Main Icon

باب:نماز کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1045

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ اِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:الصلوات الخمس والجمعة الى الجمعة كفارة لما بينهن ما لم تغش الكبائر.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہ نہ کئے جائیں۔“

شرح حدیث

اﷲکا فضل اُمَّتِ محمدی پر:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نمازوں کے مابین جو بھی گناہ ہوں گے وہ بخش دئیے جائیں گے سوائے کبیرہ گناہوں کے کیونکہ کبیرہ گناہ توبہ ہی سے معاف ہوتے ہیں یااﷲ عَزَّ وَجَلَّکے فضل سے، یہی اہلِ سنت کا مذہب ہے۔
¥گناہوں کو بخشوانے والے اَعمال:
مُفَسِّر شہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”نماز پنجگانہ روزانہ کے صغیرہ گناہ کی معافی کا ذریعہ ہے،اگر کوئی ان نمازوں کے ذریعہ گناہ نہ بخشواسکاتو نمازجمعہ ہفتہ بھر کے گناہ صغیرہ کا کفارہ ،اگر کوئی جمعہ کے ذریعہ بھی گناہ نہ بخشواسکا کہ اسے اچھی طرح ادا نہ کیا تورمضان سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہے۔لہٰذا اس حدیث پریہ اعتراض نہیں کہ جب روزانہ کے گناہ پنجگانہ نمازوں سے معاف ہوگئے تو جمعہ اور رمضان سے کون سے گناہ معاف ہوں گے۔خیال رہے کہ گناہ کبیرہ جیسے کفر وشرک،زنا،چوری وغیرہ یوں ہی حقوق العباد بغیر توبہ وادائے حقوق معاف نہیں ہوتے۔ خیال رہے کہ جو اعمال گنہگاروں کی معافی کا ذریعہ ہیں وہ نیک کاروں کی بلندی درجات کا ذریعہ ہیں،چنانچہ معصومین اور محفوظین نماز کی برکت سے بلند درجے پاتے ہیں۔لہٰذاحدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر چاہیئے کہ نیک لوگ نمازیں نہ پڑھیں کیونکہ نمازیں گناہوں کی معافی کے لئے ہیں وہ پہلے ہی سے بے گناہ ہیں۔‘‘مدنی گلدستہ’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) پانچ نمازیں درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔
(2) ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہوں کے لئے کفارہ ہے۔
(3) جن اعمال سے گناہ معاف ہوتے ہیں ان اعمال سے نیک لوگوں کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمارے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1045