باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:جب ہم بلندی پر چڑھتے تواللّٰہ اَکْبَرکہتےاور نیچے اُترتے توسُبْحَانَ اﷲکہتے۔

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:كُنَّا اِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَاِذَا نَـزَلْنَا سَبَّحْنَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 975 ، باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا

حضرت سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضورنبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے لشکرکے لوگ بلندی پر چڑھتے وقتاللّٰہ اَکْبَرکہتےاور جب اترتے توسُبْحَانَ ا ﷲکہتے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُيُوْشُهُ اِذَا عَلَوُا الثَّنَايَا كَبَّرُوْا وَاِذَا هَبَطُوْا سَبَّحُوْا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 976 ، باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا

حضرت سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجہاد، حج یا عمرہ سے لوٹتے وقت جب کسی گھاٹی یا سخت اونچی زمین پر چڑھتے تو تین باراللّٰہ اَکْبَرکہتےپھر یہ کلمات کہتے:لَا اِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کی بادشاہی ہے،اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ہم لوٹنےوالے ہیں،توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والے،سجدہ کرنے والے اور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنا وعدہ سچا کردیا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے ہی تمام جماعتوں کو بھگادیا۔ مسلم کی روایت میں ہے:”جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچھوٹے اور بڑے لشکروں یاحج اور عمرہ سے واپس تشریف لاتے تو یہ کلمات فرماتے۔“

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا قَفَلَ مِنَ الحَجِّ اَوِ العُمْرَةِ كُلَّمَا اَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ اَوْ فَدْفَدٍكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَ مَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِـمٍ: اِذَا قَفَلَ مِنَ الْجُيُوْشِ اَوِ السَّرَايَا اَوِ الحَجِّ اَوِ العُمْرَةِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 977 ، باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے وصیت فرمایئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’تقوٰی اختیارکرو اور بلند جگہ پر چڑھتے وقت تکبیر کہو۔‘‘جب وہ شخص چلا گیا تو فرمایا:’’الٰہی!اس کے لئے سفر کی دوری کو لپیٹ دے اور اس کا سفر آسان کردے۔‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً قَالَ:يَا رَسُوْل َالله اِنِّيْ اُرِيْدُ اَنْ اُسَافِرَ فَاَوْصِنِيْ قَالَ:عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ وَالتَّكْبِیْرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ:اللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ البُعْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَر.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 978 ، باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا

حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے۔ہم جب کسی وادی کے اوپر چڑھتے تو ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ“اور ”اللّٰہ اَکْبَر“کہتے،ہماری آوازیں اونچی ہوگئیں توحضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اے لوگو!اپنی جانوں سے نرمی برتو، تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکاررہے ہو بلکہ جسے پکار رہے ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ سننے والا اور قریب ہے۔

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ:كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في سَفَرٍ فَكُنَّا اِذَا اَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ هَلَّلْنَا وَكَبَّرْنَا وَارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُنَا فَقَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى اَنْفُسِكُمْ فَاِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلاَ غَائِباً اِنَّهُ مَعَكُمْ اِنَّهُ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 979 ، باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا