Main Icon

باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 977

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا قَفَلَ مِنَ الحَجِّ اَوِ العُمْرَةِ كُلَّمَا اَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ اَوْ فَدْفَدٍكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَ مَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِـمٍ: اِذَا قَفَلَ مِنَ الْجُيُوْشِ اَوِ السَّرَايَا اَوِ الحَجِّ اَوِ العُمْرَةِ.

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قفل من الحج او العمرة كلما اوفى على ثنية او فدفدكبر ثلاثا ثم قال:لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهز م الاحزاب وحده. وفي رواية لمسلـم: اذا قفل من الجيوش او السرايا او الحج او العمرة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجہاد، حج یا عمرہ سے لوٹتے وقت جب کسی گھاٹی یا سخت اونچی زمین پر چڑھتے تو تین باراللّٰہ اَکْبَرکہتےپھر یہ کلمات کہتے:لَا اِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کی بادشاہی ہے،اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ہم لوٹنےوالے ہیں،توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والے،سجدہ کرنے والے اور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنا وعدہ سچا کردیا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے ہی تمام جماعتوں کو بھگادیا۔ مسلم کی روایت میں ہے:”جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچھوٹے اور بڑے لشکروں یاحج اور عمرہ سے واپس تشریف لاتے تو یہ کلمات فرماتے۔“

شرح حدیث

نعمتِ الٰہی کا اِقرار اور شکر:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مذکورہ حدیث پاک سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ حج اور جہاد سے لوٹنے پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد، اس کی نعمت کا اقرار اور اس کے سامنے عاجزی کرنی چاہیے اور اس کاشکر ادا کرناچاہیے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اسے حج کے تمام ارکان اور عبادات کو سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی اور دشمن کو شکست دینے میں اس کی مدد فرمائی اور صحت اور سلامتی کے ساتھ اس کو وطن واپس لوٹایا ۔اسی طرحاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے بندے کو جو دوسری نعمتیں عطا فرمائی ہیں اس پر اس کی حمد کرنی چاہیےاور اس کا شکر بجا لانا چاہیے کیونکہ جب بندہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی توحید کا اقرار،اس کی ربوبیت کا اعتراف اور اس کی نعمتوں پر اس کی حمد اور اس کا شکر بجالاتا ہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّبندےسے راضی ہوتا ہے۔اس حدیث میں دعا کے جو عربی کے بعض کلمات ہیں وہ ہم قافیہ ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا میں ہم قافیہ کلمات لانے سے جو منع فرمایا ہے تو اس منع کرنے سے مراد یہ نہیں کہ یہ حرام ہے بلکہ اس لئے منع فرمایا ہے تاکہ بندے کی توجہ الفاظ کے بنانےاور سنوارنے میں نہ رہے بلکہ وہ اخلاص اور دلجمعی کے ساتھ اپنی دعا میں خوب کوشش کرے۔خدا کی تین نعمتوں کا ذِکر:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اس (حدیث پاک)میں خدا کی تین نعمتوں کا ذِکر ہے:ایک اسلام کے غلبے کا وعدہ فرمانا اور اسے پورا کردینا۔ دوسرے اپنے بندۂ خاص حضور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی ظاہری مدد صحابہ کے ذریعہ اور باطنی مدد ہواؤں اور فرشتوں کے ذریعہ فرمانا اور تیسرے غزوۂ اَحزاب جسے غزوۂ خندق بھی کہتے ہیں اس میں کفار کے لشکر جرّار کو تیز ہوا سے بھگا دینا۔‘‘ورنہ مسلمان اس وقت بچ نہ سکتے تھے کیونکہ اس وقت ظاہری حالات مسلمانوں کے خلاف تھے کہ بارہ ہزار کفار کا لشکر مدینہ منورہ پر باہر سے حملہ آور ہوا تھا اور ادھر خود مدینہ کے یہود نے عہد شکنی کرکے مسلمانوں کو فنا کرنے کی ٹھان لی تھی،اندیشہ تھا کہ اس موقع پر مسلمان ان بیرونی اور اندرونی دشمنوں میں پھنس جاتے اور ہوسکتا ہے کہ احزاب سے مراد کفار کی سار ی جماعتیں ہوں۔مدنی گلدستہ’’تسبیح‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بلند مقام پر چڑھتےہوئے تین بار تکبیر کہنا سنت ہے۔
(2) حج یا جہاد وغیرہ سے لوٹتے ہوئے حمدوشکر بجا لانا چاہیے۔
(3)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نعمت کا اقرار اور اس کے سامنے عاجزی کرنی چاہیے۔
(4) دعا میں ہم قافیہ کلمات بھی لاسکتے ہیں جبکہ اس کی خوبصورتی کی طرف نظر نہ ہو۔
(5)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ظاہری وباطنی مدد فرمائی۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بلندی پر چڑھتے وقت دعا پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 977