Main Icon

باب:نماز کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1044

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا اَصَابَ مِنْ اِمْرَاَةٍ قُبْلَةً، فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرَهُ فَاَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالٰی:﴿ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-﴾فَقَالَ الرَّجُلُ: اَلِيْ هٰذَا؟ قَالَ:لِجَمِيْعِ اُمَّتِيْ كُلِّهِمْ.

عن ابن مسعود رضي الله عنه ان رجلا اصاب من امراة قبلة، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فانزل الله تعالی:﴿ و اقم الصلوة طرفی النهار و زلفا من الیل-ان الحسنت یذهبن السیات-﴾فقال الرجل: الي هذا؟ قال:لجميع امتي كلهم.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا، (پھر نادم ہوکر) بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس کی خبر دی تواﷲتعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:﴿ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-﴾(پ۱۲،ھود:۱۱۴)(ترجمہ کنزالایمان: اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں) تو اُس شخص نے عرض کی: کیا یہ حکم صِرف میرے لیے ہے؟ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”یہ حکم میری تمام اُمَّت کے لیے ہے۔“

شرح حدیث

آیت کا شانِ نزول:ترمذی میں ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک عورت کھجور خریدنے آئی، اس نے کہا :”گھر میں عمدہ کھجوریں ہیں۔‘‘ جب وہ اس ساتھ گھر میں آئی تو اچانک اس شخص پر شیطان غالب آگیا اور اس نے اس کا بوسہ لے لیا۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’یہ اَجنبیہ عورت کے ساتھ تنہائی کی شامت ہے۔‘‘حضرت ابنِ ملکرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں اُس عورت نے کہا :”اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے ڈر۔“ تو یہ نادِم ہوئے اور اس فرمانِ باری تعالیٰ پر عمل کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور سارے واقعے کی خبر دی:وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)(پ۵، النساء:۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر
اﷲسے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضروراﷲکو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
پھر حضور نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’میں اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کروں گا۔‘‘ چنانچہ جب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نمازِ عصر ادا فرمائی تواﷲ تَبَارَک وَ تَعَالٰینے سورۂ ہود کی مذکورہ آیت نازل فرمائی۔نماز صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے:عَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں:حضرت ابنِ مسعود،حضرت ابنِ عباس،حضرت حسن بصری،حضرت قتادہ اور حضرت سعید بن مسیبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمْوغیرہ کاقول ہےکہ حسنات سے مراد پانچوں نمازیں ہیں۔حضرت عمران بن حصینرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”پانچوں نمازیں درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں اس کے لئے جو کبیرہ گناہوں سے بچے۔“اُمَّتِ مُسْلِمَہ کے لئے آسانیاں:اُس شخص نے عرض کی:کیا یہ حکم صرف میرے لیےہے؟نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’یہ حکم میری تمام اُمَّت کے لیے ہے۔“اس کی شرح میں مرآۃ المناجیح میں ہے:”یہ آیت اگرچہ تیرے بارے میں اُتری مگر اس کا حکم عام ہے۔یہ حدیث اس کے لئے ہے جو اتفاقًا ایسا معاملہ کر بیٹھے پھر شرمندہ ہوکر توبہ کرے،لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اِس میں اُن حرکتوں کی اجازت دے دی گئی۔ یہاںمِنْ اُمَّتِیفرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ آسانیاں صرف اِس اُمَّت کے لئے ہیں گزشتہ اُمَّتُوں کی معافی بہت مشکل ہوتی تھی۔‘‘مدنی گلدستہ’’صلاۃ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نماز،صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے۔
(2) صحابہ کرام اپنے گناہ معاف کرانے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے تھے۔
(3) صغیرہ گناہ بار بار کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے ۔
(4) اِس اُمَّت کے لیے
اﷲتعالیٰ نے بہت آسانیاں پیدا کی ہیں ورنہ پچھلی اُمَّتوں کے لیے معافی بہت مشکل ہوتی تھی۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچنے اورنیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1044