باب:نماز کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ اُس نہر سے پانچ بار نہائے تو کیا اُس پر کچھ میل رہ جائے گا؟ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: اُس پر کچھ میل باقی نہ بچے گا۔حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”پانچ نمازیں اسی طرح ہیں،اﷲتعالیٰ اِن کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اَرَاَيْتُمْ لَوْ اَنَّ نَهْرًا بِبَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْہُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ھَلْ يَبْقٰي مِنْ دَرَنِهِ شَیْءٌ؟ قَالُوْا: لَا يَبْقٰي مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اﷲ بِهِنَّ الْخَطَايَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1042 ، باب:نماز کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”پانچ نمازوں کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے ایک بڑی نہر بہتی ہو اور وہ ہر روز اُس نہر سے پانچ بار غسل کرے۔“

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1043 ، باب:نماز کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا، (پھر نادم ہوکر) بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس کی خبر دی تواﷲتعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:﴿ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-﴾(پ۱۲،ھود:۱۱۴)(ترجمہ کنزالایمان: اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں) تو اُس شخص نے عرض کی: کیا یہ حکم صِرف میرے لیے ہے؟ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”یہ حکم میری تمام اُمَّت کے لیے ہے۔“

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا اَصَابَ مِنْ اِمْرَاَةٍ قُبْلَةً، فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرَهُ فَاَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالٰی:﴿ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-﴾فَقَالَ الرَّجُلُ: اَلِيْ هٰذَا؟ قَالَ:لِجَمِيْعِ اُمَّتِيْ كُلِّهِمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1044 ، باب:نماز کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہ نہ کئے جائیں۔“

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ اِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1045 ، باب:نماز کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن عفانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان شخص پر فرض نماز کاوقت آ جائےپھر وہ ا س نماز کا وضو اچھی طرح کرے پھر خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھے اور اس کا رکوع کرےتو وہ نماز اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے جب تک کہ وہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے اور یہ معاملہ عمر بھر رہتا ہے۔“

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّان رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”يَقُولُ مَا مِنْ اِمْرِئٍ مُسْلِـمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ تُؤْتَ كَبِيرَةٌ وَذٰلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ.“

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1046 ، باب:نماز کی فضیلت کا بیان