Main Icon

باب:نماز کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1043

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ.

عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:مثل الصلوات الخمس كمثل نهر جار غمر على باب احدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”پانچ نمازوں کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے ایک بڑی نہر بہتی ہو اور وہ ہر روز اُس نہر سے پانچ بار غسل کرے۔“

شرح حدیث

گناہوں سے پاک ہونے کا آسان طریقہ:مذکورہ دونوں احادیث میں نماز کی فضیلت کا ذکر ہے کہ نماز کی مثال ایک نہر کی سی ہے جس طرح کوئی شخص کسی نہر میں روزانہ پانچ بار نہائے تو اس پر کوئی میل کُچیل باقی نہیں رہے گا اسی طرح اگر کوئی شخص روزانہ نمازِ پنجگانہ ادا کرے تو اس کے نامَۂ اعمال میں کوئی گناہ باقی نہ رہے گا۔ حدیث شریف میں فرمایا:”تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے ایک بڑی نہر بہتی ہو۔ “یعنی جس طرح گھر کے دروازے پر موجود نہر تک تم با آسانی پہنچ سکتے اور اس میں نہاکر اپنا میل کچیل دُور کر سکتے ہو اِسی طرح نماز تک پہنچنے کے لیے تمہیں کوئی مشکل جھیلنے کی ضرورت نہیں، تم باآسانی نماز پڑھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کر سکتے ہو۔حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں:’’اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ قریبی نہر تک باسہولت پہنچنا اور اُس کو استعمال کرنا آسان ہے۔‘‘نہر سے تشبیہ دینے کی وجہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہاں خطاؤں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں،کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اس سے علیحدہ ہیں کہ وہ نماز سے معاف نہیں ہوتے ۔خیال رہے کہ حضورِاَنورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے نمازِ پنجگانہ کو نہر سے تشبیہ دی نہ کہ کنوئیں سے،دو وجہ سے:ایک یہ کہ کنوئیں میں اگر گھسا جائے تو اکثر اس کا پانی نہانے کے لائق نہیں رہتا کیونکہ وہ پانی جاری نہیں،نہر کا پانی جاری ہے ہر ایک کو ہر طرح پاک کردیتا ہے،یوں ہی نماز ہر طرح پاک کردیتی ہے کیسا ہی گندا ہو۔دوسرے یہ کہ کنوئیں کا پانی تکلف سے حاصل ہوتا ہے،رسی ڈول کی ضرورت پڑتی ہے کمزور آدمی پانی کھینچ نہیں سکتا مگر نہر کا پانی بے تکلف حاصل ہوتا ہے،ایسے ہی نماز بے تکلف ادا ہوجاتی ہے جس میں کچھ نہیں کرنا پڑتااورجب دروازے پرنہرہوتوغسل کے لئے دور جانا بھی نہیں پڑتا۔خیال رہے کہ گناہ دل کا میل ہے اور نماز میلِ دل کے لیے پانی۔مدنی گلدستہ’’نماز ‘‘کے4حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نماز کی مثال ایک نہر کی طرح ہے جس طرح نہر سے نہانے والا میل کچیل سے پاک و صاف ہوجاتا ہے اسی طرح نماز پڑھنے والا گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔
(2) نماز سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں البتہ کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اس سے علیحدہ ہیں کہ وہ نماز سے معاف نہیں ہوتے۔
(3) گناہ دِلوں کا میل ہے اور نماز دِل کے میل کے لیے پانی ہے۔
(4) ہمیں پابندی سے نماز ادا کرنی چاہیے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1043