Main Icon

باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 978

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً قَالَ:يَا رَسُوْل َالله اِنِّيْ اُرِيْدُ اَنْ اُسَافِرَ فَاَوْصِنِيْ قَالَ:عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ وَالتَّكْبِیْرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ:اللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ البُعْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَر.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رجلا قال:يا رسول الله اني اريد ان اسافر فاوصني قال:عليك بتقوى الله والتكبیر على كل شرف فلما ولى الرجل قال:اللهم اطو له البعد وهون عليه السفر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے وصیت فرمایئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’تقوٰی اختیارکرو اور بلند جگہ پر چڑھتے وقت تکبیر کہو۔‘‘جب وہ شخص چلا گیا تو فرمایا:’’الٰہی!اس کے لئے سفر کی دوری کو لپیٹ دے اور اس کا سفر آسان کردے۔‘‘

شرح حدیث

وصیت کی وضاحت:مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”وصیت اگرچہ مرتے وقت کے کلام کو کہتے ہیں جس کا تعلق بعد موت سے ہو مگر کبھی تاکیدی حکم کو بھی وصیت کہہ دیتے ہیں۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-﴾(پ۴،النسآء:۱۱)(ترجمہ ٔکنز الایمان :”اللّٰہتمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولا د کے بارے میں۔“) اور کسی آخری حکم کو بھی۔ یہاں دونوں معنیٰ بن سکتے ہیں یعنی مجھے تاکیدی نصیحت فرمادیں یا آخری نصیحت فرمادیں کیوں کہ اب میں بارگاہِ عالی سے رخصت ہورہا ہوں نہ معلوم اب حاضری میسر ہو یا نہ ہو۔“دِل وزبان دونوں کا انتظام:مذکورہ حدیث میں حضورِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:تقوٰی اختیار کرو اوربلند مقام پر چڑھتے وقت تکبیر کہو”یعنی ہر جگہ ہر حال میں خوفِ خدا دل میں رکھو کہ یہ تمام نیکیوں اور گناہوں سے بچنے کی اصل ہےاور دورانِ سفر میں جب کسی ٹیلہ یا پہاڑی پر چڑھو تواللّٰہ اَکْبَرْکہہ لو،غرض دل و زبان دونوں کا انتظام فرمادیا۔“حدیثِ بالا میں ہے کہ (جب وہ شخص چلا گیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: الٰہی!اس کے لئے سفر کی دوری لپیٹ دے اور اس کا سفر آسان کردے۔)یعنی ”اس طرح کہ دراز سفر اسے مختصر معلوم ہو یا واقعی بڑی مسافت اس کے لیے چھوٹی ہوجائے۔کراماتِ اولیا معجزات انبیا سے یہ بھی ہے کہ ان کے لیے زمین لپٹ جاتی ہے قرآن کریم فرمارہا ہے کہ حضرت آصف برخیا تختِ بلقیس کو پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے شام میں لے آئے کہ گئے بھی لوٹ بھی آئے۔“مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) سفر پر جاتے ہوئے کسی بڑے سے نصیحت کی درخواست کرنی چاہیے۔
(2) جس سے نصیحت کی درخواست کی جائے وہ اچھی نصیحت کرے۔
(3) نصیحت کرنے والے کو چاہیے کہ سفر پر جانے والے کو تقوٰی اختیار کرنے کی نصیحت کرے اور اسے خیروعافیت وغیرہ کی دعا دے۔
(4) خوفِ خدا تمام نیکیوں اور گناہوں سے بچنے کی اصل ہے۔
(5) انبیااور اولیا کے لیے زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سفروحضر دونوں میں تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 978