع میں داخل ہے۔اِس حدیث میںاﷲتعالیٰ کے اِس فرمان کی طرف اِشارہ ہے:قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)(پ۱۸،المؤمنون:۲)ترجمہ کنز الایمان: بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گِڑ گِڑاتے ہیں۔
اور یہ خشوع نماز میں ظاہر و باطن دونوں میں ہونا چاہیے۔نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو اپنی داڑھی یا کپڑوں سے کھیلتے دیکھا تو ارشاد فرمایا:”اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء بھی خشوع کرتے۔صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْہَادِیتفسیرِ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں:”نماز میں خشوع یہ ہے کہ اس میں دل لگا ہو اور دنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اور نظر جائے نماز سے باہر نہ جائے اور گوشۂ چشم سے کسی طرف نہ دیکھے اور کوئی عبث(فضول) کام نہ کرے اور کوئی کپڑا شانوں پر نہ لٹکائے اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے لٹکتے ہوں اور آپس میں ملے نہ ہوں اور انگلیاں نہ چٹخائے اور اس قسم کے حرکات سے باز رہے ۔ بعض نے فرمایا کہ خشوع یہ ہے کہ آسمان کی طرف نظر نہ اٹھائے ۔“صحابہ کرام خشوع سے نماز پڑھتے:حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُمَافرماتے ہیں:’’جب صحابہ کرامرَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُمْنماز پڑھتے تو وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہتے، اپنی نظریں سجدہ کرنے کی جگہ پر رکھتے تھے اور انہیں یہ یقین ہوتا تھا کہاﷲتعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے اور وہ دائیں بائیں توجہ نہیں کرتے تھے۔‘‘خشوع نماز کی روح ہے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:نماز کا خشوع یہ ہے کہ اس کا ہر رکن صحیح ادا کرے،دل میں عاجزی اور خوف خدا ہو،نگاہ اپنے ٹھکانے پر رہےکہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پاؤں کی پشت،سجدہ میں ناک کے نتھنےاور قعدہ میں گود میں رہے۔خشوع نماز کی روح ہے۔رب فرماتاہے:﴿ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)﴾صِرف رکوع کا اسی لئے ذکر فرمایا کہ یہ سجدہ کا پیش خیمہ ہے اور بمقابلۂ سجدہ کے اس میں مشقت زیادہ ہے،نیز یہ مسلمانوں کی نمازوں کا خاصہ ہے، یہود ونصاریٰ کی نمازوں میں نہ تھا، اس کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے۔ نیز رکوع مستقل عبادت نہیں، صرف نماز ہی میں عبادت ہےاورسجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت ہےجیسے سجدۂ شکر،سجدۂ تلاوت وغیرہ۔(حدیث میں فرمایا:اوریہ معاملہ عمر بھر رہتا ہے۔)یعنی یہ ثواب کسی خاص نماز کا نہیں بلکہ عمر میں ہرنماز کا ہے۔نماز میں جلدی مت کیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث شریف میں خُشوع و خُضوع کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے یعنی بندہ جب نماز پڑھے تو اطمینان کے ساتھ نماز کے تمام ارکان ادا کرے قیام ، رکوع، قومہ، جلسہ اور سجدہ وغیرہ میں کہیں بھی جلدی نہ کرے ۔نماز کے ہر رکن کو اعتدال کے ساتھ ادا کرے۔بعض لوگ نماز پڑھنے میں بہت جلدی مچاتے ہیں اور جلدی جلدی کوّے کی طرح ٹھونگیں مارکر چلے جاتے ہیں۔ یاد رکھیے!جلدی جلدی نماز پڑھنے سے نماز کے فرائض و واجبات رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی یا واجب الاعادہ ہوجاتی ہے۔ اگر نماز کا کوئی فرض ادا ہونے سے رہ گیا تو نماز نہیں ہوگی اور اگر کوئی واجب رہ جائے تو نماز ناقص ہوتی ہے اور اسے پھر سے پڑھنا واجب ہوتا ہے۔سرکارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو اسی طرح جلدی جلدی نماز پڑھتے دیکھا تو تین مرتبہ اس سے نماز دہرائی۔ چنانچہ،
¥سرکار نے نماز سکھائی:حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں جلوہ افروز تھے۔اس شخص نے نماز ادا کی پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”واپس جا ؤاور نماز پڑھو کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“وہ شخص واپس گیا اور (دوبارہ) نماز پڑھی پھر حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:”جاؤ اور نماز پڑھو کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ اس شخص نے تیسری بارکے بعد عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے (نماز کا طریقہ) سکھا دیجئے۔مدنی آقاصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جس قدر آسان ہو پڑھ لو، پھر رکوع کر ویہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اِطمینان ہو جائے۔ پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ ۔پھر سجدہ کرویہاں تک کہ سجدے میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔ پھر اٹھو یہاں تک کہ تمہیں بیٹھنے میں اطمینان ہو جائے۔ پھر سجدہ کر ویہاں تک کہ تم سجدے میں مطمئن ہو جاؤ۔ پھر اٹھو حتّٰی کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ،پھر اپنی ساری نماز میں یہی کرو۔“حدیثِ پاک سے پتا چلا کہ نماز اطمینان سے اُس کے تمام فرائض و واجبات اور سُنَن و مستحبات کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِی”بہارِ شریعت“ میں نماز کے واجبات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”تعدیلِ اَرکان یعنی رکوع و سجود و قومہ و جلسہ میں کم از کم ایک بارسُبْحٰنَ اﷲکہنے کی قدر ٹھہرنا (واجب ہے)۔“مدنی گلدستہ’’خشوع‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اچھی طرح وضو کرنا چاہیے کہ کوئی عضو جس کا دھونا فرض ہے اس کی بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہ جائے ورنہ وضو نہیں ہوگا اور وضو نہیں ہوگا تو نماز بھی نہیں ہوگی۔
(2) آرام اور اطمینان سےخُشوع و خُضوع کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے۔
(3) خُشوع کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے تمام ارکان کامل طریقے سے تواضع و انکساری اور خشیتِ قلب کے ساتھ ادا کرے۔
(4) نماز میں تعدیلِ ارکان (یعنی نماز کے ہر رکن کو اطمینان سے ادا کرنا)واجب ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خشوع کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت……ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنتیں وقت ہی پر……ہوں سارے نوافل ادا یاالٰہی
دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ عبادت……رہوں باوضو میں سدا یاالٰہیآمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1046