Main Icon

باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 976

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُيُوْشُهُ اِذَا عَلَوُا الثَّنَايَا كَبَّرُوْا وَاِذَا هَبَطُوْا سَبَّحُوْا.

عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم وجيوشه اذا علوا الثنايا كبروا واذا هبطوا سبحوا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضورنبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے لشکرکے لوگ بلندی پر چڑھتے وقتاللّٰہ اَکْبَرکہتےاور جب اترتے توسُبْحَانَ ا ﷲکہتے۔

شرح حدیث

تکبیر وتسبیح کہنے کی حکمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر کہنا اور نیچے اترتے ہوئے تسبیح کہنا حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔مُفتِی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانبلندی پر چڑھتے تکبیر اور نیچے اترتے تسبیح کہنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”( صحابَۂ کرام )سفر میں جب کسی ٹیلے پر چڑھتے تھے تواللّٰہ اَکْبَرکہتے تھے کہ وہ ربّ کریم تمام اُونچوں سے بڑا ہے اور جب نشیبی زمین پر اترتے تھے توسُبْحَانَ ا ﷲکہتے تھے کہ ربّ تعالیٰ نزول اور اُترنے سے پاک ہے کہ اس میں کمی و نقصان کا شائبہ ہے۔“علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:مسافر بلند جگہ پر چڑھے یا نیچی جگہ اُترے تو تہلیل وتسبیح پڑھے اس کا سفر حج وعمرہ کا ہو یا جہاد کا سفر ہو۔حضرت یونسعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب مچھلی کے پیٹ میں پانی کے نیچے چلے گئے تو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کی اور فرمایا:”لَا اِلَهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَاللّٰہتعالیٰ نے فرمایا:اگر وہ مچھلی کے پیٹ میں تسبیح نہ کہتے تو لوگوں کے مرکر اٹھنے تک وہیں رہتے۔اللّٰہتعالیٰ نےتسبیح کی برکت سے اُن کو پانی کے اندھیروں سے نجات دی، اسی لئے سَیِّدِ عالَمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےفرمایا:”جب نیچی جگہ اُتروتو تسبیح کہو تاکہ اُس وادی کی بلا سے محفوظ رہو۔“مدنی گلدستہ’’تکبیر‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہروقت اپنی زبان کو ذِکرودُرود سے تررکھنا چاہیے۔
(2) سیڑھیوں یا بلندی پرچڑھتے تکبیر اور نیچے اُترتے ہوئےتسبیح پڑھنا حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کی سنت ہے۔
(3) ربّ کریم تمام اُونچوں سے بڑا ہے اس لئے اونچے مقام پر چڑھتے ہوئے تکبیر کہتے ہیں اور ربّ تعالیٰ نزول اور اترنے سے پاک ہے اس لئے نشیب کی طرف اترتے ہوئے تسبیح کہتے ہیں۔
(4) تسبیح کی برکت سے حضرت سَیِّدُنا یونس
عَلَیْہِ السَّلَامکو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔
(5) کسی وادی میں اترتے ہوئے تسبیح کہنے والااس وادی کی بلا سے محفوظ رہے گا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر اور نیچے اترتے ہوئے تسبیح کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 976