Main Icon

باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 979

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ:كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في سَفَرٍ فَكُنَّا اِذَا اَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ هَلَّلْنَا وَكَبَّرْنَا وَارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُنَا فَقَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى اَنْفُسِكُمْ فَاِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلاَ غَائِباً اِنَّهُ مَعَكُمْ اِنَّهُ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ.

عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه قال:كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فكنا اذا اشرفنا على واد هللنا وكبرنا وارتفعت اصواتنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا ايها الناس اربعوا على انفسكم فانكم لا تدعون اصم ولا غائبا انه معكم انه سميع قريب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے۔ہم جب کسی وادی کے اوپر چڑھتے تو ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ“اور ”اللّٰہ اَکْبَر“کہتے،ہماری آوازیں اونچی ہوگئیں توحضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اے لوگو!اپنی جانوں سے نرمی برتو، تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکاررہے ہو بلکہ جسے پکار رہے ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ سننے والا اور قریب ہے۔

شرح حدیث

اونچی آواز سے تکبیر کہنا:علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہ واقعہ غزوۂ خیبر کا ہے حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے خیبر پر بہت خفیہ طریقہ سے حملہ کیا تھا جیساکہ حدیث میں آیا مسلمان مجاہد ان کی آبادی میں پہنچ چکے تھےاور انہیں معلوم نہیں ہوا حتّٰی کہ وہ اپنے کام کاج کے لئے اپنے گھروں سے باہر آگئے تھے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر بلند آواز سے تکبیر کہنا مصلحت کے خلاف ہوکہ دشمن کے کان کھڑے ہوجائیں گے تو مکروہ ہے ورنہ مکروہ نہیں ہے۔خود حضور نے تکبیر پڑھی ہے نیز تکبیر سے فوج میں جوش وخروش اور ہمت و جرأت میں اضافہ ہوتا ہے اور دشمن پر رُعب پڑتا ہےنیز تکبیر باعث رحمت وبرکت ہے لہٰذا اس نیت سے تکبیر کہنا مستحسن ہے۔ذِکر بالجہرمنع نہیں:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: اس نعرہ تکبیر سے حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا منع فرمانا اس لیے نہ تھا کہ ذِکر بالجہر منع ہے بلکہ اس لیے تھا کہ صحابہ پر سفرکرتے ہوئے یہ نعرے تکلیف کا باعث تھے اسی لیے فرمایا اپنی جانوں پر نرمی کرو ورنہ بہت سےموقع پر صحابہ کرام بلکہ خود حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمخوب بلند آواز سے ذِکر الٰہی کرتے تھے۔چنانچہ صحابہ حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے وعظ کے دوران نعرۂ تکبیر لگاتے تھے۔(اے لوگو!اپنی جانوں سے نرمی برتو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکاررہے۔)یہاں ذِکر بالجہر مفید نہیں،رب تعالیٰ تو آہستہ ذِکر بھی سنتا ہے بلکہ تمہیں نقصان دہ ہے کہ تم اس وقت ذِکر سے تھک جاؤ گے اور تمہارا دشمن تمہاری آمد پر مطلع ہوجائے گا اس لیے آہستہ ذِکر کرو۔∞ذِکر بالجہر تو اپنے نفس اور دوسرے غافلوں کو جگانے،شیطان کو بھگانے،درو دیوار کو اپنے ایمان کا گواہ بنانے کے لیے ہوتا ہے۔مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) اونچی آواز سے تکبیر کہنا بالکل جائز ہے البتہ جہاںمصلحت کا تقاضا ہو وہاں آہستہ آواز سے کہی جائے۔
(2) تکبیر سے فوج میں جوش وخروش اور ہمت وجرأت میں اضافہ ہوتا ہےاور دشمن پر رُعب پڑتا ہے۔
(3) تکبیر باعث رحمت وبرکت ہےاور اچھی نیت سے تکبیر کہنا مستحسن ہے۔
(4) ذِکر بالجہر(اونچی آواز سے ذکر کرنا)جائز ہےاور صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناورحضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ذِکر بالجہر فرمایا ہے۔
(5) جماعت سے نماز ادا کرنے کےبعد بھی ذِکر بالجہر کرنا احادیث سے ثابت ہے۔
(6) دورانِ وعظ نعرہ تکبیر بلند کرنا صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔
(7) ذِکر بالجہر اپنے نفس اور دوسرے غافلوں کو جگانے،شیطان کو بھگانے،درو دیوار کو اپنے ایمان کا گواہ بنانے کے لیے ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں ہر حال میں تسبیح وتکبیر کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 979